Explained with ayahs 116–117
نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ۔ یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گذشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں۔ یہی وہ ہیں جنہیں ہم اپنے عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت میں ایسی جماعت کی موجودگی کا قطعی اور فرضی حکم دیا۔ فرمایا (وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ01004) 3۔ آل عمران :104) بھلائی اور نیکی کی دعوت دینے والی ایک جماعت تم میں ہر وقت موجود رہنی چاہیے۔ الخ، ظالموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی بدعادتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
سورة هُوْد 113
دن کے دونوں سروں پر سے مراد صبح اور مغرب ہے، اور کچھ رات گزرنے پر سے مراد عشاء کا وقت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ارشاد اس زمانے کا ہے جب نماز کے لیے ابھی پانچ وقت مقرر نہیں کیے گئے تھے۔ معراج کا واقعہ اس کے بعد پیش آیا جس میں پنج وقتہ نماز فرض ہوئی۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو بنی اسرائیل حاشیہ 95، طہ حاشیہ 111، الروم، حاشیہ 124)۔
سورة هُوْد 114
یعنی جو برائیاں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور جو برائیاں تمہارے ساتھ اس دعوت حق کی دشمنی میں کی جارہی ہیں، ان سب کو دفع کرنے کا اصلی طریقہ یہ ہے کہ تم خود زیادہ سے زیادہ نیک بنو اور اپنی نیکی سے اس بدی کو شکست دو ، اور تم کو نیک بنانے کا…
Read the full tafseer →تیسری اور چوتھی آیتوں میں پچھلی اقوام پر عذاب الہٰی نازل ہونے کی وجہ اور لوگوں کو اس سے بچنے کی ہدایت اس طرح دی گئی ہے کہ فرمایا
ان پچھلی قوموں میں افسوس ہے کہ ایسا نہ ہوا کہ ان میں کچھ بھی سمجھ دار نیک لوگ ہوتے جو اپنی قوم کو فساد کرنے سے بازر کھتے، بجز تھوڑے سے لوگوں کے جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کا اتباع کیا، اور وہی عذاب سے محفوظ رہے، اور باقی پوری قوم دنیا کی لذتوں میں پھنس کر جرائم پیشہ بن گئی۔
اس آیت میں اہل الرائے اور سمجھ دار لوگوں کو لفظ اولُوْا بَقِيَّةٍ سے تعبیر کیا ہے، بقیہ کا لفظ باقی ماندہ چیز کیلئے بولا جاتا ہے، اور انسان کی عادت یہ ہے کہ جو چیز سب سے زیادہ عزیز و محبوب…
Read the full tafseer →فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّةٍ يَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا مِنْهُمْ ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِيْهِ وَكَانُوْا مُجْرِمِيْنَ۔
اولوا بقیۃ کا مفہوم : یعنی اخیار و صالحین اور حاملینِ حق عربی میں جب کہیں کہ فلان بقیۃ قومہ، تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ اپنی قوم کے اخیار و صالحین میں سے ہے۔
ما اترفوا فیہ۔ اترفہ المال، کے معنی ہوں گے کہ مال و اسباب نے اس کو طغیان و فساد میں مبتلا کردیا۔ یعنی اسباب عیش و تنعم کی فراوانی نے ان کو جس سرمستی میں مبتلا کردیا تھا اسی میں پڑے رہے۔
قریش کو تنبیہ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
116۔ 1 یعنی گزشتہ امتوں میں ایسے نیک لوگ کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل منکر کو شر، منکرات اور فساد سے روکتے ؟ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی، لیکن بہت تھوڑے۔ جنہیں ہم نے اس وقت نجات دے دی، جب دوسروں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔
116۔ 2 یعنی یہ ظالم۔ اپنے ظلم پر قائم اور اپنی مد ہوشیوں میں مست رہے حتٰی کہ عذاب نے انھیں آلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
62: دن کے دونوں سروں سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں اور بعض مفسرین نے ان سے فجر اور مغرب کی نمازیں مراد لی ہیں، اور رات کے حصوں کی نماز سے مراد مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں ہیں۔
63: برائیوں سے یہاں مراد صغیرہ گناہ ہیں، قرآن وسنت کے بہت سے دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان سے جو صغیرہ گناہ سرزد ہوتے ہیں ان کا کفارہ ان نیک کاموں سے ہوتا رہتا ہے جو انسان ان کے بعد کرتا ہے، چنانچہ وضو نماز اور دوسرے تمام کاموں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو مٹاتے رہتے ہیں، سورة نساء (4۔ 31) میں یہ مضمون گزرچکا ہے کہ : اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
یہ مختصر سا اشارہ اس پالیسی کو ظصاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کے بارے میں اختیار کی ہوئی ہے۔ جس قوم کے اندر بگاڑ اور فساد عام ہوجائے ، جس میں انسان انسان کا غلام ہو ، خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو ، لیکن اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں جو اصلاح احوال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ قوم بچنے والی قوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کو نیست و نابود نہیں فرماتا۔ لیکن ایسی اقوام جس میں ظالم ظلم کریں اور دندناتے پھریں ، فسادی فساد کرتے رہیں اور کوئی روکنے والا نہ ہو یا ان میں ایسے لوگ ہوں جو ظلم و فساد کو برا سمجھتے ہوں کے وہ صورت حالات کو بدلنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ تو ان قوموں کے بارے…
Read the full tafseer →8 یہ پچھلوں کا حال سنا کر امت محمدیہ کو ابھارا گیا ہے کہ ان میں " امربالمعروف " اور " نہی عن المنکر " کرنے والے بکثرت موجود رہنے چاہیں۔ گزشتہ قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ عام طور پر لوگ عیش و عشرت کے نشہ میں چور ہو کر جرائم کا ارتکاب کرتے رہے اور بڑے با اثر آدمی جن میں کوئی اثر خیر کا باقی نہیں تھا انہوں نے منع کرنے چھوڑ دیا، اس طرح کفر و عصیان اور ظلم و طغیان سے دنیا کی جو حالت بگڑ رہی تھی اس کا سنوارنے والا کوئی نہ رہا۔ چند گنتی کے آدمیوں نے " امر بالمعروف " کی کچھ آواز بلند کی مگر نقار خانہ میں طوطی کی صدا کون سنتا تھا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ منع کرنے والے عذاب سے محفوظ رہے باقی سب قوم تباہ…
Read the full tafseer →اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْہُمْ
یہ بات قرآن میں بار بار دہرائی گئی ہے کہ حق کے علمبردار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حق ادا کرنے والے لوگ جہاں بھی ہوں جس قوم سے بھی ہوں اللہ تعالیٰ ہمیشہ انہیں اپنی رحمت خاص سے بچا لیتا ہے۔
Read the full tafseer →129 عذاب کے متعلق اللہ کا قانون :۔ ان دو آیات میں قوموں کے عروج وزوال یا کسی قوم پر اللہ تعالیٰ کی گرفت کا ضابطہ بیان فرمایا گیا ہے، ہوتا یہ ہے کہ جب کبھی کوئی نبی مبعوث ہوتا اور لوگوں کو ایمان لانے اور بھلے کاموں کی دعوت دیتا ہے تو معرکہ حق و باطل شروع ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں اللہ مجرموں کو ہلاک کردیتا ہے اور اہل ایمان کو بچا لیتا ہے۔ پھر ان بچے ہوئے اہل ایمان کی اولاد میں پھر سے برائی جنم لینے لگتی ہے اگر اس برائی کا پوری قوت سے سرتوڑ دیا جائے تو معاشرہ عذاب سے بچا رہتا ہے لیکن اگر غفلت کی جائے تو برائی عام ہوجاتی ہے اور اہل اصلاح و خیر تھوڑے ہی لوگ رہ جاتے ہیں۔ پھر اگر یہ اہل خیر نہی عن…
Read the full tafseer →164۔ یعنی اگلی امتوں میں اگر ایسے لوگ کثرت سے ہوتے جو دوسروں کو فساد فی الارض سے یا قانون الہی کی نافرمانیوں سے روکتے ٹوکتے رہتے تو ان قوموں پر عذاب ہی کیوں آتا وہ تو صرف معدودے چند لوگ تھے، جنہوں نے اپنا یہ فرض ادا کیا اور وہ عذاب کی گرفت سے محفوظ رکھے گئے۔ معناہ ولکن قلیلا ممن انجینا من القرون نھوا عن الفساد وسائر ھم تار کون للنھی (کشاف) (آیت) ” اولوا بقیۃ “ کے معنی اصحاب خیر اور اصحاب فضل کے بھی کئے گئے ہیں اور اصحاب فہم کے بھی، ای او لوافضل وخیر (کشاف) ای ذو وخصلۃ باقیۃ من الرأی والعقل (روح) الفساد فی الارض۔ قرآن مجید کی انہی قدیم قوموں اور امتوں میں سے۔ (آیت) ” ممن انجینا منھم “۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیت نمبر 110 تا 123
ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…
Read the full tafseer →فلو لا کان من القرون من قبلکم اولوا بقیۃ ینھون عن الفساد فی الارض جو امتیں تم سے پہلے ہو گذری ہیں ‘ ان میں ایسے سمجھ دار لوگ نہ ہوئے جو دوسروں کو ملک میں بگاڑ پیدا کرنے (یعنی شرک و کفر) سے منع کرتے۔ بقیۃ (وہ شے جس کو باقی رکھا جائے یا وہ شے جو باقی رہے) سے مراد ہے عقل و خرد اور فضیلت۔ جو چیزیں آدمی باقی رکھتا ہے یا جو باقی رہنا چاہئے ان میں عقل و دانش ہی اس سے اعلیٰ چیز ہے (جسمانی طاقت و صحت اور مال وغیرہ کا درجہ دانش و عقل سے کم ہے) اگر کسی میں کوئی اچھی بات اور بھلائی ہو تو اس کو ذوبقیۃ کہا جاتا ہے اور اگر کوئی برگزیدہ اور اعلیٰ طبقے میں سے ہو تو کہا جاتا ہے : ھُوَ مِنْ بقیۃ القوم۔ ایک اور…
Read the full tafseer →(116) اور گزشتہ قوموں میں ایسے مومن حضرات نہ ہوئے جو لوگوں کو کفر و شرک بتوں کی پوجا اور دیگر تمام گناہوں سے روکتے ماسوا ان چند مومنوں کے جن کو ہم نے ان میں سے بچا لیا اور مشرکین دنیاوی مال کے جس ناز و نعمت میں تھے اسی میں مشغول ہورہے ہیں اور یہ شرک کے عادی ہیں۔
Read the full tafseer →فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ۔۔ : ”لَوْ لَا“ کے دو معانی ہیں، پہلا یہ کہ ”اگر یہ نہ ہوتا“ مثلاً ”لَوْ لَا عَلِیٌّ لَھَلَکَ عُمَرُ“ ”اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتے۔“ دوسرا معنی ”ھَلاَّ“ یعنی ”ایسا کیوں نہ ہوا“ یہ ترغیب کے لیے ہوتا ہے، یعنی ایسا ہونا چاہیے تھا، یہاں یہی معنی مراد ہے۔ ”قَرْنٌ“ ایک نسل کے لوگ۔ یہ لفظ عموماً ایک صدی پر بولا جاتا ہے۔ ”اُولُوْا بَقِيَّةٍ“ اچھی عادات و خصائل اور عقل والے لوگ۔ اصل میں ”بَقِيَّةٍ“ ان نفیس اور منتخب چیزوں کو کہا جاتا ہے جنھیں انسان اپنے فائدے کے لیے بچا بچا کر باقی رکھتا ہے، جیسے کہتے ہیں : ”بَقِیَّۃُ السَّلَفِ“ یعنی پہلے لوگوں میں سے بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
آیت نمبر 115 تا 116
قولہ تعالیٰ : اصبر یعنی نماز پر صبر کیجئے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وامراھلک بالصلوٰۃ واصطبرعلیھا (طہٰ :132) اور اپنے
گھر والوں کو نماز کا حکم دیں اور اس پر صبر کریں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اے محمد ! آپ کو جو تکلیف اور اذیت ملے اس پر صبر کیجئے۔ فان اللہ لایضیع اجر المحسنین، محسنین سے مراد نماز قائم کرنے والے ہیں۔
قولہ تعالیٰ : فلولاکان، لولابمعنی ھلا ہے۔ من القرون من قبلکم، قرون سے مراد امتیں اور قومیں ہیں یعنی ان امتوں میں سے جو تم سے پہلے تھیں۔ اولوابقیۃٍ یعنی اطاعت، دین، عقل اور بصیرت والے لوگ۔ ینھون اپنی قوموں کو روکتے۔ عن الفسادفی الارض یعنی اس…
Read the full tafseer →گناہوں سے روکنے کی کوشش کرنا :
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو یہ آیت پڑھائی (آیت ) ” فلولا کان من القرون من قبلکم اولو ابقیۃ ینھون عن الفساد فی الارض “
2:۔ ابن ابی مالک (رح) نے ابومالک ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلولا “ سے مراد ہے ” فھلا “ یعنی کیوں نہیں۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد کو روکتے مگر تھوڑے (ایسے لوگ تھے)
4:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا قلیلا ممن انجینا منہم “ یعنی اللہ تعالیٰ ان…
Read the full tafseer →[فَلَوْلَا : تو کیوں نہ ہوا کہ ] [كَان : ہوتے ] [ مِنَ الْقُرُوْنِ : امتوں میں سے ] [مِنْ قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے ] [اُولُوْا بَقِيَّةٍ : ایسے باقی رہنے والے (یعنی اہل خرد) جو ] [ يَّنْهَوْنَ : منع کرتے ] [عَنِ الْفَسَادِ : نظم بگاڑنے سے ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [اِلَّا قَلِيْلًا : سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ] [ مِّمَنْ : ان میں سے جن کو ] [انجَيْنَا : ہم نے نجات دی ] [ مِنْهُمْ : ان (قوموں) میں سے ] [وَاتَّبَعَ : اور پیچھے لگے ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ مَآ : اس کے ] [ اُتْرِفُوْا : ان کو خوشحالی دی گئی ] [ فِيْهِ : جس میں ] [ وَكَانوْا : اور وہ تھے ] […
Read the full tafseer →گزشتہ امتیں جو ہلاک ہوئیں ان میں اہل بصیرت نہ تھے جو زمین میں فساد کرنے سے روکتے
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ جو گزشتہ امتیں گزری ہیں ان میں ایسے سمجھدار بصیرت والے کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد کرنے سے روکتے ‘ ہاں ان میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو فساد سے روکنے کے کام میں لگے انہیں ہم نے نجات دے دی یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ لَوْ لَا اپنے اصلی معنی میں ہو اور بعض حضرات نے فرمایا کہ لو لا نفی کے معنی میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں ایسے اہل رائے اور اہل فہم نہ تھے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے ان میں صرف تھوڑے سے لوگ تھے جنہوں نے یہ کام کیا ادھر تو نہی عن المنکر کرنے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
امم سابقہ کی ہلاکت کے سبب قریب اور سبب بعید کا بیان
قال اللہ تعالیٰ فلولا کان من القرون .... الیٰ .... من الجنۃ والناس اجمعین۔
(ربط) پچھلی امتوں کا حال سنا کر یہ بتلاتے ہیں کہ ان کی ہلاکت کے دو سبب ہیں ایک سبب قریب اور ایک سبب بعید اور بالفاظ دیگر ایک سبب ظاہری اور ایک سبب باطنی۔ سبب ظاہری تو یہ تھا کہ شہوات نفسانی اور حظوظ شہوانی کے پیرو بن گئے۔ اور خدا کی معصیت میں غرق ہوگئے اور علماء اور واعظین قلیل اور مغلوب تھے ان کا وعظ اور ان کی نصیحت کارگر نہ ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے جو معدد دے چند تھے وہ تو عذاب سے محفوظ رہے اور باقی قوم جو غرق معصیت تھی وہ سب…
Read the full tafseer →95:۔ لَولَا بمعنی ھلا برائے تحضیض ہے یعنی تم سے پہلے قرون میں جو لوتگ عقل و رائے والے اور دین کے راہنما تھے انہوں نے دوسرے لوگوں کو شرک و کفر سے کیوں نہ روکا جو زمین میں اصل شر و فساد کی جڑ ہے۔ بقیۃ ای اصحاب طاعۃ ودین وعقل وبصر (قرطبی ج 9 ص 113) ۔ اِلّا قَلِیْلاً استثناء منقطع ہے یعنی البتہ بہت تھوڑے لوگ ایسے ضرور تھے جن کو ہم نے عذاب سے بچا لیا جبکہ باقی سرکش قوم کو ہلاک کردیا۔
96:۔ مشرکین دنیوی مال ومتاع میں مصروف اور نفسانی لذات وشہوات میں منہمک تھے اس لیے انہوں نے ان معدودے چند مصلحین کی ایک نہ سنی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
ربط آیات
حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک کے بعض انبیاء کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے ماننیوالوں کو تسلی بھی دی ہے۔ پہلے استقامت علی الدین کا مطالبہ کیا ، ظلم اور تعدی سے بچنے کا حک دیا اور تعلق باللہ کی استواری کی ترغیب دی۔ مصائب اور مشکلات کو برداشت کرنے اور صبر کا دامن تھامے رہنے کی تلقین کی۔ سابقہ امتوں کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے آخری امت کو بات سمجھائی ہے کہ ہمیشہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کاربند رہیں۔ دین اور ایمان کے مقتضیات کو قائم رکھیں۔ کفر ، شرک نافرمانی ، ظلم اور تعدی سے بچتے رہیں۔
فساد فی الارض…
Read the full tafseer →فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّۃٍ يَّنْہَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا مِنْہُمْ 0 ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِيْہِ وَكَانُوْا مُجْرِمِيْنَ 116
«لَوْلَا»
يجيء علی وجهين :
أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] .
والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن .
( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
2 ؎ قرن زمانہ یعنی پہلی امتوں میں سے اچھے لوگ کم اٹھے اور پہلی امتوں میں سے وہی امتیں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَلَوْلاَ کَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ اُوْلُوْا بَقِیَّۃٍ یَّنْھَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْھُمْ ج وَاتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِیْہِ وَکَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ۔
(سورۃ ہود : 116)
(پس کیوں نہ ہوئے تم سے پہلے کی امتوں میں ایسے اہل خیر جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے ؟ مگر تھوڑے ان میں سے جن کو ہم نے ان میں سے نجات بخشی، اور جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا وہ اسی عیش میں پڑے رہے جس میں تھے اور وہ مجرم بن کر رہے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح
تشریح سے پہلے مشکل الفاظ کا مفہوم : اُوْلُوْا بَقِیَّۃٍاس کا لفظی معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی اقوام کی تباہی کے دو بنیادی اسباب۔
اس سورة مبارکہ میں حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت لوط، حضرت صالح، حضرت شعیب، اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی اقوام کی تباہی اور اس کی وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے۔ آخر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں فرعون کا انجام بیان کرنے کے بعد سرور دوعالم کو مخاطب کرتے ہوئے آپ اور آپ کی امت کے مبلغین کو چند بنیادی ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ حق کے راستے میں آنے والی ذہنی جسمانی اور مالی مشکلات پر صبر کرتے رہیے۔ اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کسی نیکی کرنے والے کے اجرو ثواب کو ضائع نہیں کرتا۔ اس کے بعد پہلی اقوام کی تباہی کے دو بنیادی اسباب کی…
Read the full tafseer →اصلاح والے لوگ ضروری ہیں تاکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا ہو
6 1 1: فَلَوْلَاکَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ (کیوں نہ ہوئے ان امتوں میں جو تم سے پہلے گزریں) لولا۔ ھَلاَّ کان کے معنی میں ہے۔ یہ تحضیض کیلئے ہے اور فعل کو خاص کردیتا ہے۔ اُولُوْا بَقِیَّۃٍ (سمجھ دار) فضیلت والے اور بھلائی والے۔ آیت میں فضل وجودت کو بقیہ کے لفظ سے ذکر کیا۔ جیسے کہا جاتا ہے۔ فلان من بقیۃ القوم کہ فلاں قوم کے افضل لوگوں میں سے ہے۔ اور عرب کا قول اسی کے متعلق ہے۔ فی الزوایا خبایا۔ و فی الرجال بقایا۔ کونوں میں چھپی چیزیں اور آدمیوں میں اعلیٰ آدمی ہوتے ہیں۔
یَّنْہَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ…
Read the full tafseer →تفسیر : 116” فلو لا “ پس کیوں نہیں ” کان من القرون “ جن کو ہم نے ہلاک کردیا ۔” من قبلکم “ آیت تو بیخ کے لیے ہے۔ ” اولوا بقیۃ “ یعنی تمیز والے لوگ ، اور بعض نے کہا طاعت والے اور بعض نے کہا ہے خیر والے۔ کہاجاتا ہے ” فلان ذو بقیۃ “ جب اس میں کوئی خیر ہو۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ تم میں سے پہلی امتوں میں کیوں نہیں تھے۔ وہ لوگ جن میں خیر ہے کہ وہ فساد فی الارض سے روکتے ؟ اور بعض نے کہا ہے ” اولوا بقیۃ من خیر “ کہاجاتا ہے ” فلان علی بقیۃ من الخیر “ جب وہ اچھی خصلت و عادت پر ہو ۔ ’ ’ ینھون عن الفساد فی الارض “ یعنی فساد سے روکنے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ’ ’ الا قلیلا ً “ یہ استثناء منقطع ہے معنی یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
116۔ 117۔ مطلب یہ ہے کہ پچھلی قومیں جتنی گزری ہے اور جن کا قصہ تمہیں بتلایا گیا ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو سمجھ دار تھے اور انہوں نے رسول کی پیروی اختیار کی تھی دنیا میں ظلم اور فساد سے الگ الگ رہے تھے اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دے دی مگر یہ لوگ بہت کم تھے مفسروں نے فساد کے معنے شرک کے لکھے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے خالص خدا ہی کی عبادت کی بتوں سے کوئی غرض نہیں رکھی اور جو لوگ دنیا کے مال و دولت پر غرور کر کے شرک سے باز نہیں آئے اور انہوں نے دین حق کی پیروی نہیں کی وہی لوگ ہلاک ہوئے پھر فرمایا کہ خدا ناحق کسی پر ظلم نہیں کرتا اگر یہ لوگ ہر شخص کے حق کا خیال رکھتے اور ظلم پر کمر نہ باندھتے…
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا، نیز یہ کہ ان میں سے اکثر وہ لوگ تھے جنہوں نے کتب سماویہ کے ماننے والوں سے انحراف کیا، حتی کہ ان لوگوں نے بھی جو کتب الٰہیہ کو ماننے والے تھے اور یہ چیز اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ گزشتہ ادیان انعدام و اضمحلال کا شکار ہوگئے تو اب ذکر فرمایا کہ گزشتہ قوموں میں ایسے اصحاب خیر کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے رہتے، فساد اور ہلاکت سے روکتے رہتے، تو ان سے کچھ فائدہ حاصل ہوتا جب تک ان کے ادیان باقی رہتے۔ مگر ایسے لوگ بہت ہی قلیل تھے۔ اس سارے معاملے کی غرض وغایت یہ ہے کہ گزشتہ امتوں کے جو تھوڑے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
ظالم کے ساتھ الفت کی ممانعت
قول باری ہے ولا ترکنوا الی اذین ظلموا افتمسکم النار۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جائو گے ۔ کسی چیز کی طرف رکون یعنی جھکنے کے معنی یہ ہیں اس کے ساتھ لگائو اور محبت کی بنا پر جھکنے والے کو اس پر قرار آجائے۔ یہ بات ظالموں کی ہم نشینی ان سے الفت اور ان کی باتوں پر کان دھرنے کی ممانعت کی مقتضی ہے ، اس کی نظیر یہ قول باری ہے فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین یاد آ جانے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔
Read the full tafseer →223 ۔ فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت و عظمت : سو ارشاد فرمایا گیا اور تحریک تحضیض کے لیے حرف تحضیض کے ساتھ فرمایا گیا کہ پھر کیوں نہ ہوئے ان لوگوں کے اندر نیک اور اہل خیر لوگ جو لوگوں کو روکتے زمین میں فساد پھیلانے سے۔ یعنی ان کے اندر ایسے لوگ ہونے چاہیے تھے تاکہ یہ قومیں بچ جاتیں اس ہولناک انجام سے جس سے دوچار ہو کر وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ اور ایسی مٹیں کہ قصہ پارینہ بن کر رہ گئیں۔ سو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ایک ایسا عظیم الشان فریضہ ہے جو قوموں اور ملکوں کو ہلاکت اور تباہی سے بچاتا اور محفوظ رکھتا ہے۔ ورنہ جب قومیں اجتماعی طور پر برائیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–123
نیک لوگ اور اللہ کی قدرت و حکمت
تشریح : ان آیات کی تشریح تو خود ان کے آسان مضامین میں موجود ہے۔ بہرحال یہ نقشہ بڑا ہی ہولناک ہے جب میدان حشر میں ہر امیر، غریب، بچہ، بوڑھا، جوان، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی غرض ہر مذہب کا ہر فرد رب العلمین کی عدالت میں اپنا فیصلہ سننے کے لیے منتظر ہوگا۔ کوئی کسی کی ہرگز مدد نہیں کرسکے گا۔ صرف اپنا اعمال نامہ ہی کام آئے گا۔ اسی لیے موت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے سچ ہے زندہ رہنے کے لیے نام اور مرنے کے لیے مقام پیدا کرنا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
” جاننا چاہتے ہو کہ بھلائی کیا ہے ؟ تو اپنے دل سے پوچھو۔ بھلائی وہ ہے جو روح کے لیے باعث اطمینان ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیات 110 تا 123
اسراومعارف
موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
ف 1 ۔ یعنی یہ مکتلف ادیان، مذاہب اور طریقوں پر چلتے رہینگے۔
Read the full tafseer →(11:116) فلولا۔ لولا کا استعمال دو طرح پر ہے۔ ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا۔ اس کی خبر ہمیشہ محذوف ہوتی ہے۔ اور لولا کا جواب قائمقام خبر کے ہوتا ہے جیسے لولا انتم لکنا مؤمنین (34:31) اگر تم نے ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے ۔ دوم : یہ اکثر ہلا کے معنی میں آتا ہے اور اس کے بعد متصلاً فعل کا آنا ضروری ہے مثلاً لولا ارسلت الینا رسولا (20:134) تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا ۔ نیز آیۃ ہذا میں فلولا کان من القرون من قبلکم۔ تو کیوں نہ ہوئے تمہارے سے قبل کی امتوں میں سے (ایسے زیرک۔ سمجھ دار لوگ)
اولوا بقیۃ۔ اولوا (والے) جمع ہے اس کا واحد نہیں آتا۔ بحالت رفع اولوا اور بحالت نصب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
لغات القرآن آیت نمبر 114 تا 117
اقم (قائم کیجیے) طرفی (طرفین) دونوں طرف، دو کنارے النھار (دن) زلف (زلفۃ کی جمع) ، رات کا حصہ جو دن سے ملا ہوا ہو الیل (رات) الحسنت (الحسنۃ) نیکیاں یذھبن (جائیں گی (لے جائیں گی) السیئات (السئنۃ) برائیاں ذکری (دھیان) اصبر (صبر کیجیے) لایضیع (ضائع نہیں کرتا) اجر (بدلہ) المحسنین (نیکیاں کرنے والے) القرون (قومیں) اولوبقیۃ (صاحبان خیر، نیکیاں کرنے والے) اترفوا (مزہ پایا، فائدہ حصال کیا) مصلحون (اصلاح کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 114 تا 117
سورة ھود میں اللہ تعالیٰ نے سات انبیاء کرام کی دین کی سربلندی کے لئے ان کی جدوجہد اور ان سعادت مندوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ تم سے پہلے جتنی قومیں گزری ہیں ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو سمجھدار تھے اور انہوں نے رسول کی پیروی اختیار کی تھی۔ دنیا میں ظلم و فساد سے الگ الگ رہے تھے اور ہم نے ان لوگوں کو بجات دے دی مگر ایسے لوگ بہت کم تھے اور جو لوگ دنیا کے مال و دولت پر غرور کرکے شرک سے باز نہیں آئے اور انہوں نے دین حق کی پیروی نہیں کی وہی لوگ ہلاک ہوئے۔ پھر فرمایا کہ خدا ناحق کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ لوگ ہر شخص کا خیال رکھتے اور ظلم پر کمر نہ باندھتے شرک نہ کرتے تو کبھی ہلاک نہ ہوتے، یہی خود انہیں کے ظلم کا نتییجہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
[60] صبر کرنے سے یہاں مراد کافروں اور منکروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
(ف 2) طرفی النھار “۔ سے غرض صبح اور شام کے اوقات ہیں بات یہ تھی کہ مجوسی عین طلوع و غروب کے وقت سورج کو قبلہ مان کر عبادت کرتے اس آیت میں نماز کے اوقات ایسے بتائے ہیں کہ سورج پرستی کے لئے کوئی موقع ہی نہ رہے ، اسلام اس لحاظ سے نہایت مکمل مذہب ہے کہ اس میں ہر ممکن احتیاط موجود ہے ، سارے نظام مذہبی میں کہیں شائبہ شرک نہیں ۔
حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں ، طرفین سے فجر وعصر مراد ہے حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک صبح ومغر ہے ، علامہ ابن جریر (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ کے مسلک کی تائید فرمائی ہے ۔
علامہ رازی (رح) نے حضرت حسن ؓ کے قول کو ترجیح دی ہے کیونکہ (آیت) ” زلفا من اللیل “۔ میں مغرب و عشاء دونوں داخل…
Read the full tafseer →116 سو جو امتیں تم سے پہلے ہلاک ہوچکی ہیں ان میں ایسے اہل خیر اور سمجھ دار لوگ کیوں نہیں ہوئے جو لوگوں کو ملک میں فساد پھیلانے سے منع کرتے مگر بہت تھوڑے آدمی ایسے تھے جو فساد سے روکتے تھے ان کو ہم نے ان میں سے بچا لیا اور وہ اس عذاب سے جن میں مفسدین مبتلا ہوئے بچ گئے اور جو لوگ ظالم و نافرمان تھے وہ اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جس عیش و آسودگی میں وہ تھے اور جس ناز نعمت میں وہ رہتے تھے اسی ناز ونعمت کے پیچھے پڑے رہے اور وہ جرائم کے عادی ہوچکے تھے۔
یعنی الم سابقہ کی ہلاکت کے جو قصے مذکور ہوئے ان کے ہلاک ہونے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان میں ایسے سمجھ دار لوگ نہ ہوئے جو لوگوں کو کفر وشرک سے باز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
ف 2۔ وہ جیسے خود کفر و شرک سے تائب ہوگئے تھے اور ان کو بھی منع کرتے رہتے تھے اور ان ہی دونوں عمل کی برکت سے وہ عذاب سے بچ گئے تھے اور باقی لوگ چونکہ خود ہی کفر میں مبتلا تھے انہوں نے اوروں کو بھی منع نہ کیا۔
3۔ خلاصہ مطلب یہ کہ نافرمانی تو ان میں عام طور پر رہی اور منع کرنے والا کوئی ہوا نہیں اس لیے سب ایک ہی عذاب میں مبتلا ہوئے ورنہ کفر کا عذاب عام ہوتا۔ اور فساد کا خاص اب بوجہ منع کرنے کے غیر مفسد بھی مفسد ہونے میں شریک قرار دیے گئے اس لیے جو عذاب مجموعہ کفر و فساد پر نازل ہوا وہ بھی عام رہا۔
Read the full tafseer →گزشتہ امتوں میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جو برائیوں سے رکتے اور لوگوں کو روکتے
۔ 143 پیچھے کتنی قوموں کا ذکر کیا جا چا ہے ایک قوم کو صفحہ ستی سے مٹایا گیا اور اس کی جگہ دوسری قوم کو آباد کردیا اور یہ سلسلہ بدستور جانے اور آنے کا چلتا رہا ، کیوں ؟ اس لئے کہ جو قوم آباد کی ان کو صحیح راستہ دکھانے کے لئے نبی و رسول بھی انہی لوگوں میں سے پیدا کئے لیکن قوم کے لوگوں نے اس نبی و رسول کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہ سلسلہ جب تک اللہ نے چاہا چلتا رہا آخر کار وہ وقت آیا کہ اس قوم کے بد کرداروں اور بد اخلاقوں کو باوجود ان کی طاقت و قوت کے اللہ کے عذاب نے آگھیرا اور اس وقت تک نہ چھوڑا…
Read the full tafseer →Given in the third and the fourth verse (116, 117) is the reason why Divine punishment came upon past peoples as well as the instruction as to how they could have stayed safe from it. It was said: How sad that among them there could have been at least some good and wise people who would have stopped their erring fellowmen from spreading disorder. The exception was that of a counted few who followed the noble prophets and they were the ones who stayed safe from the punishment. As for the rest of them, they went for the luxuries of the material world and turned into compulsive sinners.
In this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
113. The 'two ends of the day' refer to the morning and the sunset. Similarly, the 'first hours of the night' refer to the time of the 'Isha' Prayer. We thus learn that this Qur'anic verse dates back to the time when the five daily Prayers had as yet not been prescribed. The Prophet's ascension took place at a later time than the revelation of these verses and it is then that the five daily Prayers were prescribed. (For further explanation see alIsra 17, n. 95; Ta Ha 20: 111; and al-Rum 30: 124.)
114. The Qur'an informs the believers of the best way to drive away the evils which are rampant…
Read the full tafseer →