Hud 11:117

Hud · from ayah 117

11:117

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ ۟وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهۡلِكَ الۡقُرٰى بِظُلۡمٍ وَّاَهۡلُهَا مُصۡلِحُوۡنَ‏

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جب کہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہِ ظلم تباہ کردے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And your Lord would not have destroyed the cities unjustly while their people were reformers.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 10 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:117

تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جب کہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہِ ظلم تباہ کردے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ﻇلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیکو کار ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں پر ظلم کر کے انہیں تباہ کر دے جبکہ ان کے باشندے صحیح روشن پر چل رہے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو بے وجہ ہلاک کردے اور ان کے لوگ اچھے ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ وہ بستیوں کو ظلمًا ہلاک کر ڈالے درآنحالیکہ اس کے باشندے نیکوکار ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تیرا رب ایسا نہ تھا کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے، اس حال میں کہ اس کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کے پروردگار کے یہ شایان نہیں کہ وہ بستیوں کو ناحق تباہ کردے حالانکہ وہاں کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تیرا رب ایسا نہیں کہ وہ بستیوں کو ہلاک کردے کسی ظلم کی پاداش میں جب کہ ان کے باشندے اصلاح میں سرگرم ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہارا رب ہرگز ایسا نہیں کہ یونہی تباہ کر دے بستیوں کو ناحق طور پر، جب کہ ان کے باشندے اصلاح میں لگے ہوں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کا پروردگار ہرگز ایسا نہیں کہ بستیوں کو ہلاک کردے (ان کی) زیادتیوں کے باعث درآنحالیکہ ان کے رہنے والے اصلاح میں لگے ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے جبکہ ان میں بسنے والے لوگ اصلاح کرنے والے ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ کا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جبکہ وہاں کے لوگ نیکو کار ہوں ظلم سے تباہ کر دے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And your Lord is not such as would wrongfully destroy human habitations while their inhabitants are righteous.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Your Lord is not such that He would destroy the towns unjustly while their people are good in their ways.

— Muhammad Taqi Usmani

Your Lord is not such that He would destroy the towns unjustly while their people are good in their ways.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And your Lord would never destroy the towns wrongfully, while their people were doers of good.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

In truth thy Lord destroyed not the townships tyrannously while their folk were doing right.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And your Lord would not have destroyed the cities unjustly while their people were reformers.

— Saheeh International

Your Lord would not have destroyed those people (of the towns) for their injustice if they had tried to reform themselves.

— Muhammad Sarwar

And it did not beseem your Lord to have destroyed the towns tyrannously, while their people acted well.

— Muhammad Habib Shakir

And thy Lord is not one to destroy cities wrongously while the inhabitants thereof are rectifiers.

— Abdul Majid Daryabadi

Nor would thy Lord be the One to destroy communities for a single wrong-doing, if its members were likely to mend.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:117

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 116–117

نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ۔ یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گذشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں۔ یہی وہ ہیں جنہیں ہم اپنے عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت میں ایسی جماعت کی موجودگی کا قطعی اور فرضی حکم دیا۔ فرمایا (وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ01004) 3۔ آل عمران :104) بھلائی اور نیکی کی دعوت دینے والی ایک جماعت تم میں ہر وقت موجود رہنی چاہیے۔ الخ، ظالموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی بدعادتوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 117–118

سورة هُوْد 115 ان آیات میں نہایت سبق آموز طریقے سے ان قوموں کی تباہی کے اصل سبب پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کی تاریخ پچھلے چھ رکوعوں میں بیان ہوئی ہے۔ اس تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا جاتا ہے کہ صرف انہی قوموں کو نہیں، بلکہ پچھلی انسانی تاریخ میں جتنی قومیں بھی تباہ ہوئی ہیں ان سب کو جس چیز نے گرایا وہ یہ تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز کیا تو وہ خوشحالی کے نشے میں مست ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے لگیں اور ان کا اجتماعی خمیر اس درجہ بگڑ گیا کہ یا تو ان کے اندر ایسے نیک لوگ باقی رہے ہی نہیں جو ان کو برائیوں سے روکتے، یا اگر کچھ لوگ ایسے نکلے بھی تو وہ اتنے کم تھے اور ان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی آیت میں فرمایا کہ آپ کا رب شہروں اور بستیوں کو ظلم سے ہلاک نہیں کرتا جبکہ ان کے بسنے والے نیکوکار یعنی مسلمان ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے یہاں ظلم و جور کا کوئی امکان نہیں، جن کو ہلاک کیا جاتا ہے وہ اسی کے مستحق ہوتے ہیں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے اور مصلحون سے مراد وہ لوگ ہیں جو باوجود مشرک کافر ہونے کے معاملات اور اخلاق اچھے رکھتے ہیں، کسی کو نقصان و ایذاء نہیں پہنچاتے، جھوٹ نہیں بولتے، دھوکہ نہیں دیتے، اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ دنیا کا عذاب کسی قوم پر محض ان کے مشرک کافر ہونے کی وجہ سے نہیں آتا جب تک کہ وہ اعمال و اخلاق میں بھی ایسے کام نہ کرنے لگیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ۔ قوموں کی ہلاکت کے باب میں سنت الٰہی : اب یہ قوموں کی ہلاکت کے باب میں سنت الٰہی واضح فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ کسی قریہ کو ان کے کسی ظلم کی پاداش میں ہلاک کردے جب کہ اس کے باشندے بحیثیت مجموعی اصلاح کرنے والے ہوں۔ مطلب یہ کہ خدا کا عذاب کسی قوم پر اس وقت آتا ہے جب قوم کا مزاج بحیثیت مجموعی بگر جاتا ہے۔ اصلاح کرنے والے یا تو اس میں باقی رہ ہی نہیں جاتے یا رہتے ہیں تو خال خال نہایت قلیل تعداد میں۔ لفظ " قری " یہاں قوموں کے مفہوم میں ہے اور بظلم کی تنکیر سے مقصود اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 116–118

116۔ 1 یعنی گزشتہ امتوں میں ایسے نیک لوگ کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل منکر کو شر، منکرات اور فساد سے روکتے ؟ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی، لیکن بہت تھوڑے۔ جنہیں ہم نے اس وقت نجات دے دی، جب دوسروں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔ 116۔ 2 یعنی یہ ظالم۔ اپنے ظلم پر قائم اور اپنی مد ہوشیوں میں مست رہے حتٰی کہ عذاب نے انھیں آلیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 114–118

62: دن کے دونوں سروں سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں اور بعض مفسرین نے ان سے فجر اور مغرب کی نمازیں مراد لی ہیں، اور رات کے حصوں کی نماز سے مراد مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں ہیں۔ 63: برائیوں سے یہاں مراد صغیرہ گناہ ہیں، قرآن وسنت کے بہت سے دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان سے جو صغیرہ گناہ سرزد ہوتے ہیں ان کا کفارہ ان نیک کاموں سے ہوتا رہتا ہے جو انسان ان کے بعد کرتا ہے، چنانچہ وضو نماز اور دوسرے تمام کاموں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو مٹاتے رہتے ہیں، سورة نساء (4۔ 31) میں یہ مضمون گزرچکا ہے کہ : اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 116–117

یہ مختصر سا اشارہ اس پالیسی کو ظصاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کے بارے میں اختیار کی ہوئی ہے۔ جس قوم کے اندر بگاڑ اور فساد عام ہوجائے ، جس میں انسان انسان کا غلام ہو ، خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو ، لیکن اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں جو اصلاح احوال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ قوم بچنے والی قوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کو نیست و نابود نہیں فرماتا۔ لیکن ایسی اقوام جس میں ظالم ظلم کریں اور دندناتے پھریں ، فسادی فساد کرتے رہیں اور کوئی روکنے والا نہ ہو یا ان میں ایسے لوگ ہوں جو ظلم و فساد کو برا سمجھتے ہوں کے وہ صورت حالات کو بدلنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ تو ان قوموں کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جس بستی کے لوگ اپنی حالت درست کرنے کے کی طرف متوجہ ہوں، نیکی کو رواج دیں، ظلم و فساد کو روکیں تو خداوند قدوس کی یہ شان نہیں کہ خواہ مخواہ انھیں زبردستی پکڑ کر ہلاک کر دے۔ عذاب اسی وقت آتا ہے جب لوگ کفر و عصیان یا ظلم و طغیان میں حد سے نکل جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 117 وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ ایسا نہیں ہوتا کہ کسی علاقے کسی ملک یا شہر میں اچھے کردار کے حامل اپنی اور دوسروں کی اصلاح میں سرگرم لوگوں کی اکثریت ہو اور اللہ پھر بھی اس بستی پر عذاب بھیج دے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

130 اہل خیر کی موجودگی میں اللہ کا عذاب نہیں آتا :۔ یعنی ایسی صورت میں کبھی عذاب نہیں آتا کہ اس قوم میں اہل خیر موجود بھی ہوں اور وہ اصلاح کی کوششوں میں بھی لگے ہوں۔ خواہ وہ تھوڑے ہی ہوں ایسے لوگوں کی وجہ سے مجرم بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔ عذاب تو صرف اس وقت آتا ہے جب سرتاسر برائی پھیل جائے، کیونکہ اللہ کو خواہ مخواہ لوگوں کو عذاب دینے کا شوق نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

166۔ (بلکہ عذاب ہلاکت تو ان پر اس وقت واقع ہوتا ہے۔ جب نہ وہ خود فساد فی الارض سے رکتے ہیں نہ دوسروں کو روکتے ہیں) (آیت) ” مصلحون “۔ اصلاح سے یہاں مراد اپنی اور دوسروں دونوں کی اصلاح ہے۔ (آیت) ” بظلم “۔ ظلم سے یہاں مراد کفر لیا گیا ہے اور ظلم کا صیغہ نکرہ ظلم کی عظمت ظاہر کرنے کو ہے۔ والتنکیر للتفخیم (روح) لیکن بعض اکابر مفسرین نے آیت کے بالکل دوسرے ہی معنی قرار دیے ہیں وہ ظلم کر شرک کا مرادف قرار دے کر کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ کسی قوم کو محض اس کے شرک کی بنا پر ہلاک نہیں کردیتا اس حال میں کہ وہ قوم آپس کے معاملات (بندوں کے معاملات) ٹھیک رکھے ہوئے ہو۔ المراد من الظلم ھھنا الشرک والمعنی انہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 110–123

آیت نمبر 110 تا 123 ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کان ربک لیھلک القری بظلم واھلھا مصلحون اور آپ کا رب ہرگز ایسا نہیں کہ ظلم کے ساتھ بستیوں کو تباہ کر دے جبکہ بستیوں والے مسلم ہوں۔ لیہلک میں لام تاکید نفی کے لئے ہے اور ان مصدریہ محذوف ہے ‘ یعنی ظلم کے ساتھ بستیوں کو تباہ کردینا اللہ کی عادت نہیں ہے۔ اہلہا یعنی ان بستیوں کے باشندے۔ مصلحون سے مراد ہیں : مسلمان۔ مراد یہ ہے کہ اللہ ظالم نہیں۔ بعض کے نزدیک ظلم سے مراد ہے شرک ‘ یعنی بستی والوں کے شرک کی وجہ سے اللہ ان کو تباہ اور ہلاک نہیں کرتا بشرطیکہ ان کے آپس کے تعلقات میں بےانصافی نہ ہو اور وہ باہم حق تلفیاں نہ کرتے ہوں (حاصل مقصد یہ ہے کہ شرک سے تباہی نہیں آتی۔ بکثرت مشرک آباد اور دنیوی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(117) اور آپ کا پروردگار ایسا نہیں کہ بستی والوں کو ان کے کفر کی وجہ سے ہلاک کرڈالے جب کہ ان میں ایسے حضرات بھی ہوں جو کہ دوسروں کو نیکیوں کا حکم دے رہے ہوں اور برائیوں سے روک رہے ہوں۔ یا مطلب یہ ہے کہ آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستی والوں کو کفر کی وجہ سے جب کہ وہاں کے بعض لوگ اصلاح کی فکر میں ہوں اور اطاعت خداوندی پر قائم ہوں اور اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے ہوئے ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ۔۔ : یعنی اگر وہ لوگ مجرم ہونے کے بجائے مصلح ہوتے، پھر انھیں عذاب کے ساتھ ہلاک کیا جاتا تو یہ صاف ظلم تھا اور اللہ تعالیٰ کبھی ایسا ظلم نہیں کرتا کہ کسی بستی والے لوگ فساد نہ کریں بلکہ اصلاح کریں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیج دے، کیونکہ یہ ظلم ہوگا اور اللہ تعالیٰ کسی صورت بھی ظلم کرنے والا نہیں۔ بعض اہل علم نے ظلم سے مراد شرک لے کر یہ معنی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بستی کو صرف شرک کی وجہ سے ہلاک نہیں کرتا، جب کہ اس کے رہنے والے زمین میں فساد نہ کرتے ہوں، بلکہ آپس کے تعلقات میں اصلاح رکھتے ہوں۔ ہلاک…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 117–119

آیت نمبر 117 تا 119 قولہ تعالیٰ : وماکان ربک لیھلک القرٰی اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ برباد کردے بستیوں یعنی بستیوں والوں کو۔ القری سے مراد اھل القری ہے۔ بظلمٍ یعنی شرک اور کفر سے واھلھامصلحون یعنی ان کے درمیان حقوق کی باہم ادائیگی ہورہی ہو، یعنی ایسا نہیں کہ وہ انہیں صرف کفر کی وجہ سے ہلاک کرے یہاں تک کہ اس کے ساتھ ساتھ فساد بھی برپا ہوجائے، جس طرح مثلاً اس نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کو کم تولنے کی وجہ سے ہلاک کیا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لواطت کی وجہ سے ہلاک کیا، اور یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا میں شرک کی نسبت نافرمانی اور گناہ ہلاکت و بربادی کے عذاب تک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ الطبرانی وابو الشیخ وابن مردویہ والدیلمی رحمہم اللہ نے جریر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ سے اس آیت (آیت ) ’ ’ وما کان ربک لیھلک القری بظلم اھلھا مصلحون (117) “ کی تفسیر کے بارے میں پوچھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے رہنے والے ایک دوسرے سے انصاف کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا كَان : اور نہیں ہے ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ لِـيُهْلِكَ : کہ وہ ہلاک کرے ] [الْقُرٰي : بستیوں کو ] [بِظُلْمٍ : کسی ظلم سے ] [ وَّ : حالانکہ ] [اَهْلُهَا : اس کے لوگ ] [ مُصْلِحُوْنَ : اصلاح کرنے والے ہوں ] نوٹ۔ 4: آیات 116 ۔ 117 میں ان قوموں کی تباہی کے اصل سبب پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کی تاریخ گذشتہ چھ رکوعوں میں بیان ہوئی ہے۔ اس تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا جاتا ہے کہ صرف انھیں قوموں کو نہیں، بلکہ انسانی تاریخ میں جتنی قومیں بھی تباہ ہوئی ہیں، ان سب کو جس چیز نے گرایا وہ یہ تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نعمتوں سے سرفراز کیا تو وہ خوشحالی کے نشے میں مست ہو کر زمین میں فساد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَھْلُھَا مُصْلِحُوْنَ ) یعنی آپ کا رب ایسا نہیں ہے کہ لوگوں پر ظلم کرے وہ جو عذاب دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے اس کا سبب کفر اور شرک ہوتا ہے اور کبھی معاصی بھی ہوتے ہیں ان معاصی میں سے یہ بھی ہے کہ جو لوگ گناہوں میں مبتلا ہوں قدرت ہوتے ہوئے انہیں نہ روکا جائے جب لوگ اصلاح کے کام میں لگے ہوئے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نہیں آئے گا ورنہ عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ حضرت جریر بن عبد اللہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس کسی بھی قوم میں کوئی ایسا شخص ہو جو ان میں رہتے ہوئے گناہوں میں مبتلا ہو اور وہ قدرت ہوتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–119

امم سابقہ کی ہلاکت کے سبب قریب اور سبب بعید کا بیان قال اللہ تعالیٰ فلولا کان من القرون .... الیٰ .... من الجنۃ والناس اجمعین۔ (ربط) پچھلی امتوں کا حال سنا کر یہ بتلاتے ہیں کہ ان کی ہلاکت کے دو سبب ہیں ایک سبب قریب اور ایک سبب بعید اور بالفاظ دیگر ایک سبب ظاہری اور ایک سبب باطنی۔ سبب ظاہری تو یہ تھا کہ شہوات نفسانی اور حظوظ شہوانی کے پیرو بن گئے۔ اور خدا کی معصیت میں غرق ہوگئے اور علماء اور واعظین قلیل اور مغلوب تھے ان کا وعظ اور ان کی نصیحت کارگر نہ ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے جو معدد دے چند تھے وہ تو عذاب سے محفوظ رہے اور باقی قوم جو غرق معصیت تھی وہ سب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

97:۔ تخویف دنیوی ہے دنیا میں جن قوموں کو عذاب سے تباہ کیا گیا ہے ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کیا کہ لوگ تو دنیا میں نیک کام کر رہے ہوں اور اصلاح کے درپے ہوں اور پھر بھی ان کو ہلاک کردیا ہو بلکہ جب بھی ان پر عذاب آیا ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے آیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 116–119

ربط آیات حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک کے بعض انبیاء کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے ماننیوالوں کو تسلی بھی دی ہے۔ پہلے استقامت علی الدین کا مطالبہ کیا ، ظلم اور تعدی سے بچنے کا حک دیا اور تعلق باللہ کی استواری کی ترغیب دی۔ مصائب اور مشکلات کو برداشت کرنے اور صبر کا دامن تھامے رہنے کی تلقین کی۔ سابقہ امتوں کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے آخری امت کو بات سمجھائی ہے کہ ہمیشہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کاربند رہیں۔ دین اور ایمان کے مقتضیات کو قائم رکھیں۔ کفر ، شرک نافرمانی ، ظلم اور تعدی سے بچتے رہیں۔ فساد فی الارض…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُہْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَہْلُہَا مُصْلِحُوْنَ۝ 117 هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 116–122

2 ؎ قرن زمانہ یعنی پہلی امتوں میں سے اچھے لوگ کم اٹھے اور پہلی امتوں میں سے وہی امتیں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَھْلُھَا مُصْلِحُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 117) (اور تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق (ظلم سے) تباہ کردے حالانکہ اس میں بسنے والے نیکوکار ہوں یا اصلاح میں سرگرم ہوں) مفسرین کرام نے اس آیت کریمہ کے مختلف مفاہیم بیان کیے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی غلط نہیں۔ اس لیے ہم انھیں ایک ترتیب سے بیان کردیتے ہیں۔ ظلم کے مختلف مفاہیم 1 ظلم سے مراد انفرادی خرابیاں ہیں، مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی قوم انفرادی طور پر بگڑ جائے اور اس کے اعمال و اخلاق میں خرابیاں پیدا ہوجائیں، معاملات میں بگاڑ پیدا ہوجائے لیکن اجتماعی طور پر اس کے ادارے درست کام کررہے ہوں، منزل تبدیل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 116–117

فہم القرآن ربط کلام : پہلی اقوام کی تباہی کے دو بنیادی اسباب۔ اس سورة مبارکہ میں حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت لوط، حضرت صالح، حضرت شعیب، اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی اقوام کی تباہی اور اس کی وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے۔ آخر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں فرعون کا انجام بیان کرنے کے بعد سرور دوعالم کو مخاطب کرتے ہوئے آپ اور آپ کی امت کے مبلغین کو چند بنیادی ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ حق کے راستے میں آنے والی ذہنی جسمانی اور مالی مشکلات پر صبر کرتے رہیے۔ اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کسی نیکی کرنے والے کے اجرو ثواب کو ضائع نہیں کرتا۔ اس کے بعد پہلی اقوام کی تباہی کے دو بنیادی اسباب کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

117: وَمَاکَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُرٰی (اور آپ کا رب ہلاک کرنے والا نہیں اہل بستی کو) ۔ لِیُھْلِکَکی لام تاکید نفی کیلئے لائی گئی ہے۔ بِظُلْمٍ (ظلم کے سبب) یہ فاعل سے حال ہے یعنی یہ درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بستی کو ظلم کے طور پر ہلاک کردے۔ وَّ اَھْلُھَا مُصْلِحُوْنَ (جبکہ بستی والے اصلاح کرنے والے ہوں) اس میں اللہ تعالیٰ کا ظلم سے منزہ اور پاک ہونا ذکر کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ ظلم سے شرک مراد ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کسی بستی کو شرک کی وجہ سے ہلاک کرنے والے نہیں۔ جبکہ وہ لوگ اپنے باہمی معاملات میں درستگی کرنے والے ہوں۔ وہ اپنے شرک کے ساتھ کوئی دوسرا فساد نہ ملائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

117۔” وما کان ربک لبھلک القریٰ بظلمھم “ یعنی نہیں ہلاک کرے گا ان کے شرک کی وجہ سے۔ ” واھلھا مصلحون “ آپس میں کسی پر ظلم نہ کرتے ہوں انصاف کرتے ہوں اور ان کو اس وقت ہلاک کردیتا ہے جب وہ آپس میں ظلم کرنے لگیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 116–117

116۔ 117۔ مطلب یہ ہے کہ پچھلی قومیں جتنی گزری ہے اور جن کا قصہ تمہیں بتلایا گیا ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو سمجھ دار تھے اور انہوں نے رسول کی پیروی اختیار کی تھی دنیا میں ظلم اور فساد سے الگ الگ رہے تھے اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دے دی مگر یہ لوگ بہت کم تھے مفسروں نے فساد کے معنے شرک کے لکھے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے خالص خدا ہی کی عبادت کی بتوں سے کوئی غرض نہیں رکھی اور جو لوگ دنیا کے مال و دولت پر غرور کر کے شرک سے باز نہیں آئے اور انہوں نے دین حق کی پیروی نہیں کی وہی لوگ ہلاک ہوئے پھر فرمایا کہ خدا ناحق کسی پر ظلم نہیں کرتا اگر یہ لوگ ہر شخص کے حق کا خیال رکھتے اور ظلم پر کمر نہ باندھتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ظلم کے ساتھ بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا در آں حالیکہ وہ اصلاح کرنے والے ہوں، یعنی وہ درست روئیے پر قائم اور اس پر دوام کا التزام کرتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف اسی وقت ہلاک کرتا ہے جب وہ ظلم کا ارتکاب کریں اور ان کے خلاف حجت قائم ہوجائے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں کہ جب لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی تو تیرا رب ان بستیوں کو ان کے گزشتہ ظلم کی پاداش میں ہلاک نہیں کرے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کردے گا اور ان کے گزشتہ ظلم کو مٹا دے گا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

خدا ظلم نہیں کرتا قول باری ہے وما کان ربک لیھلک القری بظلم واھلحا مصلحون ۔ تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کسی چھوٹے ظلم پر جوان کی طرف سے سرزد ہوتا ہے انہیں ہلاک نہیں کرتا ۔ ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ انہیں کسی بڑے ظلم پر جو ان کے ایک چھوٹے سے طبقے کی طرف سے ہوتا ہے انہیں ہلاک نہیں کرتا ۔ جس طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے ان اللہ لایھلک العامۃ بذنوب الخاصۃ اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو ہلاک نہیں کرتا ۔ ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ ظالم بن کر انہیں ہلاک نہیں کرتا جس طرح یہ قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 117–118

226 ۔ اصلاح احوال کی ضرورت و اہمیت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ناحق طور پر یونہی ہلاک کردے جبکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے میں لگے ہوں۔ سو اس سے اصلاح کی ضرورت و اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے۔ پس اپنی ذاتی اصلاح کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ ذکر صلاح کا نہیں اصلاح کا ہے۔ یعنی صرف یہی مطلوب نہیں کہ آدمی خود نیک بن کر رہے اور بس۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی مطلوب ہے کہ وہ دوسروں کو بھی صالح بنانے کی اور معاشرے کے بگاڑ کو سنوارنے کی فکر و کوشش کرے۔ ورنہ جب فساد و بگاڑ عام ہوجائے گا تو ظالموں اور مفسدوں ہی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سب ہی کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 116–123

نیک لوگ اور اللہ کی قدرت و حکمت تشریح : ان آیات کی تشریح تو خود ان کے آسان مضامین میں موجود ہے۔ بہرحال یہ نقشہ بڑا ہی ہولناک ہے جب میدان حشر میں ہر امیر، غریب، بچہ، بوڑھا، جوان، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی غرض ہر مذہب کا ہر فرد رب العلمین کی عدالت میں اپنا فیصلہ سننے کے لیے منتظر ہوگا۔ کوئی کسی کی ہرگز مدد نہیں کرسکے گا۔ صرف اپنا اعمال نامہ ہی کام آئے گا۔ اسی لیے موت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے سچ ہے زندہ رہنے کے لیے نام اور مرنے کے لیے مقام پیدا کرنا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جاننا چاہتے ہو کہ بھلائی کیا ہے ؟ تو اپنے دل سے پوچھو۔ بھلائی وہ ہے جو روح کے لیے باعث اطمینان ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 110–123

آیات 110 تا 123 اسراومعارف موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

لیہلک۔ میں لام نفی کی تاکید کے لئے ہے۔ بظلم۔ اگر ظلم کو مفعول کا حال لیا جائے تو معنی ہوں گے آپ کا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ہلاک کر دے (محض) ان کی زیادتیوں (یا کفر و شرک) کے باعث درآں حالیکہ ان کے رہنے والے صلح و آشتی میں لگے ہوئے ہوں۔ اور اگر ظلم کو فاعل کا حال لیا جائے تو ترجمہ ہوگا۔ تیرا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ناحق ہلاک کر دے جب کہ ان کے رہنے والے اصلاح میں لگے ہوں۔ واہلہا۔ میں واؤ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 114–117

لغات القرآن آیت نمبر 114 تا 117 اقم (قائم کیجیے) طرفی (طرفین) دونوں طرف، دو کنارے النھار (دن) زلف (زلفۃ کی جمع) ، رات کا حصہ جو دن سے ملا ہوا ہو الیل (رات) الحسنت (الحسنۃ) نیکیاں یذھبن (جائیں گی (لے جائیں گی) السیئات (السئنۃ) برائیاں ذکری (دھیان) اصبر (صبر کیجیے) لایضیع (ضائع نہیں کرتا) اجر (بدلہ) المحسنین (نیکیاں کرنے والے) القرون (قومیں) اولوبقیۃ (صاحبان خیر، نیکیاں کرنے والے) اترفوا (مزہ پایا، فائدہ حصال کیا) مصلحون (اصلاح کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 114 تا 117 سورة ھود میں اللہ تعالیٰ نے سات انبیاء کرام کی دین کی سربلندی کے لئے ان کی جدوجہد اور ان سعادت مندوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 116–117

یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ تم سے پہلے جتنی قومیں گزری ہیں ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو سمجھدار تھے اور انہوں نے رسول کی پیروی اختیار کی تھی۔ دنیا میں ظلم و فساد سے الگ الگ رہے تھے اور ہم نے ان لوگوں کو بجات دے دی مگر ایسے لوگ بہت کم تھے اور جو لوگ دنیا کے مال و دولت پر غرور کرکے شرک سے باز نہیں آئے اور انہوں نے دین حق کی پیروی نہیں کی وہی لوگ ہلاک ہوئے۔ پھر فرمایا کہ خدا ناحق کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ لوگ ہر شخص کا خیال رکھتے اور ظلم پر کمر نہ باندھتے شرک نہ کرتے تو کبھی ہلاک نہ ہوتے، یہی خود انہیں کے ظلم کا نتییجہ تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 115–118

[60] صبر کرنے سے یہاں مراد کافروں اور منکروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 114–117

(ف 2) طرفی النھار “۔ سے غرض صبح اور شام کے اوقات ہیں بات یہ تھی کہ مجوسی عین طلوع و غروب کے وقت سورج کو قبلہ مان کر عبادت کرتے اس آیت میں نماز کے اوقات ایسے بتائے ہیں کہ سورج پرستی کے لئے کوئی موقع ہی نہ رہے ، اسلام اس لحاظ سے نہایت مکمل مذہب ہے کہ اس میں ہر ممکن احتیاط موجود ہے ، سارے نظام مذہبی میں کہیں شائبہ شرک نہیں ۔ حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں ، طرفین سے فجر وعصر مراد ہے حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک صبح ومغر ہے ، علامہ ابن جریر (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ کے مسلک کی تائید فرمائی ہے ۔ علامہ رازی (رح) نے حضرت حسن ؓ کے قول کو ترجیح دی ہے کیونکہ (آیت) ” زلفا من اللیل “۔ میں مغرب و عشاء دونوں داخل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

117 اور آپ کے پروردگار کی یہ شان نہیں کہ وہ ان بستیوں کو جن کے رہنے والے نیک ہوں اور اصلاح کرنے والے ہوں ناحق تباہ و برباد کردے یعنی خود بھی نیک ہوں اور دوسروں کی بھی اصلاح کرتے ہو بلاوجہ زبردستی ہلاک کردے یہ اسوقت ہوتا ہے جب لوگ نصیحت ترک کردیں اور اپنی اصلاح کے درپے نہ ہوں بروں کا زور ہوجائے تو ہلاک کردئیے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 116–118

ف 2۔ وہ جیسے خود کفر و شرک سے تائب ہوگئے تھے اور ان کو بھی منع کرتے رہتے تھے اور ان ہی دونوں عمل کی برکت سے وہ عذاب سے بچ گئے تھے اور باقی لوگ چونکہ خود ہی کفر میں مبتلا تھے انہوں نے اوروں کو بھی منع نہ کیا۔ 3۔ خلاصہ مطلب یہ کہ نافرمانی تو ان میں عام طور پر رہی اور منع کرنے والا کوئی ہوا نہیں اس لیے سب ایک ہی عذاب میں مبتلا ہوئے ورنہ کفر کا عذاب عام ہوتا۔ اور فساد کا خاص اب بوجہ منع کرنے کے غیر مفسد بھی مفسد ہونے میں شریک قرار دیے گئے اس لیے جو عذاب مجموعہ کفر و فساد پر نازل ہوا وہ بھی عام رہا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمہارا پروردگار کبھی بھی کسی بستی کو ناحق ہلاک نہیں کرتا ۔ 146 فرمایا ایسا کبھی نہیں ہوا کہ تمہارے رب نے کبھی کسی بستی کو ناحق ظلماً ہلاک کیا ہو ، نہ ایسا ہوا اور نہ ہی کبھی ہوگا کہ آپ کا رب شہروں اور بستیوں کو ظلم سے ہلاک کرے جب کہ ان کے بسنے والے نیکو کار ہوں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ظلم و جور کا کوئی امکان نہیں جن کو ہلاک کیا گیا یا آئندہ ہلاک کیا جائے گا وہ اس ہلاکت کے مستحق ہوتے ہیں اور اگر ظلم سے مراد شرک ہو تو آپ اس کو اس طرح بھی بیان کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محض شرک و کفر کے باعث کبھی کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا جب کہ وہ لوگ معاملات و اخلاق اچھے رکھتے ہوں ، کسی کو نقصان و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

It was said in the fourth verse (117) that Allah does not destroy towns and habitations unjustly while people living there are good in their ways, that is, they are believing Muslims. The sense is that the probability of injustice and oppression does not exist with Allah Ta` ala. Those destroyed deserve being destroyed. Some early commentators have said that the word: ظُلُم ` zulm' (injustice) in this verse means shirk (ascribing of partners in the pristine divinity of Allah) and مُصلِحُون ` muslihun' (people good in their ways) refers to people who, de-spite being Mushriks and Kafirs, are…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 117–118

115. These verses bring out, in a significantly instructive manner, the real factors which caused the destruction of those nations whose history has been narrated earlier (see verse 36 ff. above). Reviewing that history, the Qur'an points out the single common denominator of all those nations which met their doom in the past. All those nations had formerly been favoured with God's blessings. But drunk with affluence, they resorted to mischief on earth. Their collective conscience was also completely vitiated. The result was that no righteous person was left among them to prevent them from…

Read the full tafseer →