ذکر ماضی تمہارے لیے سامان سکون
پہلی امتوں کا اپنے نبیوں کو جھٹلانا، نبیوں کا ان کی ایذاؤں پر صبر کرنا۔ آخر اللہ کے عذاب کا آنا، کافروں کا برباد ہونا، نبیوں رسولوں اور مومنوں کا نجات پانا، یہ سب واقعات ہم تجھے سنا رہے ہیں۔ تاکہ تیرے دل کو ہم اور مضبوط کردیں اور تجھے کامل سکون حاصل ہوجائے۔ اس سورت میں بھی حق تجھ پر واضح ہوچکا ہے کہ اس دنیا میں بھی تیرے سامنے سچے واقعات بیان ہوچکے ہیں۔ یہ عبرت ہے کفار کے لیے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے کہ وہ اس سے نفع حاصل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
سورة هُوْد 116
یہ اس شبہ کا جواب ہے جو بالعموم ایسے مواقع پر تقدیر کے نام سے پیش کیا جاتا ہے۔ اوپر اقوام گزشتہ کی تباہی کا جو سبب بیان کیا گیا ہے اس پر یہ اعتراض کیا جاسکتا تھا کہ ان میں اہل خیر کا موجود نہ رہنا یا بہت کم پایاجانا بھی تو آخر اللہ کی مشیت ہی سے تھا، پھر اس کا الزام ان قوموں پر کیوں رکھا جائے ؟ کیوں نہ اللہ نے ان کے اندر بہت سے اہل خیر پیدا کردیے ؟ اس کے جواب میں یہ حقیقت حال صاف صاف بیان کردی گئی ہے کہ اللہ کی مشیت انسان کے بارے میں یہ ہے ہی نہیں کہ حیوانات اور نباتات اور ایسی ہی دوسری مخلوقات کی طرح اس کو بھی جبلی طور پر ایک لگے بندھے راستے کا پابند بنادیا جائے جس سے ہٹ کر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
اختلاف مذموم اور محمود
پانچویں آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب انسانوں کو ایک ہی امت و ملت بنا دیتا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمام انسانوں کو زبردستی قبول اسلام پر مجبور کر ڈالتے سب کے سب مسلمان ہی ہوجاتے ان میں کوئی اختلاف نہ رہتا مگر بتقاضائے حکمت اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی کو کسی عمل پر مجبور نہیں کرتے بلکہ اس نے انسان کو ایک قسم کا اختیار سپرد کردیا ہے اس کے ماتحت وہ اچھا یا برا جو چاہے عمل کرسکتا ہے، اور انسان کی طبائع مختلف ہیں اس لئے راہیں مختلف ہوتی ہیں اور عمل مختلف ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ دین حق سے اختلاف کرتے ہی رہیں گے بجز…
Read the full tafseer →وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ ۚ وَجَاۗءَكَ فِيْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَّذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ۔
سرگزشتیں سنانے سے مقصود : اوپر حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کی جو سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سرگزشتیں ہم اس لیے سناتے ہیں کہ ان کے وہ پہلو تمہارے سامنے لائیں جو تمہارے دل کو مضبوط کریں تاکہ تم ان حالات کا پامردی اور استقلال کے ساتھ مقابلہ کرسکو جو تمہیں پیش آرہے ہیں یا آئند پیش آسکتے ہیں۔ اور یہ اطمینان رکھو کہ ان واقعات سے حق کے غلبہ اور باطل کی شکست کی جو تاریخ تمہارے سامنے آئی یہ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
119۔ 1 ' اسی لئے ' کا مطلب بعض نے اختلاف اور بعض نے رحمت لیا ہے۔ دونوں صورتوں میں مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے انسانوں کو آزمائش کے لئے پیدا کیا ہے۔ جو دین حق سے اختلاف کا راستہ اختیار کرے گا، وہ آزمائش میں ناکام اور جو اسے اپنا لے گا، وہ کامیاب اور رحمت الٰہی کا مستحق ہوگا۔
119۔ 2 یعنی اللہ کی تقدیر اور قضاء میں یہ بات ثبت ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہونگے جو جنت کے اور کچھ ایسے ہونگے جو جہنم کے مستحق ہوں گے اور جنت و جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے، نبی نے فرمایا ' جنت اور دوزخ آپس میں جھگڑ پڑیں، جنت نے کہا، کیا بات ہے کہ میرے اندر وہی لوگ آئیں گے جو کمزور اور معاشرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
64: یہ بات قرآن کریم نے بار بار واضح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمام انسانوں کو زبردستی ایک ہی دین کا پابند بنا دیتا ، لیکن اس کائنات کی تخلیق اور انسان کو اس میں بھیجنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھا کر اسے یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے اسی میں اس کا امتحان ہے کہ وہ اپنی مرضی اور اختیار کو ٹھیک استعمال کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں جنت کماتا ہے یا اس کا غلط استعمال کرکے دوزخ کا مستحق بن جاتا ہے، اس امتحان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس کے اختیار کے بغیر زبردستی کسی ایک راستے پر نہیں رکھا۔
Read the full tafseer →خدا کے رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات بھی اپنی قوم کی طرف سے مشکلات کا مقابلہ کررہی تھی ، بعض لوگ حددرجہ منحرف اور گمراہ تھے۔ پھر دعوت اسلامی کے سلسلے میں آپ پر بےحد ذمہ داریاں عائد ہورہی تھیں ۔ اس لیے اس بات کی ضرورت تھی کہ آپ کو تسلی دی جائے اور رب کی طرف سے آپ کی حوصلہ افزائی کی جائے ، اگرچہ آپ ثابت قدم تھے اور مام مشکلات کو مستقل مزاجی سے برداشت کررہے تھے۔
وَكُلا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ (11 : 120)
اور اے نبی ، یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں ، یہ وہ چیزیں ہیں جن کے…
Read the full tafseer →4 اوپر بہت سے انبیاء و رسل کے قصص مذکور ہوئے تھے، اب ختم سورت پر ذکر قصص کی بعض حکمتوں پر تنبیہ فرماتے ہیں۔ یعنی گزشتہ اقوام و رسل کے واقعات سن کر پیغمبر ﷺ کا قلب بیش از بیش ساکن و مطمئن ہوتا ہے اور امت کو تحقیقی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ جن میں نصیحت و تذکیر کا بڑا سامان ہے۔ آدمی جب سنتا ہے کہ میرے ابنائے نوع پہلے فلاں فلاں جرائم کی پاداش میں ہلاک ہوچکے ہیں تو ان سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ فلاں راستہ اختیار کرنے سے پچھلوں کو نجات ملی تو طبعا اس کی طرف دوڑتا ہے۔ فی الحقیقت قرآن کریم میں قصص کا حصہ اس قدر موثر و مذکر واقع ہوا ہے کہ کوئی شخص جس میں تھوڑا سا آدمیت کا جزء ہو اور خوف…
Read the full tafseer →آیت 120 وَکُلاًّ نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآء الرُّسُلِ
یہ ”انباء الرسل“ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر قبل ازیں بار بار ہوا ہے۔ حضرت نوح حضرت ہود حضرت صالح حضرت لوط حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ کے حالات ہم آپ کو بار بار اس لیے سنا رہے ہیں :
مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ
تا کہ ان واقعات کو سن کر آپ اور آپ کے ساتھیوں کے دلوں میں اطمینان بڑھے اور استقامت میں اضافہ ہو۔ ان واقعات کے ذریعے سے ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مکہ میں آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر مصائب کے جو پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف مبعوث ہوا اور اسے دعوت حق پیش کی تو اس کی مخالفت اسی شد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
132 انبیاء کے بار بار تذکرہ کے تین فائدے :۔ انبیاء کے حالات بار بار بیان کرنے کے اللہ تعالیٰ نے تین فائدے بتلائے ہیں۔ ایک یہ کہ جن مشکلات سے آپ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ دو چار ہیں ایسے ہی حالات سے تمام سابقہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو بھی دوچار ہونا پڑا تھا۔ آخر اللہ نے مخالفین کا سر توڑ دیا اور انبیاء اور مومنوں کو بچا لیا اور کامیاب کیا لہذا آپ صبر سے کام لیں اور اپنے عزم کو مضبوط رکھیں۔ دوسرے یہ کہ آپ اور آپ کے پیروکاروں تک سابقہ انبیاء کے صحیح صحیح حالات پہنچ جائیں جن کی آپ کو پہلے سے خبر نہیں تھی۔ تیسرے یہ کہ ان لوگوں کے حالات میں آپ سب کے لیے بہت سے اسباق موجود ہیں یعنی اللہ کے…
Read the full tafseer →169۔ مطلب یہ ہوا کہ ان قرآنی قصوں کے مضامین ومطالب ایک تو بجائے خود حق اور واقعی پھر ایک تو برے کاموں سے رکنے کی نصیحت ان میں ملتی ہے دوسرے اچھے کاموں کی یاددہانی ان سے ہوتی ہے اور ثبات قلب ان سے جو آپ ﷺ کو حاصل ہوتا ہے وہ اس سب سے الگ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مقبولین کی سرگزشت میں ایک خاص اثر تثبیت قلب وتقویت قلب کا ہے اس لیے مشائخ نے اولیاء صالحین کی حکایات کے جمع کرنے کا خاص اہمتام کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیت نمبر 110 تا 123
ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…
Read the full tafseer →وکلا نقص علیک من انباء الرسل ما نثبت بہ فوادک اور ہم پیغمبروں کے قصے میں سے یہ سارے (مذکورہ) قصے آپ سے بیان کرتے ہیں جن کے ذریعے سے ہم آپ کے دل کو تقویت دیتے ہیں۔
وَکُلاًّ اور ہر خبر۔ اَمنْبَآء الرُّسُلِ پیغمبروں کی اور ان کی امتوں کی خبریں۔ مَا نُثَبِّتُ ، کُلاًّ کا بیان ہے یا بدل ہے ‘ یعنی انبیاء اوراقوام پارینہ کے احوال بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے یقین میں استحکام اور ادائے رسائے کے لئے دل میں قوت اور ایذائے کفار کو برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہو۔
وجاءک فی ھذہ الحق اور اس (دنیا) میں آپ کے پاس حق آگیا (حسن و قتادہ) ۔ دوسرے اہل تفسیر نے کہا :
ھٰذِہِ سے مراد ہے : سورت۔ ظاہر ہے کہ امنْبَآء…
Read the full tafseer →(120) اور پیغمبروں کے واقعات میں سے جیسا کہ بیان کیے گئے یہ سارے قصے ہم آپ سے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کے دل کو مضبوطی حاصل ہو کہ جو آپ کے ساتھ آپ کی قوم کر رہی ہے، آپ کے علاوہ اور انبیاء کرام کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے یہی معاملہ کیا اور آپ کے پاس اس صورت میں ایسی بات پہنچی ہے جو خود بھی حق ہے اور گناہوں سے بچنے کے لیے نصیحت اور مومنین کے لیے یاد دہانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً : یعنی اے میرے رسول ! تیری خواہش تو یہ ہے کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں، ایک بھی کافر نہ رہے (دیکھیے شعراء : 3) اور یہ بات تیرے رب پر کچھ مشکل بھی نہیں، جب اس نے جن و انس کے سوا باقی پوری مخلوق کو اپنی اطاعت کا پابند بنا رکھا ہے تو وہ جن و انس کو بھی ایک ہی امت بنا سکتا تھا کہ کوئی کفر کر ہی نہ سکتا، فرمایا : (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ) [ یونس : 99 ] مگر تیرے رب کی حکمت کا تقاضا کچھ اور تھا، اس لیے اس نے کسی کو ایمان پر مجبور نہیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 120
قولہ تعالیٰ : وکلانقص علیک، کلا، نقص کی وجہ سے منصوب ہے۔ اس کا معنی ہوگا ہر وہ جس کو رسولوں کی خبروں کی ضرورت ہو تو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں۔ اخفش نے کہا : کلا حال مقدم ہے۔ جس طرح آپ کا قول کلا ضربت القوم، من انباء الرسل یعنی ان کی خبریں اور اپنی قوم کی اذیتوں پر ان کا صبر۔ مانثبت بہٖ فوادک تاکہ ان کے ذریعے آپ کے قلب مبارک کو اداء رسالت اور اس سلسلہ میں آپ کو ملنے والی اذیتوں پر صبر پر پختہ کردیں۔ ایک قول یہ ہے : اس کے ذریعے ہم آپ میں پختگی اور یقین میں اضافہ کردیں۔ حضرت عباس ؓ نے فرمایا : ان کے ذریعے آپ کے قلب مبارک کو ہم مضبوط کردیں۔ ابن جریج نے کہا : ان کے ذریعے آپ کے دل کو ہم…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وکلا نقص علیک من انبیآء الراسل مانثبت بہ فوادک “ کے بارے میں فرمایا تاکہ اے محمد ﷺ آپ جان لیں کہ آپ سے پہلے کچھ انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی جانب سے پیش آیا (ان کو تکلیفیں اٹھانا پڑیں ) ۔
2:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءک فی ھذہ الحق “ یعنی اس سورت میں (جو آپ کے پاس حق آیا ہے ) ۔
3:۔ ابن جریر وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…
Read the full tafseer →[وَكُلًّا : سب کچھ ] [ نَّقُصُّ : ہم بیان کرتے ہیں ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [ مِنْ انۢبَاۗءِ الرُّسُلِ : رسولوں کی خبروں میں سے ] [مَا : وہ ] [نُثَبِتُ : ہم جماتے ہیں ] [ بِهٖ : جس سے ] [ فُؤَادَكَ : آپ ﷺ کے دل کو ] [وَجَاۗءَكَ : اور آچکا آپ ﷺ کے پاس ] [ فِيْ هٰذِهِ : اس (سورہ) میں ] [ الْحَقُّ : حق ] [ وَمَوْعِظَةٌ: اور نصیحت ] [ وَّذِكْرٰي : اور بڑی یاددہانی ] [ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کے لئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات آپ کے لئے تقویت قلب کا باعث ہیں
سورۂ ہود کا اکثر حصہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کے واقعات پر مشتمل ہے سورت کے ختم پر ارشاد ہے کہ اے رسول ﷺ ہم جب حضرات انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے قصے آپ کو سناتے ہیں ان کے ذریعہ ہم آپ کے دل کو مضبوط کرتے ہیں اور یہ جو قصے آپ سے بیان کئے گئے ہیں ان میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ سب حق سچ ہے اس میں اہل ایمان کے لیے نصیحت ہے اور یاد دہانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قصوں کا بیان کرنا قصہ گوئی کے طور پر نہیں ہے ان قصوں سے آپ کے دل کو مضبوط کرنا اور اہل ایمان کو نصیحت اور یاد دہانی کرانا مقصود ہے ‘ جو لوگ ان قصوں کو پڑھیں…
Read the full tafseer →تنبیہ بر بعض حکمت ہائے حکایت قصص مذکورہ
قال اللہ تعالیٰ وکلا نقص علیک من انباء الرسل .... الیٰ .... وذکری لل مومن ین۔
(ربط) اوپر کی آیت میں واقعات ہلاکت کے وقوع کی علت اور حکمت بیان کی یہ واقعات ہلاکت کیوں پیش آئے۔ اب اس آیت میں ان قصص اور واقعات کے حکایت اور ذکر کی بعض حکمتوں پر تنبیہ فرماتے ہیں اور بالفاظ دیگر گزشتہ آیت میں محکی عنہ کے وقوع کی علت اور حکمت کا بیان تھا اور اس آیت میں نفس حکایت کی علت اور حکمت کا بیان ہے جس کا حاصل تقویت قلب اور موعظت و نصیحت اور عبرت ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ ہم رسولوں کی خبروں میں سے تم پر ہر قسم کی خبر بیان کرتے ہیں۔ یعنی انبیاء کرام کے وہ حالات جو…
Read the full tafseer →100:۔ یہ تمام سابقہ قصوں سے متعلق ہے۔ کلا مبدل منہ، مَانُثَبِّتُ بِہٖ بدل اور مِنْ اَنْبَاء الرُّسُلِ مَانُثَبِّتُ کا بیان ہے۔ یہ قصے ہم نے اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ آپ کے دل میں اثبات و استقلال زیادہ پیدا ہو اور آپ تبلیغ توحید کی راہ میں ہر کٹھن سے کٹھن وقت کا صبر و ثبات سے مقابلہ کرسکیں اور مشرکین کے مسلسل رد و انکار کی وجہ سے مایوس نہ ہوجائیں۔ اور اس سورت میں ہم نے تین امور بیان کردئیے ہیں۔ اَلْحَقُّ توحید و رسالت کے دلائل، مَوْعِظَۃً اقوام سابقہ کے انجام بد سے عبرت آموزی۔ ذِکْرٰی اعمال صالحہ اور آخرت کی ترغیب۔ (درازی، قرطبی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
دلی تسلی کا مضمون
آج کے درس کی پہلی آیات میں حضور علیہ الصلواۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کے لئے تسلی کا مضمون ہے جب کہ آخری آیت میں سورة کا لب و لباب دے دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے واقف ہے اور وہ انہی کے مطابق بدلہ دیگا اس سورة مبارکہ میں گزشتہ انبیاء اور ان کی اقوام کے جو حالات بیان کئے گئے ہیں ، ان واقعات سے انسان جان سکتا ہے کہ سابقہ امم نے کو نکون سے جرائم کا ارتکاب کیا اور پھر انہیں کس قدر ذلت ناک سزا سے دوچار ہونا پڑا اور پھر جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے ان کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح نجات دی۔ ان واقعات سے انسان جان سکتا ہے کہ جو شخص حق…
Read the full tafseer →وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَكَ 0ۚ وَجَاۗءَكَ فِيْ ہٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ 120
قصص
الْقَصُّ : تتبّع الأثر، يقال : قَصَصْتُ أثره، والْقَصَصُ : الأثر . قال تعالی: فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وَقالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ [ القصص/ 11]
( ق ص ص ) القص
کے معنی نشان قد م پر چلنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ قصصت اثرہ یعنی میں اس کے نقش قدم پر چلا اور قصص کے معنی نشان کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] تو وہ اپنے اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔ وَقالَتْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
2 ؎ قرن زمانہ یعنی پہلی امتوں میں سے اچھے لوگ کم اٹھے اور پہلی امتوں میں سے وہی امتیں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَکُلاًّ نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَمنْبَآئِ الرُّسُلِ مَانُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَاَدَکَ ج وَجَآئَ کَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 120)
(اور ہم رسولوں کی سرگزشتوں میں سے ہر ایک تمہیں سنا رہے ہیں جن کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں اور ان میں تمہارے پاس حق آیا ہے اور مومنوں کے لیے ان میں نصیحت اور یاددہانی ہے۔ )
معذب قوموں کے واقعات سنانے سے مقصود
گزشتہ معذب قوموں کی سرگزشتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم ان قوموں کی سرگزشتیں آپ کو اس لیے سناتے ہیں کہ آپ کو ان سے حوصلہ پیدا ہو۔ آپ کی قوم آپ سے جو بہیمانہ سلوک کررہی ہے اور جس طرح اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
فہم القرآن
ربط کلام : سرور دو عالم ﷺ کو تیسری مرتبہ پھر تسلّی اور حوصلہ دیا گیا ہے۔
دین کا داعی وقت کا پیغمبر ہو یا ایک عام مبلغ اس کے راستے میں بہرحال ایسے مشکل مقام آتے ہیں۔ جن کا سامنا کرتے ہوئے دل پسیجتا ہے اور اسے اپنا حوصلہ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ڈھارس اور اطمینان دلانے کے لیے اس کے سامنے دنیا سے رخصت ہونے والے عظیم لوگوں کے عظیم الشان کارنامے بیان کیے جائیں تو اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی قوت کار میں اضافہپاتے ہوئے منزل مقصود کے لیے ان واقعات کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھتا ہے۔ بیشک نبی اکرم ﷺ سرور دو عالم تھے مگر ایک انسان ہونے کے ناطے حوصلہ افزا معاملات سے آپ کا دل ڈھارس…
Read the full tafseer →120: وَکُلًّا (ہر ایک) نحو : اس میں تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔ گویا عبارت اسطرح ہے کل نبأ۔ کُلاًّ پر نصب نَقُصُّ عَلَیْکَ سے ہے اور مِنْ اَنْچبَآئِ الرُّسُلِ یہ کل کا بیان ہے۔ اور مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ یہ کُلًّا سے بدل ہے۔
نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْچبَآ ئِ الرُّسُلِ مَانُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَ ادَکَ (ہر ایک واقعہ جو ہم نے پیغمبروں کے واقعات میں سے بیان کیا وہ ایسا ہے کہ جس سے ہم آپ کے دل کو تقویت دیتے ہیں۔ ) وَجَآ ئَ کَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَقُّ (اور آپ کے پاس اس سلسلہ میں حق آگیا) اس سورت میں یا ان بیان کردہ واقعات میں وہ آگیا جو سچا ہے۔ وَمَوْعِظَۃٌ وَّ ذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِینَ (وہ چیز…
Read the full tafseer →تفسیر : 120۔” وکلا نقص علیک من انباء الرسل ما نثبت بہ فوادک “ معنی یہ ہے کہ جن چیزوں کی رسولوں کی خبروں اور ان کی امتوں کے تذکروں کی آپ کو ضرورت تھی تا کہ ہم آپ کے یقین کو زیادہ کریں اور آپ (علیہ السلام) کے دل کو مضبوط کریں کیونکہ نبی کریم ﷺ جب ان کو سنتے تھے تو اس میں آپ (علیہ السلام) کے دل کو صبر پر تقویت ملتی اپنی قوم کی تکلیف پر ۔ ” وجاء ک فی ھذہ الحق ‘ ‘ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں اور ان کے علاوہ حضرات فرماتے ہیں کہ اس سورت میں اور یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اس سورت کو خاص کیا ہے اعزاز کے لیے اگرچہ تمام سورتوں میں جو آیا ہے وہ حق ہے ۔ ” وموعظۃ وذکری…
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے، تو اب اس میں پنہاں حکمت کا ذکر فرمایا۔ وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ : اور یہ سب چیز بیان کرتے ہیں ہم آپ کے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے مضبوط کریں ہم آپ کے دل کو۔ تاکہ وہ مطمئن رہے، اس کو ثبات حاصل ہو اور وہ صبر کرے، جیسے اولو العزم انبیاء ومرسلین نے صبر کیا تھا، کیونکہ نفوس انسانی اقتدا سے مانوس ہوتے ہیں اور اعمال پر ان کو نشاط حاصل ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، حق کے شواہد اور اس کو قائم کرنے والوں کی کثرت کا ذکر کرنے سے حق کی تائید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
انسان کو اختیار بخشا
قول باری ہے ولذلک خلقھم اسی آزادی انتخاب و اختیار کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ ، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ اللہ نے انہیں رحمت کے لیے پیدا فرمایا ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت ہے نیز حسن اور عطاء سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا حالانکہ اسے علم تھا کہ یہ لوگ دنیا میں باطل کی مختلف راہوں پر چلیں گے۔ آیت میں حرف لام ، لام عاقبت ہے ۔ اہل لغت کا کہنا ہے کہ حرف لام کبھی حرف علی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جس طرح قائل کا یہ قول ہے۔ اکرمتک علی یرک و لبرک بی تم نے میرے ساتھ جو نیکی کی ہے اس پر اور اس کی خاطر میں تمہارا احترام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
231 ۔ حضرات انبیاء و رسل کی سرگزشتیں سنانے کے اصل مقصد کی وضاحت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سرگزشتیں ہم آپ کو اس لیے سناتے ہیں کہ ان سے وہ پہلو آپ کے سامنے آجائیں جن سے آپ کے دل کو قوت اور مضبوطی ملے۔ ان کے ضمن میں حق آپ کے سامنے آجائے اور تاکہ نصیحت اور یاد دہانی ہو ایمان والوں کے لیے کہ اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں اور اٹھائیں گے جن کا ایمان و یقین صحیح اور مستحکم ہوگا۔ ورنہ یہ عظیم الشان نصیحت اور یاد دہانی سب دنیا اور تمام انسانوں کے لیے عام ہے۔ مگر جو اس پر کان ہی نہ دھریں اور ان کو ماننے اور قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہ ہوں ان کو اس سے کوئی فائدہ کس طرح پہنچ سکتا ہے۔ اور یہ ایک اصول اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–123
نیک لوگ اور اللہ کی قدرت و حکمت
تشریح : ان آیات کی تشریح تو خود ان کے آسان مضامین میں موجود ہے۔ بہرحال یہ نقشہ بڑا ہی ہولناک ہے جب میدان حشر میں ہر امیر، غریب، بچہ، بوڑھا، جوان، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی غرض ہر مذہب کا ہر فرد رب العلمین کی عدالت میں اپنا فیصلہ سننے کے لیے منتظر ہوگا۔ کوئی کسی کی ہرگز مدد نہیں کرسکے گا۔ صرف اپنا اعمال نامہ ہی کام آئے گا۔ اسی لیے موت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے سچ ہے زندہ رہنے کے لیے نام اور مرنے کے لیے مقام پیدا کرنا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
” جاننا چاہتے ہو کہ بھلائی کیا ہے ؟ تو اپنے دل سے پوچھو۔ بھلائی وہ ہے جو روح کے لیے باعث اطمینان ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیات 110 تا 123
اسراومعارف
موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
ف 3 ۔ یا تم ہمارے انجام کی راہ دیکھتے رہو ہم تمہارے انجام کی راہ دیکھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(11:120) کلا۔ ای کل نبائ۔ یہ تمام خبریں ۔ قصے۔ تنوین مضاف الیہ محذوف کے عوض ہے اور نصب بوجہ مفعول فیہ ہونے کے ہے نقص علیک کا۔ من انباء الرسل مضاف الیہ محذوف کی صفت ہے من تبعیضیہ ہے یا بیانیہ ہے۔
ما نثبت بہ فؤادک۔ کلا سے بدل ہے (الکشاف) عطف بیان ہے (روح المعانی)
فی ھذہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ان قصوں کے لئے ہے جو اس سورت میں بیان ہوئے ہیں۔
موعظۃ۔ پندو نصیحت۔ ذکری۔ یاد دہانی۔ دونوں کا الحق پر عطف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 123
شآء (اس نے چاہا) لجعل (البتہ وہ بنا دیتا) امۃ واحدۃ (ایک جماعت) لا یزالون (ہمیشہ) رحم (رحم کیا) خلق (اس نے پیدا کیا) املئن (میں بھردوں گا) نقص (ہم بیان کرتے ہیں نثبت (ہم جما دیتے ہیں) فواد (دل) موعظۃ (نصیحت) ذکری (دھیان، توجہ دینے کی چیز) انتظروا (تم انتظار کرو) توکل علیہ (اس پر بھروسہ کیجیے)
تشریح : آیت نمبر 118 تا 123
سورة ھود کی ان آخری آیات میں چند بہت ہی بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو درحقیقت اس سورت کا خلاصہ بھی ہیں۔
1) پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت اور ایک ہی ملت بنا دیتی کبھی ان کے درمیان اختلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
مطلب یہ ہے کہ وہ راہ راست پر اس لئے آویں گے کہ حکم ازلی ان کے لئے ہوچکا ہے اور جو فرشتوں سے فرمایا تھا کہ میں ضرور بہ ضرور جہنم کو جنات اور آدمیوں سے بھر دوں گا۔ اور سب کافر جہنم میں جاویں گے اور رسولوں کی خبر ہم تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں۔ وہ اس لئے ہے کہ تمہارے دل کو مطمئن اور مظبوط کرنے میں ثابت قدم رہے اور کفار کے ایذا پر صابر۔ یہ سب خبریں صحیح ہیں ان میں کچھ جھوٹ نہیں اور ان میں فقط آپ ہی کے واسطے فائدہ نہیں بلکہ آپ کی امت کے لئے بھی نفع ہے۔ پھر فرمایا کہ اے محبوب ﷺ جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہ دو کہ تم بھی جس طرح عمل کرتے ہو کرتے رہو۔ ہم جس طرح عمل کرتے ہیں کرتے رہیں گے، تم بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
[61] آیت 116 میں انسانی آبادیوں کی تباہی کا جو سبب بیان کیا گیا ہے اس پر یہ اعتراض کیا جاسکتا تھا کہ ان میں اہل خیر کا نہ ہونا یا کم پایا جانا بھی تو آخر اللہ کی مشیت سے تھا پھر اس کا الزام ان تمام آبادیوں پر کیوں رکھا جائے ؟ کیوں نہ اللہ نے ان کے اندر بہت سے اہل خیر پیدا کردیئے ؟ اس کا جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو حق پر جمع کردیتا اور دنیا میں بس ایک ہی قوم اہل حق کی رہتی۔ لیکن اللہ کی مشیت انسان کے بارے میں یہ ہے ہی نہیں ورنہ پھر رسولوں اور دعوت حق کی ضرورت ہی کیا تھی۔ انسان کے بارے میں اللہ کی جو مشیت ہے وہ یہ کہ اسے اپنی پسند کے مطابق نیکی اور بدی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
قانون اختلاف طبائع :
(ف 1) یعنی اختلاف رائے ناگزیر ہے جب تک دل و دماغ دنیا میں رہیں گے ، اختلاف باقی رہے گا ، اللہ تعالیٰ کی مشیت تکوینی نے کچھ ایسا سامان پیدا کردیا ہے کہ اختلاف سے گھبرا نہ جائیں ، اور آپ کا جی تھوڑا نہ ہو ، بتایا یہ ہے کہ ایمان وکفر میں امتیاز قدرتی بات ہے ، آپ استقلال وہمت کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے رہیں ۔
آیت کا مقصد یہ نہیں کہ اللہ نے بعض لوگوں کو عمدا جہنم کے لئے پیدا کیا ہے ، بلکہ مدعا یہ ہے کہ اللہ کی مشیت تکوینی میں جیسے ہدایت کے لئے موافق بہم پہنچائے گئے ہیں ، اس طرح گمراہی کے لئے بھی آسانیاں موجود ہیں ۔ اور اس میں انسانوں اور جنوں میں کوئی تفریق نہیں ، دونوں میں…
Read the full tafseer →120 اور رسولوں کے واقعات میں یہ تمام واقعات جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں ان کے ذریعہ سے ہم آپ کے دل کو تقویت اور تسلی دیتے ہیں اور ان واقعات کے بیان کرنے میں آپ کے پاس ایسا مضمون پہنچا ہے جو حق اور صحیح ہے اور مسلمانوں کے لئے نصیحت اور یاددہانی ہے۔
یعنی ان قصص میں آپ کے پاس ایسا مضمون بیان ہوا ہے جو حق ہے اور مسلمانوں کے لئے برے کاموں سے بچنے کو نصیحت اور بھلے کام کرنے کی یاددہانی ہے یا یہ کہ اس سورت میں جو انبیاء و سابقین کے واقعات مذکور ہیں وہ حق ہیں اور مسلمانوں کیلئے نصیحت و یاداشت ہیں اور حضور ﷺ کو جو تقویت ان قصص سے ہوئی ہے وہ ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
ف 1۔ یعنی ایک فائدہ نبی کے لیے دوسرا امت کے لیے ہے۔ فائدہ۔ حق صفت ذاتیہ ہے آیات قرآنیہ کی جو قصص پر مشتمل ہیں اور موعظت اور ذکری اس کی صفات اضافیہ ہیں جن میں ایک زاجر اور ایک آمر ہے۔
Read the full tafseer →انبیاء کی ان سرگزشتوں میں تیرے دل کی تسکین موجود ہے اور مومنوں کے لئے یاد دہانی ہے
۔ 149 قرآن کریم کے قصوں کے مضامین و مطالب ایک تو بجائے خود حق ہیں اور پھر ان میں برے کاموں سے رکنے کی نصیحت بھی ہے اور اچھے کاموں کی یاد دہانی بھی کرائی گئی اور دونوں باتوں کا اصل مقصد اے پیغمبر اسلام ! آپ کے دل کو تقویت دینا اور ثابت رکھنا ہے اور آپ کو مخاطب کر کے آپ کی امت کے لئے ان قصص میں بیشمار نصائح رکھی ہیں اس طرح واضح کردیا کہ گزشتہ رسولوں کی سرگزشتیں جو مختلف مقامات اور مختلف اسلوبوں میں بیان کی گئی ہیں ان سے قرآن کریم کا اصل مقصد کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ :
۔ 1 آپ کے دل کو تسکین ہو یعنی قوم کو اعراض و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
Difference: Blameworthy and Praiseworthy
When it was said in the fifth verse (118) - ` had your Lord willed, He would have made all the people a single community' - the sense is that had it been the will of Allah, He would have made all human beings accept Islam by force. All of them would have then become nothing but Muslims without any difference remaining between them. But, such are the dictates of His wisdom that, in this world, Allah Ta` ala does not compel anyone to do something. Instead, He has entrusted man with a kind of choice under which he could do whatever good or bad he wishes…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
116. This is being said in order to remove misconceptions which are often put forward under the appellation 'fate'. The explanation of the destruction of those ancient nations mentioned above is liable to give rise to serious objections. For, in the context of the above explanation it might be pointed out that the non-existence of righteous persons in a nation, or their existence in very small numbers, depends entirely on God's will. If such is the case, how can any blame be directed at those nations'? For, after all, why did God not create a large number of good people in those nations?
In…
Read the full tafseer →