Hud 11:118

Hud · from ayah 118

11:118

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ ۟ۙوَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَـعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً‌ وَّلَا يَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِيۡنَۙ

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if your Lord had willed, He could have made mankind one community; but they will not cease to differ.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 10 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:118

بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راه پر ایک گروه کر دیتا۔ وه تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی طریقے کا پیرو بنا دیتا، (مگر کسی کو زبردستی کسی دین پر مجبور کرنا حکمت کا تقاضا نہیں ہے، اس لیے انہیں اپنے اختیار سے مختلف طریقے اپنانے کا موقع دیا گیا ہے) اور وہ اب ہمیشہ مختلف راستوں پر ہی رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگرتمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت کردیتا اور وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا (مگر اس نے جبراً ایسا نہ کیا بلکہ سب کو مذہب کے اختیار کرنے میں آزادی دی) اور (اب) یہ لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقینا سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور وہ ہمیشہ مختلف رہیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت بنائے رکھتا مگر وہ اختلاف ہی کرتے رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تیرا رب چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی امت بنا چھوڑتا اور وہ برابر اختلاف میں رہیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر تمہارا رب چاہتا تو (جبرا) سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا (مگر اس نے بتقاضائے حکمت و ابتلاء ایسا نہیں کیا) اور اب یہ ہمیشہ اختلاف ہی میں رہیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر آپ کے پروردگار کی مشیت ہوتی تو (سب) انسانوں کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ اختلاف ہی کرنے والے ہمیشہ رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام نوع انسانی کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ تو اختلاف کرتے ہی رہیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر تمہارا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا مگر وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Had your Lord so willed, He would surely have made mankind one community. But as things stand, now they will not cease to differ among themselves and to follow erroneous ways

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had your Lord willed, He would have made all the people a single community. But, they will continue in their differences,

— Muhammad Taqi Usmani

Had your Lord willed, He would have made all the people a single community. But, they will continue in their differences,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if your Lord had so willed, He could surely have made mankind one Ummah, but they will not cease to disagree.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if thy Lord had willed, He verily would have made mankind one nation, yet they cease not differing,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if your Lord had willed, He could have made mankind one community; but they will not cease to differ.

— Saheeh International

Had your Lord wanted, He would have made all people one united nation. They still have different beliefs

— Muhammad Sarwar

And if your Lord had pleased He would certainly have made people a single nation, and they shall continue to differ.

— Muhammad Habib Shakir

And had thy Lord Willed, He would surely have made mankind of one community, and they will not cease differing.

— Abdul Majid Daryabadi

If thy Lord had so willed, He could have made mankind one people: but they will not cease to dispute.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:118

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 118–119

جس پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہو اللہ کی قدر کسی کام سے عاجز نہیں۔ وہ چاہے تو سب کو ہی اسلام یا کفر پر جمع کردے لیکن اس کی حکمت ہے جو انسانی رائے ان کے دین و مذاہب جدا جدا برابر جاری وساری ہیں۔ طریقے مختلف، مالی حالات جداگانہ ایک ایک کے ماتحت یہاں مراد دین و مذہب کا اختلاف ہے۔ جن پر اللہ کا رحم ہوجائے وہ رسولوں کی تابعداری رب تعالیٰ کی حکم برداری میں برابر لگے رہتے ہیں۔ اب وہ نبی آخر الزماں ﷺ کے مطیع ہیں۔ اور یہی نجات پانے والے ہیں۔ چناچہ مسند و سنن میں حدیث ہے جس کی ہر سند دوسری سند کو تقویت پہنچا رہی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہودیوں کے اکہتر گروہ ہوئے۔ نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے، اس امت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 117–118

سورة هُوْد 115 ان آیات میں نہایت سبق آموز طریقے سے ان قوموں کی تباہی کے اصل سبب پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کی تاریخ پچھلے چھ رکوعوں میں بیان ہوئی ہے۔ اس تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا جاتا ہے کہ صرف انہی قوموں کو نہیں، بلکہ پچھلی انسانی تاریخ میں جتنی قومیں بھی تباہ ہوئی ہیں ان سب کو جس چیز نے گرایا وہ یہ تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز کیا تو وہ خوشحالی کے نشے میں مست ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے لگیں اور ان کا اجتماعی خمیر اس درجہ بگڑ گیا کہ یا تو ان کے اندر ایسے نیک لوگ باقی رہے ہی نہیں جو ان کو برائیوں سے روکتے، یا اگر کچھ لوگ ایسے نکلے بھی تو وہ اتنے کم تھے اور ان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 118–123

اختلاف مذموم اور محمود پانچویں آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب انسانوں کو ایک ہی امت و ملت بنا دیتا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمام انسانوں کو زبردستی قبول اسلام پر مجبور کر ڈالتے سب کے سب مسلمان ہی ہوجاتے ان میں کوئی اختلاف نہ رہتا مگر بتقاضائے حکمت اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی کو کسی عمل پر مجبور نہیں کرتے بلکہ اس نے انسان کو ایک قسم کا اختیار سپرد کردیا ہے اس کے ماتحت وہ اچھا یا برا جو چاہے عمل کرسکتا ہے، اور انسان کی طبائع مختلف ہیں اس لئے راہیں مختلف ہوتی ہیں اور عمل مختلف ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ دین حق سے اختلاف کرتے ہی رہیں گے بجز…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 118–119

118۔ 119:۔ وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ . اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ ۭ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ۔ ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں قانونِ الٰہی : یعنی اللہ اگر سب کو ایک ہی امت بنادینا چاہتا تو وہ ایسا کر تو سکتا تھا، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا لیکن اس نے ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اس جبر کو پسند نہیں فرمایا بلکہ اس نے نیکی اور بدی دونوں کو ان کے انجام کی تفصیل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور انہیں اختیار دیا ہے کہ وہ ان میں سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 116–118

116۔ 1 یعنی گزشتہ امتوں میں ایسے نیک لوگ کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل منکر کو شر، منکرات اور فساد سے روکتے ؟ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی، لیکن بہت تھوڑے۔ جنہیں ہم نے اس وقت نجات دے دی، جب دوسروں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔ 116۔ 2 یعنی یہ ظالم۔ اپنے ظلم پر قائم اور اپنی مد ہوشیوں میں مست رہے حتٰی کہ عذاب نے انھیں آلیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 114–118

62: دن کے دونوں سروں سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں اور بعض مفسرین نے ان سے فجر اور مغرب کی نمازیں مراد لی ہیں، اور رات کے حصوں کی نماز سے مراد مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں ہیں۔ 63: برائیوں سے یہاں مراد صغیرہ گناہ ہیں، قرآن وسنت کے بہت سے دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان سے جو صغیرہ گناہ سرزد ہوتے ہیں ان کا کفارہ ان نیک کاموں سے ہوتا رہتا ہے جو انسان ان کے بعد کرتا ہے، چنانچہ وضو نماز اور دوسرے تمام کاموں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو مٹاتے رہتے ہیں، سورة نساء (4۔ 31) میں یہ مضمون گزرچکا ہے کہ : اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 118–119

اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی فکر و نظر پر پیدا کردیتا ایک ہی صلاحیت سب میں ہوتی۔ ایک ہی چھاپ کے لوگ ہوتے۔ ان میں کوئی تفاوت یا تنوع نہ ہوتا۔ لیکن اللہ کو ایسا مطلوب نہ تھا ، کہ وہ مخلوق جو اس کی جانشین اور خلیفہ ہے وہ اس قسم کی ہو ، اس لیے اس نے لوگوں کو مختلف صلاحیتیں اور میلانات دیئے۔ اللہ کی مشیت ہی ایسی تھی کہ انسان اپنای استعداد اور رحجانات کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ اس کے بعد اللہ نے لوگوں کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ جس رحجان کو چاہیں ، اپنائیں ، جو راستہ چاہیں اس پر چل پڑیں اور جس راہ پر چلیں اس کے نتائج بھگیں۔ اگر اچھا راستہ اختیار کریں تو جزاء ملے ، اگر برا راستہ اپنائیں تو سزا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 118–119

2 یعنی جیسا کہ بارہا پہلے لکھا جا چکا ہے خدا تعالیٰ کی حکمت تکوینی اس کو مقتضی نہیں ہوئی کہ ساری دنیا کو ایک ہی راستہ پر ڈال دیتا۔ اسی لیے حق کے قبول کرنے نہ کرنے میں ہمیشہ اختلاف رہتا ہے اور رہے گا۔ مگر فی الحقیقت اختلاف اور پھوٹ ڈالنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے صاف وصریح فطرت کے خلاف حق کو جھٹلایا۔ اگر فطرت سلیمہ کے موافق سب چلتے تو کوئی اختلاف نہ ہوتا۔ اسی لیے " اِلَّامَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ " سے متنبہ فرما دیا کہ جس پر خدا نے ان کی حق پرستی کی بدولت رحم کیا وہ اختلاف کرنے والوں سے مستثنیٰ ہیں۔ 3 یعنی دنیا کی آفرینش سے غرض یہ ہی ہے کہ حق تعالیٰ کی ہر قسم کی " صفات جمالیہ " و " قہریہ " کا ظہور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 118 وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ جہاں کہیں بھی لوگ اکٹھے مل جل کر رہ رہے ہوں گے ان میں اختلاف رائے کا ہونا بالکل فطری بات ہے۔ مختلف لوگوں کی مختلف سوچ ہے ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے اور اس کے لیے اپنا اپنا استدلال ہے۔ اسی کے مطابق ان کے نظریات ہیں اور اسی کے مطابق ان کے اعمال و افعال۔ جب تک یہ استدلال علم اور قرآن وسنت کی بنیاد پر ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ‘ بشرطیکہ یہ اختلاف کی حد تک رہے اور تفرقہ کی صورت اختیار نہ کرے اور ”من دیگر م تو دیگری“ والا معاملہ نہ ہو۔ اس نکتہ کو یوں بھی سمجھنا چاہیے کہ امام ابوحنیفہ اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 118–119

131 اختلاف کی اصل وجہ :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں سے کوئی ایک راہ انتخاب کرنے کی مکمل آزادی دے رکھی ہے اگر یہ آزادی انتخاب و اختیار انسان سے چھین لی جائے تو اختلاف کا ہونا ممکن نہیں رہتا اور جب تک یہ آزادی موجود ہے لوگ اختلاف کرتے ہی رہیں گے نیز اگر یہ آزادی انسان سے چھین لی جائے تو انسان کی تخلیق کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے انسان کو خیر و شر کی راہیں سجھا دی گئیں۔ پھر اسی غرض کے لیے انبیاء آئے اللہ نے کتابیں نازل فرمائیں لیکن تھوڑے ہی لوگ تھے جنہوں نے اس آزادی انتخاب و اختیار کا درست استعمال کیا زیادہ لوگ ایسے غلط کار ہی ثابت ہوئے جنہوں نے گمراہی کی راہیں اختیار کرکے اپنے آپ کو جہنم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

167۔ گویا انسان کی اب جو خلقت رکھی گئی ہے اس کے لحاظ سے یہ ضرور ہے کہ اہل حق کے مقابلہ میں کچھ اہل ضلال بھی برابر پیدا ہوتے رہیں اور جس طرح صفت رحم وکرم کے مظہر اہل حق اہل جنت میں اسی طرح صفت غضب کے مورد اہل باطل واہل جہنم ہوتے رہیں۔ وذلک لیکونوا مظاہر جمالہ وجلالہ ولطفہ وقھرہ (روح) (آیت) ” ولوشآء ربک “۔ یعنی اگر مشیت تکوینی کا اقتضاء یہی ہوتا۔ (آیت) ” لجعل الناس امۃ واحدۃ “۔ یعنی سب کے سب اضطرارا وجبلۃ حق پر جمع ہوجاتے اور دنیا میں بس ایک ہی قوم اہل حق کی رہتی۔ قال قتادۃ یجعلھم مسلمین وذلک بالالجاء الی الایمان (جصاص)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 110–123

آیت نمبر 110 تا 123 ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو شاء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ اور اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک گروہ بنا دیتا ‘ یعنی سب کو نیکوکار مسلمان بنا دیتا (اگرچہ اس نے سب کو نیک مسلمان ہوجانے کا حکم دیا ہے) آیۃ سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ کی مشیت الگ چیز ہے اور حکم جدا حیثیت رکھتا ہے اور دونوں ایک نہیں ہیں۔ اللہ نے ہر شخص کو مؤمن بنانے کا وعدہ کیا ہے ‘ اگر وہ چاہتا تو اس کی مشیت کے مطابق ضرور ہوجاتا۔ ولا یزالون مختلفین اور لوگ ہمیشہ (حق سے) اختلاف کرتے رہیں گے اور طرح طرح سے باطل کی طرف مائل ہوتے رہیں گے۔ کوئی یہودی رہے گا ‘ کوئی عیسائی ‘ کوئی آتش پرست ‘ کوئی بت پرست ‘ کوئی جبری ‘ کوئی قدری ‘ کوئی رافضی ‘ کوئی خارجی وغیرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(118) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی ملت یعنی ملت اسلامی پر قائم کردیتا اور آئندہ بھی ہمیشہ لوگ دین حق اور باطل میں اختلاف کرتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 118–121

وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً : یعنی اے میرے رسول ! تیری خواہش تو یہ ہے کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں، ایک بھی کافر نہ رہے (دیکھیے شعراء : 3) اور یہ بات تیرے رب پر کچھ مشکل بھی نہیں، جب اس نے جن و انس کے سوا باقی پوری مخلوق کو اپنی اطاعت کا پابند بنا رکھا ہے تو وہ جن و انس کو بھی ایک ہی امت بنا سکتا تھا کہ کوئی کفر کر ہی نہ سکتا، فرمایا : (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ) [ یونس : 99 ] مگر تیرے رب کی حکمت کا تقاضا کچھ اور تھا، اس لیے اس نے کسی کو ایمان پر مجبور نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 117–119

آیت نمبر 117 تا 119 قولہ تعالیٰ : وماکان ربک لیھلک القرٰی اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ برباد کردے بستیوں یعنی بستیوں والوں کو۔ القری سے مراد اھل القری ہے۔ بظلمٍ یعنی شرک اور کفر سے واھلھامصلحون یعنی ان کے درمیان حقوق کی باہم ادائیگی ہورہی ہو، یعنی ایسا نہیں کہ وہ انہیں صرف کفر کی وجہ سے ہلاک کرے یہاں تک کہ اس کے ساتھ ساتھ فساد بھی برپا ہوجائے، جس طرح مثلاً اس نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کو کم تولنے کی وجہ سے ہلاک کیا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لواطت کی وجہ سے ہلاک کیا، اور یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا میں شرک کی نسبت نافرمانی اور گناہ ہلاکت و بربادی کے عذاب تک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 118–119

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولوشآء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ “ یعنی ایک ہی دین والے (ہوتے) گمراہی والے یا ہدایت والے (اگر اللہ تعالیٰ چاہتے) 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا یزالون مختلفین “ یعنی حق والے اور باطل والے (ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے) (آیت) ” الا من رحم ربک “ یعنی حق والے (آیت) ” ولذلک خلقہم “ یعنی اس رحمت کے لئے تو حق والوں کو پیدا فرمایا۔ 3:۔ عبدالرزاق وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا یزالون مختلفین الا من رحم ربک “ یعنی مگر اس کی رحمت والے کیونکہ وہ اختلاف نہیں کریں گے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَوْ : اور اگر ] [ شَاۗءَ : چاہتا ] [ رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ لَجَعَلَ : تو ضرور بناتا ] [النَاسَ : لوگوں کو ] [اُمَّةً وَّاحِدَةً : ایک (ہی) امت ] [ وَّلَا يَزَالُوْنَ : اور ہمیشہ رہیں گے ] [ مُخْتَلِفِيْنَ : اختلاف کرنے والے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 118 ۔ 119 کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اگر چاہتا تو سب کو ایک امت بنا سکتا تھا۔ لیکن اس نے ہدایت اور گمراہی کے معاملہ میں اس چیز کو پسند نہیں فرمایا بلکہ اس نے نیکی اور بدی دونوں کو ان کے انجام کی تفصیل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھ دیا ہے اور انھیں اختیار دیا ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہیں اختیار کرلیں۔ وَلَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ یعنی جب اللہ نے لوگوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور سب ایک ہی دین پر ہوتے ‘ دنیا میں اسلام ہی اسلام ہوتا اور وہ سب تکوینی طور پر قہراً وجبراً مسلمان ہوجاتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضا ہوا کہ حق اور باطل دونوں راستے بیان کر دئیے جائیں اور جسے ایمان قبول کرنا ہو وہ اپنے اختیار سے قبول کرے اور جسے کفر پر رہنا ہو وہ اپنے اختیار سے کفر پر رہے ‘ جیسا کہ سورة کہف میں فرمایا (وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ اِنَّا اَعْتَدْنَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–119

امم سابقہ کی ہلاکت کے سبب قریب اور سبب بعید کا بیان قال اللہ تعالیٰ فلولا کان من القرون .... الیٰ .... من الجنۃ والناس اجمعین۔ (ربط) پچھلی امتوں کا حال سنا کر یہ بتلاتے ہیں کہ ان کی ہلاکت کے دو سبب ہیں ایک سبب قریب اور ایک سبب بعید اور بالفاظ دیگر ایک سبب ظاہری اور ایک سبب باطنی۔ سبب ظاہری تو یہ تھا کہ شہوات نفسانی اور حظوظ شہوانی کے پیرو بن گئے۔ اور خدا کی معصیت میں غرق ہوگئے اور علماء اور واعظین قلیل اور مغلوب تھے ان کا وعظ اور ان کی نصیحت کارگر نہ ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے جو معدد دے چند تھے وہ تو عذاب سے محفوظ رہے اور باقی قوم جو غرق معصیت تھی وہ سب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 118–119

ف 98:۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً کے بعد وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ محذوف ہے بقرینہ آیت سورة مائدہ رکوع 7 وَلَوْ شَاءَ اللہ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحَدَۃً وَّلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ الایۃ۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی دن (توحید) پر متفق کردیتا لیکن اس صورت میں ابتلاء و امتحان کی حکمت فوت ہوجاتی اور اس طرح سب کا ایمان جبری ہوتا حالانکہ جبری ایمان مطلوب نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کو واضح کرنے کے بعد سمجھ بوجھ کیساتھ دونوں مییں سے ایک کو قبول کرنے کا اختیار دیا۔ اسی اختیار پر جزا وسزا مبنی ہے۔ 99:۔ لوگوں کو چونکہ ایک دین کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا اس لیے وہ ہمیشہ آپس میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 116–119

ربط آیات حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک کے بعض انبیاء کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے ماننیوالوں کو تسلی بھی دی ہے۔ پہلے استقامت علی الدین کا مطالبہ کیا ، ظلم اور تعدی سے بچنے کا حک دیا اور تعلق باللہ کی استواری کی ترغیب دی۔ مصائب اور مشکلات کو برداشت کرنے اور صبر کا دامن تھامے رہنے کی تلقین کی۔ سابقہ امتوں کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے آخری امت کو بات سمجھائی ہے کہ ہمیشہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کاربند رہیں۔ دین اور ایمان کے مقتضیات کو قائم رکھیں۔ کفر ، شرک نافرمانی ، ظلم اور تعدی سے بچتے رہیں۔ فساد فی الارض…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ۝ 118 ۙ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 116–122

2 ؎ قرن زمانہ یعنی پہلی امتوں میں سے اچھے لوگ کم اٹھے اور پہلی امتوں میں سے وہی امتیں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 118–119

وَلَوْشَآئَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَلاَ یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ ۔ اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ ط وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ ط وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لاََ مْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 118، 119) (اور اگر تیرا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی امت بنا سکتا تھا اور اب تو وہ مختلف طریقوں پر چلتے رہیں گے، بجز ان کے جن پر تیرا رب رحم فرمائے اور اسی لیے ان کو اس نے پیدا کیا ہے اور تیرے رب کی بات پوری ہوئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ ) ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں قانونِ الٰہی ان دو آیتوں میں دفع دخل مقدر بھی ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 118–119

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کی ہدایت اور گمراہی کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا اصول اور اس کی مشیّت۔ اس سے پہلے آیت نمبر 115 میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر اپنے حبیب ﷺ کو صبر کی تلقین فرمائی کہ حوصلہ رکھیے اور صبر کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ یہاں دوسرے پیرائے میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کے رب کا اصول اور اس کی مشیت ہے کہ اس نے لوگوں کو جبراً ایک امت نہیں بنایا یعنی ہدایت پر اکٹھا نہیں کیا اسی اصول کے پیش نظر لوگ ہمیشہ سے حق والوں کے ساتھ اختلاف کرتے آئے ہیں اور تاقیام قیامت اختلاف کرتے رہیں گے سوائے اس فرد اور جماعت کے جس پر آپ کا رب رحم فرما…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

118: وَلَوْ شَآئَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک گروہ بنا دیتا) سب کو ایمان و طاعات پر اپنے اختیار سے متفق کردیتا۔ لیکن اس نے ایسا نہ چاہا۔ قول معتزلہ : اس مشیت سے زبردستی کی چاہت مراد ہے۔ اور اس سے ابتلاء کا کوئی معنی نہیں رہتا۔ پس یہ جائز نہیں۔ مگر : آیت تو بتلا رہی ہے کہ مشیت الگ چیز ہے اور حکم جدا چیز ہے۔ پس معتزلہ کی غلطی دونوں میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے ہے فافہم) وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ (وہ لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے) کفر و ایمان میں اختلاف کرتے رہیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ مختلف ہوں جب ان سے اختیار کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

118۔” ولو شاء ربک لجعل الناس “ اگر اللہ چاہتا سارے کے سارے لوگ ’ امۃ واحدۃ “ ایک دین پر ہوجاتے ۔ ” ولا یزالون مختلفین “ مختلف ادیان پر یہودی ، نصرانی ، مجوسی اور مشرک وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

118۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ میں یہ بھی قدرت ہے کہ سارے جہان کو ایک ہی دین پر رکھتا سب کے سب دیندار رہتے مگر خدا کی مرضی نہ ہوئی کیوں کہ دنیا کو اس نے نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے زبردستی دیندار بنانے کے لئے نہیں پیدا کیا اس لئے لوگ الگ الگ فرقے فرقے ہوگئے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ہمیشہ مختلف رہیں گے کوئی نصاریٰ کوئی یہود کوئی مجوس کوئی مشرک اسی طرح اپنی اپنی عقل کے موافق الگ الگ مذہب قائم کریں گے ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ میں ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہود اکہتر فرقے ہوگئے اور نصاریٰ بہتر فرقے ہوئے اور امت محمد یہ تہتر فرقے ہوں گے ان تہتر فرقوں میں سے بہتر فرقے دوزخ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تمام لوگوں کو دین اسلام پر مجتمع کر کے انہیں ایک امت بنا دیتا اس کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہ تھی اور کوئی چیز اس کی گرفت سے باہر نہیں۔ مگر اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اختلاف کرتے رہیں، صراط مستقیم کی مخالفت کریں اور جہنم کی طرف جانے والے راستوں پر رواں دواں رہیں اور ہر کوئی اپنی رائے کو حق اور دوسرے کے قول کو گمراہی سمجھے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

خدا چاہتا تو سب لوگ ایک ہی امت ہوتے قول باری ہے ولو شاء ربک لعجل الناس امۃ واحدۃ بیشک تیرا رب اگر چاہتاتو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا۔ قتادہ کے قول کے مطابق سب کو مسلمان بنا دیتا۔ وہ اس طرح کہ سب کو ایمان کی طرف چلنے پر مجبور کردیتا ۔ اس میں منع کا پہلو ہے یعنی اگر وہ لوگ اس کے خلاف چلنے کا ارادہ کرتے تو انہیں ایسا کرنے نہ دیا جاتا بلکہ انہیں ایمان کی خوبی اور اس کی منفعت کی وسعت کی طرف مجبورا ً جانا پڑتا۔ قول باری ہے ولا یزالون مختلفین مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے۔ مجاہد عطاء ، قتادہ اور اعمش کے قول کے مطابق مختلف ادیان پر چلتے رہیں گے۔ یعنی کوئی یہودی ہوگا تو کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 117–118

226 ۔ اصلاح احوال کی ضرورت و اہمیت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ناحق طور پر یونہی ہلاک کردے جبکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے میں لگے ہوں۔ سو اس سے اصلاح کی ضرورت و اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے۔ پس اپنی ذاتی اصلاح کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ ذکر صلاح کا نہیں اصلاح کا ہے۔ یعنی صرف یہی مطلوب نہیں کہ آدمی خود نیک بن کر رہے اور بس۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی مطلوب ہے کہ وہ دوسروں کو بھی صالح بنانے کی اور معاشرے کے بگاڑ کو سنوارنے کی فکر و کوشش کرے۔ ورنہ جب فساد و بگاڑ عام ہوجائے گا تو ظالموں اور مفسدوں ہی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سب ہی کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 116–123

نیک لوگ اور اللہ کی قدرت و حکمت تشریح : ان آیات کی تشریح تو خود ان کے آسان مضامین میں موجود ہے۔ بہرحال یہ نقشہ بڑا ہی ہولناک ہے جب میدان حشر میں ہر امیر، غریب، بچہ، بوڑھا، جوان، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی غرض ہر مذہب کا ہر فرد رب العلمین کی عدالت میں اپنا فیصلہ سننے کے لیے منتظر ہوگا۔ کوئی کسی کی ہرگز مدد نہیں کرسکے گا۔ صرف اپنا اعمال نامہ ہی کام آئے گا۔ اسی لیے موت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے سچ ہے زندہ رہنے کے لیے نام اور مرنے کے لیے مقام پیدا کرنا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جاننا چاہتے ہو کہ بھلائی کیا ہے ؟ تو اپنے دل سے پوچھو۔ بھلائی وہ ہے جو روح کے لیے باعث اطمینان ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 110–123

آیات 110 تا 123 اسراومعارف موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:118) ولا یزالون مختلفین۔ لیکن وہ اختلاف کرنے والے ہمیشہ ہی رہیں گے۔ (اس سے پہلے عبارت محذوف ہے۔ جو بدیں مطلب ہے۔ لیکن بعض حکمتوں کی وجہ سے اس نے ایسا نہ چاہا اب حقیقت یہ ہے کہ وہ لا یزالون مختلفین ۔۔ الخ ولذلک خلقہم اور اسی لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں ــ۔ ” اس جملہ کا تعلق آیت کے کس حصہ کے ساتھ ہے ؟ بعض نے یہ لکھا ہے کہ اس کا تعلق الا ما رحم ربک کے ساتھ ہے یعنی انسان کی آفرنیش کی غایت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہرہ ور ہوتا رہے اور ہمیشہ ہدایت کی راہ پر گامزن رہے۔ فقال ابن عباس و مجاھد وقتادۃ وضحاک ولرحمتہ خلقہم۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا تعلق اختلاف…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 118–123

لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 123 شآء (اس نے چاہا) لجعل (البتہ وہ بنا دیتا) امۃ واحدۃ (ایک جماعت) لا یزالون (ہمیشہ) رحم (رحم کیا) خلق (اس نے پیدا کیا) املئن (میں بھردوں گا) نقص (ہم بیان کرتے ہیں نثبت (ہم جما دیتے ہیں) فواد (دل) موعظۃ (نصیحت) ذکری (دھیان، توجہ دینے کی چیز) انتظروا (تم انتظار کرو) توکل علیہ (اس پر بھروسہ کیجیے) تشریح : آیت نمبر 118 تا 123 سورة ھود کی ان آخری آیات میں چند بہت ہی بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو درحقیقت اس سورت کا خلاصہ بھی ہیں۔ 1) پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت اور ایک ہی ملت بنا دیتی کبھی ان کے درمیان اختلاف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

دنیا امتحان کے لئے پیدا کی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میں یہ بھی قدرت ہے کہ سارے جہان کو ایک ہی دین پر رکھتا سب کے سب دین دار رہتے مگر خدا کی مرضی نہ ہوئی۔ کیونکہ دنیا کو اس نے نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے زبردستی دین دار بنانے کے لئے نہیں پیدا کیا۔ اس لئے لوگ الگ الگ فرقے فرقے ہوگئے۔ پھر فرمایا یہ لوگ ہمیشہ مختلف رہیں گے کوئی نصاریٰ ، کوئی یہود، کوئی مجوس، کوئی مشرک، اسی طرح اپنی اپنی عقل کے موافق الگ الگ مذہب قائم کریں گے مگر اللہ تعالیٰ جس پر رحم فرمائی گا اور راہ راست دکھائے گا وہ ملت حنفیہ یعنی دین اسلام اختیار کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 115–118

[60] صبر کرنے سے یہاں مراد کافروں اور منکروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 118–121

قانون اختلاف طبائع : (ف 1) یعنی اختلاف رائے ناگزیر ہے جب تک دل و دماغ دنیا میں رہیں گے ، اختلاف باقی رہے گا ، اللہ تعالیٰ کی مشیت تکوینی نے کچھ ایسا سامان پیدا کردیا ہے کہ اختلاف سے گھبرا نہ جائیں ، اور آپ کا جی تھوڑا نہ ہو ، بتایا یہ ہے کہ ایمان وکفر میں امتیاز قدرتی بات ہے ، آپ استقلال وہمت کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے رہیں ۔ آیت کا مقصد یہ نہیں کہ اللہ نے بعض لوگوں کو عمدا جہنم کے لئے پیدا کیا ہے ، بلکہ مدعا یہ ہے کہ اللہ کی مشیت تکوینی میں جیسے ہدایت کے لئے موافق بہم پہنچائے گئے ہیں ، اس طرح گمراہی کے لئے بھی آسانیاں موجود ہیں ۔ اور اس میں انسانوں اور جنوں میں کوئی تفریق نہیں ، دونوں میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

118 اور اگر آپ کے پروردگار کو منظور ہوتا تو وہ سب لوگوں کو ایک ہی طریق اور ایک ہی راستے پر کردیتا چونکہ حضرت حق کو منظور نہ ہوا اس لئے لوگوں نے مختلف طریقہ کار اختیار کرلیا اور آئندہ بھی یہ ہمیشہ آپس میں اختلاف کرتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 116–118

ف 2۔ وہ جیسے خود کفر و شرک سے تائب ہوگئے تھے اور ان کو بھی منع کرتے رہتے تھے اور ان ہی دونوں عمل کی برکت سے وہ عذاب سے بچ گئے تھے اور باقی لوگ چونکہ خود ہی کفر میں مبتلا تھے انہوں نے اوروں کو بھی منع نہ کیا۔ 3۔ خلاصہ مطلب یہ کہ نافرمانی تو ان میں عام طور پر رہی اور منع کرنے والا کوئی ہوا نہیں اس لیے سب ایک ہی عذاب میں مبتلا ہوئے ورنہ کفر کا عذاب عام ہوتا۔ اور فساد کا خاص اب بوجہ منع کرنے کے غیر مفسد بھی مفسد ہونے میں شریک قرار دیے گئے اس لیے جو عذاب مجموعہ کفر و فساد پر نازل ہوا وہ بھی عام رہا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک قوم بنا دیتا لیکن ان کی مشیت کا فیصلہ یہ ہوا کہ لوگ مختلف ہوں ۔ 147 انسان کی جو خلقت رکھی گئی ہے اس کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ اہل حق کے مقابلہ میں کچھ ضلال بھی برابر پیدا ہوتے رہیں اور جس طرح صفت رحم و کرم کے مظہر اہل حق و اہل جنت ہیں اسی طرح صفت غضب کے مورد اہل باطل و اہل جہنم ہوتے ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ اگر چاہتا تو طبیعت بشری ایسی بناتا کہ اس میں خلاف و نزاع کا مادہ ہی نہ ہوتا اور کسی ایک حالت معیشت پر مجبور کردیا جاتا لیکن اس کی حکمت کا فیصلہ یہی ہوا کہ انسان کو مجبور و مضطرنہ بنائے اور ہر راہ میں چلنے کی قدرت دے دے پس کتنے ہیں جو ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 118–123

Difference: Blameworthy and Praiseworthy When it was said in the fifth verse (118) - ` had your Lord willed, He would have made all the people a single community' - the sense is that had it been the will of Allah, He would have made all human beings accept Islam by force. All of them would have then become nothing but Muslims without any difference remaining between them. But, such are the dictates of His wisdom that, in this world, Allah Ta` ala does not compel anyone to do something. Instead, He has entrusted man with a kind of choice under which he could do whatever good or bad he wishes…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 117–118

115. These verses bring out, in a significantly instructive manner, the real factors which caused the destruction of those nations whose history has been narrated earlier (see verse 36 ff. above). Reviewing that history, the Qur'an points out the single common denominator of all those nations which met their doom in the past. All those nations had formerly been favoured with God's blessings. But drunk with affluence, they resorted to mischief on earth. Their collective conscience was also completely vitiated. The result was that no righteous person was left among them to prevent them from…

Read the full tafseer →