Explained with ayahs 114–115
اوقات نماز کی نشاندہی
ابن عباس وغیرہ کہتے ہیں دن کے دونوں سرے سے مراد صبح کی اور مغرب کی نماز ہے۔ قتادہ ضحاک وغیرہ کا قول ہے کہ پہلے سرے سے مراد صبح کی نماز اور دوسرے سے مراد ظہر اور عصر کی نماز رات کی گھڑیوں سے مراد عشاء کی نماز بقول مجاہد وغیرہ مغرب و عشاء کی۔ نیکیوں کو کرنا گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ سنن میں ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جس مسلمان سے کئی گناہ ہوجائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ لے، تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عثمان ؓ نے وضو کیا پھر فرمایا اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا ہے اور آپ نے فرمایا ہے جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
سورة هُوْد 113
دن کے دونوں سروں پر سے مراد صبح اور مغرب ہے، اور کچھ رات گزرنے پر سے مراد عشاء کا وقت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ارشاد اس زمانے کا ہے جب نماز کے لیے ابھی پانچ وقت مقرر نہیں کیے گئے تھے۔ معراج کا واقعہ اس کے بعد پیش آیا جس میں پنج وقتہ نماز فرض ہوئی۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو بنی اسرائیل حاشیہ 95، طہ حاشیہ 111، الروم، حاشیہ 124)۔
سورة هُوْد 114
یعنی جو برائیاں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور جو برائیاں تمہارے ساتھ اس دعوت حق کی دشمنی میں کی جارہی ہیں، ان سب کو دفع کرنے کا اصلی طریقہ یہ ہے کہ تم خود زیادہ سے زیادہ نیک بنو اور اپنی نیکی سے اس بدی کو شکست دو ، اور تم کو نیک بنانے کا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ نماز کی پابندی رکھئے دن کے دونوں سروں پر (یعنی اول اور آخر میں) اور رات کے کچھ حصوں میں بیشک نیک کام (نامہ اعمال سے) مٹا دیتے ہیں برے کاموں کو یہ بات (کہ نیکیوں سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں) ایک (جامع) نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کیلئے (کیونکہ ہر نیکی اس قاعدہ کلیہ میں داخل ہے، پس اس سے ہر نیکی کی رغبت ہونا چاہئے) اور (ان منکرین کی طرف سے جو معاملات پیش آتے ہیں ان پر) صبر کیا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے (صبر بھی اعلی درجہ کی نیکوکاری ہے اس کا پورا اجر ملے گا اور اوپر جو سابقہ کی ہلاکت کے واقعات مذکور ہوئے) تو (وجہ اس کی یہ ہوئی کہ) جو امتیں تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
114۔ 115:۔ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ۭ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ ۭ ذٰلِكَ ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْن۔ وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۔
نماز ذریعہ استقامت ہے : یہ اس صبر و استقامت کے حصول کی تدبیر بیان ہوئی ہے جس کی اوپر والی آیات میں ہدایت فرمائی گئی ہے۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ واضح کی گئی ہے کہ خدا کی راہ میں شیطان اور ان کے اعوان کی طرف سے جو مزاحمتیں پیش آتی ہیں ان کے مقابلہ کے لیے روحانی طاقت نماز ہی سے ہوتی ہے۔ یہی چیز بندے کو خدا سے جوڑتی ہے اور جب بندہ اپنے رب سے جڑ جاتا ہے تو اس پر انوار و برکات رحمانی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
114۔ 1 دونوں سروں سے مراد بعض نے صبح اور مغرب، اور بعض نے عشاء اور مغرب دونوں کا وقت مراد لیا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ آیت معراج سے قبل نازل ہوئی ہو، جس میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔ کیونکہ اس سے قبل صرف دو ہی نمازیں ضروری تھیں، ایک طلوع شمس سے قبل اور ایک غروب سے قبل اور رات کے پچھلے پہر میں نماز تہجد۔ پھر نماز تہجد امت سے معاف کردی گئی، پھر اس کا وجوب بقول بعض آپ سے بھی ساقط کردیا گیا۔ (ابن کثیر) واللہ اعلم۔
114۔ 2 جس طرح کہ احادیث میں بھی اسے صراحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
62: دن کے دونوں سروں سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں اور بعض مفسرین نے ان سے فجر اور مغرب کی نمازیں مراد لی ہیں، اور رات کے حصوں کی نماز سے مراد مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں ہیں۔
63: برائیوں سے یہاں مراد صغیرہ گناہ ہیں، قرآن وسنت کے بہت سے دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان سے جو صغیرہ گناہ سرزد ہوتے ہیں ان کا کفارہ ان نیک کاموں سے ہوتا رہتا ہے جو انسان ان کے بعد کرتا ہے، چنانچہ وضو نماز اور دوسرے تمام کاموں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو مٹاتے رہتے ہیں، سورة نساء (4۔ 31) میں یہ مضمون گزرچکا ہے کہ : اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری…
Read the full tafseer →وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (11 : 114) “ اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے رپ درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ ”
اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ وہ زاد سفر ہے جو اس وقت کام آتا ہے جب تمام زاد سفر ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ روحانی وقت کا زاد سفر ہے اور یہ انسان کو ایسی قوت دیتا ہے جو عظیم تر مشکلات کو برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس لیے یہ زاد راہ معراج المومنین ہے اور یہ اہل ایمان کو رب کریم اور رحیم و ودود سے ملاتا ہے جو قریب ہے اور تمام پکاروں کو خوب سنتا ہے اور جب مومن…
Read the full tafseer →5 ظالموں کی طرف مت جھکو۔ بلکہ خدائے وحدہ ' لاشریک لہ ' کی طرف جھکو۔ یعنی صبح و شام اور رات کی تاریکی میں خشوع و خضوع سے نمازیں ادا کرو کہ یہ ہی بڑا ذریعہ خدا کی مدد حاصل کرنے کا ہے۔ (تنبیہ) دن کے دونوں طرف یعنی طلوع و غرب سے پہلے فجر اور عصر کی نمازیں مراد ہیں۔ یا ایک طرف فجر اور دوسری طرف مغرب کو رکھا جائے کہ وہ بھی بالکل غروب کے متصل ہوتی ہے۔ اور بعض سلف کے نزدیک اس میں فجر اور ظہر و عصر تینوں نمازیں داخل ہیں۔ گویا دن کے دو حصے کر کے پہلے حصے میں فجر کو اور دوسرے حصہ میں جو نصف النہار سے شروع ہو کر غروب پر ختم ہوتا ہے، دونوں نمازوں (ظہر و عصر) کو شمار کرلیا۔ (زلف اور (وَزُلَفًا مِّنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
آیت 114 وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ
دن کے دونوں سروں پر فجر اور عصر کے اوقات ہیں جبکہ رات میں مغرب اور عشاء شامل ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ پانچ نمازوں کا موجودہ نظام گیارہ نبوی میں معراج کے بعد قائم ہوا ہے۔ اس سے پہلے مکی دور میں تقریباً ساڑھے دس برس تک نمازوں کے بارے میں جو احکام نازل ہوئے وہ اسی نوعیت کے ہیں۔ یہاں ایک نکتہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیں کہ حضور سے اس انداز میں صیغۂ واحد میں جو خطاب کیا جاتا ہے وہ دراصل آپ کی وساطت سے امت کو حکم دینا مقصود ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →126 نیکیوں سے برائیوں کا دور ہونا :۔ دن کے اطراف سے مراد صبح اور مغرب کی نماز ہے اور کچھ رات گئے سے عشاء کی نماز مراد ہے۔ گویا اس آیت سے یہ تین نمازیں ثابت ہوئیں اور نماز اگر مکمل آداب کے ساتھ ادا کی جائے تو انسان کے چھوٹے چھوٹے گناہ از خود معاف ہوجاتے ہیں جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے :
1۔ سیدنا ابن مسعود کہتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک (انصاری) عورت کا بوسہ لے لیا۔ پھر آپ کے پاس آکر اپنا گناہ بیان کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (یہ آیت سننے کے بعد) اس شخص نے آپ سے پوچھا : کیا یہ امر (نماز سے صغیرہ گناہوں کا معاف ہوجانا) خاص میرے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ میری امت سے جو بھی ایسا کرے…
Read the full tafseer →160۔ اس میں بدرجہ اجمال دن رات کی پانچوں فرض نمازیں آگئیں۔ (آیت) ” طرفی النھار “۔ یا دن کے دونوں سروں سے مراد ایک طلوع فجر ہے دوسرے بعد زوال۔۔ پھر بعد زوال بجائے خود ظہر وعصر کے دو حصوں پر شامل ہے اور (آیت) ” زلفا من الیل “۔ کے اندر مغرب و عشاء کے اوقات آگئے قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی اوقات نماز کا ذکر ہے۔ بدرجہ اجمال ہی ہے تفصیلات صرف سنت رسول کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوں گی ہمارے زمانہ کے جن علماء مجددین نے محض قرآن مجید سے پوری تفصیلات نکالنی چاہی ہیں۔ انہوں نے عجب عجب مضحکہ خیز غلطیاں کی ہیں۔
161۔ (اس لئے ہر نیکی کوشش کرتے رہو) یہ صحیفہ اسلامی کی عجیب و غریب دفعہ ہے جس کی نظیر مشکل ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیت نمبر 110 تا 123
ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…
Read the full tafseer →واقم الصلوۃ طرفی النھار وزلفا من الیل آپ نماز کی پابندی رکھئے دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں ‘ جو دن کے قریب ہوں۔
صحابہ نے عرض کیا : یہ آیت کیا آپ ﷺ کے لئے مخصوص ہے یا سب لوگوں کے لئے ہے ؟ فرمایا : سب لوگوں کے لئے ہے۔ صاحب لباب النقول نے لکھا ہے : حضرت ابو الیسر کی روایت کی طرح حضرت ابو امامہ ‘ حضرت ابن عباس اور حضرت بریدہ وغیرہم کی روایت سے بھی یہ حدیث آئی ہے۔
ان کے دونوں کناروں سے مراد ہے : صبح اور شام۔ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ رات کا ایک ٹکڑا یا چند ساعات جو دن سے متصل ہوں (یعنی پچھلی رات یا شروع رات) زلف، زلفۃٌ کی جمع ہے۔ اَزَلَفہٗ اس کو قریب کردیا۔
حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک دن…
Read the full tafseer →(114) اور آپ نماز کی پابندی رکھیں دن کے دونوں کناروں میں یعنی نماز صبح اور ظہر یا یہ کہ صبح، ظہر، عصر کی اور رات کے داخل ہونے پر یعنی مغرب اور عشاء کی نماز کی، بیشک پانچوں نمازوں سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں یا یہ کہ حسنات سے مراد یہ کلمات ہیں۔ ”سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اللہ اکبر“۔
اور یہ تائبین کے لیے توبہ کا طریقہ ہے یا یہ کہ توبہ کرنے والوں کے گناہوں کے لیے یہ کفارات ہیں۔
یہ آیت کریمہ ابو الیسربن عمر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
شان نزول : (آیت) ”واقم الصلوۃ“۔ (الخ)
بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ومسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت…
Read the full tafseer →اس آیت اور اس کے بعد والی آیات میں استقامت کا اور طغیانی اور ظالموں کی طرف میلان سے اجتناب کا طریقہ بتایا ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق جو نماز سے حاصل ہوتا ہے اور صبر کرنا اور برائی اور فساد فی الارض سے منع کرتے رہنا۔
وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ : اقامت کا معنی سیدھا کرنا، مراد نماز کو اس کے اوقات پر سنت کے مطابق پورے ارکان اور خشوع و اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے مالک بن حویرث ؓ سے فرمایا : (صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ أُصَلِّیْ) [ بخاری، الأذان، باب الأذان للمسافرین إذا کانوا۔۔ : 631 ] ”نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے دیکھا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں۔“ قرطبی نے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 114
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : واقم الصلوٰۃ طرفی النھار اہل تاویل میں سے کسی نے بھی اس میں اختلاف نہیں کیا کہ اس آیت میں نماز سے مراد فرض نمازیں ہیں۔ اور ان کو بالخصوص ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایمان کی ثانی ہیں اور مشکلات میں انہیں کی پناہ تلاش کی جاتی ہے، نبی کریم ﷺ جب بھی کوئی مصیبت و پریشانی آتی تو آپ نماز کی پناہ لیتے تھے۔ صوفیاء کے شیوخ نے کہا ہے : اس آیت سے فرض اور نفل عبادت میں اپنے سارے اوقات کو صرف کرنا مراد ہے۔ ابن عربی نے کہا : یہ ضعیف ہے، یقیناً امر اس بات کو شامل نہیں حتیٰ کہ نہ واجب کو اور نہ نفل کو شامل ہے۔ اور ادمعلوم ہیں اور وہ اوقات جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واقم الصلوۃ طرفی النھار “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مغرب اور صبح کی نماز مراد ہے (اور) (آیت) ” وزلفا من الیل “ سے عشاء کی نماز مراد ہے۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واقم الصلوۃ طرفی النھار “ سے فجر اور عصر کی نماز مراد ہے (آیت) ” وزلفا من الیل “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں رات کے حصے ہیں مغرب اور عشاء کی نمازیں اور رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا کہ یہ دونوں رات کے دو حصوں میں ہیں۔
پانچوں نمازوں کا حکم قرآن میں ہے :
3:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →[وَاَقِمِ : اور آپ ﷺ قائم رکھیں ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ طَرَفَيِ النَّهَارِ : دن کے دونوں کناروں پر ] [وَزُلَفًا : اور کچھ حصّوں میں ] [ مِّنَ الَّيْلِ : رات میں سے ] [ ان : یقینا ] [الْحَسَنٰتِ : نیکیاں ] [يُذْهِبْنَ : لے جاتی ہیں ] [ السَيِّاٰتِ : برائیوں کو ] [ذٰلِكَ : یہ ] [ ذِكْرٰي : ایک بڑی نصیحت ہے ] [ لِلذّٰكِرِيْنَ : یاد رکھنے والوں کے لئے ]
ز ل
[زَلْفًا : (ن) نزدیک ہونا۔ قریب ہونا۔] [زُلْفَۃٌ: ج زُلْفٌ (1) نزدیکی۔ قربت۔ فَلَمَّا رَاَوْہُ زُلْفَۃً (پھر جب انھوں نے دیکھا اس کو پاس میں) 67:27، (2) کسی چیز کا وہ حصّہ جو کسی چیز کے نزدیک ہو جیسے رات کا وہ حصّہ جو دن کے نزدیک ہو یعنی…
Read the full tafseer →اس کے بعد ارشاد فرمایا (وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ) (اور دن کے دونوں طرفوں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کیجئے) مفسرین کرام نے اس سے پانچوں نمازیں مراد لی ہیں حضرت مجاہد تابعی (رح) نے فرمایا کہ دن کے دونوں طرفوں سے صبح اور ظہر اور عصر مراد ہے اور رات کے حصوں میں مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ فجر اور ظہر سے دن کے ایک طرف کی نمازیں مراد ہیں اور عصر اور مغرب سے دن کی دوسری طرف کی نمازیں مراد ہیں۔ اور (زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ) سے عشاء کی نماز مراد ہے۔ اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ آیت شریفہ میں صرف فجر اور عصر کی نماز کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–115
تحذیر از اختلاف وافتراق وحکم استقامت براحکام شریعت
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ .... الیٰ .... فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی مگر لوگوں نے اس میں اختلاف کیا کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا اور مورد عتاب الٰہی بنے۔ لہٰذا اے مسلمانو ! تم کو چاہئے کہ ان سے عبرت پکڑو اور جو کتاب مبین ہم نے تم کو دی ہے سب مل کر اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور تفرق اور اختلاف سے پرہیز رکھو اور جادہ شریعت پر ایسے مستقیم ہوجاؤ کہ پائے استقامت میں تزلزل نہ آنے پائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
94:۔ یہ امر چہارم ہے یعنی نماز پنجگانہ کی پابندی کرنا امام مجاہد فرماتے ہیں۔ طَرَفَیِ النَّھَارِ سے صبح، ظہر اور عصر کی نمازیں مراد ہیں اور زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ سے مغرب اور عشاء کی (مظہری و روح) ۔ اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَات۔ الحسنات اعمال حسنہ نمازیں وغیرہ گناہوں کا کفارہ ہیں جیسا کہ صحیح حدیثوں میں وارد ہے کہ ایک نماز سے دوسری نماز تک کے درمیان جو صغیرہ گناہ سرزد ہوتے ہیں وہ نماز سے معاف ہوجاتے ہیں۔ فی الحدیث ان الصلوات تکفر ما بینھا ای فی یومھا اذا اجتنبت الکبائر فی ذلک الیوم (روح ج 12 ص 157) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں سیئات سے سختیاں اور مصیبتیں مراد ہیں اس طرح سیئات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پر توحید کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر عقائد یعنی رسالت ، قیامت ، جزائے عمل اور قرآن کی صداقت و حقانیت کا ذکر ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک متعدد انبیاء اور ان کی قوموں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ جسم میں دعوت الٰہی التوحید کی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کی زبا ن سے کہلوایا ہے۔ ” الاتعبدوآ الا اللہ “ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو ، اپنے گناہوں کو بخشوائو اور خدا تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو۔ یہی بات دوسرے انبیاء نے…
Read the full tafseer →وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَيِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ 0 ۭ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْہِبْنَ السَّـيِّاٰتِ 0ۭ ذٰلِكَ ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْنَ 114 ۚ
اقامت
والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
ششم۔ واقم الصلوٰۃ سے لے کر لایضیع اجرالمحسنین تک آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کو نماز کی تاکید فرماتا ہے جو واستقم کما امرت کا ایک فرد کامل ہے۔ اس آیت میں نماز قائم کرنے کا تین وقتوں میں حکم دیتا ہے۔ اول و دوم طرفی النہار دن کے دونوں سروں پر یعنی شروع دن میں اور اخیر دن میں عرب کی رائے پر دن کا شروع صبح صادق سے لیا جاتا ہے اور دن ڈھلنے سے آخر دن شمار کرتے ہیں جس طرح ہماری زبان میں پچھلا پہر کہتے ہیں۔ پس اول دن میں نماز قائم کرنے سے مراد صبح کی نماز ہے اور آخر دن سے ظہر کی اور عصر کی۔ امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں کہ صبح کی نماز اندھیرے میں نہ پڑھے بلکہ جب خوب روشنی ہوجاوے آفتاب نکلنے سے پیشتر اور اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ط اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ط ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ ۔ وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَالْمُحْسِنِیْنَ ۔
(سورۃ ہود : 114، 115)
(اور نماز قائم کیجیے دن کے دونوں سروں پر۔ اور کچھ رات کے حصوں میں۔ بیشک نیکیاں بُرائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے اور صبر کیجیے۔ بیشک اللہ تعالیٰ خوبکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ )
نماز سے استقامت پر مدد لیجئے
گزشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن دنوں میں یہ آیات نازل ہورہی تھیں وہ دن وہ تھے جبکہ اذیت رسانی کی چکی پوری شدت سے گھوم رہی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : داعی کے لیے مزید ہدایات۔
حلقہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد پہلا فرض مسلمان پر جو عائد ہوتا ہے۔ وہ پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی ہے۔ یہ وہ فرض ہے جو ہوش و حواس قائم ہونے کی صورت میں مسلمان پر لازم ہے۔ نماز ایسا فرض ہے جس کی سب سے زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ یہاں ایک خاص پس منظر کے تحت اس کی ادائیگی کا حکم دیا اور اس کا یہ عظیم فائدہ بیان فرمایا ہے کہ نماز کی ادائیگی سے انسان کی برائیاں دور ہوجاتی ہیں۔ یہ فائدہ اور نصیحت ان لوگوں کے لیے ہے جو اس سے مستفیض ہونے کی کوشش اور تمنا رکھتے ہیں۔ یہاں غم اور برائیوں سے بچنے کے لیے نماز کی ادائیگی کے دو اوقات ذکر کیے ہیں۔ جن کے بارے میں…
Read the full tafseer →نماز کے قیام اور نیکی کرتے رہنے کا حکم :
114: وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ (آپ نماز کو قائم کریں دن کے دو اطراف میں) صبح و شام وَزُلَفًًا مِّنَ الَّیْلِ (اور رات کے کچھ حصوں میں) رات کے اوقات میں۔ زلفایہ جمع زُلفۃً ہے یہ دن کے آخر میں رات کی قریبی گھڑیاں یہ ازلفہ ای اذا قربہ سے بنا ہے۔ قریب کرنا۔ صلاۃ الغدوۃ نماز فجر اور صلاۃ العشی ؔ۔ ظہر، عصر ہے کیونکہ زوال کے بعد والا وقت العشی ہے۔ اور صلاۃ الزلفؔ یہ مغرب و عشاء ہے۔
نحو : طرفی النھار کا نصب ظرفیت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ دونوں کی اضافت وقت کی طرف ہے۔ جیسا کہتے ہیں اقمت عندہ جمیع النھار واتیتہ نصف النھار واولہٗ آخرہ یہ تمام منصوب ہیں…
Read the full tafseer →طرفی النھار وزلفا من اللیل کی تفسیر
114۔” واقم الصلوٰۃ طرفی النھار “ یعنی صبح و شام ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ دن کے دو طرف صبح اور ظہر اور عصر کی نماز۔ ” وزلفا من اللیل “ مغرب اور عشاء کی نماز اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ فجر اور ظہر کی نماز ایک طرف ہے اور عصر اور مغرب کی نماز ایک طرف ہے اور ” زلفا من اللیل “ یعنی عشاء کی نماز۔
حسن (رح) فرماتے ہیں کہ دن کی دو طرفیں صبح اور عصر کی نماز اور ” زلفا من اللیل “ مغرب اور عشاء اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ دن کے دو طرف صبح اور شام یعنی صبح اور مغرب کی نماز ” وزلفا من اللیل “ یعنی اس کی گھڑی اس کا زلفۃ ہے اور ابو جعفر (رح) نے ” زلفا “ لام کے پیش کے…
Read the full tafseer →114۔ صحیحین ترمذی مسند امام احمد وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی حضرت عبد اللہ بن مسعود عبد اللہ بن عباس اور ابی الیسر ؓ کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابی الیسر کے پاس ایک عورت کھجوریں خریدنے آئی تھی ابو الیسر بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس عورت سے کہا کہ بہ نسبت میری دکان کے میرے گھر میں عمدہ کھجوریں ہیں یہ سن کر جب وہ عورت میرے ساتھ میرے گھر میں آئی تو میں نے اس سے مباشرت تو نہیں کی لیکن سوا مباشرت کے اور سب بےشرمی کی باتیں کی پھر مجھ کو ندامت ہوئی پہلے میں نے حضرت عمر ؓ سے اس کا ذکر کیا حضرت عمر ؓ نے فرمایا تیرا برا ہو شاید وہ عورت کسی غازی کی تھی جو لڑائی پر گیا ہوا ہے میں نے…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ کامل طور پر نماز کو قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ طَرَفَيِ النَّهَارِ : دن کے دونوں طرفوں میں۔ یعنی دن کے ابتدائی اور آخری حصے میں، اس میں فجر، ظہر اور عصر کی نماز شامل ہے۔ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ : اور رات کے چھ حصوں میں، اور اس میں مغرب اور عشاء کی نماز داخل ہے۔ تہجد کی نماز بھی اسی میں شام ہے، کیونکہ بندہ مومن تہجد کی نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ : بیشک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔ یعنی یہ نماز پنجگانہ اور اس سے ملحق نوافل سب سے بڑی نیکی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کہ نماز سب سے بڑی نیکی اور ثواب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
ظالم کے ساتھ الفت کی ممانعت
قول باری ہے ولا ترکنوا الی اذین ظلموا افتمسکم النار۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جائو گے ۔ کسی چیز کی طرف رکون یعنی جھکنے کے معنی یہ ہیں اس کے ساتھ لگائو اور محبت کی بنا پر جھکنے والے کو اس پر قرار آجائے۔ یہ بات ظالموں کی ہم نشینی ان سے الفت اور ان کی باتوں پر کان دھرنے کی ممانعت کی مقتضی ہے ، اس کی نظیر یہ قول باری ہے فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین یاد آ جانے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
220 ۔ نماز قائم کرنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور نماز قائم رکھو تم نماز کو دن کے دونوں سروں پر۔ یعنی صبح و شام۔ اس میں فجر، ظہر اور عصر کی تین نمازیں آگئیں۔ سو اقامت صلوۃ دین حنیف کا ایک اہم حکم و ارشاد اور بنیادی مطالبہ ہے۔ اور اسی سے انسان اپنے رب کی رضا اور اس کی نصرت و امداد اور اعانت سے سرفراز ہوتا اور مشکلات پر قابو پاتا ہے۔ سو اس ارشاد سے صبر و استقامت کے حصول کی تدبیر بیان فرمائی گئی اور قرآن حکیم میں اس حقیقت کو جگہ جگہ اور طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے کہ راہ حق میں شیطان اور اس کے اعوان و انصار کی طرف سے پیش آنے والی مشکلات اور مزاحمتوں کے لیے روحانی قوت کے حصول اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–115
نبی اکرم ﷺ کو تسلی اور چند ہدایات
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کچھ قرآن کو مانتے اور کچھ انکار کرتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مثال دے کر تسلی دی کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) جتنے بھی دنیا میں آچکے ہیں سب کے ساتھ ایسے ہی ہوتا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بھی ایسے ہی کرتی رہی مگر ان کو فوراً عذاب نہ دیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو عذاب دینے کا وقت تو اللہ نے پہلے ہی مقرر کر رکھا ہے۔ اس بات کا یعنی آخرت کا کیونکہ ان کو یقین نہ تھا اس لیے وہ غفلت میں پڑے رہے۔ حالانکہ اللہ رب العزت تو ان کے تمام اعمال سے پوری طرح واقف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیات 110 تا 123
اسراومعارف
موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…
Read the full tafseer →ف 11 ۔ دن کے دونوں سروں سے مراد فجر اور عصر یا فجر اور مغرب کی نماز ہے۔ (کذافی ابن کثیر) ۔
12 ۔ یا رات کے ابتدائی حصہ میں مراد ہے عشا یا مغرب و عشا دونوں کا وقت۔ غالباً یہ آیت اس زمانے میں نازل ہوئی جب نماز کے لئے ابھی پانچ وقت مقرر نہیں کئے گئے تھے۔ معراج کا واقعہ اس کے بعد پیش آیا جس میں پنج وقتی نماز فرض ہوئی۔ قرآن میں نماز کے اوقات کا ذکر نہیں ہے۔ ہاں سبق آیات سے ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اوقات کی تعیین اور تفصیل صرف سنت میں ملتی ہے۔ یوں علما نے لکھا ہے کہ اس آیت سے نماز پنجگانہ ثابت ہوتی ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) ۔
13 ۔ حدیث میں ہے اتبع السیٔۃ الحسنۃ تمھحا کہ برائی کے بعد نیکی کرو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
(11:114) طرفی النھار۔ مضاف مضاف الیہ۔ طرفی اصل میں طرفین تھا اضافت کی وجہ سے نون گرگیا۔ طرف سے تثنیہ ۔ دن کے دونوں کنارے۔ زلفا۔ زلفۃ کی جمع بحالت نصب ۔ بمعنی ساعت۔ منزلت۔ قربت۔ پاس۔ قریب۔ زلفا من اللیل۔ اور رات کی ساعتوں میں۔ ذکر۔ نصیحت کرنا ۔ ذکر کرنا۔ یاد ۔ پند۔ موعظت۔ (باب نصر) سے مصدر۔ کثرت ذکر کے لئے ذکری بولا جاتا ہے یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
لغات القرآن آیت نمبر 114 تا 117
اقم (قائم کیجیے) طرفی (طرفین) دونوں طرف، دو کنارے النھار (دن) زلف (زلفۃ کی جمع) ، رات کا حصہ جو دن سے ملا ہوا ہو الیل (رات) الحسنت (الحسنۃ) نیکیاں یذھبن (جائیں گی (لے جائیں گی) السیئات (السئنۃ) برائیاں ذکری (دھیان) اصبر (صبر کیجیے) لایضیع (ضائع نہیں کرتا) اجر (بدلہ) المحسنین (نیکیاں کرنے والے) القرون (قومیں) اولوبقیۃ (صاحبان خیر، نیکیاں کرنے والے) اترفوا (مزہ پایا، فائدہ حصال کیا) مصلحون (اصلاح کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 114 تا 117
سورة ھود میں اللہ تعالیٰ نے سات انبیاء کرام کی دین کی سربلندی کے لئے ان کی جدوجہد اور ان سعادت مندوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے…
Read the full tafseer →صغیرہ گناہ نماز سے معاف ہوجاتے ہیں : شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوالبشر ؓ چھوہارے بیچتے تھے۔ ایک نہایت خوبصورت عورت چھوہارے خریدنے آئی۔ یہ حیلہ کرکے کہ اندر چھوہارے نہایت عمدہ رکھے ہوئے ہیں مکان میں لے گئے اور بوسہ لے لیا۔ وسوسہ شیطانی سے گناہ صغیرہ کر تو بیٹھے لیکن خوف الہی طاری ہوا تو فورا روتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام قصہ عرض کیا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی کہ نماز کو قائم کرو، دن کو بھی پڑھا کرو اور رات کو بھی، دن میں اعلی طرف کی نماز فجر کی نماز ہے، اور اسفل طرف کی نماز ظہر اور عصر کی نماز ہے اور رات کی نماز میں مغرب اور عشاء ہیں۔ پھر فرمایا کہ بیشک پانچوں وقت کی نماز…
Read the full tafseer →[59] دن کے دونوں سروں پر سے مراد صبح اور مغرب ہیں اور کچھ رات گزرنے پر عشاء کا وقت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم اس زمانے کا ہے جب نماز کے لئے ابھی پانچ وقت مقرر نہیں کئے گئے تھے۔ معراج کا واقعہ جس میں پنج وقتہ نماز فرض ہوئی اس کے بعد پیش آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
(ف 2) طرفی النھار “۔ سے غرض صبح اور شام کے اوقات ہیں بات یہ تھی کہ مجوسی عین طلوع و غروب کے وقت سورج کو قبلہ مان کر عبادت کرتے اس آیت میں نماز کے اوقات ایسے بتائے ہیں کہ سورج پرستی کے لئے کوئی موقع ہی نہ رہے ، اسلام اس لحاظ سے نہایت مکمل مذہب ہے کہ اس میں ہر ممکن احتیاط موجود ہے ، سارے نظام مذہبی میں کہیں شائبہ شرک نہیں ۔
حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں ، طرفین سے فجر وعصر مراد ہے حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک صبح ومغر ہے ، علامہ ابن جریر (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ کے مسلک کی تائید فرمائی ہے ۔
علامہ رازی (رح) نے حضرت حسن ؓ کے قول کو ترجیح دی ہے کیونکہ (آیت) ” زلفا من اللیل “۔ میں مغرب و عشاء دونوں داخل…
Read the full tafseer →114 اور اے پیغمبر آپ دن کے دونوں سروں اور دونوں کناروں پر اور رات کے کچھ ٹکڑوں اور حصوں میں نماز کی پابندی کیا کیجئے بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کردیا کرتی ہیں یہ باتیں ایک مکمل نصیحت ہیں ان لوگوں کے لئے جو نصیحت ماننے والے ہیں۔
دونوں کنارے صبح و شام یا دن کے دو حصے ایک صبح سے دوپہر تک اور ایک دوپہر سے شام تک رات کے حصوں سے مغرب اور عشاء اور بعض علماء کے نزدیک اس آیت سے مراد پانچوں نماز ہیں اور بعض نے کہا چار نمازیں مراد ہیں۔
بعض کا قول ہے کہ رات کی نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے واللہ اعلم
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو تین طرح جونی کیا ں کرلے اس کی برائیاں معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
ف 1۔ دن کے دوسروں سے مراد بعض کے نزدیک فجر اور عصر ہے اور بعض کے نزدیک دوسروں سے مراد دو حصے اول کا اور آخر کا اول کے حصہ میں نماز صبح ہے اور آخر کے حصہ میں ظہر اور عصر اور رات کے حصوں سے مراد مغرب اور عشاء کا وقت پس ایک قول پر اس آیت میں پانچوں نمازیں مراد ہیں اور ایک قول پر ظہر کی چانمازیں اور ظہر دوسری آیت میں مذکور ہے جو سورة روم میں ہے وحین تظہرون۔
Read the full tafseer →نماز اپنے اوقات پر ادا کرنے کی تلقین اور برائیوں سے بچنے کی نصیحت
۔ 141 جیسا کہ پیچھے اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ قرآن کریم میں اکثر اس بات کا استعمال ہے کہ امر کا مخاطب نبی کریم ﷺ کو بنایا گیا ہے اور نہی و ممانعت کا مخاطب امت کو جس میں نبی کریم ﷺ کی عظمت شان کا اظہار ہے ہے کہ جو کام قابل ترک ہیں نبی کریم ﷺ خود ہی ان کو ترک کرتے ہیں یعنی ان کے قریب ہی نہیں جاتے۔ آپ کی فطرت سلیمہ اور طبیعت ہی اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ کسی بری خواہش اور بری چیز کی طرف میلان ہی نہ ہوتا یہاں تک کہ ایسی چیزیں جو معاشرہ میں درست تصور ہوتی تھیں لیکن علم الٰہی میں ان کا حرام ہونا موجود تھا آپ ان سے بھی طبعاً پرہیز…
Read the full tafseer →Commentary
The diction of the Qur'an points out to the great station the Holy Prophet ﷺ occupies
It would be recalled that following the description of awe-inspiring events relating to past prophets and their peoples in Surah Hud, some instructions have been given to the Holy Prophet ﷺ and his community that begin from the previous verse (112): فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ (So, stand firm - as you have been commanded). In these instructions, the beauty and eloquence of the Holy Qur'an stands out as highly educative. It will be noticed that a positive command to do something has been addressed…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
113. The 'two ends of the day' refer to the morning and the sunset. Similarly, the 'first hours of the night' refer to the time of the 'Isha' Prayer. We thus learn that this Qur'anic verse dates back to the time when the five daily Prayers had as yet not been prescribed. The Prophet's ascension took place at a later time than the revelation of these verses and it is then that the five daily Prayers were prescribed. (For further explanation see alIsra 17, n. 95; Ta Ha 20: 111; and al-Rum 30: 124.)
114. The Qur'an informs the believers of the best way to drive away the evils which are rampant…
Read the full tafseer →