Hud 11:115

Hud · from ayah 115

11:115

وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ۟وَاصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ

اور صبر کیے رہو کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And be patient, for indeed, Allah does not allow to be lost the reward of those who do good.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 10 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:115

اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور صبر کیے رہو کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ صبر کرتے رہئے یقیناً اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور صبر سے کام لو، اس لیے کہ اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور صبر کرو کہ اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ صبر کریں بیشک اﷲ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں فرماتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور صبر کر کہ بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور صبر کیجئے اللہ تعالیٰ یقینا نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ثابت قدم رہو، اللہ خوب کاروں کا اجر ضائع نہیں کرے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پر آپ صبر ہی سے کام لیتے رہو، بیشک اللہ کبھی ضائع نہیں کرتا اجر نیکوکاروں کا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور صبر کرتے رہئے بیشک اللہ نیک کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور صبر کیجیے یقیناً اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور صبر کیے رہو کہ اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And be patient; for indeed Allah never lets the reward of those who do good go to waste.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And be patient, for Allah does not let the reward of the righteous go to waste.

— Muhammad Taqi Usmani

And be patient, for Allah does not let the reward of the righteous go to waste.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And be patient; verily, Allah wastes not the reward of the doers of good.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And have patience, (O Muhammad), for lo! Allah loseth not the wages of the good.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And be patient, for indeed, Allah does not allow to be lost the reward of those who do good.

— Saheeh International

Exercise patience; God does not ignore the reward of those who do good.

— Muhammad Sarwar

And be patient, for surely Allah does not waste the reward of the good-doers.

— Muhammad Habib Shakir

And be patient thou; verily Allah wasteth not the hire of the welldoers.

— Abdul Majid Daryabadi

And be steadfast in patience; for verily Allah will not suffer the reward of the righteous to perish.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:115

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 114–115

اوقات نماز کی نشاندہی ابن عباس وغیرہ کہتے ہیں دن کے دونوں سرے سے مراد صبح کی اور مغرب کی نماز ہے۔ قتادہ ضحاک وغیرہ کا قول ہے کہ پہلے سرے سے مراد صبح کی نماز اور دوسرے سے مراد ظہر اور عصر کی نماز رات کی گھڑیوں سے مراد عشاء کی نماز بقول مجاہد وغیرہ مغرب و عشاء کی۔ نیکیوں کو کرنا گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ سنن میں ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جس مسلمان سے کئی گناہ ہوجائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ لے، تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عثمان ؓ نے وضو کیا پھر فرمایا اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا ہے اور آپ نے فرمایا ہے جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 114–116

سورة هُوْد 113 دن کے دونوں سروں پر سے مراد صبح اور مغرب ہے، اور کچھ رات گزرنے پر سے مراد عشاء کا وقت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ارشاد اس زمانے کا ہے جب نماز کے لیے ابھی پانچ وقت مقرر نہیں کیے گئے تھے۔ معراج کا واقعہ اس کے بعد پیش آیا جس میں پنج وقتہ نماز فرض ہوئی۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو بنی اسرائیل حاشیہ 95، طہ حاشیہ 111، الروم، حاشیہ 124)۔ سورة هُوْد 114 یعنی جو برائیاں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور جو برائیاں تمہارے ساتھ اس دعوت حق کی دشمنی میں کی جارہی ہیں، ان سب کو دفع کرنے کا اصلی طریقہ یہ ہے کہ تم خود زیادہ سے زیادہ نیک بنو اور اپنی نیکی سے اس بدی کو شکست دو ، اور تم کو نیک بنانے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ ، یعنی آپ صبر و ثابت قدمی کے ساتھ رہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نیک عمل کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔ صبر کے لفظی معنی باندھنے کے ہیں اسی لئے اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کیلئے بھی صبر بولا جاتا ہے جس کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ نیک کاموں کے کرنے پر اپنے نفس کو ثابت قدم رکھے اور یہ بھی کہ برے کاموں میں مبتلا ہونے سے اس کو روکے، اس جگہ رسول کریم ﷺ کو صبر کا حکم دینے سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ جو احکام آیات مذکورہ میں آپ کو دیئے گئے ہیں مثلاً استقامت، اقامت صلوة وغیرہ ان پر آپ مضبوطی سے قائم رہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 114–115

114۔ 115:۔ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ۭ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ ۭ ذٰلِكَ ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْن۔ وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۔ نماز ذریعہ استقامت ہے : یہ اس صبر و استقامت کے حصول کی تدبیر بیان ہوئی ہے جس کی اوپر والی آیات میں ہدایت فرمائی گئی ہے۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ واضح کی گئی ہے کہ خدا کی راہ میں شیطان اور ان کے اعوان کی طرف سے جو مزاحمتیں پیش آتی ہیں ان کے مقابلہ کے لیے روحانی طاقت نماز ہی سے ہوتی ہے۔ یہی چیز بندے کو خدا سے جوڑتی ہے اور جب بندہ اپنے رب سے جڑ جاتا ہے تو اس پر انوار و برکات رحمانی کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 114–115

114۔ 1 دونوں سروں سے مراد بعض نے صبح اور مغرب، اور بعض نے عشاء اور مغرب دونوں کا وقت مراد لیا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ آیت معراج سے قبل نازل ہوئی ہو، جس میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔ کیونکہ اس سے قبل صرف دو ہی نمازیں ضروری تھیں، ایک طلوع شمس سے قبل اور ایک غروب سے قبل اور رات کے پچھلے پہر میں نماز تہجد۔ پھر نماز تہجد امت سے معاف کردی گئی، پھر اس کا وجوب بقول بعض آپ سے بھی ساقط کردیا گیا۔ (ابن کثیر) واللہ اعلم۔ 114۔ 2 جس طرح کہ احادیث میں بھی اسے صراحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 114–118

62: دن کے دونوں سروں سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں اور بعض مفسرین نے ان سے فجر اور مغرب کی نمازیں مراد لی ہیں، اور رات کے حصوں کی نماز سے مراد مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں ہیں۔ 63: برائیوں سے یہاں مراد صغیرہ گناہ ہیں، قرآن وسنت کے بہت سے دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان سے جو صغیرہ گناہ سرزد ہوتے ہیں ان کا کفارہ ان نیک کاموں سے ہوتا رہتا ہے جو انسان ان کے بعد کرتا ہے، چنانچہ وضو نماز اور دوسرے تمام کاموں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو مٹاتے رہتے ہیں، سورة نساء (4۔ 31) میں یہ مضمون گزرچکا ہے کہ : اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (11 : 115) “ اور صبر کر ، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ ” اللہ کی راہ میں استقامت احسان ہے اور وقت پر نماز ادا کرنا بھی احسان ہے ، جھٹلانے والوں کی طرف سے جھٹلانے پر صبر کرنا بھی احسان ہے اللہ محسنین کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ اقوام وملل کی ہلاکت اور بستیوں کی بربادی پر جو تبصرہ کیا گیا اس کی تکمیل کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ان بستیوں میں اہل خیر موجود ہوتے اور وہ نہی عن المنکر اور زمین سے فتنہ و فساد کے دور کرنے کی سعی جاری رکھتے اور زمین سے ظلم مٹانے کی سعی کرتے اور دست درازی کرنے والوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 قرآن کریم میں غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ کی امداد و اعانت حاصل کرنے میں دو چیزوں کو خاص دخل ہے۔ صلوٰۃ اور صبر (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :153) یہاں بھی " صلوٰۃ کے بعد " صبر " کا حکم فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ مومن خدا کی عبادت و فرمانبرداری میں ثابت قدم رہے اور کسی دکھ درد کی پروا نہ کرے، تب خدا کی مدد و نصرت حاصل ہوتی ہے اس کے یہاں کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں ہوتا، بلکہ اندازہ سے زائد ملتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 114–115

آیت 114 وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ دن کے دونوں سروں پر فجر اور عصر کے اوقات ہیں جبکہ رات میں مغرب اور عشاء شامل ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ پانچ نمازوں کا موجودہ نظام گیارہ نبوی میں معراج کے بعد قائم ہوا ہے۔ اس سے پہلے مکی دور میں تقریباً ساڑھے دس برس تک نمازوں کے بارے میں جو احکام نازل ہوئے وہ اسی نوعیت کے ہیں۔ یہاں ایک نکتہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیں کہ حضور سے اس انداز میں صیغۂ واحد میں جو خطاب کیا جاتا ہے وہ دراصل آپ کی وساطت سے امت کو حکم دینا مقصود ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

128 اس سے پہلی آیت میں نماز کی تاکید اور اس کے فوائد بیان کیے گئے تھے اور اس آیت میں صبر کی تلقین کی جارہی ہے اور یہی دو چیزیں ہیں جن کے متعلق مسلمانوں کو آڑے اور مشکل وقت میں اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا : آیت (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ 45؀ۙ ) 2 ۔ البقرة :45)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

163۔ (سو آپ ﷺ کے اجر کا درجہ تو بہت بڑا ہے وہ کیسے ضائع ہوسکتا ہے) (آیت) ” واصبر “۔ صبر کرنے سے یہاں مراد کافروں اور منکروں کی اذیت رسانیوں پر صبر کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 110–123

آیت نمبر 110 تا 123 ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واصبر اور (اے محمد ﷺ ! ) آپ (طاعت پر) قائم رہیں ‘ یا (جو دکھ آپ کو پہنچتا ہے اس پر) آپ صبر کریں۔ بعض نے کہا : نماز پر پابند رہیں۔ جیسا دوسری آیت میں آیا ہے : وَأْمُرْ اَھْلَکَ بالصَّلٰوۃٍ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا۔ فان اللہ لا یصیع اجر المحسنین بلاشبہ نیکی کرنے والوں کا ثواب اللہ ضائع نہیں کرے گا۔ ضمیر (یعنی اجرھُمْ ) کی جگہ اسم ظاہر (یعنی الْمُحْسِنِیْنَ ) سے کلام حامل دلیل ہوگیا کہ چونکہ وہ نیکوکار ہیں ‘ اس لئے اللہ ان کے ثواب کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس آیت میں اشارہ ہے اس امر کی جانب کہ صلوٰۃ اور صبر ہم زاد ہیں اور اخلاص نیت نہ ہو تو دونوں ناقابل اعتبار ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(115) اے محمد ﷺ آپ اوامر خداوندی پر مستقیم رہیے اور ان کی تکالیف پر صبر کیجیے، اللہ تعالیٰ ایسے مومن برگزیدہ بندوں کے اجر کو ضائع نہیں فرماتا جو قول وفعل ہر ایک طریقہ سے نیک ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ۔۔ : نماز کے ساتھ دوسری چیز جو استقامت علی الحق میں اور ظلم کی طرف میلان سے روکنے میں بیحد مددگار ہے وہ صبر ہے، فرمایا : (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ) [ البقرۃ : 45 ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ مفردات راغب میں ہے : ”صبر کا معنی کسی کو تنگی میں روک کر رکھنا ہے، کہا جاتا ہے : ”صَبَرْتُ الدَّابَّۃَ“ ”میں نے جانور کو چارے کے بغیرباندھ رکھا“ اور ”صَبَرْتُ فُلاَنًا“ ”میں نے اس کا ایسا پیچھا کیا جس سے وہ کسی طرح نکل نہ سکے۔“ صبر نفس کو اس چیز پر روک کر اور باندھ کر رکھتا ہے جس کا تقاضا عقل اور شرع کرتی ہیں، یا اس چیز سے باندھ کر اور روک…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 115–116

آیت نمبر 115 تا 116 قولہ تعالیٰ : اصبر یعنی نماز پر صبر کیجئے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وامراھلک بالصلوٰۃ واصطبرعلیھا (طہٰ :132) اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیں اور اس پر صبر کریں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اے محمد ! آپ کو جو تکلیف اور اذیت ملے اس پر صبر کیجئے۔ فان اللہ لایضیع اجر المحسنین، محسنین سے مراد نماز قائم کرنے والے ہیں۔ قولہ تعالیٰ : فلولاکان، لولابمعنی ھلا ہے۔ من القرون من قبلکم، قرون سے مراد امتیں اور قومیں ہیں یعنی ان امتوں میں سے جو تم سے پہلے تھیں۔ اولوابقیۃٍ یعنی اطاعت، دین، عقل اور بصیرت والے لوگ۔ ینھون اپنی قوموں کو روکتے۔ عن الفسادفی الارض یعنی اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 114–115

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واقم الصلوۃ طرفی النھار “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مغرب اور صبح کی نماز مراد ہے (اور) (آیت) ” وزلفا من الیل “ سے عشاء کی نماز مراد ہے۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واقم الصلوۃ طرفی النھار “ سے فجر اور عصر کی نماز مراد ہے (آیت) ” وزلفا من الیل “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں رات کے حصے ہیں مغرب اور عشاء کی نمازیں اور رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا کہ یہ دونوں رات کے دو حصوں میں ہیں۔ پانچوں نمازوں کا حکم قرآن میں ہے : 3:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاصْبِرْ : اور آپ ؐ ثابت قدم رہیں ] [ فَان اللّٰهَ : تو یقینا اللہ ] [لَا يُضِيْعُ : ضائع نہیں کرتا ] [ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ : خوبصورتی سے کام کرنے والوں کے اجر کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا (وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ) کہ آپ صبر کیجئے جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے اسے انجام دیتے رہئے آپ کی دعوت کوئی قبول کرے یا نہ کرے آپ تو برابر اجر کے مستحق ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ محسنین کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 110–115

تحذیر از اختلاف وافتراق وحکم استقامت براحکام شریعت قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ .... الیٰ .... فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی مگر لوگوں نے اس میں اختلاف کیا کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا اور مورد عتاب الٰہی بنے۔ لہٰذا اے مسلمانو ! تم کو چاہئے کہ ان سے عبرت پکڑو اور جو کتاب مبین ہم نے تم کو دی ہے سب مل کر اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور تفرق اور اختلاف سے پرہیز رکھو اور جادہ شریعت پر ایسے مستقیم ہوجاؤ کہ پائے استقامت میں تزلزل نہ آنے پائے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 114–115

94:۔ یہ امر چہارم ہے یعنی نماز پنجگانہ کی پابندی کرنا امام مجاہد فرماتے ہیں۔ طَرَفَیِ النَّھَارِ سے صبح، ظہر اور عصر کی نمازیں مراد ہیں اور زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ سے مغرب اور عشاء کی (مظہری و روح) ۔ اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَات۔ الحسنات اعمال حسنہ نمازیں وغیرہ گناہوں کا کفارہ ہیں جیسا کہ صحیح حدیثوں میں وارد ہے کہ ایک نماز سے دوسری نماز تک کے درمیان جو صغیرہ گناہ سرزد ہوتے ہیں وہ نماز سے معاف ہوجاتے ہیں۔ فی الحدیث ان الصلوات تکفر ما بینھا ای فی یومھا اذا اجتنبت الکبائر فی ذلک الیوم (روح ج 12 ص 157) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں سیئات سے سختیاں اور مصیبتیں مراد ہیں اس طرح سیئات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 113–115

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پر توحید کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر عقائد یعنی رسالت ، قیامت ، جزائے عمل اور قرآن کی صداقت و حقانیت کا ذکر ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک متعدد انبیاء اور ان کی قوموں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ جسم میں دعوت الٰہی التوحید کی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کی زبا ن سے کہلوایا ہے۔ ” الاتعبدوآ الا اللہ “ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو ، اپنے گناہوں کو بخشوائو اور خدا تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو۔ یہی بات دوسرے انبیاء نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللہَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 115 صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 114–115

ششم۔ واقم الصلوٰۃ سے لے کر لایضیع اجرالمحسنین تک آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کو نماز کی تاکید فرماتا ہے جو واستقم کما امرت کا ایک فرد کامل ہے۔ اس آیت میں نماز قائم کرنے کا تین وقتوں میں حکم دیتا ہے۔ اول و دوم طرفی النہار دن کے دونوں سروں پر یعنی شروع دن میں اور اخیر دن میں عرب کی رائے پر دن کا شروع صبح صادق سے لیا جاتا ہے اور دن ڈھلنے سے آخر دن شمار کرتے ہیں جس طرح ہماری زبان میں پچھلا پہر کہتے ہیں۔ پس اول دن میں نماز قائم کرنے سے مراد صبح کی نماز ہے اور آخر دن سے ظہر کی اور عصر کی۔ امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں کہ صبح کی نماز اندھیرے میں نہ پڑھے بلکہ جب خوب روشنی ہوجاوے آفتاب نکلنے سے پیشتر اور اسی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 114–115

وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ط اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ط ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ ۔ وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَالْمُحْسِنِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 114، 115) (اور نماز قائم کیجیے دن کے دونوں سروں پر۔ اور کچھ رات کے حصوں میں۔ بیشک نیکیاں بُرائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے اور صبر کیجیے۔ بیشک اللہ تعالیٰ خوبکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ ) نماز سے استقامت پر مدد لیجئے گزشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن دنوں میں یہ آیات نازل ہورہی تھیں وہ دن وہ تھے جبکہ اذیت رسانی کی چکی پوری شدت سے گھوم رہی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مبلّغ کو ساتویں ہدایت۔ صبر کا جامع معنی ہے کہ ایک مسلمان ہر حال میں شریعت کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرتا رہے اور ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کے حضور صبر و شکر کا مظاہرہ کرے۔ لیکن سیاق وسباق کے حوالے سے یہاں صبر کا معنی یہ ہے کہ ایک داعی اور مسلمان پریشانیوں اور مشکلات کے مقابلے میں اپنا حوصلہ قائم رکھے۔ ایسے صابر شخص کو تسلی دینے کے ساتھ خوشخبری سنائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا اجر کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ صبر بےبسی اور بےکسی کا نام نہیں۔ صبر قوت برداشت ‘ قوت مدافعت کو بحال رکھنے اور طبیعت کو شریعت کا پابند بنانے کا نام ہے۔ دشمن کے مقابلے میں جرأت ‘ بہادری اور مستقل مزاجی کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

115: وَاصْبِرْ (اور جمے رہو) اسکو پورا کرنے میں جس کا آپ کو حکم دیا گیا اور اس سے رکے رہو جس کی ممانعت کی گئی ہے۔ جو چیز ان میں سے اسی وقت کامل ہوگی جب صبر ہوگا۔ فَاِنَّ اللّٰہَ لَایُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ (پس اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے) جس نے ان تمام او امرونواہی کو جو فاستقم سے واصبر تک بیان فرمائے گئے جمع کردیا وہ محسن ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

115۔” واصبر “ اے محمد ﷺ ! اس پر جو تکلیف آپ (علیہ السلام) کو پہنچے اور بعض نے کہا ہے کہ نماز پر صبر کریں ۔ جیسے دوسری جگہ فرمایا۔” وامر اھلک بالصلونۃ واصطبر علیھا “۔ ” فان اللہ لا یضیع لجر المحسنین “ نیک اعمال کرنے والوں کے ثواب کو ضائع نہیں کرتا ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی نماز پڑھنے والوں کے ثواب کو ضائع نہیں کرتی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

115۔ اس سے پہلے کی آیت میں اللہ پاک کا یہ حکم ہوا تھا کہ دین پر قائم رہو اور دن کے شروع ہوتے اور ختم ہوتے اور کچھ رات گئے نماز پڑھا کرو جس کی تفصیل اچھی طرح سے کی جا چکی ہے اس کے بعد اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اب ان سب باتوں پر صبر کرو خدا نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ہے۔ شریعت میں جن باتوں کی مناہی ہے ان سے بچنے کے لئے جی کو روکنا اور مناہی کی پابندی پر صبر کرنا درکار ہے اسی طرح شریعت میں جن باتوں کے بجا لانے کا حکم ہے اس کی حکم کی تعمیل میں کوئی تکلیف پیش آوے تو اس تکلیف پر صبر ضرور ہے اس مناسبت سے شریعت پر قائم رہنے کے حکم کے بعد صبر کا حکم فرمایا احسان کے معنے حسن نیت سے نیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

وَاصْبِرْ : اور صبر کیجیے۔ یعنی اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم اور اس کی نافرمانی سے باز رکھیں اور اس کا ہمیشہ التزام کریں اور تنگ دل نہ ہوں۔ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ : اللہ نیکی کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ وہ ان کے اچھے اعمال کو قبول فرماتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا عطا کرتا ہے۔ جب نفوس ضعیفہ، انقطاع اور اکتاہٹ کا شکار ہو کر کمزور پڑجاتے ہیں تو آیت کریمہ میں ان کو صبر کے التزام کی ترغیب اور اللہ تعالیٰ کے ثواب کا شق دلایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 113–116

ظالم کے ساتھ الفت کی ممانعت قول باری ہے ولا ترکنوا الی اذین ظلموا افتمسکم النار۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جائو گے ۔ کسی چیز کی طرف رکون یعنی جھکنے کے معنی یہ ہیں اس کے ساتھ لگائو اور محبت کی بنا پر جھکنے والے کو اس پر قرار آجائے۔ یہ بات ظالموں کی ہم نشینی ان سے الفت اور ان کی باتوں پر کان دھرنے کی ممانعت کی مقتضی ہے ، اس کی نظیر یہ قول باری ہے فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین یاد آ جانے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 114–115

220 ۔ نماز قائم کرنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور نماز قائم رکھو تم نماز کو دن کے دونوں سروں پر۔ یعنی صبح و شام۔ اس میں فجر، ظہر اور عصر کی تین نمازیں آگئیں۔ سو اقامت صلوۃ دین حنیف کا ایک اہم حکم و ارشاد اور بنیادی مطالبہ ہے۔ اور اسی سے انسان اپنے رب کی رضا اور اس کی نصرت و امداد اور اعانت سے سرفراز ہوتا اور مشکلات پر قابو پاتا ہے۔ سو اس ارشاد سے صبر و استقامت کے حصول کی تدبیر بیان فرمائی گئی اور قرآن حکیم میں اس حقیقت کو جگہ جگہ اور طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے کہ راہ حق میں شیطان اور اس کے اعوان و انصار کی طرف سے پیش آنے والی مشکلات اور مزاحمتوں کے لیے روحانی قوت کے حصول اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 110–115

نبی اکرم ﷺ کو تسلی اور چند ہدایات تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کچھ قرآن کو مانتے اور کچھ انکار کرتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مثال دے کر تسلی دی کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) جتنے بھی دنیا میں آچکے ہیں سب کے ساتھ ایسے ہی ہوتا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بھی ایسے ہی کرتی رہی مگر ان کو فوراً عذاب نہ دیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو عذاب دینے کا وقت تو اللہ نے پہلے ہی مقرر کر رکھا ہے۔ اس بات کا یعنی آخرت کا کیونکہ ان کو یقین نہ تھا اس لیے وہ غفلت میں پڑے رہے۔ حالانکہ اللہ رب العزت تو ان کے تمام اعمال سے پوری طرح واقف ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 110–123

آیات 110 تا 123 اسراومعارف موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 114–115

(11:114) طرفی النھار۔ مضاف مضاف الیہ۔ طرفی اصل میں طرفین تھا اضافت کی وجہ سے نون گرگیا۔ طرف سے تثنیہ ۔ دن کے دونوں کنارے۔ زلفا۔ زلفۃ کی جمع بحالت نصب ۔ بمعنی ساعت۔ منزلت۔ قربت۔ پاس۔ قریب۔ زلفا من اللیل۔ اور رات کی ساعتوں میں۔ ذکر۔ نصیحت کرنا ۔ ذکر کرنا۔ یاد ۔ پند۔ موعظت۔ (باب نصر) سے مصدر۔ کثرت ذکر کے لئے ذکری بولا جاتا ہے یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 114–117

لغات القرآن آیت نمبر 114 تا 117 اقم (قائم کیجیے) طرفی (طرفین) دونوں طرف، دو کنارے النھار (دن) زلف (زلفۃ کی جمع) ، رات کا حصہ جو دن سے ملا ہوا ہو الیل (رات) الحسنت (الحسنۃ) نیکیاں یذھبن (جائیں گی (لے جائیں گی) السیئات (السئنۃ) برائیاں ذکری (دھیان) اصبر (صبر کیجیے) لایضیع (ضائع نہیں کرتا) اجر (بدلہ) المحسنین (نیکیاں کرنے والے) القرون (قومیں) اولوبقیۃ (صاحبان خیر، نیکیاں کرنے والے) اترفوا (مزہ پایا، فائدہ حصال کیا) مصلحون (اصلاح کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 114 تا 117 سورة ھود میں اللہ تعالیٰ نے سات انبیاء کرام کی دین کی سربلندی کے لئے ان کی جدوجہد اور ان سعادت مندوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

صبر کا اجر قیامت میں ملے گا : اس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت میں جن باتوں کے بجالانے کا حکم ہے اس حکم کی تعمیل میں کوئی تکلیف آوے تو اس تکلیف پر صبر ضرور ہے، اور اس کا اجر قیامت کے دن بےانتہا ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 115–118

[60] صبر کرنے سے یہاں مراد کافروں اور منکروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 114–117

(ف 2) طرفی النھار “۔ سے غرض صبح اور شام کے اوقات ہیں بات یہ تھی کہ مجوسی عین طلوع و غروب کے وقت سورج کو قبلہ مان کر عبادت کرتے اس آیت میں نماز کے اوقات ایسے بتائے ہیں کہ سورج پرستی کے لئے کوئی موقع ہی نہ رہے ، اسلام اس لحاظ سے نہایت مکمل مذہب ہے کہ اس میں ہر ممکن احتیاط موجود ہے ، سارے نظام مذہبی میں کہیں شائبہ شرک نہیں ۔ حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں ، طرفین سے فجر وعصر مراد ہے حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک صبح ومغر ہے ، علامہ ابن جریر (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ کے مسلک کی تائید فرمائی ہے ۔ علامہ رازی (رح) نے حضرت حسن ؓ کے قول کو ترجیح دی ہے کیونکہ (آیت) ” زلفا من اللیل “۔ میں مغرب و عشاء دونوں داخل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

115 اور اے پیغمبر ان منکرین کی طرف جو تکلیف دہ معاملات پیش آئیں ان پر صبر کیا کیجئے اور ان کو برداشت کرتے رہیے بیشک اللہ تعالیٰ ان کو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 114–115

ف 1۔ دن کے دوسروں سے مراد بعض کے نزدیک فجر اور عصر ہے اور بعض کے نزدیک دوسروں سے مراد دو حصے اول کا اور آخر کا اول کے حصہ میں نماز صبح ہے اور آخر کے حصہ میں ظہر اور عصر اور رات کے حصوں سے مراد مغرب اور عشاء کا وقت پس ایک قول پر اس آیت میں پانچوں نمازیں مراد ہیں اور ایک قول پر ظہر کی چانمازیں اور ظہر دوسری آیت میں مذکور ہے جو سورة روم میں ہے وحین تظہرون۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

صبر کرو کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا ۔ 142 صبر کرو ، اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ نیک کرداروں کا اجر ضائع نہیں کرتا یعنی ضروری ہے کہ آخر کار کامیابی انہی کے حصہ میں آئے۔ صبر کیا ہے ؟ اس کی وضاحت ہم سورة البقرہ کی آیت 153 ، سورة آل عمران 3 کی آیت 186 ، آیت 200 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔ اس جگہ پچھلی آیات میں جو احکام دیئے گئے ہیں یعنی استقامت ، اقامت صلوۃ اور ظالموں کی طرف نہ جھکنا ان سب پر مضبوطی سے قائم رہنے کا نام صبر ہے اور ان باتوں سے ہٹانے کے لئے جو طاقت اور جو قوت بھی سامنے آئے اس کے مقابلہ کا نام صبر ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In verse 115, it was said: وَاصْبِرْ‌ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ‌ الْمُحْسِنِينَ (And be patient, for Allah lets not the reward of the good-doers be lost). Literally, صَبر (sabr) means to tie. Therefore, in usage, Sabr is also used to carry the sense of keeping one's naughty self in control. Also included within its sense is the effort made to keep one's self firm and unflinching when it comes to doing what is good and right, as well as the effort to check and hold it back from getting involved with bad deeds. At this place, asking the Holy Prophet ﷺ to be patient could also mean…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 114–116

113. The 'two ends of the day' refer to the morning and the sunset. Similarly, the 'first hours of the night' refer to the time of the 'Isha' Prayer. We thus learn that this Qur'anic verse dates back to the time when the five daily Prayers had as yet not been prescribed. The Prophet's ascension took place at a later time than the revelation of these verses and it is then that the five daily Prayers were prescribed. (For further explanation see alIsra 17, n. 95; Ta Ha 20: 111; and al-Rum 30: 124.) 114. The Qur'an informs the believers of the best way to drive away the evils which are rampant…

Read the full tafseer →