Yusuf 12:11

Yusuf · from ayah 11

12:11

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰی یُوْسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ ۟قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مَا لَـكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰى يُوۡسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَ‏

(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "O our father, why do you not entrust us with Joseph while indeed, we are to him sincere counselors?

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:11

اس قرارداد پر انہوں نے جا کر اپنے باپ سے کہا "ابا جان، کیا بات ہے کہ آپ یوسفؑ کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے کہا ابا! آخر آپ یوسف ؑ کے بارے میں ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتے ہم تو اس کے خیر خواه ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(چنانچہ) ان بھائیوں نے (اپنے والد سے) کہا کہ : ابا ! یہ آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر اطمینان نہیں کرتے ؟ حالانکہ اس میں کوئی شک نہ ہونا چاہیے کہ ہم اس کے پکے خیر خواہ ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے اے ہمارے باپ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے معامل ہ میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے کہا: اے ہمارے باپ! آپ کو کیا ہوگیا ہے آپ یوسف ؑ کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم یقینی طور پر اس کے خیر خواہ ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا اے ہمارے باپ ! تجھے کیا ہے کہ تو یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتا، حالانکہ بیشک ہم یقینا اس کے خیرخواہ ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اس تجویز کے بعد) وہ اپنے باپ سے کہنے لگے : کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیر خواہ ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے اپنے باپ سے کہا، اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ یوسف کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے بڑے ہی خیرخواہ ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو (اس قرار داد کے بعد) انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان، کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے، حالانکہ ہم اس کے پکے خیر خواہ ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے اے ہمارے اباجان آپ کو یہ کیا ہے کہ آپ یوسف ؑ کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے۔ درآنحالیکہ ہم تو ان کے بڑے خیر خواہ ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : اباجان ! کیا وجہ ہے کہ آپ ہم پر بھروسہ نہیں کرتے یوسف کے معاملے میں حالانکہ ہم تو اس کے بڑے خیر خواہ ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب ؑ کو) کہنے لگے کہ ابا جان ! کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے ؟ حالانکہ ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

After so deciding they said to their father: "Why is it that you do not trust us regarding Joseph although we are his true well-wishers?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said (to Ya'qub), :Our father, why is it that you do not trust us about Yusuf, while we are his well-wishers indeed.

— Muhammad Taqi Usmani

They said (to Yaqub), :Our father, why is it that you do not trust us about Yusuf, while we are his well-wishers indeed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "O our father! Why do you not trust us with Yusuf though we are indeed his well-wishers"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: O our father! Why wilt thou not trust us with Joseph, when lo! we are good friends to him?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "O our father, why do you not entrust us with Joseph while indeed, we are to him sincere counselors?

— Saheeh International

Then they asked their father, "Why do you not trust us with Joseph? We are his well-wishers.

— Muhammad Sarwar

They said: O our father! what reason have you that you do not trust in us with respect to Yusuf? And most surely we are his sincere well-wishers:

— Muhammad Habib Shakir

They said: our father! wherefore thou intrustest us not with Yusuf, whereas verily we are his well-wishers.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "O our father! why dost thou not trust us with Joseph,- seeing we are indeed his sincere well-wishers?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–12

بڑے بھائی کی رائے پر اتفاق بڑے بھائی روبیل کے سمجھانے پر سب بھائیوں نے اس رائے پر اتفاق کرلیا کہ یوسف کو لے جائیں اور کسی غیر آباد کنویں میں ڈال آئیں۔ یہ طے کرنے کے بعد باپ کو دھوکہ دینے اور بھائی کو پھسلا کرلے جانے اور اس پر آفت ڈھانے کے لیے سب مل کر باپ کے پاس آئے۔ باوجود یکہ تھے بد اندیش بد خواہ برا چاہنے والے لیکن باپ کو اپنی باتوں میں پھنسانے کے لیے اور اپنی گہری سازش میں انہیں الجھانے کے لیے پہلے ہی جال بچھاتے ہیں کہ ابا جی آخر کیا بات ہے جو آپ ہمیں یوسف کے بارے میں امین نہیں جانتے ؟ ہم تو اس کے بھائی ہیں اس کی خیر خواہیاں ہم سے زیادہ کون کرسکتا ہے۔ ؟ (يَّرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَاِنَّا لَهٗ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–12

سورة یُوْسُف 11 یہ بیان بھی بائیبل اور تلمود کے بیان سے مختلف ہے۔ ان کی روایت یہ ہے کہ برادران یوسف ؑ اپنے مویشی چرانے کے لیے سکّم کی طرف گئے ہوئے تھے اور ان کے پیچھے خود حضرت یعقوب ؑ نے ان کی تلاش میں حضرت یوسف ؑ کو بھیجا تھا۔ مگر یہ بات بعید از قیاس ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے یوسف ؑ کے ساتھ ان کے حسد کا حال جاننے کے باوجود انہیں آپ اپنے ہاتھوں موت کے منہ میں بھیجا ہو۔ اس لیے قرآن کا بیان ہی زیادہ مناسب حال معلوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پانچویں اور چھٹی آیت میں ہے کہ ان بھائیوں نے والد کے سامنے درخواست ان لفظوں میں پیش کردی کہ اباجان یہ کیا بات ہے کہ آپ کو یوسف کے بارے میں ہم پر اطمینان نہیں حالانکہ ہم اس کے پورے خیر خواہ اور ہمدرد ہیں کل اس کو آپ ہمارے ساتھ (سیر و تفریح کے لئے) بھیج دیجئے کہ وہ بھی آزادی کے ساتھ کھائے پیئے اور کھیلے اور ہم سب اس کی پوری حفاظت کریں گے، بھائیوں کی اس درخواست سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کبھی اس سے پہلے بھی ایسی درخواست کرچکے تھے جس کو والد بزرگوار نے قبول نہ کیا تھا اس لئے اس مرتبہ ذرا تاکید اور اصرار کے ساتھ والد کو اطمینان دلانے کی کوشش کی گئی ہے،

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 11–12

11۔ 12:۔ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ۔ اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَّرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ حضرت یعقوب کو فریب : " یرتع و یلعب " کا لغوی مفہوم تو یہ ہے کہ ذر چرے چگے اور کھیلے کودے لیکن یہ نہایت خوب صورت تعبیر ہے پکنک منانے کی۔ بدویانہ دور زندگی میں جی بلانے کے جو طریقے بہت مقبول و محبوب رہے ہیں ان میں پکنک کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ شعرائے جاہلیت اپنے قصائد میں بڑی دلچسپی سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔ حضرت یوسف کے بھائیوں نے بھی مذکورہ بالا رائے پر اتفاق کرلینے کے بعد حضرت یعقوب کو شیشہ میں اتارنے کے لیے ان کو یہی سبز باغ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس سے قبل بھی برداران یوسف ؑ نے یوسف ؑ کو اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی ہوگی اور باپ نے انکار کردیا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–11

6: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یوسف ؑ کے بھائی اس سے پہلے بھی انہیں ساتھ لے جانے کی کوشش کرچکے تھے لیکن حضرت یعقوب ؑ نے منع فرما دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب یہ لوگ اپنے باپ کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور انہیں آمادہ کر رہے ہیں کہ یوسف کو ان کے ساتھ جانے دیں۔ اب وہ باپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ، یوسف کے خلاف سازش کر رہے ہیں ، ذرا براہ راست ان کی بات سنیں۔ اس قرار داد پر انہوں نے اپنے باپ سے کہا : ابا جان کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں۔ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ، کچھ چر چگ لے گا ، اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں۔ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ، کچھ چر چگ لے گا ، اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں۔ باپ نے کہا تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے بھی باپ سے اس قسم کی درخواست کرچکے تھے مگر ان کا دل ان کے ساتھ بھیجنے پر مطمئن نہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 10 قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ یہ شریف النفس انسان ان کے سب سے بڑے بھائی تھے جنہوں نے یہ مشورہ دیا۔ ان کا نام یہودا تھا اور انہی کے نام پر لفظ ”یہودی“ بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ تو اس سے پیچھا چھڑانے کا ہے لہٰذا ضروری نہیں کہ قتل جیسا گناہ کر کے ہی یہ مقصد حاصل کیا جائے اس کے لیے کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ وَاَلْقُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ پرانے زمانے کے کنویں کی ایک خاص قسم کو باؤلی کہا جاتا تھا اس کا منہ کھلا ہوتا تھا لیکن گہرائی میں یہ تدریجاً تنگ ہوتا جاتا تھا۔ پانی کی سطح کے قریب اس کی دیوار میں طاقچے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 بھائیوں کا باپ سے یوسف کو ساتھ لے جانے کا مطالبہ :۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ یوسف کو اپنے ساتھ کیسے لے جائیں تاکہ اپنی تجویز پر عمل کرسکیں۔ سیدنا یعقوب کو تو پہلے ہی معلوم تھا کہ یوسف کے حق میں ان کے بھائیوں کے دل صاف نہیں ہیں۔ اس غرض کے لیے پھر انھیں جھوٹ اور مکاری سے کام لینا پڑا۔ اپنے باپ سے عرض کیا کہ آخر ہم اس کے بھائی ہی ہیں۔ آپ اسے ہمارے ساتھ آنے جانے میں تامل کیوں کرتے ہیں ہم پر اعتماد کیجئے۔ ہم کوئی اس کے دشمن تو نہیں اور بہتر یہ ہے کہ کل جب ہم اپنے ریوڑ چرانے کے لیے ریوڑ کو جنگل کی طرف لے جائیں۔ تو آپ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ وہاں اس کا دل بہلے گا۔ جنگل کے پھل وغیرہ کھائے گا۔ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ (اور کبھی انہیں ہمارے ساتھ سیر وشکار کے لئے نہیں بھیجتے) جب باہم مشورہ سے وہ خاص صورت طے پاگئی تو اب سب مل کر باپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گفتگو شروع کی توریت میں جہاں اور مسخ شدہ روایتیں ہیں اس روایت کو بھی بالکل خلط ملط کرکے درج کیا ہے۔ توریت کا بیان ہے کہ یوسف خود ہی اپنے باپ کے فرستادہ اپنے بھائیوں کے پاس جنگل میں پہنچے جہاں وہ اپنے گلے چرا رہے تھے اور ان کے قتل وغیرہ کے منصوبے وہیں ہوئے :۔ ” اور جونہی انہوں نے اسے دور سے دیکھا اس سے پہلے کہ وہ نزدیک پہنچے اس کے قتل کا منصوبہ باندھا اور ایک نے دوسرے سے کہا دیکھو یہ صاحب خواب آتا ہے سوآؤ اب ہم اسے مار ڈالیں اور کسی کنوئیں میں ڈال دیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–20

آیت نمبر 7 تا 20 ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا یابانا ما لک لا تامنا علی یوسف کہا : ابا ! آپ یوسف پر ہمارا اعتماد کیوں نہیں کرتے۔ یعنی یوسف کے معاملے میں آپ کو ہم سے اندیشہ کیوں ہے۔ وانا لہ لنا صحون اور بلاشک و شبہ ہم تو اس کے خیرخواہ ہیں۔ حضرت یعقوب نے بیٹوں کو یوسف سے حسد کرتے پایا تو بدگمان ہوگئے ‘ اس بدگمانی کو دور کرنے کیلئے بیٹوں نے یہ بات کہی اور حضرت یوسف کی خیرخواہی کا اظہار کیا۔ مقاتل نے کہا : کلام کی ترتیب میں کچھ تقدیم تاخیر ہے۔ اصل ترتیب اس طرح ہے : اَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًّا یَّرْتَعُ وَیَلْعَبْالخ باپ نے اس کے جواب میں کہا : اِنِّی لیحزننی الخ اس پر بیٹوں نے کہا : ما لک لا تامنا الخ۔ نصح کا معنی ہے : خیر خواہی یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–12

(11۔ 12) چناچہ سب نے اپنے باپ کے سامنے آکر گزارش کی اور کہا کہ ہم انکے خیرخواہ ہیں، آپ ان کو ہمارے ساتھ جنگل بھیجئے تاکہ وہ جائیں آئیں کھائیں اور کھیلیں اور ہم ان پر مشفق ومہربان ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 11–12

قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا۔۔ : اب یہ مرحلہ درپیش تھا کہ یوسف ؑ کو ساتھ کیسے لے جائیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار یوسف ؑ کو ساتھ لے جانے کی کوشش کرچکے تھے، مگر والد نے اجازت نہیں دی تھی اور یہ کہ والد کو پہلے بھی ان کے متعلق اعتبار نہ تھا کہ وہ یوسف کے خیر خواہ ہیں، یا انھیں کوئی گزند نہیں پہنچائیں گے۔ اس مرتبہ دس کے دس بھائیوں نے منت، خوشامد اور دھونس دھاندلی کا ہر حربہ استعمال کرکے یوسف ؑ کو ساتھ لے جانے کی اجازت طلب کی۔ سب سے پہلے تو نہایت ادب اور منت کے ساتھ بات کی، ابتدا دیکھیے ”يٰٓاَبَانَا“ ”اے ہمارے باپ !“ اس سے قریب تر رشتہ کون سا ہوگا جو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–12

آیت نمبر 11 تا 12 قالوایٰابانامالک لاتامنا علیٰ یوسف حضرت حسن ؓ کو کہا گیا : کیا مؤمن حسد کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تجھے بنی یعقوب کا معاملہ کیوں بھول گیا ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے : باپ بہت زیادہ چلانے والا ہے اور بھائی بہت زیادہ چھیننے والا ہے۔ اس وقت وہ ایک حیلہ کے ذریعے باپ، بیٹے کو جدا کرنے پر جمع ہوئے اور انہوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو کہا : قالوایٰابانامالک لا تامنا علیٰ یوسف ایک قول یہ ہے : جب انہوں نے باہم بات چیت کی اور متکلم ثانی کی رائے پر جدا جدا ہوئے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس واپس لوٹ کے گئے اور یہ بات کہی، اس میں اس بات پر بھی دلیل ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے بھی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–12

1:۔ ابن منذر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابوقاسم (رح) سے روایت کیا کہ ابورزین نے یوں پڑھا (آیت) ” مالک لا تامنا علی یوسف “ عبید بن نظلہ نے ان سے فرمایا آپ نے غلطی کی انہوں نے فرمایا اس نے غلطی نہیں کی جس نے اپنی قوم کی لغت میں قرآت کی۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ارسلہ معنا غدا یرتع ویلعب “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ہم دوڑیں ہم ہشاش بشاش ہوں اور ہم کھیل کود کریں۔ 3:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابو عمر ویوں پڑھتے تھے (آیت) ” نرتع ونلعب “ نون کے ساتھ میں نے ابوعمر و سے کہا وہ لوگ کعبے نوقع اور نلعب کہہ رہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [يٰٓاَبَانا : اے ہمارے والد ] [مَالَكَ : آپ کو کیا ہے ] [لَا تَاْمَنَا : (کہ) آپ اعتبار نہیں کرتے ہم پر ] [ عَلٰي يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) پر (یعنی ان کے بارے میں)] [ وَ : حالانکہ ] [ انا : بیشک ہم ] [لَهٗ : ان (علیہ السلام) کے لئے ] [ لَنٰصِحُوْنَ : یقینا خیر خواہی کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–11

بھائیوں کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانے کی والد سے درخواست کرنا اور ان کا اندیشہ کرنا کہ اسے بھیڑیا نہ کھاجائے ان لوگوں کا مشورہ تو ہو ہی چکا تھا کہ یوسف کو لے جانا ہے اور باپ کی نظروں سے اوجھل کرنا ہے لیکن اس کا طریقہ کیا ہو باپ تو اپنی نظروں سے دور کرنے کے لیے تیار نہیں ہمراہ لے جانے کے لیے کم از کم والد کی اجازت تو ہونی چاہئے ‘ لہٰذا والد کی خدمت میں آکر یوں کہنے لگے کہ ہم لوگ جنگل جاتے رہتے ہیں وہاں کھاتے بھی ہیں کھیلتے بھی ہیں ‘ یوسف بھی ہمارا چھوٹا بھائی ہے ہم اس کے خیر خواہ بھی ہیں اور محافظ بھی ہیں آخر کیا بات ہے آپ اسے ایک دن بھی ہمارے ساتھ نہیں بھیجتے اس کے بارے میں آپ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–20

معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔ بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔ جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 11–12

12:۔ یوسف (علیہ السلام) کو باپ سے جدا کرنے کا پروگرام بنا کر والد گرامی کی خدمت میں آئے اور کہا کہ یوسف کے بارے میں آپ ہم پر اعتماد کیوں نہیں کرتے حالانکہ وہ ہمارا عزیز بھائی ہے اور ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔ آپ اسے ہمارے ساتھ بھیجیں باہر سیر و تفریح سے دل بہلائے گا اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–14

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ نے فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ میں سوال کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔ اس کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کا ان کے چھوٹے بیٹوں کے ساتھ محبت کا ذکر ہوا اور بھائیوں کے حسد اور رشک کو بھی بیان کیا گیا۔ پھر بھائیوں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا کہ کسی طرح یوسف (علیہ السلام) کو راستے سے ہٹانا چاہئے تاکہ باپ کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو سکے۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس کو قتل کردیا جائے یا کسی گہرے کنوئیں میں پھینک دیا جائے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ کام کاج کرنے والے ہم ہیں جب کہ ہمارا باپ ان چھوٹے بیٹوں سے زیادہ محبت کرتا ہے جو ابھی تک کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔ ان بھائیوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ وَاِنَّا لَہٗ لَنٰصِحُوْنَ۝ 11 لاتامنا علی یوسف ۔ مضارع منفی واحد مذکر حاضر۔ تو ہم کو امین نہیں بناتا یوسف پر۔ یعنی یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتا۔ اصل میں تامنا ( امن یامن سمع) تھا۔ نون نون میں مدغم کردیا گیا۔ نصح النُّصْحُ : تَحَرِّي فِعْلٍ أو قَوْلٍ فيه صلاحُ صاحبِهِ. قال تعالی: لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلكِنْ لا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ [ الأعراف/ 79] وَلا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ [هود/ 34] وهو من قولهم : نَصَحْتُ له الوُدَّ. أي : أَخْلَصْتُهُ ، ونَاصِحُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–22

1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–14

قَالُوْا یٰٓـاَبَانَا مَالَکَ لاَ تَاْمَنَّا عَلٰی یُوْسُفَ وَاِنَّا لَہٗ لَنٰـصِحُوْنَ ۔ اَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَیَلْعَبْ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ۔ قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْٓ اَنْ تَذْھَبُوْا بِہٖ وَاَخَافُ اَنْ یَّاْکُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْہُ غٰفِلُوْنَ ۔ قَالُوْا لَئِنْ اَکَلَہُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ اِنَّـآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 11، 12، 13 14) (انھوں نے کہا اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ یوسف ( علیہ السلام) کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے بڑے ہی خیرخواہ ہیں۔ کل اس کو ہمارے ساتھ بھیجئے، ذرا چرے جگے اور کھیلے کودے اور ہم اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–14

فہم القرآن ربط کلام : سازش پر متفق ہونے کے بعد برادران یوسف کا اپنے باپ کی خدمت میں پیش ہو کر یوسف (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے جانے کا مطالبہ کرنا۔ برادران یوسف اپنے باپ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابا جان کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتماد نہیں کرتے ؟ حالانکہ ہم اس کے بارے میں نہایت ہی خیر خواہی کے جذبات رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہماری درخواست ہے کہ اسے ہمارے ساتھ بھیجئے تاکہ کھلی فضا میں یوسف سیرو سیاحت اور کھیل کود میں ہمارے ساتھ شریک ہو۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس کی پوری طرح حفاظت کریں گے۔ بیٹوں کے مطالبہ کے جواب میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس بات کا اظہار کیا کہ میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

والد سے بات چیت : 1 1: قَالُوْا یٰٓاَبَا نَا مَالَکَ لَاتَاْمَنَّا عَلٰی یُوْسُفَ وَاِنَّا لَہٗ لَنَا صِحُوْنَ (وہ کہنے لگے اے ہمارے والد آپ ہم پر یوسف کے معاملے میں کیوں اعتماد نہیں کرتے اور بیشک ہم اس کے خیر خواہ ہیں) یعنی آپ ہم سے اس کے متعلق خائف کیوں ہیں۔ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔ اور اس پر شفقت کرنے والے ہیں۔ اس سے وہ یعقوب (علیہ السلام) کو ان کی رائے سے پھیرنا چاہتے تھے۔ اور حفاظت کے سلسلہ میں ان کی عادت کو بدلنا چاہتے تھے جبکہ یوسف کے متعلق فیصلہ کن کارروائی کا پختہ ارداہ ان کے باطن میں تھا۔ فائدہ : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے ایسی بات کو محسوس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11۔” قالوا “ یعقوب کو ” یا ابانا مالک لا تامنا علی یوسف “ ابو جعفر نے ” تامنا “ بغیر اشمام کے پڑھا ہے اور یہی نافع سے روایت ہے اور باقی حضرات نے پیش کا پہلے مدغم نون میں اشمام کیا ہے تا کہ معلوم ہوجائے کہ اس کی اصل ” لا تامننا “ دو نون کے ساتھ ہے۔ ” تفعلنا “ کے وزن پر تو پہلے نون کو دوسرے نون میں ادغام کیا گیا ہے اس کے انکار سے ابتداء کی ہے کہ یعقوب یوسف (علیہما السلام) کو ان کے ساتھ نہ بھیجیں گے۔ گویا کہ یوں کہا ہے کہ آپ اس کو ہمارے ساتھ نہ بھیجیں گے ، کیا آپ (علیہ السلام) کو ہم سے اس کے معاملہ میں کوئی ڈر ہے ؟ ” وانا لہ لناصحون “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کلام میں تقدیم و تاخی رہے کیونکہ انہوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–12

11۔ 12۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا یہ قول روبیل کے اسی صلاح کی بنا پر تھا جس کا ذکر اوپر گزرا لیکن بات بنانے کے طور پر باپ سے یہ بات کہی کہ آپ ہم پر اعتبار کیوں نہی کرتے اور ہمیں یوسف کا خیر خواہ جان کر یوسف کو ہمارے ساتھ کیوں نہیں بھیجتے۔ یہ لوگ بکریاں چرانے جنگل میں جایا کرتے تھے اس لئے کہا کہ کل یوسف کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ یہ وہاں جا کر کھیلے کودے گا اس کے ہاتھ پاؤں کھلیں گے اور ہم اس کے محافظ ہیں کسی قسم کا نقصان اسے نہیں پہنچے گا۔ صحیح بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی اور ابوداؤد میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا سچ آدمی کو جنت کا راستہ بتلاتا ہے اور جھوٹ دوزخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–14

آیت 11 تا 14: یعنی جناب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے باپ سے کہا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ : اباجان کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہٰیں کرتے۔ یعنی کون سی چیز بغیر کسی سبب اور موجب کے یوسف کے بارے میں آپ کو ہم سے خائف کر رہی ہے اور حال یہ ہے کہ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ : ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔ یعنی ہم اس پر شفقت رکھتے ہیں اور ہم اس کے لیے وہی کچھ چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں۔ برادران یوسف کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف علی السلام کو ان کے بھائیوں کے ساتھ جنگل وغیرہ کی طرف نہیں جانے دیا کرتے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 10–14

قول باری ہے قال قائل منھم لا تقتلوا یوسف والقوہ فی غیایۃ الجب یلتقطہ بعض السیارۃ ان کنتم فاعلین ۔ اس پر ان میں سے ایک بولا ۔ یوسف کو قتل نہ کرو ۔ اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے اندھے کنوئیں میں ڈال دو کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا ۔ جب بھائیوں نے آپس میں حضرت یوسف کو قتل کردینے یا باپ کی نظروں سے دور لے جانے میں سے ایک پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا تو اس موقع پر ان میں سے ایک نے یہ مشورہ دیا کہ اس مقصد کے لیے درج بالا دونوں باتوں کی بجائے ایک تیسری راہ اختیار کی جائے جس میں شر اور بدی کا عنصر نسبتاً کم ہے۔ وہ یہ کہ یوسف کو کسی کم پانی والے کنویں میں پھینک دیا جائے تاکہ مسافروں کا کوئی قابلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–13

19 ۔ برادران یوسف کا اپنے باپ سے یوسف کے بارے میں اپنی خیر خواہی کا اظہار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے پکے خیر خواہ ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ جن کے دلوں میں چور ہوتا ہے وہ اپنا اعتبار قائم کرنے کے لیے اسی طرح کی پکی اور قسمیہ باتوں کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اس طرح وہ اپنی بات دوسروں کو باور کرا سکیں۔ جبکہ سچوں اور صدق شعار لوگوں کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے دل میں چونکہ اطمینان ہوتا ہے کہ ہم سچے اور درست راہ پر ہیں۔ اس لیے وہ قسم کھائے بغیر یونہی سیدھی اور سادہ بات کہنے پر اکتفاء کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–21

بھائیوں کی زیادتی اور سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصر پہنچنا تشریح : اس تمام قصہ کو پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اکثر حسد کی وجہ سے بعض شرارت اور خباثت میں ایسے برے کام کرجاتا ہے کہ جو خود اس کے اپنے لیے دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ دغا، فریب، جھوٹ اور ظلم یہ بہت بڑے گناہ ہیں جو انسان صرف اپنی دنیوی کامیابی کے لیے کرجاتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب کرنے سے کسی کا حقیقت میں نقصان کم ہی ہوتا ہے اصل میں اپنی عاقبت خراب کرلیتا ہے اور دنیا میں بھی کوئی عزت اور کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ تو ہر اس کام سے واقف ہے جو انسان دوسروں سے چھپا کر کرتا ہے۔ اور پھر اللہ سے بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–20

آیات 7 تا 19 اسرار و معارف حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

لاتامنا علی یوسف۔ مضارع منفی واحد مذکر حاضر۔ تو ہم کو امین نہیں بناتا یوسف پر۔ یعنی یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتا۔ اصل میں تامنا (امن یامن سمع) تھا۔ نون نون میں مدغم کردیا گیا۔ لناصحون۔ ناصح کی جمع۔ خیر خواہ ۔ خیر خواہی کرنے والے۔ لام تاکید کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–18

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 18 مالک (تجھے کیا ہوگیا) لاتامنا (تو ہم پہ اطمینان نہیں کرتا ہے) نصحون (نصیحت کرنے والے۔ خیر خواہ) ارسل (بھیج دے) غداً (کل۔ آئندہ۔ صبح ) یرتع (کھاتا ہے یا کھائے گا ) یعلب (کھیلتا ہے یا کھیلے گا) لیحزننی (البتہ مجھے رنجیدہ کرتی ہے) ان یا کلہ ، (یہ کہ وہ کھائے) الذئب (بھیڑیا) ان یجعلوہ (یہ کہ وہ اس کو ڈال دیں) عشآء (رات کے وقت) یبکون (وہ روتے ہیں یا روئیں گے ) ذھبنا (ہم چلے گئے ) نستبق (ہم دوڑ کا مقابلہ کر رہے ہیں) ترکنا (ہم نے چھوڑ دیا) عند (نزدیک) متاعنا (ہمارا اپنا سامان) دم کذب (جھوٹا خون) سولت (بنا لی ہے۔ برابر کرتی ہے) صبر جمیل (اچھا صبر) المستعان (استعانۃ) مدد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–12

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالنے کا ذکر شیطان نے جو بوڑھے آدمی کی شکل میں آیا تھا ان کو بہکایا کہ یوسف (علیہ السلام) تو تمہیں غلام بنانا چاہتا ہے۔ اس کی تدبیر یہ ہے کہ اس کو مار ڈالو یا کسی دور جگہ چھوڑ آؤ، پھر تم ہی تم نظر آؤگے ان میں سے جس کا نام یہودا تھا، کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو قتل تو نہ کرو کیونکہ بےگناہ کا قتل کرنا گناہ عظیم ہے۔ ہاں اس کو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو ، کوئی راہ چلتا اسے اٹھا لے جاوے گا تمہارا مقصد اس تدبیر سے حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ بات سب کی سمجھ میں آگئی سب مل کر باپ کے پاس آئے اور کہا کہ یوسف کو تفریح کے لئے ہمارے ساتھ بھیج دیں تو کچھ مضائقہ کی بات نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–12

[7] یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بکریاں جنگل میں چرانے لے جایا کرتے تھے۔ اس حیلے سے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانا چاہا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–11

یوسف (علیہ السلام) کیوں باپ کو پیارے تھے ! (ف 1) اب یوسف (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں شروع ہوتی ہیں ، بھائی ملے کرتے ہیں ، کہ یوسف کو تاریک کنوئیں میں ڈال دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ اس کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے تاکہ ہم یوسف (علیہ السلام) کی جگہ لے لیں اور باپ ہم سے زیادہ محبت کرنے لگے ۔ بات یہ تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خلعت نبوت ملنے والا تھا ، یہ باپ کے ہونہار اور سعادتمند صاحبزادے تھے ، باپ کو بالطبع ان سے زیادہ انس تھا ، اور یہ محبت دوسروں کو ناگوار تھی اور قرآن حکیم سے یہ ثابت نہیں ہوتا ، کہ یہ لوگ بھی انبیاء تھے ، بلکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بدگمانی اور ان کے دوسرے افعال سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

1 1 اس پر سب نے مل کر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا اے ہمارے باپ اس کا کیا سبب ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے اور ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں یعنی آپ کے عدم اعتبار کی یہ کیفیت ہے کہ آپ اس کو ہمارے ساتھ بھی نہیں بھیجتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

ف 4۔ جس میں پانی بھی زیادہ نہ ہو کہ ڈوبنے کا ڈر ہو ورنہ تو قتل ہی ہے اور یکایک ہر کسی کو اطلاع بھی نہ ہو کیونکہ اندھیرا کنواں ہے اور رہ گزر سے بھی دور نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

باپ سے کہنے لگے ابو ! کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملہ میں ہم پر اعتبار نہیں کرتے ؟ ۔ 11 مشورہ طے ہوجانے کے بعد سب جمع ہو کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ یوسف کو ہمارے ساتھ سیر و سیاحت اور شکار کرنے کے لئے نہیں بھیجتے کیا آپ کو ہم پر اعتماد نہیں ؟ بھلا ہم سے زیادہ اس کا خیر خواہ دوسرا کون ہو سکتا ہے ؟ قرآن کریم کی اس آیت گیارہ اور بارہ کو بار بار پڑھو اور سمجھنے کی کوشش کرو کہ انسان بعض اوقات کتنا مکار ، کتنا فریبی ، کتنا دھوکا باز اور کتنا ڈھیٹ ہوجاتا ہے اور سفید جھوٹ پر کس طرح رنگ بھرتا ہے اور یہ کام کن کن خاندانوں اور کیسے کیسے شاندار گھروں اور بڑی بڑی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Appearing in the fifth (111) and sixth (112) verse is the request of these brothers before their father in which they wondered why he would not trust them with Yusuf, although they wished him fully well. So, they pleaded, he should send him along with them to enjoy himself freely by eating and drinking and playing with them and that they all shall be there to take care of him. The tone of the very request made by the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) indicates that they had already made such a request earlier too which was not accepted by their father. Therefore, in the present…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–12

11. In this thing also the Quran differs from the Bible and the Talmud, according to which it was not the brothers, who requested their father to send Joseph with them but Prophet Jacob himself sent him with an errand to Shechem, where they were feeding their father’s flocks. Obviously the version of the Quran is more realistic, for Prophet Jacob could never have thought of sending his beloved son with them because he knew it well that they were envious of him, and sending him there would have been sending Joseph deliberately into the jaws of death.

Read the full tafseer →