Hud 11:122

Hud · from ayah 122

11:122

وَانْتَظِرُوْا ۚ— اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ ۟وَانْـتَظِرُوۡا‌ ۚ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ‏

اور (نتیجہٴ اعمال کا) تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And wait, indeed, we are waiting."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 10 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:122

انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (نتیجہٴ اعمال کا) تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تم بھی انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم بھی (اللہ کے فیصلے کا) انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور راہ دیکھو ہم بھی راہ دیکھتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم (بھی) انتظار کرو ہم (بھی) منتظر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انتظار کرو، یقینا ہم (بھی) انتظار کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم بھی انتظار کرو، ہم بھی منتظر ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم بھی انتظار کرو (نتیجہ و انجام کا) ہم بھی منتظر ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور تم انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم بھی انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اعمال کے نتیجہ کا آپ بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And do wait for the end of things; we too are waiting.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And wait. We too are waiting.

— Muhammad Taqi Usmani

And wait. We too are waiting.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And you wait! We (too) are waiting."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And wait, indeed, we are waiting."

— Saheeh International

Wait, and I, too, will be waiting with you."

— Muhammad Sarwar

And wait; surely we are waiting also.

— Muhammad Habib Shakir

And await; as verily we are awaiting.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 11:122

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 121–122

بطور دھمکانے ڈرانے اور ہوشیار کرنے کے ان کافروں سے کہہ دو کہ اچھا تم اپنے طریقے سے نہیں ہٹتے تو نہ ہٹو ہم بھی اپنے طریقے پر کار بند ہیں۔ تم منظر رہو کہ آخر انجام کیا ہوتا ہے ہم بھی اسی انجام کی راہ دیکھتے ہیں فالحمد للہ دنیا نے ان کافروں کا انجام دیکھ لیا ان مسلمانوں کا بھی جو اللہ کے فضل و کرم سے دنیا پر چھا گئے۔ مخالفین پر کامیابی کے ساتھ غلبہ حاصل کرلیا دنیا کو مٹھی میں لے لیا فللہ الحمد۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 119–122

سورة هُوْد 116 یہ اس شبہ کا جواب ہے جو بالعموم ایسے مواقع پر تقدیر کے نام سے پیش کیا جاتا ہے۔ اوپر اقوام گزشتہ کی تباہی کا جو سبب بیان کیا گیا ہے اس پر یہ اعتراض کیا جاسکتا تھا کہ ان میں اہل خیر کا موجود نہ رہنا یا بہت کم پایاجانا بھی تو آخر اللہ کی مشیت ہی سے تھا، پھر اس کا الزام ان قوموں پر کیوں رکھا جائے ؟ کیوں نہ اللہ نے ان کے اندر بہت سے اہل خیر پیدا کردیے ؟ اس کے جواب میں یہ حقیقت حال صاف صاف بیان کردی گئی ہے کہ اللہ کی مشیت انسان کے بارے میں یہ ہے ہی نہیں کہ حیوانات اور نباتات اور ایسی ہی دوسری مخلوقات کی طرح اس کو بھی جبلی طور پر ایک لگے بندھے راستے کا پابند بنادیا جائے جس سے ہٹ کر وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 118–123

اختلاف مذموم اور محمود پانچویں آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب انسانوں کو ایک ہی امت و ملت بنا دیتا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمام انسانوں کو زبردستی قبول اسلام پر مجبور کر ڈالتے سب کے سب مسلمان ہی ہوجاتے ان میں کوئی اختلاف نہ رہتا مگر بتقاضائے حکمت اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی کو کسی عمل پر مجبور نہیں کرتے بلکہ اس نے انسان کو ایک قسم کا اختیار سپرد کردیا ہے اس کے ماتحت وہ اچھا یا برا جو چاہے عمل کرسکتا ہے، اور انسان کی طبائع مختلف ہیں اس لئے راہیں مختلف ہوتی ہیں اور عمل مختلف ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ دین حق سے اختلاف کرتے ہی رہیں گے بجز…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 121–122

121۔ 122:۔ وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ ۭ اِنَّا عٰمِلُوْنَ۔ وَانْتَظِرُوْا ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ۔ مخالفین کو فیصلہ کن جواب : اب یہ آخر میں ایک فیصلہ کن جواب ہے مخالفین کو کہ تم جو کچھ ہماری مخالفت میں کر رہے ہو یا کرنا چاہتے ہو کرو اور ہم بھی دعوت حق کے جس کام کو کر رہے ہیں تمہاری تمام مخالفتوں اور تمام ژاژخائیوں کے علی الرغم کرتے رہیں گے۔ اگر تم عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو تو اس کا انتظار کرو، ہم بھی اس کے منتظر ہی ہیں۔ اس لیے کہ وہ تمام علامتیں جو کسی قوم کو مستحق عذاب بناتی ہیں وہ تم میں ایک ایک کرکے نمایاں ہورہی ہیں لیکن عذاب بھیجنا خدائے علام الغیوب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 122–123

122۔ 1 یعنی عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ حسن انجام کس کے حصے میں آتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ ظالم لوگ کامیاب نہیں ہونگے۔ چناچہ یہ وعدہ جلد ہی پورا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا اور پورہ جزیرہ عرب اسلام کے زیر نگین آگیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 119–123

64: یہ بات قرآن کریم نے بار بار واضح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمام انسانوں کو زبردستی ایک ہی دین کا پابند بنا دیتا ، لیکن اس کائنات کی تخلیق اور انسان کو اس میں بھیجنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھا کر اسے یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے اسی میں اس کا امتحان ہے کہ وہ اپنی مرضی اور اختیار کو ٹھیک استعمال کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں جنت کماتا ہے یا اس کا غلط استعمال کرکے دوزخ کا مستحق بن جاتا ہے، اس امتحان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس کے اختیار کے بغیر زبردستی کسی ایک راستے پر نہیں رکھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 121–122

وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (11 : 121) رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں ٗٗ ۔ اور اے پیغمبر تمہارے ایک دوسرے بھائی نے بھی اپنی قوم کو ایسا ہی کہا تھا ، جس کا تذکرہ اسی سورت میں ہوچکا ہے اور پھر اپنی قوم کو ایک طرف چھوڑ دیا تھا ، کہ وہ اپنے انجام کا انتظار کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 121–122

5 اس مضمون کی آیات پہلے اسی سورت میں گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر میری بات نہیں مانتے تو بہتر ہے تم اپنی ضد پر جمے رہو، میں اپنے مقام میں تمہارے انجام بد کا منتظر ہوں۔ چند روز میں پتہ چل جائے گا کہ ظالموں کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ (وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَاۗىِٕرَ ۭ عَلَيْهِمْ دَاۗىِٕرَةُ السَّوْءِ ) 9 ۔ التوبہ :98)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 122–123

آیت 122 وَانْتَظِرُوْا ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ کہ اللہ کی طرف سے آخری فیصلہ کیا آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 122–123

133 لہذا آپ پورے عزم و استقلال کے ساتھ وحی الٰہی کی پیروی کرتے جائیے اور اپنے سرکش اور ہٹ دھرم مخالفوں سے صاف کہہ دیجئے کہ تم اپنے طریقہ پر کام کرتے جاؤ ہم اپنے ہی طریقہ پر عمل پیرا رہیں گے اور اللہ ہمارے اعمال کو بھی دیکھ رہا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی اور جو فریق جیسے انجام کا اہل ہوگا۔ اللہ ویسے ہی انجام سے دوچار کرے گا کیونکہ تمام تر مخلوقات اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا و جزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ باطل دوئی پرست ہے حق لاشریک ہے شرکت میانہ حق باطل نہ قبول کر

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 121–122

170۔ ظاہر ہے کہ یہ تقریر آخری موقع کی ہے جب اثرات تبلیغ سے بالکل مایوسی ہوجاتی ہے۔ (آیت) ” وانتظروا انا منتظرون “۔ انتظار سے مراد نتائج اعمال کے ظہور کا انتظار ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 110–123

آیت نمبر 110 تا 123 ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانتظروا اور (ہم پر مصائب آنے کا) تم انتظار کرتے رہو۔ انا منتظرون ہم بھی (تم پر اس عذاب کے آنے کے) منتظر ہیں (جو تم جیسے لوگوں پر گذشتہ زمانوں میں آچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 121–122

(121۔ 122) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے انبیاء کرام اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم اپنی حالت پر اپنے گھروں میں میری مخالفت کی تدابیر کرتے رہو ہم بھی اپنے طور پر تمہاری ہلاکت کے لیے عمل کر رہے ہیں اور تم بھی اس کے نتیجہ کے منتظر رہو اور ہم بھی تمہاری ہلاکت کے منتظر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَانْتَظِرُوْا ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ : یعنی تم بھی اللہ کے حکم کی راہ دیکھتے رہو ہم بھی راہ دیکھ رہے ہیں، یا تم ہمارے انجام کی راہ دیکھتے رہو، ہم تمہارے انجام کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 121–123

آیت نمبر 121 تا 123 قولہ تعالیٰ : وقل للذین لایؤمنون اعملوا علیٰ مکانتکم دھمکی اور وعید ہے۔ اناعٰملونۙوانتظروا۔ۚ انا منتظرون دوسری دھمکی ہے اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ وللہ غیب السمٰوٰت والارض یعنی زمین و آسمان کے غیب اور ان کی شہادت اللہ ہی کے لیے ہے۔ شہادت کو معنی کی دلالت کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد آسمان اور زمین کے خزانے ہیں۔ ضحاک نے کہا : اس سے آسمانوں اور زمین کی جو چیزیں بندوں سے غائب ہیں وہ ساری مراد ہیں۔ باقیوں نے کہا : غیب السمٰوٰت والارض سے عذاب کا آسمان سے نزول اور زمین سے طلوع مراد ہے۔ ابو علی فارسی نے کہا : للہ غیب السمٰوٰت والارض سے مراد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 121–123

مخالف کو دعوت دینے کا انداز : 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اعملو علی مکانتکم “ یعنی تم اپنی منازل پر عمل کرتے رہو۔ 2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” وانتظروا انا منتظرون “ کے بارے میں فرمایا کہ تم خاص شیطان کے وعدوں کا انتظار کرو اور اس سے بچو جو وہ تمہارے لئے آراستہ کرکے تم پر پیش کرتا ہے۔ (اور فرمایا) (آیت) ” والیہ یرجع الامر کلہ “ یعنی وہی عدل کا فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان۔ 3:۔ عبداللہ بن احمد نے الزہد بن وابن الضریس نے فضائل القرآن میں وابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے کعب ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَانتَظِرُوْا : اور تم لوگ انتظار کرو ] [ انا : بیشک ہم (بھی)] [ مُنْتَظِرُوْنَ : انتظار کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 120–123

حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات آپ کے لئے تقویت قلب کا باعث ہیں سورۂ ہود کا اکثر حصہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کے واقعات پر مشتمل ہے سورت کے ختم پر ارشاد ہے کہ اے رسول ﷺ ہم جب حضرات انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے قصے آپ کو سناتے ہیں ان کے ذریعہ ہم آپ کے دل کو مضبوط کرتے ہیں اور یہ جو قصے آپ سے بیان کئے گئے ہیں ان میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ سب حق سچ ہے اس میں اہل ایمان کے لیے نصیحت ہے اور یاد دہانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قصوں کا بیان کرنا قصہ گوئی کے طور پر نہیں ہے ان قصوں سے آپ کے دل کو مضبوط کرنا اور اہل ایمان کو نصیحت اور یاد دہانی کرانا مقصود ہے ‘ جو لوگ ان قصوں کو پڑھیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 121–123

خاتمہ سورت مشتمل بر تہدید عدم قبول ذکریٰ وموعظت قال اللہ تعالیٰ وقل للذین لا یؤمنون اعملوا علی مکانتکم .... الیٰ .... وما ربک بغافل عما تعملون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ اس سورت میں حق کو حقیقت خوب واضح ہوگئی اور اہل ایمان کے لیے نصیحت آگئی اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ جب حق آگیا اور حجت پوری ہوگئی اس پر بھی اگر کوئی نہ مانے تو آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اچھا تم اپنی اسی حالت پر رہو اور نتیجہ کا انتظار کرو۔ عنقریب تم کو اپنے خبط کا پتہ چل جائیگا اور اے اے نبی آپ ﷺ ان کے عناد سے دلگیر نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہئے اور اللہ پر بھروسہ رکھئے پھر سورت کو اللہ تعالیٰ کے کمال علم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 121–122

101:۔ زجر مع تخویف دنیوی، دلائل توحید، امم سابقہ کے عبرت آموز حالات اور ترغیب و ترہیب کے بعد فرمایا ان مشرکین سے کہہ دو اگر بیانات شافیہ سے بھی تہارے دل متاثر نہیں ہوئے تو تم اپنی ڈر پر چلتے رہو ہم بھی اپنے مسلک پر قائم و دائم ہیں تم اپنے انجام کا انتظار کرو ہم اپنے انجام کے منتظر ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 120–123

دلی تسلی کا مضمون آج کے درس کی پہلی آیات میں حضور علیہ الصلواۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کے لئے تسلی کا مضمون ہے جب کہ آخری آیت میں سورة کا لب و لباب دے دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے واقف ہے اور وہ انہی کے مطابق بدلہ دیگا اس سورة مبارکہ میں گزشتہ انبیاء اور ان کی اقوام کے جو حالات بیان کئے گئے ہیں ، ان واقعات سے انسان جان سکتا ہے کہ سابقہ امم نے کو نکون سے جرائم کا ارتکاب کیا اور پھر انہیں کس قدر ذلت ناک سزا سے دوچار ہونا پڑا اور پھر جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے ان کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح نجات دی۔ ان واقعات سے انسان جان سکتا ہے کہ جو شخص حق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَانْتَظِرُوْا۝ 0ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ۝ 122 نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 116–122

2 ؎ قرن زمانہ یعنی پہلی امتوں میں سے اچھے لوگ کم اٹھے اور پہلی امتوں میں سے وہی امتیں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 121–122

وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ ط اِنَّا عٰمِلُوْنَ ۔ وَانْتَظِرُوْا ج اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 121، 122) (اور اے پیغمبر کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لا رہے ہیں کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کام کیے جاتے ہیں اور تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں۔ ) مخالفین کو فیصلہ کن جواب ان آیتوں میں کلام خداوندی کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ نے اب تک ریشمی لب و لہجہ میں قریش مکہ کو اللہ کے دین کی طرف بلایا لیکن ان کی طرف سے اذیتوں اور مخالفتوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ انھوں نے آپ کی دعائوں کے جواب میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 120–122

فہم القرآن ربط کلام : سرور دو عالم ﷺ کو تیسری مرتبہ پھر تسلّی اور حوصلہ دیا گیا ہے۔ دین کا داعی وقت کا پیغمبر ہو یا ایک عام مبلغ اس کے راستے میں بہرحال ایسے مشکل مقام آتے ہیں۔ جن کا سامنا کرتے ہوئے دل پسیجتا ہے اور اسے اپنا حوصلہ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ڈھارس اور اطمینان دلانے کے لیے اس کے سامنے دنیا سے رخصت ہونے والے عظیم لوگوں کے عظیم الشان کارنامے بیان کیے جائیں تو اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی قوت کار میں اضافہپاتے ہوئے منزل مقصود کے لیے ان واقعات کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھتا ہے۔ بیشک نبی اکرم ﷺ سرور دو عالم تھے مگر ایک انسان ہونے کے ناطے حوصلہ افزا معاملات سے آپ کا دل ڈھارس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

122: وَانْتَظِرُوْا ( اور تم انتظار کرو) ہمارے متعلق حوادث کا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ (ہم تمہارے بارے میں انتظار کرنے والے ہیں ) ۔ کہ تم پر اسی طرح کا عذاب اترے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں بیان فرمایا جو تم جیسے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

122۔” وانتظروا “ جو ہم پر اللہ کی رحمت اترے۔” انا منتظرون “ جو تم پر اللہ کی عذاب اترے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

وَانْتَظِرُوْا : تم بھی انتظار کرو۔ یعنی ہم پر جو کچھ نازل ہوگا۔ تم اس کا انتظار کرو۔ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ : ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ اور تم پر جو کچھ نازل ہوگا، ہم اس کے منتظر ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں گروہوں کے درمیان جو فرق ہے اسے بیان کردیا۔ اس نے اپنے بندوں کو دکھا دیا کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد کرتا ہے اور انبیائے کرام کو جھٹلانے والے دشمنان الٰہی کا قلع قمع کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 119–123

انسان کو اختیار بخشا قول باری ہے ولذلک خلقھم اسی آزادی انتخاب و اختیار کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ ، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ اللہ نے انہیں رحمت کے لیے پیدا فرمایا ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت ہے نیز حسن اور عطاء سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا حالانکہ اسے علم تھا کہ یہ لوگ دنیا میں باطل کی مختلف راہوں پر چلیں گے۔ آیت میں حرف لام ، لام عاقبت ہے ۔ اہل لغت کا کہنا ہے کہ حرف لام کبھی حرف علی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جس طرح قائل کا یہ قول ہے۔ اکرمتک علی یرک و لبرک بی تم نے میرے ساتھ جو نیکی کی ہے اس پر اور اس کی خاطر میں تمہارا احترام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 120–122

231 ۔ حضرات انبیاء و رسل کی سرگزشتیں سنانے کے اصل مقصد کی وضاحت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سرگزشتیں ہم آپ کو اس لیے سناتے ہیں کہ ان سے وہ پہلو آپ کے سامنے آجائیں جن سے آپ کے دل کو قوت اور مضبوطی ملے۔ ان کے ضمن میں حق آپ کے سامنے آجائے اور تاکہ نصیحت اور یاد دہانی ہو ایمان والوں کے لیے کہ اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں اور اٹھائیں گے جن کا ایمان و یقین صحیح اور مستحکم ہوگا۔ ورنہ یہ عظیم الشان نصیحت اور یاد دہانی سب دنیا اور تمام انسانوں کے لیے عام ہے۔ مگر جو اس پر کان ہی نہ دھریں اور ان کو ماننے اور قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہ ہوں ان کو اس سے کوئی فائدہ کس طرح پہنچ سکتا ہے۔ اور یہ ایک اصول اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 116–123

نیک لوگ اور اللہ کی قدرت و حکمت تشریح : ان آیات کی تشریح تو خود ان کے آسان مضامین میں موجود ہے۔ بہرحال یہ نقشہ بڑا ہی ہولناک ہے جب میدان حشر میں ہر امیر، غریب، بچہ، بوڑھا، جوان، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی غرض ہر مذہب کا ہر فرد رب العلمین کی عدالت میں اپنا فیصلہ سننے کے لیے منتظر ہوگا۔ کوئی کسی کی ہرگز مدد نہیں کرسکے گا۔ صرف اپنا اعمال نامہ ہی کام آئے گا۔ اسی لیے موت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے سچ ہے زندہ رہنے کے لیے نام اور مرنے کے لیے مقام پیدا کرنا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جاننا چاہتے ہو کہ بھلائی کیا ہے ؟ تو اپنے دل سے پوچھو۔ بھلائی وہ ہے جو روح کے لیے باعث اطمینان ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 110–123

آیات 110 تا 123 اسراومعارف موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 120–122

ف 3 ۔ یا تم ہمارے انجام کی راہ دیکھتے رہو ہم تمہارے انجام کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 121–123

(11:121) علی مکانتکم۔ اپنی حد امکان تک۔ ملاحظہ ہو (11:93) انا عاملون۔ ای انا عاملون علی مکانتنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 118–123

لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 123 شآء (اس نے چاہا) لجعل (البتہ وہ بنا دیتا) امۃ واحدۃ (ایک جماعت) لا یزالون (ہمیشہ) رحم (رحم کیا) خلق (اس نے پیدا کیا) املئن (میں بھردوں گا) نقص (ہم بیان کرتے ہیں نثبت (ہم جما دیتے ہیں) فواد (دل) موعظۃ (نصیحت) ذکری (دھیان، توجہ دینے کی چیز) انتظروا (تم انتظار کرو) توکل علیہ (اس پر بھروسہ کیجیے) تشریح : آیت نمبر 118 تا 123 سورة ھود کی ان آخری آیات میں چند بہت ہی بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو درحقیقت اس سورت کا خلاصہ بھی ہیں۔ 1) پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت اور ایک ہی ملت بنا دیتی کبھی ان کے درمیان اختلاف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 119–123

مطلب یہ ہے کہ وہ راہ راست پر اس لئے آویں گے کہ حکم ازلی ان کے لئے ہوچکا ہے اور جو فرشتوں سے فرمایا تھا کہ میں ضرور بہ ضرور جہنم کو جنات اور آدمیوں سے بھر دوں گا۔ اور سب کافر جہنم میں جاویں گے اور رسولوں کی خبر ہم تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں۔ وہ اس لئے ہے کہ تمہارے دل کو مطمئن اور مظبوط کرنے میں ثابت قدم رہے اور کفار کے ایذا پر صابر۔ یہ سب خبریں صحیح ہیں ان میں کچھ جھوٹ نہیں اور ان میں فقط آپ ہی کے واسطے فائدہ نہیں بلکہ آپ کی امت کے لئے بھی نفع ہے۔ پھر فرمایا کہ اے محبوب ﷺ جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہ دو کہ تم بھی جس طرح عمل کرتے ہو کرتے رہو۔ ہم جس طرح عمل کرتے ہیں کرتے رہیں گے، تم بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 119–123

[61] آیت 116 میں انسانی آبادیوں کی تباہی کا جو سبب بیان کیا گیا ہے اس پر یہ اعتراض کیا جاسکتا تھا کہ ان میں اہل خیر کا نہ ہونا یا کم پایا جانا بھی تو آخر اللہ کی مشیت سے تھا پھر اس کا الزام ان تمام آبادیوں پر کیوں رکھا جائے ؟ کیوں نہ اللہ نے ان کے اندر بہت سے اہل خیر پیدا کردیئے ؟ اس کا جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو حق پر جمع کردیتا اور دنیا میں بس ایک ہی قوم اہل حق کی رہتی۔ لیکن اللہ کی مشیت انسان کے بارے میں یہ ہے ہی نہیں ورنہ پھر رسولوں اور دعوت حق کی ضرورت ہی کیا تھی۔ انسان کے بارے میں اللہ کی جو مشیت ہے وہ یہ کہ اسے اپنی پسند کے مطابق نیکی اور بدی کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 122–123

(ف 1) یعنی کفار کو ڈھیل دے دی ہے کہ وہ سب کچھ کر دیکھیں ، ہر سرکشی اور تمرد کو آزما دیکھیں ایک وقت آئے گا جب کہ علم حق وصداقت بلند ہوگا ، اور اہل عناد وبغض حیران ہو کر رہ جائیں گے مگر یہ کب ہوگا ؟ اس کا صحیح صحیح اندازہ صرف اللہ کو ہے ، سب باتیں کسی کے اختیار میں ہیں ‘ وہی اسرار غیب سے آگاہ ہے وہ اپنی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اس لئے مسلم حق نواز کا فرض ہے کہ وہ تائید الہی کا صمیم قلب سے منتظر رہے ، اور مایوس نہ ہو ، کیونکہ خدا تمام حالات کو جانتا ہے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 122–123

122 اور آسمانوں اور زمین میں جتنی غیب کی باتیں اور پوشیدہ راز ہیں ان سب کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور تمام کاموں کا رجوع اسی کی طرف ہے اور جملہ امور کا مرجع وہی ہے اور سب کام اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے لہٰذا اے پیغمبر ! اسی کی عبادت کرتے رہیے اور اسی پر توکل اور بھروسہ رکھئے اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو ان کاموں سے آپ کا رب بیخبر اور غافل نہیں ہے یعنی آسمان و زمین کے تمام غیوب کا علم اللہ ہی کو ہے اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جانے والے ہیں جس میں نیک و بد سب ہی آگئے اس لئے آپ فکر نہ کیجئے اور جو کام آپ کے سپرد ہوا ہے اسکو کئے جائے یعنی خدا کی عبادت اور اسی پر بھروسہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 120–123

ف 1۔ یعنی ایک فائدہ نبی کے لیے دوسرا امت کے لیے ہے۔ فائدہ۔ حق صفت ذاتیہ ہے آیات قرآنیہ کی جو قصص پر مشتمل ہیں اور موعظت اور ذکری اس کی صفات اضافیہ ہیں جن میں ایک زاجر اور ایک آمر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نتیجہ کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں ۔ 151 ” میں نہ مانوں “ کہنے والوں کے لئے سوائے اس کے اور کیا علاج ہے کہ ان کو وہی بات کہہ دو جو ہمیشہ کہی گئی یعنی تم اپنی جگہ کام کئے جائو ، ہم اپنی جگہ کام کر رہے ہیں ، تم بھی نتیجہ کا انتظار کرو ، ہم بھی منتظر ہیں اللہ تعالیٰ اس کا نتیجہ ظاہر کر کے رہے گا جسای کہ وہ ہمیشہ کرچکا ہے۔ میری دعوت کوئی نئی دعوت نہیں اور نہ ہی میں کوئی نیا رسول ہوں میرے سے پہلے بھی رسول آئے اور انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو دعوت توحید دی اور بد اخلاقیوں اور بدکرداریوں سے قوم کو روکا ، قوموں نے بہت ہی کم تھا کہ ان کی تعلیم کو سچے دل سے مانا اور پھر انجام بھی تم پڑھ چکے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 118–123

Difference: Blameworthy and Praiseworthy When it was said in the fifth verse (118) - ` had your Lord willed, He would have made all the people a single community' - the sense is that had it been the will of Allah, He would have made all human beings accept Islam by force. All of them would have then become nothing but Muslims without any difference remaining between them. But, such are the dictates of His wisdom that, in this world, Allah Ta` ala does not compel anyone to do something. Instead, He has entrusted man with a kind of choice under which he could do whatever good or bad he wishes…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 119–122

116. This is being said in order to remove misconceptions which are often put forward under the appellation 'fate'. The explanation of the destruction of those ancient nations mentioned above is liable to give rise to serious objections. For, in the context of the above explanation it might be pointed out that the non-existence of righteous persons in a nation, or their existence in very small numbers, depends entirely on God's will. If such is the case, how can any blame be directed at those nations'? For, after all, why did God not create a large number of good people in those nations? In…

Read the full tafseer →