Explained with ayahs 118–119
جس پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہو
اللہ کی قدر کسی کام سے عاجز نہیں۔ وہ چاہے تو سب کو ہی اسلام یا کفر پر جمع کردے لیکن اس کی حکمت ہے جو انسانی رائے ان کے دین و مذاہب جدا جدا برابر جاری وساری ہیں۔ طریقے مختلف، مالی حالات جداگانہ ایک ایک کے ماتحت یہاں مراد دین و مذہب کا اختلاف ہے۔ جن پر اللہ کا رحم ہوجائے وہ رسولوں کی تابعداری رب تعالیٰ کی حکم برداری میں برابر لگے رہتے ہیں۔ اب وہ نبی آخر الزماں ﷺ کے مطیع ہیں۔ اور یہی نجات پانے والے ہیں۔ چناچہ مسند و سنن میں حدیث ہے جس کی ہر سند دوسری سند کو تقویت پہنچا رہی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہودیوں کے اکہتر گروہ ہوئے۔ نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے، اس امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
سورة هُوْد 116
یہ اس شبہ کا جواب ہے جو بالعموم ایسے مواقع پر تقدیر کے نام سے پیش کیا جاتا ہے۔ اوپر اقوام گزشتہ کی تباہی کا جو سبب بیان کیا گیا ہے اس پر یہ اعتراض کیا جاسکتا تھا کہ ان میں اہل خیر کا موجود نہ رہنا یا بہت کم پایاجانا بھی تو آخر اللہ کی مشیت ہی سے تھا، پھر اس کا الزام ان قوموں پر کیوں رکھا جائے ؟ کیوں نہ اللہ نے ان کے اندر بہت سے اہل خیر پیدا کردیے ؟ اس کے جواب میں یہ حقیقت حال صاف صاف بیان کردی گئی ہے کہ اللہ کی مشیت انسان کے بارے میں یہ ہے ہی نہیں کہ حیوانات اور نباتات اور ایسی ہی دوسری مخلوقات کی طرح اس کو بھی جبلی طور پر ایک لگے بندھے راستے کا پابند بنادیا جائے جس سے ہٹ کر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
اختلاف مذموم اور محمود
پانچویں آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب انسانوں کو ایک ہی امت و ملت بنا دیتا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمام انسانوں کو زبردستی قبول اسلام پر مجبور کر ڈالتے سب کے سب مسلمان ہی ہوجاتے ان میں کوئی اختلاف نہ رہتا مگر بتقاضائے حکمت اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی کو کسی عمل پر مجبور نہیں کرتے بلکہ اس نے انسان کو ایک قسم کا اختیار سپرد کردیا ہے اس کے ماتحت وہ اچھا یا برا جو چاہے عمل کرسکتا ہے، اور انسان کی طبائع مختلف ہیں اس لئے راہیں مختلف ہوتی ہیں اور عمل مختلف ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ دین حق سے اختلاف کرتے ہی رہیں گے بجز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
118۔ 119:۔ وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ . اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ ۭ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ۔
ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں قانونِ الٰہی : یعنی اللہ اگر سب کو ایک ہی امت بنادینا چاہتا تو وہ ایسا کر تو سکتا تھا، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا لیکن اس نے ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اس جبر کو پسند نہیں فرمایا بلکہ اس نے نیکی اور بدی دونوں کو ان کے انجام کی تفصیل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور انہیں اختیار دیا ہے کہ وہ ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
119۔ 1 ' اسی لئے ' کا مطلب بعض نے اختلاف اور بعض نے رحمت لیا ہے۔ دونوں صورتوں میں مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے انسانوں کو آزمائش کے لئے پیدا کیا ہے۔ جو دین حق سے اختلاف کا راستہ اختیار کرے گا، وہ آزمائش میں ناکام اور جو اسے اپنا لے گا، وہ کامیاب اور رحمت الٰہی کا مستحق ہوگا۔
119۔ 2 یعنی اللہ کی تقدیر اور قضاء میں یہ بات ثبت ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہونگے جو جنت کے اور کچھ ایسے ہونگے جو جہنم کے مستحق ہوں گے اور جنت و جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے، نبی نے فرمایا ' جنت اور دوزخ آپس میں جھگڑ پڑیں، جنت نے کہا، کیا بات ہے کہ میرے اندر وہی لوگ آئیں گے جو کمزور اور معاشرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
64: یہ بات قرآن کریم نے بار بار واضح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمام انسانوں کو زبردستی ایک ہی دین کا پابند بنا دیتا ، لیکن اس کائنات کی تخلیق اور انسان کو اس میں بھیجنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھا کر اسے یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے اسی میں اس کا امتحان ہے کہ وہ اپنی مرضی اور اختیار کو ٹھیک استعمال کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں جنت کماتا ہے یا اس کا غلط استعمال کرکے دوزخ کا مستحق بن جاتا ہے، اس امتحان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس کے اختیار کے بغیر زبردستی کسی ایک راستے پر نہیں رکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی فکر و نظر پر پیدا کردیتا ایک ہی صلاحیت سب میں ہوتی۔ ایک ہی چھاپ کے لوگ ہوتے۔ ان میں کوئی تفاوت یا تنوع نہ ہوتا۔ لیکن اللہ کو ایسا مطلوب نہ تھا ، کہ وہ مخلوق جو اس کی جانشین اور خلیفہ ہے وہ اس قسم کی ہو ، اس لیے اس نے لوگوں کو مختلف صلاحیتیں اور میلانات دیئے۔
اللہ کی مشیت ہی ایسی تھی کہ انسان اپنای استعداد اور رحجانات کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ اس کے بعد اللہ نے لوگوں کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ جس رحجان کو چاہیں ، اپنائیں ، جو راستہ چاہیں اس پر چل پڑیں اور جس راہ پر چلیں اس کے نتائج بھگیں۔ اگر اچھا راستہ اختیار کریں تو جزاء ملے ، اگر برا راستہ اپنائیں تو سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
2 یعنی جیسا کہ بارہا پہلے لکھا جا چکا ہے خدا تعالیٰ کی حکمت تکوینی اس کو مقتضی نہیں ہوئی کہ ساری دنیا کو ایک ہی راستہ پر ڈال دیتا۔ اسی لیے حق کے قبول کرنے نہ کرنے میں ہمیشہ اختلاف رہتا ہے اور رہے گا۔ مگر فی الحقیقت اختلاف اور پھوٹ ڈالنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے صاف وصریح فطرت کے خلاف حق کو جھٹلایا۔ اگر فطرت سلیمہ کے موافق سب چلتے تو کوئی اختلاف نہ ہوتا۔ اسی لیے " اِلَّامَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ " سے متنبہ فرما دیا کہ جس پر خدا نے ان کی حق پرستی کی بدولت رحم کیا وہ اختلاف کرنے والوں سے مستثنیٰ ہیں۔
3 یعنی دنیا کی آفرینش سے غرض یہ ہی ہے کہ حق تعالیٰ کی ہر قسم کی " صفات جمالیہ " و " قہریہ " کا ظہور…
Read the full tafseer →آیت 119 اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ ۭ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق کے اندر یہ اختلاف اور تنوع خود رکھا ہے۔ دنیا میں اربوں انسان ہیں مگر ان میں کوئی سے دو انسانوں کے مزاج شکل و صورت اور آواز حتیٰ کہ انگلیوں کے نشانات آپس میں نہیں ملتے۔ لہٰذا اللہ انسانوں کو پیدا ہی اسی انداز پر کرتا ہے کہ ان میں تنوع اور انفرادیت قائم رہے۔ ایک حدیث نبوی کی رو سے انسان بھی معدنیات کی طرح ہیں۔ چناچہ جس طرح معدنیات کی بیشمار اقسام ہیں مگر ہر ایک کی اپنی خصوصیات اور اپنی پہچان ہے یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
131 اختلاف کی اصل وجہ :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں سے کوئی ایک راہ انتخاب کرنے کی مکمل آزادی دے رکھی ہے اگر یہ آزادی انتخاب و اختیار انسان سے چھین لی جائے تو اختلاف کا ہونا ممکن نہیں رہتا اور جب تک یہ آزادی موجود ہے لوگ اختلاف کرتے ہی رہیں گے نیز اگر یہ آزادی انسان سے چھین لی جائے تو انسان کی تخلیق کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے انسان کو خیر و شر کی راہیں سجھا دی گئیں۔ پھر اسی غرض کے لیے انبیاء آئے اللہ نے کتابیں نازل فرمائیں لیکن تھوڑے ہی لوگ تھے جنہوں نے اس آزادی انتخاب و اختیار کا درست استعمال کیا زیادہ لوگ ایسے غلط کار ہی ثابت ہوئے جنہوں نے گمراہی کی راہیں اختیار کرکے اپنے آپ کو جہنم…
Read the full tafseer →168۔ (سواے پیغمبر ﷺ آپ طبقہ اہل ضلال کے وجود پر زیادہ غم وحیرت نہ کریں) (آیت) ” لذلک خلقھم “۔ یہاں یہ بتادیا کہ انسان کی خلقت ہی ایسی رکھدی گئی ہے کہ اہل حق کے مقابلہ میں اہل ضلال برابر پیدا ہوتے رہیں اور رسول اللہ ﷺ کو سمجھا دیا گیا کہ آپ اس پر زیادہ غم وحیرت نہ کریں، یہ بیان انسان کی غایت تکوینی کا ہوا اس لئے اس میں اور اس غایت تشریعی کے درمیان کوئی تناقض نہیں۔ جہاں یہ بیان ہوا ہے کہ انسان وجنات کی غایت آفرینش عبادت الہی ہے۔ بعض ائمہ تفسیر نے خلق کا تعلق رحم سے سمجھا ہے اور فقرہ کے معنی یہ لئے ہیں کہ ” رحمت ہی کے غرض سے انہیں پیدا کیا ہے۔ “ روی عن ابن عباس و مجاھد وقتادۃ والضحاک خلقھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیت نمبر 110 تا 123
ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…
Read the full tafseer →الا من رحم ربک سوائے ان کے جن پر آپ کا رب رحم کرے۔ یعنی سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ اپنی مہربانی سے راہ مستقیم کی ہدایت کر دے۔ یہ لوگ تو صحیح عقائد اور اوامر الٰہیہ کی تعمیل پر متفق رہیں گے ‘ باقی گمراہ گروہ اور اشخاص اختلاف کرتے ہی رہیں گے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا : یہ اللہ کا راستہ ہے۔ پھر دائیں ‘ بائیں کچھ خطوط (ترچھے) اور کھینچے اور فرمایا : یہ (مختلف) راستے ہیں۔ ان میں سے ہر راستہ پر شیطان بیٹھا اپنی طرف بلا رہا ہے۔ پھر آپ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی : وَاَنَّا ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمَا فَاتَّبِعُوْہُ وَلاَ تَتَبِعُوا…
Read the full tafseer →(119) مگر جس کی آپ کا پروردگار باطل اور مختلف طریقوں سے حفاظت فرمالے، وہ مومن لوگ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل رحمت کو رحمت کرنے کے لیے اور اہل اختلاف کو اختلاف کرنے کے لیے پیدا فرمایا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے رب کی یہ بات پوری ہوگئی کہ میں جہنم کو کافر جنوں اور کافر انسانوں سے بھروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً : یعنی اے میرے رسول ! تیری خواہش تو یہ ہے کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں، ایک بھی کافر نہ رہے (دیکھیے شعراء : 3) اور یہ بات تیرے رب پر کچھ مشکل بھی نہیں، جب اس نے جن و انس کے سوا باقی پوری مخلوق کو اپنی اطاعت کا پابند بنا رکھا ہے تو وہ جن و انس کو بھی ایک ہی امت بنا سکتا تھا کہ کوئی کفر کر ہی نہ سکتا، فرمایا : (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ) [ یونس : 99 ] مگر تیرے رب کی حکمت کا تقاضا کچھ اور تھا، اس لیے اس نے کسی کو ایمان پر مجبور نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
آیت نمبر 117 تا 119
قولہ تعالیٰ : وماکان ربک لیھلک القرٰی اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ برباد کردے بستیوں یعنی بستیوں والوں کو۔ القری سے مراد اھل القری ہے۔ بظلمٍ یعنی شرک اور کفر سے واھلھامصلحون یعنی ان کے درمیان حقوق کی باہم ادائیگی ہورہی ہو، یعنی ایسا نہیں کہ وہ انہیں صرف کفر کی وجہ سے ہلاک کرے یہاں تک کہ اس کے ساتھ ساتھ فساد بھی برپا ہوجائے، جس طرح مثلاً اس نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کو کم تولنے کی وجہ سے ہلاک کیا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لواطت کی وجہ سے ہلاک کیا، اور یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا میں شرک کی نسبت نافرمانی اور گناہ ہلاکت و بربادی کے عذاب تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولوشآء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ “ یعنی ایک ہی دین والے (ہوتے) گمراہی والے یا ہدایت والے (اگر اللہ تعالیٰ چاہتے)
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا یزالون مختلفین “ یعنی حق والے اور باطل والے (ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے) (آیت) ” الا من رحم ربک “ یعنی حق والے (آیت) ” ولذلک خلقہم “ یعنی اس رحمت کے لئے تو حق والوں کو پیدا فرمایا۔
3:۔ عبدالرزاق وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا یزالون مختلفین الا من رحم ربک “ یعنی مگر اس کی رحمت والے کیونکہ وہ اختلاف نہیں کریں گے۔
4:۔ ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →[اِلَّا مَنْ : سوائے اس کے جس پر ] [ رَّحِمَ : رحم کیا ] [ رَبُّكَ : آپ ﷺ کے رب نے ] [وَلِذٰلِكَ : اور اس کے لئے ہی ] [خَلَقَهُمْ : اس نے پیدا کیا ان کو ] [وَتمتْ : اور تمام ہوا ] [كَلِمَةُ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کا فرمان (کہ)] [لَاَمْلَــــَٔنَّ : میں لازماً بھر دوں گا ] [جَهَنَّمَ : جہنم کو ] [ مِنَ الْجِنَّةِ : جنوں سے ] [وَالنَاسِ : اور انسانوں سے ] [ اَجْمَعِيْنَ : سب سے ]
Read the full tafseer →(وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ ) (اور لوگوں کو اسی لئے پیدا فرمایا کہ وہ مختلف رہیں) اور اختلاف کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک فریق جنت میں ایک فریق دوزخ میں ہوگا جیسا کہ سورة شوریٰ میں فرمایا : (فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ ) (الایۃ) (ایک فریق جنت میں اور ایک فریق دوزخ میں ہوگا) ۔
آخر میں فرمایا (وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ ) (الآیۃ) اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہوگی کہ میں جہنم کو جنات سے اور انسانوں سے بھر دوں گا جس میں سب دوزخی موجود ہوں گے۔
اس آیت کا مفہوم وہی ہے جو سورة ا آآ سجدہ میں فرمایا ہے۔ (وَلَوْ شِءْنَا لَاٰتَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ھُدٰھَا ولٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
امم سابقہ کی ہلاکت کے سبب قریب اور سبب بعید کا بیان
قال اللہ تعالیٰ فلولا کان من القرون .... الیٰ .... من الجنۃ والناس اجمعین۔
(ربط) پچھلی امتوں کا حال سنا کر یہ بتلاتے ہیں کہ ان کی ہلاکت کے دو سبب ہیں ایک سبب قریب اور ایک سبب بعید اور بالفاظ دیگر ایک سبب ظاہری اور ایک سبب باطنی۔ سبب ظاہری تو یہ تھا کہ شہوات نفسانی اور حظوظ شہوانی کے پیرو بن گئے۔ اور خدا کی معصیت میں غرق ہوگئے اور علماء اور واعظین قلیل اور مغلوب تھے ان کا وعظ اور ان کی نصیحت کارگر نہ ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے جو معدد دے چند تھے وہ تو عذاب سے محفوظ رہے اور باقی قوم جو غرق معصیت تھی وہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
ف 98:۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً کے بعد وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ محذوف ہے بقرینہ آیت سورة مائدہ رکوع 7 وَلَوْ شَاءَ اللہ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحَدَۃً وَّلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ الایۃ۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی دن (توحید) پر متفق کردیتا لیکن اس صورت میں ابتلاء و امتحان کی حکمت فوت ہوجاتی اور اس طرح سب کا ایمان جبری ہوتا حالانکہ جبری ایمان مطلوب نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کو واضح کرنے کے بعد سمجھ بوجھ کیساتھ دونوں مییں سے ایک کو قبول کرنے کا اختیار دیا۔ اسی اختیار پر جزا وسزا مبنی ہے۔
99:۔ لوگوں کو چونکہ ایک دین کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا اس لیے وہ ہمیشہ آپس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
ربط آیات
حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک کے بعض انبیاء کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے ماننیوالوں کو تسلی بھی دی ہے۔ پہلے استقامت علی الدین کا مطالبہ کیا ، ظلم اور تعدی سے بچنے کا حک دیا اور تعلق باللہ کی استواری کی ترغیب دی۔ مصائب اور مشکلات کو برداشت کرنے اور صبر کا دامن تھامے رہنے کی تلقین کی۔ سابقہ امتوں کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے آخری امت کو بات سمجھائی ہے کہ ہمیشہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کاربند رہیں۔ دین اور ایمان کے مقتضیات کو قائم رکھیں۔ کفر ، شرک نافرمانی ، ظلم اور تعدی سے بچتے رہیں۔
فساد فی الارض…
Read the full tafseer →اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ 0ۭ وَلِذٰلِكَ خَلَقَہُمْ 0ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَۃُ رَبِّكَ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 119
رحم
والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
2 ؎ قرن زمانہ یعنی پہلی امتوں میں سے اچھے لوگ کم اٹھے اور پہلی امتوں میں سے وہی امتیں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
وَلَوْشَآئَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَلاَ یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ ۔ اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ ط وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ ط وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لاََ مْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔
(سورۃ ہود : 118، 119)
(اور اگر تیرا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی امت بنا سکتا تھا اور اب تو وہ مختلف طریقوں پر چلتے رہیں گے، بجز ان کے جن پر تیرا رب رحم فرمائے اور اسی لیے ان کو اس نے پیدا کیا ہے اور تیرے رب کی بات پوری ہوئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ )
ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں قانونِ الٰہی
ان دو آیتوں میں دفع دخل مقدر بھی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کی ہدایت اور گمراہی کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا اصول اور اس کی مشیّت۔
اس سے پہلے آیت نمبر 115 میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر اپنے حبیب ﷺ کو صبر کی تلقین فرمائی کہ حوصلہ رکھیے اور صبر کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ یہاں دوسرے پیرائے میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کے رب کا اصول اور اس کی مشیت ہے کہ اس نے لوگوں کو جبراً ایک امت نہیں بنایا یعنی ہدایت پر اکٹھا نہیں کیا اسی اصول کے پیش نظر لوگ ہمیشہ سے حق والوں کے ساتھ اختلاف کرتے آئے ہیں اور تاقیام قیامت اختلاف کرتے رہیں گے سوائے اس فرد اور جماعت کے جس پر آپ کا رب رحم فرما…
Read the full tafseer →119: اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ (سوائے ان کے جن پر آپ کا رب رحم کرے) مگر وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اختلاف سے بچایا۔ پس وہ دین حق پر متفق ہوگئے۔ اس میں اختلاف کرنے والے نہ تھے۔ وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ (اور اسی کیلئے ان کو پیدا کیا) جس اختلاف پر وہ ہیں۔ پس ہمارے نزدیک تقدیر یہ ہے خلقھم للذی علم انہم سیصیرون الیہ من اختلاف ان کو پیدا کیا اس اختلاف کیلئے جس کے متعلق اس نے جانا کہ وہ عنقریب پہنچ جائیں گے۔ (یہ حسن وعطاء کا قول ہے) نمبر 2۔ اتفاق کیلئے پیدا کیا اور ان کو اس کے علاوہ کسی چیز کیلئے پیدا نہیں کیا کہ جس کے بارے میں اس نے جانا کہ وہ اس تک پہنچیں گے۔
(کذافی شرح التاویلات)
وَتَمَّتْ…
Read the full tafseer →119۔” الامن رحم ربک “ مطلب یہ ہے کہ لیکن جس پر تیرارب رحم کرے تو ان کو حق کی طرف ہدایت دیتا ہے ، پس وہ آپس میں اختلاف نہیں کرتے۔
” ولذلک خلقھم “ حسن اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اور اختلاف کے لیے ان کو پیدا کیا ہے اور اشھب (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے امام مالک (رح) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ (رح) نے فرمایا ان کو پیدا کیا تا کہ ایک فریق جنت میں ہو اور ایک فریق دوزخ میں۔
ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ رحمت کے لیے ان کو پیدا کیا ہے یعنی وہ لوگ جن پر رحم کیا ہے اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ اہل رحمت کو رحمت کے لیے اور اہل اختلاف کو اختلاف کے لیے پیدا کیا ہے اور…
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ : مگر جن پر رحم کیا آپ کے رب نے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی علم حق کی طرف رہنمائی کی، انہیں اس پر عمل اور اس پر اتفاق کی توفیق بخشی۔ پس یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے سعادت کو لکھ دیا گیا تھا اور عنایت ربانی اور توفیق الٰہی نے ان کو جالیا تھا۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کو ان کے نفسوں کے حوالے کردیا گیا۔ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ : اور اسی لیے ان کو پیدا کیا۔ یعنی ان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا، تاکہ ان میں سے کچھ لوگ خوش بخت اور کچھ لوگ بدبخت ہوں، ان میں کچھ لوگ اتفاق کرنے والے اور کچھ لوگ اختلاف کرنے والے ہوں۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
انسان کو اختیار بخشا
قول باری ہے ولذلک خلقھم اسی آزادی انتخاب و اختیار کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ ، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ اللہ نے انہیں رحمت کے لیے پیدا فرمایا ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت ہے نیز حسن اور عطاء سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا حالانکہ اسے علم تھا کہ یہ لوگ دنیا میں باطل کی مختلف راہوں پر چلیں گے۔ آیت میں حرف لام ، لام عاقبت ہے ۔ اہل لغت کا کہنا ہے کہ حرف لام کبھی حرف علی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جس طرح قائل کا یہ قول ہے۔ اکرمتک علی یرک و لبرک بی تم نے میرے ساتھ جو نیکی کی ہے اس پر اور اس کی خاطر میں تمہارا احترام…
Read the full tafseer →228 ۔ اصل مدار انسان کے اپنے قلب و باطن پر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ہمیشہ اسی اختلاف میں پڑے رہیں گے مگر جن پر تمہارا رب رحم فرما دے۔ بس وہی بچ سکیں گے اس طرح کی بےراہ روی سے۔ اور رب کی رحمت و عنایت کا مدارو انحصار انسان کے قلب و باطن پر ہوتا ہے۔ سو اس سے یہ اہم حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ صفائے باطن اور طلب صادق اصلاح احوال کی اولین اساس اور بنیادی شرط ہے۔ اور اس کی توفیق اسی خوش نصیب ہی کو ملتی ہے جس کے دل کی دنیا درست ہو اور وہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی چاہتا ہو کہ اس علام الغیوب کے یہاں کے فیصلے دلوں کی نیتوں اور قلبی ارادوں ہی پر مرتب ہوتے ہیں نہ کہ محض ظاہر داریوں پر۔ پس انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–123
نیک لوگ اور اللہ کی قدرت و حکمت
تشریح : ان آیات کی تشریح تو خود ان کے آسان مضامین میں موجود ہے۔ بہرحال یہ نقشہ بڑا ہی ہولناک ہے جب میدان حشر میں ہر امیر، غریب، بچہ، بوڑھا، جوان، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی غرض ہر مذہب کا ہر فرد رب العلمین کی عدالت میں اپنا فیصلہ سننے کے لیے منتظر ہوگا۔ کوئی کسی کی ہرگز مدد نہیں کرسکے گا۔ صرف اپنا اعمال نامہ ہی کام آئے گا۔ اسی لیے موت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے سچ ہے زندہ رہنے کے لیے نام اور مرنے کے لیے مقام پیدا کرنا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
” جاننا چاہتے ہو کہ بھلائی کیا ہے ؟ تو اپنے دل سے پوچھو۔ بھلائی وہ ہے جو روح کے لیے باعث اطمینان ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیات 110 تا 123
اسراومعارف
موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یا اسی آزمائش کے لئے انہیں پیدا کیا کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر نیکی یا برائی کی راہ اختیار کریں۔ جیسا کہ سورة مائدہ میں ہے۔ ولکن لیبلوکم فیما اتاکم۔ تاکہ وہ اس چیز میں تمہاری آزمائش کرے جو اس نے تمہیں دی ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(11:119) لاملئن۔ مضارع واحد متکلم لام تاکید اور نون ثقیلہ برائے تاکید۔ میں ضرور ضرور بھر دوں گا (جہنم کو)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 123
شآء (اس نے چاہا) لجعل (البتہ وہ بنا دیتا) امۃ واحدۃ (ایک جماعت) لا یزالون (ہمیشہ) رحم (رحم کیا) خلق (اس نے پیدا کیا) املئن (میں بھردوں گا) نقص (ہم بیان کرتے ہیں نثبت (ہم جما دیتے ہیں) فواد (دل) موعظۃ (نصیحت) ذکری (دھیان، توجہ دینے کی چیز) انتظروا (تم انتظار کرو) توکل علیہ (اس پر بھروسہ کیجیے)
تشریح : آیت نمبر 118 تا 123
سورة ھود کی ان آخری آیات میں چند بہت ہی بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو درحقیقت اس سورت کا خلاصہ بھی ہیں۔
1) پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت اور ایک ہی ملت بنا دیتی کبھی ان کے درمیان اختلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
مطلب یہ ہے کہ وہ راہ راست پر اس لئے آویں گے کہ حکم ازلی ان کے لئے ہوچکا ہے اور جو فرشتوں سے فرمایا تھا کہ میں ضرور بہ ضرور جہنم کو جنات اور آدمیوں سے بھر دوں گا۔ اور سب کافر جہنم میں جاویں گے اور رسولوں کی خبر ہم تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں۔ وہ اس لئے ہے کہ تمہارے دل کو مطمئن اور مظبوط کرنے میں ثابت قدم رہے اور کفار کے ایذا پر صابر۔ یہ سب خبریں صحیح ہیں ان میں کچھ جھوٹ نہیں اور ان میں فقط آپ ہی کے واسطے فائدہ نہیں بلکہ آپ کی امت کے لئے بھی نفع ہے۔ پھر فرمایا کہ اے محبوب ﷺ جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہ دو کہ تم بھی جس طرح عمل کرتے ہو کرتے رہو۔ ہم جس طرح عمل کرتے ہیں کرتے رہیں گے، تم بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
[61] آیت 116 میں انسانی آبادیوں کی تباہی کا جو سبب بیان کیا گیا ہے اس پر یہ اعتراض کیا جاسکتا تھا کہ ان میں اہل خیر کا نہ ہونا یا کم پایا جانا بھی تو آخر اللہ کی مشیت سے تھا پھر اس کا الزام ان تمام آبادیوں پر کیوں رکھا جائے ؟ کیوں نہ اللہ نے ان کے اندر بہت سے اہل خیر پیدا کردیئے ؟ اس کا جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو حق پر جمع کردیتا اور دنیا میں بس ایک ہی قوم اہل حق کی رہتی۔ لیکن اللہ کی مشیت انسان کے بارے میں یہ ہے ہی نہیں ورنہ پھر رسولوں اور دعوت حق کی ضرورت ہی کیا تھی۔ انسان کے بارے میں اللہ کی جو مشیت ہے وہ یہ کہ اسے اپنی پسند کے مطابق نیکی اور بدی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
قانون اختلاف طبائع :
(ف 1) یعنی اختلاف رائے ناگزیر ہے جب تک دل و دماغ دنیا میں رہیں گے ، اختلاف باقی رہے گا ، اللہ تعالیٰ کی مشیت تکوینی نے کچھ ایسا سامان پیدا کردیا ہے کہ اختلاف سے گھبرا نہ جائیں ، اور آپ کا جی تھوڑا نہ ہو ، بتایا یہ ہے کہ ایمان وکفر میں امتیاز قدرتی بات ہے ، آپ استقلال وہمت کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے رہیں ۔
آیت کا مقصد یہ نہیں کہ اللہ نے بعض لوگوں کو عمدا جہنم کے لئے پیدا کیا ہے ، بلکہ مدعا یہ ہے کہ اللہ کی مشیت تکوینی میں جیسے ہدایت کے لئے موافق بہم پہنچائے گئے ہیں ، اس طرح گمراہی کے لئے بھی آسانیاں موجود ہیں ۔ اور اس میں انسانوں اور جنوں میں کوئی تفریق نہیں ، دونوں میں…
Read the full tafseer →119 مگر جس پر آپ کا پروردگار رحم فرمائے وہ صحیح دین سے اختلاف نہیں کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے ان اختلاف کرنے والوں کو اسی لئے پیدا کیا ہے اور آپ کے رب کی وہ بات پوری ہوگی کہ میں جنات سے اور انسانوں سے دوزخ کو بھردوں گا یعنی ہوسکتا تھا کہ سب مسلمان ہوتے لیکن حضرت حق کی حکمت تکوینی اس کی متقضی نہیں ہوئی۔
یہی وجہ ہے کہ راہ حق کے قبول کرنے اور نہ کرنے میں ہمیشہ اختلاف رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا جو فطرت سلیمہ کو صحیح طور پر استعمال کرے گا وہ راہ حق کو قبول کرے گا اور جو فطرت پر نہیں چلے گا وہ گمراہ ہوگا اور اس طرح دنیا میں رحم کا مظہر بھی ہوگا اور غضب کا مظہر بھی ہوگا اور وہ فرمانا بھی پورا ہوجائے…
Read the full tafseer →ف 4۔ خود اس کی حکمت یہ ہے کہ جس طرح مرحومین میں صفت رحمت کا ظہور ہوا مغضوبین میں صفت غضب کی ظاہر ہو پھر اس ظہور کی حکمت یا اس حکمت کی حکمت اللہ ہی کو معلوم غرض اس ظہور کی حکمت سے جہنم میں جانا بعضوں کا ضرور اور جہنم میں جانے کے لیے وجود کفار کا تکوینا ضروری اور وجود کفار کے لیے اختلاف لازم یہ وجہ ہے سب کے مسلمان نہ ہونے کی۔
Read the full tafseer →جنہوں نے انسانی زندگی کا مقصد حیات پا لیا پس اللہ نے ان پر رحم فرمایا
۔ 148 اے پیغمبر اسلام آپ طبقہ موہل ضلال کے وجود پر زیادہ غم اور حیرت نہ کریں اس لئے کہ یہ مشیت ایزدی کا فیصلہ ہے اور انسان کی خلقت ہی ایسی رکھ دی گئی ہے کہ اہل حق کے مقابلہ میں اہل ضلال برابر پیدا ہوتے رہیں۔ یہ بیان گویا انسان کی غایت تکوینی کا ہوا اس لئے اس میں اور اس غایت تشریعی کے درمیان کوئی تناقص نہیں ۔ الا من رحم ربک کا تعلق کس سے ہوا ؟ اس کا تعلق اختلاف سے ہے۔ یعنی انسان کو اسلئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے کوئی راہ اختیار کرے اسے ایک راہ پر چلنے کے لئے مجبور نہ کیا جائے اس طرح جو اختلاف رونما ہوگا اس کے پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
Difference: Blameworthy and Praiseworthy
When it was said in the fifth verse (118) - ` had your Lord willed, He would have made all the people a single community' - the sense is that had it been the will of Allah, He would have made all human beings accept Islam by force. All of them would have then become nothing but Muslims without any difference remaining between them. But, such are the dictates of His wisdom that, in this world, Allah Ta` ala does not compel anyone to do something. Instead, He has entrusted man with a kind of choice under which he could do whatever good or bad he wishes…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
116. This is being said in order to remove misconceptions which are often put forward under the appellation 'fate'. The explanation of the destruction of those ancient nations mentioned above is liable to give rise to serious objections. For, in the context of the above explanation it might be pointed out that the non-existence of righteous persons in a nation, or their existence in very small numbers, depends entirely on God's will. If such is the case, how can any blame be directed at those nations'? For, after all, why did God not create a large number of good people in those nations?
In…
Read the full tafseer →