Explained with ayahs 7–10
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف
فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
سورة یُوْسُف 11
یہ بیان بھی بائیبل اور تلمود کے بیان سے مختلف ہے۔ ان کی روایت یہ ہے کہ برادران یوسف ؑ اپنے مویشی چرانے کے لیے سکّم کی طرف گئے ہوئے تھے اور ان کے پیچھے خود حضرت یعقوب ؑ نے ان کی تلاش میں حضرت یوسف ؑ کو بھیجا تھا۔ مگر یہ بات بعید از قیاس ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے یوسف ؑ کے ساتھ ان کے حسد کا حال جاننے کے باوجود انہیں آپ اپنے ہاتھوں موت کے منہ میں بھیجا ہو۔ اس لیے قرآن کا بیان ہی زیادہ مناسب حال معلوم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں ہے کہ انہی بھائیوں میں سے ایک نے یہ ساری گفتگو سن کر کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو اگر کچھ کرنا ہی ہے تو کنویں کی گہرائی میں ایسی جگہ ڈال دو جہاں یہ زندہ رہے اور راہ مسافر جب اس کنویں پر آئیں تو وہ اس کو اٹھا کرلے جائیں اس طرح تمہارا مقصد بھی پورا ہوجائے گا اور اس کو لے کر تمہیں خود کسی دور مقام پر جانا بھی نہ پڑے گا کوئی قافلہ آئے گا وہ خود اس کو اپنے ساتھ کسی دور مقام پر پہنچا دے گا،
یہ رائے دینے والا ان کا سب سے بڑا بھائی یہودا تھا اور بعض روایات میں ہے کہ روبیل سب سے بڑا تھا اسی نے یہ رائے دی اور یہ وہ شخص ہے جس کا ذکر آگے آتا ہے کہ جب مصر میں یوسف ؑ کے چھوٹے بھائی بنیامین کو…
Read the full tafseer →قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ وَاَلْقُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ۔
غیابۃ، کنوئیں کی تہ کو اور جب کچے کنویں کو کہتے ہیں۔ صحرائی راستوں میں جن پر سے قافلے گزرتے ہیں اس طرح کے کنویں ہوتے تھے جو عام حالات میں تو یوں ہی پڑے رہتے لیکن کوئی قافلہ گزرتا تو ان پر رونق ہوجاتی۔
دس بھائیوں میں سے ایک کے دل میں معلوم ہوتا ہے حضرت یوسف کے لیے کوئی نرم گوشہ تھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ قتل تو نہ کرو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو یہ کرو کہ قافلوں کے راستے کے کسی کنوئیں میں اس کو ڈال دو۔ کوئی قافلہ گزرے گا اس کو نکال لے گا۔ چونکہ اس زمانہ…
Read the full tafseer →10۔ 1 جب کنویں کو اور غَیَابَۃ اس کی تہ اور گہرائی کو کہتے ہیں، کنواں ویسے بھی گہرا ہی ہوتا ہے اور اس میں گری ہوئی چیز کسی کو نظر نہیں آتی۔ جب اس کے ساتھ کنویں کی گہرائی کا بھی ذکر کیا تو گویا مبالغے کا اظہار کیا۔
10۔ 2 یعنی آنے جانے والے نو وارد مسافر، جب پانی کی تلاش میں کنوئیں پر آئیں گے تو ممکن ہے کسی کے علم میں آجائے کہ کنوئیں میں کوئی انسان گرا ہوا ہے اور وہ اسے نکال کر اپنے ساتھ لے جائیں۔ یہ تجویز ایک بھائی نے ازراہ شفقت پیش کی تھی۔ قتل کے مقابلے میں یہ تجویز واقعتا ہمدردی کے جذبات ہی کی حامل ہے۔ بھائیوں کی آتش حسد اتنی بھڑکی ہوئی تھی کہ یہ تجویز بھی اس نے ڈرتے ڈرتے ہی پیش کی کہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یوسف ؑ کے بھائی اس سے پہلے بھی انہیں ساتھ لے جانے کی کوشش کرچکے تھے لیکن حضرت یعقوب ؑ نے منع فرما دیا تھا۔
Read the full tafseer →ہاں اس موقعہ پر ان میں سے ایک شخص کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے ، وہ اس ہولناک منصوبے کو برداشت نہیں کرسکتا۔ چناچہ یہ شخص ایک ایسا حل پیش کرتا ہے کہ حضرت یوسف قتل ہونے سے بھی بچ جائیں اور ان کے لیے ان کے باپ بھی فارغ ہوجائیں۔ وہ یہ تجویز کرتا ہے کہ اسے بیابان میں پھینکنے کی بجائے قافلوں کی آمدورفت والے کنویں میں پھینک دیں ، کوئی قافلے والے اسے پکڑ کرلے جائیں گے۔ کیونکہ غیر آباد جنگل میں اس کی ہلاکت کا امکان زیادہ ہے اور شارع عام کے کنویں میں بہت ہی کم ہے کیونکہ کوئی قافلہ آئے گا اور اسے غنیمت سمجھ کرلے جائے گا۔ اور وہ باپ کی نظروں سے اور دور ہوجائے گا۔
قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا…
Read the full tafseer →1 یہ کہنے والا " یہودا " تھا یعنی قتل کرنا بہت سخت بات ہے اور ہمارا مقصد بدون اس کے بھی حاصل ہوسکتا ہے۔ اگر تم یوسف کو یہاں سے علیحدہ کرنا چاہتے ہو تو آسان صورت یہ ہے کہ اس کو بستی سے دور کسی گم نام کنوئیں میں ڈال دو ۔ ابو حیان نے بعض اہل لغت سے نقل کیا ہے کہ " غیابت الجب " اس طاقچہ وغیرہ کو کہتے ہیں جو کنوئیں (باؤلی) میں پانی سے ذرا اوپر بنا ہوا ہو۔ غرض یہ تھی کہ ہم خواہی نہ خواہی عمداً ہلاک کرنے کا گناہ اپنے سر نہ لیں۔ ایسے کنوئیں میں ڈال دینے کے بعد بہت ممکن ہے کوئی مسافر ادھر سے گزرے اور خبر پا کر کنوئیں سے نکال لے جائے۔ اس صورت میں ہمارا مقصد حاصل ہوجائے گا اور خون ناحق میں ہاتھ رنگین نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 10 قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ
یہ شریف النفس انسان ان کے سب سے بڑے بھائی تھے جنہوں نے یہ مشورہ دیا۔ ان کا نام یہودا تھا اور انہی کے نام پر لفظ ”یہودی“ بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ تو اس سے پیچھا چھڑانے کا ہے لہٰذا ضروری نہیں کہ قتل جیسا گناہ کر کے ہی یہ مقصد حاصل کیا جائے اس کے لیے کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔
وَاَلْقُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ
پرانے زمانے کے کنویں کی ایک خاص قسم کو باؤلی کہا جاتا تھا اس کا منہ کھلا ہوتا تھا لیکن گہرائی میں یہ تدریجاً تنگ ہوتا جاتا تھا۔ پانی کی سطح کے قریب اس کی دیوار میں طاقچے…
Read the full tafseer →9 پھر ان میں کسی بھائی نے (غالباً سب سے بڑے بھائی یہودا نے) شاید یوسف کی جان پر ترس کھا کر یہ رائے دی کہ اسے جان سے ختم نہ کرو کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے اور اسے کسی دور دراز مقام پر چھوڑ کر آنا بھی سہل کام نہیں۔ لہذا بہتر اور آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے دور کسی کنویں میں پھینک دو جو تجارتی قافلوں کے راستہ پر واقع ہو۔ کوئی قافلہ آئے گا تو اسے دیکھ کر اٹھالے جائے گا۔ اس طرح خود ہی یوسف دور دراز مقام پر پہنچ جائے گا۔ ہم وہاں جانے آنے کی زحمت سے بھی بچ جائیں گے۔
Read the full tafseer →17۔ یعنی واقعی اگر کچھ کرنا ہے تو اس کی تدبیر یہی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو یہاں سے یوں دفع کرو، مقصد بھی حاصل ہوجائے گا اور خون ناحق کے الزام سے بھی بچ جاؤ گے۔ (آیت) ” القوہ۔۔۔ السیارۃ “۔ کنوئیں اس زمانہ اور اس سطح تمدن میں عموما ایسے موقعوں پر ہوتے تھے جو عام رہگذر ہوں۔ قافلے جب ان کے پاس سے گذرتے تو ضرور پانی بھرتے اور یہ تاریخ کی ایک معلوم حقیقت ہے کہ فلسطین کے جنوبی مشرقی علاقہ میں تجارتی قافلوں کی آمد ورفت ایک طرف فلسطین اور مصر کے اور دوسری طرف عرب ومصر کے درمیان برابر رہا کرتی تھی۔ (آیت) ” قآئل منھم “۔ سے بعض اہل تفسیر نے یہ استنباط کیا ہے کہ جس سے قتل کی رائے دی تھی وہ ان بھائیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیت نمبر 7 تا 20
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے
بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…
Read the full tafseer →قال قائل منھم ان میں سے کہنے والے نے کہا۔ قتادہ نے کہا : یہ کہنے والا روبیل تھا۔ بغوی نے کہا : یہ یہودا تھا اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
لا تقتلوا یوسف یوسف کو قتل نہ کرو۔ قتل گناہ کبیرہ ہے۔
القوہ فی غیبت الجب اور گہرے کنویں کے گڑھے میں ڈال ڈو۔
غَیَابَۃٌ گڑھا۔ اصل لغت میں غیابت اس جگہ کو کہتے ہیں جس میں داخل ہونے والی چیز بالکل چھپ جائے ‘ غائب ہوجائے۔ گہرے گڑھے میں بھی جو چیز داخل ہوتی ہے ‘ وہ نظر سے چھپ جاتی ہے اسی لئے گہرے گڑھے کو غیابت کہا جاتا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ جس کنویں کی من نہ ہو ‘ وہ جب ہے۔ جبٌ قطع کرنا۔ بےمن کا کنواں بھی گویا کٹا ہوا ہوتا ہے۔ قاموس میں ہے : جُب کنواں یا گہرا کنواں جس…
Read the full tafseer →(10) یوسف ؑ کے بھائیوں میں سے یہودا نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ یوسف ؑ کو قتل مت کرو بلکہ ان کو کسی گہرے یا اندھے کنویں میں ڈال دو تاکہ ان کو کوئی مسافر راہ چلتا ہوا نکال لے جائے اگر تمہیں یہ کام کرنا ہے تو اس طرح کرو۔
Read the full tafseer →قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ۔۔ :”غَيٰبَتِ“ کا معنی لغت میں ہے : ”غِیَابَۃُ کُلِّ شَیْءٍ مَا سَتَرَکَ مِنْہُ“ یعنی ہر چیز کی غیابت وہ ہے جو تمہیں اس سے پردے میں کرلے، یعنی اسے تم سے چھپالے۔ اس لیے قبر کو بھی ”غِیَابَۃٌ“ کہتے ہیں۔ ”الْجُبِّ“ کا معنی کنواں، بہت پانی اور گہرائی والا کنواں یا مٹی کا کھودا ہوا کنواں جس میں پتھروں اور اینٹوں کی دیوار نہ بنائی گئی ہو، ”السَّـيَّارَةِ“ قافلہ۔ (قاموس) ان بھائیوں میں سے ایک نے جو فطرتاً دوسروں سے بہتر اور رحم دل تھا، جب انھیں حد سے گزرتے دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ یہ کسی طرح ٹلنے والے نہیں، انھیں ایسا مشورہ دیا جسے وہ بھی قبول کرسکیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 10
اس میں تیرہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال قآئل منھم کہنے والا یہوذا ہے، یہ حضرت یعقوب کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ روبیل ہے۔ اور یہ آپ کی خالہ کا بیٹا ہے وہی ہے جس نے فلن ابرح الارض کہا۔ ایک قول یہ ہے : وہ شمعون ہے۔ والقوہ فی غیبٰت الجب اہل مکہ، اہل بصرہ اور اہل کوفہ نے فی غیبٰت الجت پڑھا ہے جبکہ اہل مدینہ نے فی غیابات الجب پڑھا ہے ابوعبید کے نزدیک مختار واحد ہے کیونکہ اس سے مراد وہ ایک مقام ہے جہاں انہوں نے آپ کو پھنکا تھا اس وجہ سے انہوں نے جمع کا انکار کیا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ لغت میں تنگی لانے کے مترادف ہے۔ اس…
Read the full tafseer →حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اندھیرے کنویں میں ڈالا گیا :۔
1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال قآئل منہم لا تقتلوا یوسف “ میں ہم اسے کہنے والے کے بارے میں کہتے کہ وہ روبیل تھا اور وہ اپنے بھائیوں میں بڑا تھا اور یوسف کی خالہ کا بیٹا تھا۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قال قآئل منہم لا تقتلوا یوسف “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ کہنے والا شمعون تھا۔
3:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال قآئل منہم لا تقتلوا یوسف والقوہ…
Read the full tafseer →[قَالَ : کہا ] [ قَاۗىِٕلٌ: ایک کہنے والے نے ] [ مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [لَا تَـقْتُلُوْا : تم لوگ قتل مت کرو ] [يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو ] [وَاَلْقُوْهُ : اور ڈال دو ان (علیہ السلام) کو ] [ فِيْ غَيٰبَتِ الْجب : کنویں کی گہرائی میں ] [يَلْتَقِطْهُ : تو اٹھا لے گا ان (علیہ السلام) کو ] [ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ : قافلہ والوں کا کوئی (شخص)] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ] [ فٰعِلِيْنَ : کچھ کرنے والے ہو ]
ج ب ب
[جَبًّا : (ن) کسی چیز کو اس کے اصل سے کاٹ دینا۔] [جُبٌّ: کنواں۔ گہرا گڑھا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 10]
ل ق ط
[لَقْطًا : (ن) زمین سے کسی چیز کو اٹھانا۔] [ اِلْتِقَاطًا : (افعال) گری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
بھائیوں کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانے کی والد سے درخواست کرنا اور ان کا اندیشہ کرنا کہ اسے بھیڑیا نہ کھاجائے
ان لوگوں کا مشورہ تو ہو ہی چکا تھا کہ یوسف کو لے جانا ہے اور باپ کی نظروں سے اوجھل کرنا ہے لیکن اس کا طریقہ کیا ہو باپ تو اپنی نظروں سے دور کرنے کے لیے تیار نہیں ہمراہ لے جانے کے لیے کم از کم والد کی اجازت تو ہونی چاہئے ‘ لہٰذا والد کی خدمت میں آکر یوں کہنے لگے کہ ہم لوگ جنگل جاتے رہتے ہیں وہاں کھاتے بھی ہیں کھیلتے بھی ہیں ‘ یوسف بھی ہمارا چھوٹا بھائی ہے ہم اس کے خیر خواہ بھی ہیں اور محافظ بھی ہیں آخر کیا بات ہے آپ اسے ایک دن بھی ہمارے ساتھ نہیں بھیجتے اس کے بارے میں آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔
جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…
Read the full tafseer →11:۔ یہ ” اِذْ قَالُوْا “ کا متعلق ہے لہذا اس سے پہلے ” اُذْکُرْ “ مقدر ماننے کی ضرورت نہیں۔ یعنی جب بھائیوں نے مذکورہ بالا مشورہ کیا اس وقت ان میں سے ایک نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو بلکہ اسے جنگل میں سر راہ کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کوئی گذرنے والا قافلہ اسے نکال کر کسی دوسرے علاقے میں لے جائے اس طرح تمہار مقصد بھی پورا ہوجائے گا اور یوسف کی جان بھی بچ جائے گی۔ اکثر مفسرین کی رائے میں یہ قائل یہودا تھا جو سب سے بڑا تھا۔ آخر سب نے اتفاق کیا کہ یوسف کو قتل کرنے کے بجائے کسی گہرے کنوئیں میں پھینک دیا جائے جیسا کہ آئندہ تفصیلات سے پتہ چلتا ہے۔ بھائیوں نے مل کر یہ پروگرام بنایا مگر حضرت یعقوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات
اس سے پہلے خواب کا ذکر ہوچکا ہے جو یوسف (علیہ السلام) نیبچپن میں دیکھا تھا۔ جب اس کا ذکر اپنے باپ کے پاس کیا تو انہوں نے منع کیا کہ اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا کیونکہ وہ حسد کریں گے اور تمہیں ضرور پہنچائیں گے اس کے ساتھ باپ نے اپنے فرزند کو تسلی بھی دی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برگزیدہ بنائے گا۔ اور تمہیں باتوں کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی بتلائے گا۔ اس میں خواب کی تعبیر کا علم بھی شامل ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمتیں پوری کرے گا۔ جیسا کہ اس نے تمہارے آبائو اجداد ابراہیم اور اسحاق (علیہما السلام) پر اپنی نعمتوں کا اہتمام کیا۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْہُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ وَاَلْقُوْہُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْہُ بَعْضُ السَّـيَّارَۃِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ 10
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
[ الأعراف/ 115] ،
( ل ق ی ) لقیہ ( س)
الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ قَـآئِلٌ مِّنْہُمْ لاَ تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَاَلْقُوْہُ فِیْ غَیٰـبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْہُ بَعْضُ السَّیَّارَۃِ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 10)
(ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف ( علیہ السلام) کو قتل نہ کرو اور اس کو کسی اندھے کنویں میں پھینک دو ۔ کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو نکال لے جائے گا۔ اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔ )
بھائیوں کا فیصلہ
ان بھائیوں میں سے کسی ایک نے کہا جو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ بعض مفسرین نے اس کا نام شمعون لکھا ہے کہ اگر تم یوسف ( علیہ السلام) کے بارے میں کچھ کرنے کا فیصلہ کر ہی چکے ہو اور تمہیں باپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بردران یوسف کا اپنے باپ اور بھائی کے بارے میں منفی خیالات کے تحت خفیہ اجلاس کرنا اور ایک گھناؤنے فعل پر متفق ہونا۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دس بیٹے اپنے بھائی کے خلاف سازش کرنے کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور یہ سوچ و بچار کرنے لگے کہ یوسف سے کس طرح چھٹکارا پایا جائے۔ جن میں 9 (نو) بھائی اس بات پر متفق ہوئے کہ یوسف کو جان سے مار ڈالنا چاہیے یا کہیں دور پھینک دینا چاہیے۔ اس کے بعد باپ کی توجہ خود بخود تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اس جرم کے بعد ہم اللہ تعالیٰ سے توبہ کرکے پھر نیکو کار بن جائیں گے۔ (یاد رہے کہ بعد میں توبہ کرنے کی نیت سے گناہ کرنے سے گناہ میں کئی…
Read the full tafseer →10: قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ (ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا) وہ یہودا تھا۔ یہ سب سے زیادہ عمدہ رائے والا تھا۔ لَاتَقْتُلُوْا یُوْسُفَ (تم یوسف کو قتل مت کرو) قتل بہت بڑا گناہ ہے وَاَلْقُوْہُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ ( اسکو گہرے کنویں کے گڑھے میں ڈال دو ) کنوئیں کی گہرائی میں۔ غیابۃ ؔ کنوئیں کا حصہ جو دیکھنے والے کی آنکھ سے اوجھل ہو
قراءت : مدنی نے غیابات اور اسی طرح اس کا مابعدپڑھا ہے۔ یَلْتَقِطْہُ بَعْضُ السَّیَّارَۃِ (اس کو لے جائے کوئی مسافر) راستے پر چلنے والا کوئی آدمی اِنْ کُنتُمْ فٰعِلِیْنَ (اگر تم عمل کرنے والے ہو) اس پر کچھ۔
Read the full tafseer →تفسیر :۔ 10۔” قال قائل منھم لا تقتلوا یوسف “ یہ قائل یہوذا تھا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ روبیل تھا یہ سب بھائیوں میں بڑا اور اچھنی رائے رکھنے والا تھا اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے کہ یہ یہوذا تھا۔ اس نے قتل سے منع کیا اور کہا کہ قتل کبیرہ گناہ ہے۔” والقوہ فی غیابت الجب “ ابو علی جعفر اور نافع رحمہما اللہ نے غیابات الجب پڑھا ہے جمع کا صیغہ دونوں حرفوں میں اور باقی حضرات نے ” غیابت الجب “ واحد کاصیغہ، یعنی کنویں کے نیچے اور اس کی تاریکی میں اور ” الغیابۃ “ ہر وہ جگہ جو تجھ سے کسی چیز کو ڈھانپ لے اور غائب کر دے اور الجب وہ کنواں جس کی منڈیر نہ ہو ۔ اس لیے کہ وہ ٹوٹا ہوا ہے اور منڈیر نہیں بنائی…
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ : ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں میں سے کسی نے کہا جنہوں نے یوسف کو قتل کرنے یا جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا۔ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ : یوسف کو قتل نہ کرو، کیونکہ اس کو قتل کرنا بہت بڑی برائی اور بہت بڑا گناہ ہے اور یہ مقصد کہ یوسف (علیہ السلام) کو اس کے باپ سے دور کردیا جائے، یوسف کو قتل کیے بغیر حاصل ہوجائے گا، اس لیے تم یہ کرو کہ باپ سے دور کرنے کے لیے اسے اندھے کنویں میں ڈال دو اور یوسف کو دھمکی دو کہ وہ بھائیوں کی اس کارستانی کے بارے میں کسی کو آگاہ نہ کرے اور اپنے بارے میں یہی بتائے کہ وہ بھاگا ہوا ایک غلام ہے۔ اس وجہ سے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
قول باری ہے قال قائل منھم لا تقتلوا یوسف والقوہ فی غیایۃ الجب یلتقطہ بعض السیارۃ ان کنتم فاعلین ۔ اس پر ان میں سے ایک بولا ۔ یوسف کو قتل نہ کرو ۔ اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے اندھے کنوئیں میں ڈال دو کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا ۔ جب بھائیوں نے آپس میں حضرت یوسف کو قتل کردینے یا باپ کی نظروں سے دور لے جانے میں سے ایک پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا تو اس موقع پر ان میں سے ایک نے یہ مشورہ دیا کہ اس مقصد کے لیے درج بالا دونوں باتوں کی بجائے ایک تیسری راہ اختیار کی جائے جس میں شر اور بدی کا عنصر نسبتاً کم ہے۔ وہ یہ کہ یوسف کو کسی کم پانی والے کنویں میں پھینک دیا جائے تاکہ مسافروں کا کوئی قابلہ…
Read the full tafseer →18 ۔ یوسف کو اندھے کنویں میں ڈالنے کی تجویز : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر ایک نے کہا کہ تم اس کو قتل نہ کرو بلکہ کسی اندھے کنویں میں ڈال دو ۔ اور یہ بات اسی نے کہی جو ان سب بھائیوں میں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا کہ اس طرح تمہارا مقصد بھی پورا ہوجائے گا اور تم اپنے معصوم و بےگناہ بھائی کے خون ناحق میں ملوث ہونے سے بھی بچ جاؤ گے۔ سو اگر تم لوگوں نے کچھ کرنا ہی ہے تو تم اس کو قتل کرنے کی بجائے قافلوں کے راستے کے کسی دور افتادہ کنویں میں ڈال دو تاکہ کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو وہاں سے اٹھا کر اپنے ساتھ لے جائے اور کسی دوسرے شہر میں جاکر اس کو غلام بنالے۔ یا کہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سیدنا یوسف کو نقصان پہنچانے کے لیے بھائیوں کی سازش
تشریح : جیسا کہ آیات میں بیان ہوچکا تو سب بھائیوں نے حسد کے مارے یوسف (علیہ السلام) کو ٹھکانے لگانے کے لیے تین تجویزیں رکھیں اور پھر آخری فیصلہ یہ ہوا کہ ان کو کنوئیں میں پھینک دیا جائے، لہٰذا اس فیصلہ پر عمل کرنے کی تیاری شروع ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیات 7 تا 19
اسرار و معارف
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ نکال کر اپنے دیس میں لے جائے گا۔ یوسف ( علیہ السلام) کی جان بھی بچ جائے گی اور تمہارا مطلب بھی پورا ہوجائے گا۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(12:10) غیبت۔ الغیابۃ کے معنی نشیبی زمین کے ہیں۔ اور اسی سے گھنے جنگل کو غابۃ کہا جاتا ہے۔ غیابۃ تاریکی۔ گہرائی مجازاً ۔
الجب۔ وہ کنواں جس کی کوٹھی تعمیر نہ کی گئی ہو۔ یا جو پختہ اور لپا ہوا نہ ہو۔ غیب الجب۔ کچے کنویں کے اندھیرے میں۔ کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں۔ یلتقطہ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ التقاط (افتعال) سے لقط مادہ۔ وہ نکال لیگا لقط (باب نصر) زمین پر پڑی ہوئی چیز کو اٹھا لینا۔
السیارۃ۔ کارواں۔ قافلہ۔ چلنے والے مسافر۔ سیار کا مؤنث ہے جو سیر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اس کی تانیث جمع کے معنی کے لحاظ سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 01
کان (ہے۔ تھا) السائلین (پوچھنے والے) احب (زیادہ محبوب ہے) عصبۃ (جماعت۔ قوت) ضلل (گمراہ۔ بھٹکنا) اقتلوا (قتل کردو) اطرحوا (ڈال دو ۔ پھینک دو ) یخل (خاص ہوجائے۔ خالی ہوجائے) وجھ (چہرہ) قائل (کہنے والا) القوہ (اس کو ڈال آؤ) غیبت (گہرا۔ اندھا) الجب (کنواں) یلتقت (اٹھا لے گا) السیارۃ (قافلہ) فعلین (کرنے والے)
تشریح آیت نمبر 7 تا 01
دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ اور دنیا کے دوسرے لوگوں کا رویہ بڑا مختلف ہوتا ہے۔ لوگ دنیا میں اس شخص کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جو طاقت ور ہوتے ہیں لیکن ماں باپ اولاد میں سے ان بچوں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں جو چھوٹے اور کمزور ہوں۔ حضرت یعقوب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالنے کا ذکر
شیطان نے جو بوڑھے آدمی کی شکل میں آیا تھا ان کو بہکایا کہ یوسف (علیہ السلام) تو تمہیں غلام بنانا چاہتا ہے۔ اس کی تدبیر یہ ہے کہ اس کو مار ڈالو یا کسی دور جگہ چھوڑ آؤ، پھر تم ہی تم نظر آؤگے ان میں سے جس کا نام یہودا تھا، کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو قتل تو نہ کرو کیونکہ بےگناہ کا قتل کرنا گناہ عظیم ہے۔ ہاں اس کو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو ، کوئی راہ چلتا اسے اٹھا لے جاوے گا تمہارا مقصد اس تدبیر سے حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ بات سب کی سمجھ میں آگئی سب مل کر باپ کے پاس آئے اور کہا کہ یوسف کو تفریح کے لئے ہمارے ساتھ بھیج دیں تو کچھ مضائقہ کی بات نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
[7] یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بکریاں جنگل میں چرانے لے جایا کرتے تھے۔ اس حیلے سے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانا چاہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
یوسف (علیہ السلام) کیوں باپ کو پیارے تھے !
(ف 1) اب یوسف (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں شروع ہوتی ہیں ، بھائی ملے کرتے ہیں ، کہ یوسف کو تاریک کنوئیں میں ڈال دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ اس کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے تاکہ ہم یوسف (علیہ السلام) کی جگہ لے لیں اور باپ ہم سے زیادہ محبت کرنے لگے ۔
بات یہ تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خلعت نبوت ملنے والا تھا ، یہ باپ کے ہونہار اور سعادتمند صاحبزادے تھے ، باپ کو بالطبع ان سے زیادہ انس تھا ، اور یہ محبت دوسروں کو ناگوار تھی اور قرآن حکیم سے یہ ثابت نہیں ہوتا ، کہ یہ لوگ بھی انبیاء تھے ، بلکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بدگمانی اور ان کے دوسرے افعال سے…
Read the full tafseer →10 ان ہی کہنے والوں میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو جان سے تو نہ مارو اور قتل تو مت کرو ہاں اگر تم کو کچھ کرنا ہی ہے تو اس کو کسی اندھیرے کنوئیں میں ڈال دو جس میں پانی بھی کم ہو اور آبادی اور رہگذر سے بھی فاصلہ پر نہ ہو تاکہ اس کو کوئی راہ چلتا مسافر اٹھا لے جائے۔
بھائیوں کی باہمی گفتگو میں شاید یہودا نے کہا کہ قتل نہ کرنا قتل کرنا تو بہت ہی بڑا گناہ ہے ہاں آبادی سے دور کسی گمنام اور اندھیرے کنوئیں میں ڈال دو تاکہ کوئی آتا جاتا مسافر نکال کرلے جائے یہی رائے سب کو پسند آئی اور اس پر بھائیوں کا متفقہ فیصلہ ہوگیا۔
کہتے ہیں کہ کوئی کنواں حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے کا بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 4۔ جس میں پانی بھی زیادہ نہ ہو کہ ڈوبنے کا ڈر ہو ورنہ تو قتل ہی ہے اور یکایک ہر کسی کو اطلاع بھی نہ ہو کیونکہ اندھیرا کنواں ہے اور رہ گزر سے بھی دور نہ ہو۔
Read the full tafseer →کسی ایک نے مشورہ دیا کہ قتل نہ کرو بلکہ کسی کنوئیں میں اس کو ڈال دو
۔ 10 ایک کہنے والے نے کہا کہ اگر واقعی تم کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس کی بہتر تدبیر یہ ہے کہ یوسف کو یہاں سے اس طرح کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو جو اس علاقہ کی شاہراہ پر جگہ جگہ بنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تاکہ اس کو کوئی قافلہ واں سے نکال لے جائے اور تمہارا مقصد بھی حاصل ہوجائے۔ بس اس امر پر سب کا اتفاق ہوگیا۔ غور کرو کہ یہ پیغمبر زادے تھے ، بارہا یہ سنا تھا کہ کسی کو بلاوجہ قتل کرنا یا اسے اذیت پہنچانا جرم عظیم ہے۔ اس خیال نے ان کے اندر یقینا کچھ گھبراہٹ پیدا کی ہوگی لیکن ان کے نفس حیلہ ساز نے انہیں سہارا دیا کہ گھبرانے کی کوئی بات…
Read the full tafseer →Mentioned in the fourth verse (10) is that, hearing this whole conversation, one of these brothers advised that Yusuf should not be killed. If something has to be done, let him be thrown into some pit of a well where he could remain alive so that when wayfarers stop at this well, they would take him out and away. Thus, it would serve their purpose while they would not have to take the trouble of traveling with him to some far out place. Some caravan passing this way would itself do this for them by taking him away to some distant destination.
The giver of this advice was their eldest…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
11. In this thing also the Quran differs from the Bible and the Talmud, according to which it was not the brothers, who requested their father to send Joseph with them but Prophet Jacob himself sent him with an errand to Shechem, where they were feeding their father’s flocks. Obviously the version of the Quran is more realistic, for Prophet Jacob could never have thought of sending his beloved son with them because he knew it well that they were envious of him, and sending him there would have been sending Joseph deliberately into the jaws of death.
Read the full tafseer →