Hud 11:111

Hud · from ayah 111

11:111

وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ ؕ— اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ۟وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ اَعۡمَالَهُمۡ‌ ؕ اِنَّهٗ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ

اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بےشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, each [of the believers and disbelievers] - your Lord will fully compensate them for their deeds. Indeed, He is Acquainted with what they do.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 10 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:111

اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بےشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناًان میں سے ہر ایک جب ان کے روبرو جائے گا تو آپ کا رب اسے اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک وه جو کر رہے ہیں ان سے وه باخبر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یقین رکھو کہ سب لوگوں کا معاملہ یہی ہے کہ تمہارا پروردگار ان کے اعمال کا بدلہ پورا پورا دے گا۔ یقینا وہ ان کے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک جتنے ہیں ایک ایک کو تمہارا رب اس کا عمل پورا بھردے گا اسے ان کے کا موں کی خبر ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک آپ کا رب ان سب کو ان کے اَعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا، وہ جو کچھ کر رہے ہیں یقینًا وہ اس سے خوب آگاہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک ان سب کو جب (وقت آئے گا) تو تیرا رب انھیں ان کے اعمال یقینا پورے پورے دے گا، بیشک وہ اس سے جو وہ کر رہے ہیں، پوری طرح باخبر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان میں سے ہر ایک کو تیرا پروردگار ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا یقینا وہ ان کے اعمال سے باخبر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یقیناً تیرا رب ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ پورا کر کے رہے گا۔ وہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس سے باخبر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس (حقیقت) میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ جتنے بھی ہیں تمہارا رب ان میں سے ایک ایک کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا کہ وہ یقینی طور پر ان کی ان تمام حرکتوں سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں پوری طرح باخبر ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک سب ہی ایسے ہیں کہ آپ کا پروردگار انہیں ان کے اعمال کا (عوض) پورا پورا دے گا بیشک جو کچھ یہ کرتے ہیں اس کی وہ پوری خبر رکھتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی !) آپ کا رب ان سب کو ان کے اعمال کا لازماً پورا پورا بدلہ دے گا یقیناً وہ باخبر ہے اس سے جو عمل یہ لوگ کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ کا رب ان سب کو قیامت کے دن ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely your Lord will recompense all to the full for their deeds. For indeed He is well aware of all what they do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And to all of them, your Lord shall pay for their deeds in full. Surely, He is aware of all that they do.

— Muhammad Taqi Usmani

And to all of them, your Lord shall pay for their deeds in full. Surely, He is aware of all that they do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, to each of them your Lord will repay their works in full. Surely, He is All-Aware of what they do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! unto each thy Lord will verily repay his works in full. Lo! He is Informed of what they do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, each [of the believers and disbelievers] - your Lord will fully compensate them for their deeds. Indeed, He is Acquainted with what they do.

— Saheeh International

God will certainly recompense everyone according to their deeds; He knows well all that you do.

— Muhammad Sarwar

And your Lord will most surely pay back to all their deeds in full; surely He is aware of what they do.

— Muhammad Habib Shakir

And verily unto each will thy Lord repay their works in full; verily of that which they work He is Aware.

— Abdul Majid Daryabadi

And, of a surety, to all will your Lord pay back (in full the recompense) of their deeds: for He knoweth well all that they do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:111

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 109–111

مشرکوں کا حشر مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے ؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کا عاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ ؑ کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کردیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ چونکہ ہم وقت مقرر کرچکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آجاتا ہے۔ کافروں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 110–113

سورة هُوْد 111 یعنی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ آج اس قرآن کے بارے میں مختلف لوگ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کر رہے ہیں، بلکہ اس سے پہلے جب موسیٰ ؑ کو کتاب دی گئی تھی تو اس کے بارے میں ایسی ہی مختلف رائے زنیاں کی گئی تھیں، لہذا اے محمد ﷺ ، تم یہ دیکھ کر بددل اور شکستہ خاطر نہ ہو کہ ایسی سیدھی سیدھی اور صاف باتیں قرآن میں پیش کی جا رہی ہیں اور پھر بھی لوگ ان کو قبول نہیں کرتے۔ سورة هُوْد 112 یہ فقرہ بھی نبی ﷺ اور اہل ایمان کو مطمئن کرنے اور صبر دلانے کے لیے فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اس بات کے لیے بےچین نہ ہو کہ جو لوگ اس قرآن کے بارے میں اختلافات کر رہے ہیں ان کا فیصلہ جلدی سے چکا دیا جائے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–111

خلاصہ تفسیر اور آپ کے رب کی دار و گیر ایسی ہی (سخت) ہے جب وہ کسی بستی والوں پر دار وگیر کرتا ہے جبکہ وہ ظلم (و کفر) کیا کرتے ہوں، بلا شبہ اس کی دار و گیر بڑی الم رساں (اور) سخت ہے (کہ اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا) ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو (وجہ عبرت ظاہر ہے کہ جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دار الجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دار الجزاء ہے کیسا سخت عذاب ہوگا) وہ (یعنی آخرت کا دن) ایسا دن ہوگا کہ اس میں تمام آدمی جمع کئے جاویں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے اور (وہ دن گو اب تک آیا نہیں لیکن اس سے کوئی اس کے آنے میں شک نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ ۭ اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۔ " لما " میں " ل " تاکید اور قسسم کا ہے اور ما زائد کبھی کبھی مھض جملہ کے آہند اور صوت کو ٹھیک رکھنے کے لیے آتا ہے۔ مثلا ان کل ذلک لما متاع الحیواۃ الدنیا : بیشک یہ ساری چیزیں دنیوی زندگی کی متاع ہیں۔ اسی طرح سورة طارق میں ہے ان کل نفس لما علیہا حافظ : بیشک ہر جان پر ایک نگران مقرر ہے۔ لفظ " کل " اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس سے مراد وہی گروہ ہیں جو اوپر مذکور ہوئے یعنی مشرکین قریش اور یہود فرمایا کہ یہ لوگ دعوت حق کی مخالفت میں جو ایڑی چوٹی کا زور لوگانا چاہتے ہیں لگا لیں۔ وہ وقت بھی آئے گا جب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 110–111

110۔ 1 یعنی کسی نے اس کتاب کو مانا اور کسی نے نہیں مانا۔ یہ نبی کو تسلی دی جا رہی ہے کہ پچھلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا آیا ہے، کچھ لوگ ان پر ایمان لانے والے ہوتے اور دوسرے تکذیب کرنے والے۔ اس لئے آپ اپنی تکذیب سے نہ گھبرائیں۔ 110۔ 2 اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے ان کے لئے عذاب کا ایک وقت مقرر کیا ہوا نہ ہوتا تو وہ انھیں فورا ہلاک کر ڈالتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 107–113

60: اس سے موجودہ زمین اور آسمان مراد نہیں ہیں، کیونکہ یہ تو قیامت کے ساتھ ختم ہوجائیں گے، البتہ قرآن کریم ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں وہاں کے حالات کے مطابق دوسرے زمین و آسمان پیدا کئے جائیں گے (دیکھئے سورة ابراہیم 14۔ 48، سورة زمر 24۔ 74) اور چونکہ وہ زمین و آسمان ہمیشہ رہیں گے اس لئے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ بھی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ 61: رَبُّکَ : اسی قسم کا استثناء سورة انعام (6۔ 128) میں بھی گزرا ہے جیسا کہ وہاں ہم نے عرض کیا تھا، اس کی ٹھیک ٹھیک مراد تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، لیکن اس سے بظاہر ایک تو یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ کسی کے عذاب وثواب کا تمام ترفیصلہ اللہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وَإِنَّ كُلا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (11 : 111) “ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا ، یقینا وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔ ” اس میں اس قدر تاکیدی انداز تعبیر اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی مہلت اور تاخیر کی وج کہ سے پوری پوری جزاء و سزا میں شک نہ کرنے لگے۔ کوئی یہ شک نہ کرے کہ اہل مکہ نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ باطل ہے اور اس کے باطل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے یہ شرک ہے اور یہ شرکیہ دین اس سے پہلے بھی کئی اقوام نے اختیار کیا ہے۔ یہاں یہ تاکیدی انداز اختیار کرنے کا پس منظر بھی تھا ، اس وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی ابھی وقت نہیں آیا کہ ہر ایک کے عمل کا پورا بھگتان کیا جائے۔ لیکن جب وقت آئے گا تو یقینا ذرہ ذرہ کا حساب کردیا جائے گا۔ تاخیر عذاب سے یہ نہ سمجھو کہ اسے تمہارے اعمال کی خبر نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 110–111

وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ یہ بات سورة الشوریٰ میں وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ ہر رسول کی امت اپنی الہامی کتاب کی وارث ہوتی ہے۔ پھر جب اس امت پر زوال آتا ہے تو اپنی اس کتاب کے بارے میں بھی ان کے ہاں شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں کہ واقعتا یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے بھی یا نہیں !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 110–111

123 کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں اختلاف کی صورتیں :۔ یعنی جس طرح آج قرآن کے بارے میں اختلاف کیا جارہا ہے۔ کوئی کہتا ہے، یہ پہلوں کی کہانیاں ہیں کوئی کہتا ہے، کہ یہ بیان کی جادوگری ہے کوئی کہتا ہے، کہ قرآن اس نبی کا تصنیف کردہ ہے، کوئی کہتا ہے، کہ یہ کسی دوسرے سے سیکھ کر یہ قرآن پیش کر رہا ہے اور ایک حق پرست گروہ اسے منزل من اللہ بھی سمجھتا ہے، اسی طرح تورات میں بھی اختلاف کیا گیا تھا اور لوگوں کا یہ جرم اتنا شدید ہے جس پر انھیں فوری طور پر ہلاک کیا جاسکتا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت اور لوگوں کی آزمائش کے لیے ایک مدت مقرر رکھی ہے اس لیے فوری طور پر نہ قوم موسیٰ ہلاک کی گئی تھی اور نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

ف۔ 155 (آیت) ” اچھے برے مومن و کافر صالح فاسق، بڑے چھوٹے سب ہی کی پوری پوری فرد عمل اس کے سامنے موجود ہے۔ اس کے ہاں جزائے اعمال میں کسی غلطی، سہو ونسیان کا امکان ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 110–123

آیت نمبر 110 تا 123 ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان کلا لما لیوفینھم ربک اعمالھم اور بالیقین یہ سب کے سب ایسے ہیں کہ آپ کا رب ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا حصہ دے گا۔ اِنَّ حرف تحقیق ہے۔ نافع ‘ ابن کثیر اور ابوبکر کے نزدیک اِنْ مخففہ ہے (اصل میں اِنَّ تھا) کلاًّ میں تنوین مصاف الیہ کے بجائے آئی ہے یعنی اختلاف کرنے والوں میں سے ہر ایک خواہ مؤمن ہو یا کافر۔ لَمَّا اصل میں لَمَنْ ما تھا ‘ نون کو میم سے بدل دیا۔ تین میم جمع ہوگئے۔ اوّل میم کو حذف کردیا ‘ پھر ایک میم کو دوسرے میم میں ادغام کردیا۔ ما زیادہ ہے۔ بعض نے کہا : اصل میں لماً تھا ‘ لَمْتُ کا مصدر لَمًّا ہے جس کا معنی ہے جمع کرنا۔ صاحب ایجاز نے لکھا ہے کہ یہ لما ظرفیہ ہے اور کلام میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(111) اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک کو آپ کا پروردگار ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا، نیکی کا ثواب کے ساتھ اور برائی کا عذاب کے ساتھ وہ خیر وشر ثواب و عذاب سے پوری طرح واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ۔۔ :”كُلًّا“ میں تنوین عوض کی ہے، یعنی اس کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ اصل میں تھا ”کُلُّھُمْ“ یا ”کُلُّ ھٰؤُلَاءِ“ (یہ سب لوگ) ”لَمَّا“ کا معنی ”جب“ ہے، یہ حرف شرط ہے جس کی شرط محذوف ہے۔ ”لَيُوَفِّيَنَّهُمْ“ اس کی جزا ہے۔ وہ محذوف شرط ”لَمَّا“ کے معنی کے مطابق نکالی جائے گی، یعنی ”لَمَّا جَاءَ أَجَلُھُمْ“ یعنی بیشک یہ سب لوگ (جب ان کا وقت آئے گا) تو یقیناً انھیں ان کا رب ان کے اعمال کا ضرور پورا پورا بدلہ دے گا۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کے منکر تھے، اس لیے اس جملے میں کئی طرح سے تاکید آئی ہے۔ ”اِنَّ“ ، لام تاکید اور نون ثقیلہ۔ ”لَّمَّا“ کا مابعد حذف کرنے سے بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 111 قولہ تعالیٰ : وان کلالمالیوم فینھم ربک اعمالھم یعنی وہ تمام قومیں جنہیں ہم نے شمار کیا ہے اپنے اعمال کی جزاء کو دیکھ لیں گی۔ اے محمد ! ﷺ اسی طرح آپ کی قوم بھی دیکھ لے گی۔ وان کلالما کی قراءت میں قراء کا اختلاف ہے۔ اہل حرمین، نافع، ابن کثیر اور ان کے ساتھ ابوبکر نے وان کلاتخفیف کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے اسے ان مشقلہ سے مخففہ معملہ بنایا ہے۔ خلیل نحوی اور سیبیویہ نے بھی اسے ذکر کیا ہے، سیبیویہ نے کہا : ہمیں ایک ایسے آدمی نے بیان کیا ہے جس پر میں اعتماد کرتا ہے۔ خلیل نحوی اور سیبویہ نے بھی اسے ذکر کیا ہے، سیبویہ نے کہا : ہمیں ایک ایسے آدمی نے بیان کیا ہے جس پر میں اعتماد کرتا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 109–111

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو کیونکہ یقین کے بعد مکافاۃ سے افضل کوئی چیز عطا نہیں کی گئی اور شک کرنے میں سے بچو کیونکہ کفر کے بعد شک سے بڑھ کر شر پھیلانے والی کوئی چیز کسی کو نہیں دی گئی۔ 2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا لموفوھم نصیبہم غیر منقوص “ کے بارے میں فرمایا کہ جو کچھ ان کے لئے مقدر کیا گیا خیر وشر میں سے (ہم یقینی طور پر انہیں ان کا حصہ پورا پورا دیں گے اور ان میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی۔ 3:۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَان : اور یقینا ] [ كُلًّا : سب کے سب ] [لَمَا : جب (جمع کئے جائیں گے)] [لَيُوَفِّيَنَّهُمْ : تو لازماً پورا پورا دے گا ان کو ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [اَعْمَالَهُمْ : ان کے اعمال (کا بدلہ)] [انهٗ : یقینا وہ ] [بِمَا : اس سے جو ] [يَعْمَلُوْنَ : وہ لگ کرتے ہیں ] [ خَبِيْرٌ: باخبر ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا۔ (وَاِنَّ کُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ اَعْمَالَھُمْ ) (اور بیشک آپ کا رب ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے دے گا) (اِنَّہٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) (بیشک وہ ان کے اعمال سے باخبر ہے) طاعات اور عاصی کی سب تفصیلات اسے معلوم ہیں۔ اس کے علم سے کسی کا کوئی علم باہر نہیں وہ اپنے علم اور حکمت کے مطابق جزا اور سزا دے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کے مصاحبین کو خطاب فرمایا (فَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ ) (سو آپ استقامت پر رہیں) صحیح طور پر قائم رہنے کو استقامت کہا جاتا ہے اور سیدھے راستہ کو (صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمَ ) کہتے ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جو اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 110–115

تحذیر از اختلاف وافتراق وحکم استقامت براحکام شریعت قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ .... الیٰ .... فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی مگر لوگوں نے اس میں اختلاف کیا کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا اور مورد عتاب الٰہی بنے۔ لہٰذا اے مسلمانو ! تم کو چاہئے کہ ان سے عبرت پکڑو اور جو کتاب مبین ہم نے تم کو دی ہے سب مل کر اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور تفرق اور اختلاف سے پرہیز رکھو اور جادہ شریعت پر ایسے مستقیم ہوجاؤ کہ پائے استقامت میں تزلزل نہ آنے پائے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

92: یہ تخویف اخروی ہے۔ اس کی دو ترکیبیں ہیں۔ (1) کَلَّا اسم اِنّ اور لما کی شرط محذوف ہے ای یبعثھم اور لَیُوَفِّیَنَّھُمْ جزا ہے اور شرط و جزا مجموعہ اِنَّ کی خبر ہے اور مطلب یہ ہے کہ بیشک جب ہر ایک کو اللہ اٹھائے گا تو ان کو پوری پوری جزا دے گا۔ (2) لَیُوَفِّیَنَّھُمْ شرط اور اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ اس کی جزا ہے اور مجموعہ شرط و جزا اِنَّ کی خبر ہے یعنی بیشک ہر ایک کو جب اللہ جزا دے گا تو وہ ان کے اعمال سے خبردار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 110–112

ربط آیات پہلے اللہ نے مختلف نافرمان قوموں کا ذکر کیا کہ اللہ کے نبیوں نے انہیں کس طرح تبلیغ کی ، پھر اس نافرمانی کی بدولت ان اقوام پر ہونے والے مئواخذہ کا ذکر کیا۔ اس دنیا میں دی گئی سزا کے علاوہ جو سزا ان کو آخرت میں ملنے والی ہے ، اس کا بھی تذکرہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے کفر اور شرک کی تردید کی اور واضح کیا کہ کافر اور مشرک اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ ہر ایک کو اپنے اپنے عقیدے اور عمل کا صلہ ملے گا ار اس ضمن میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ نزول تورات اسی یقین کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ولقد اتینا موسیٰ الکتب اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی۔ یہ عظیم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّہُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَہُمْ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۝ 111 لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 110–113

چہارم ولقد اتینا موسیٓ الکتب سے لے کر انہ بما یعملون خبیر تک کفار عرب کا جس طرح انکار توحید پر اصرار بیان فرمایا تھا اسی طرح انکار نبوت آنحضرت ﷺ پر اصرار کا ذکر کرتا ہے کہ یہ نئی بات نہیں۔ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کیونکہ عرصہ ہوا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی تھی سو اس کو کب سب نے تسلیم کرلیا تھا بلکہ اس میں اختلاف ہوا کہ بنی اسرائیل نے مانا دیگر اقوام نے انکار کیا اس میں یہ بھی رمز ہے کہ خود بنی اسرائیل کا اس کی تعمیل اور عدم تعمیل حکم میں اور نیز خود نفس توریت میں بھی اختلاف ہو کر بیشمار فرقے پیدا ہوگئے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر ہمارے ہاں سے یہ بات مقرر نہ ہوچکی ہوتی کہ ہم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِنَّ کُلاًّ لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ اَعْمَالَہُمْ ط اِنَّہٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (سورۃ ہود : 111) (اور یقینا تیرا رب ان سب کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ یہ کررہے ہیں اس سے باخبر ہے۔ ) لَمَّاکی تحقیق آیت کی تشریح سے پہلے ” لَمَّا “ کی تحقیق ! بعض قراء نے اسے بغیر تشدید کے پڑھا ہے اور بعض نے تشدید کے ساتھ۔ پھر الگ الگ اس کی تعلیل اور توجیہ کی ہے، لیکن ہم تفصیل سے بچتے ہوئے صرف اتنا عرض کرتے ہیں کہ ” لَمَّا “ میں ’ ’ لام “ تا کید اور قسم کے لیے ہے اور ’ ’ مَا “ زائد ہے۔ عربی زبان میں بعض دفعہ صوتی آہنگ کی درستی کے لیے اس طرح الفاظ کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 110–111

فہم القرآن ربط کلام : چند آیات پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کے مقابلہ میں فرعون کا رد عمل اور اس کا انجام ذکر ہوا تھا اور اب پھر موسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ دے کر سورة ھود کا اختتام ہو رہا ہے۔ فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور ان کے معجزات کا انکار کیا تھا۔ فرعون سے آزادی ملنے کے بعد جب بنی اسرائیل کو تختیوں کی شکل میں مفصل کتاب عنایت کی گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر تورات کا انکار کیا کہ ہم اس وقت تک اس کے منجانب اللہ ہونے کا اقرار نہیں کریں گے۔ جب تک ہم براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل نہ کرلیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بہت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

111: وَاِنَّ کُلًّا (اور بالیقین تمام کے تمام) کُلاًّ کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے۔ یعنی اِنَّ کُلَّہُمْ یعنی بیشک تمام اختلاف کرنے والے ہیں اس میں۔ لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّہُمْ رَبُّکَ اَعْمَالَہُمْ ۔ (آپ کا رب انہیں ان کے اعمال کا بدلہ پورا پورا دے گا) قراءت : اِنَّ مشددہ اور لَمَّا تخفیف کے ساتھ بصری، علی نے پڑھا۔ اور ما زائدہ ہے اِنَّ اور لَیُوَفِّیَنَّھُمْ کی لام میں فاصلہ کیلئے لایا گیا ہے۔ لَیُوَ فِّیَنَّھُمْ یہ قسم محذوف کا جواب ہے۔ لَّمَّا میں لام قسم کی تمہید کیلئے لائی گئی ہے۔ مطلب اس طرح ہے۔ وان جمیعہم واللّٰہ لیوفینھم ربک اعمالہم بیشک تمام کو اللہ تعالیٰ کی قسم ضرور تیرا رب ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

111۔” وان کلما لما۔۔۔۔۔ انہ بما یعلمون خیبر “۔ ابن کثیر اور نافع اور ابوبکر ( وان کلا) نون ساکن تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے نون کے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ( لما) یہاں پر سورة یٰسین اور سورة طارق میں تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر عاصم حمزہ نے اور اس جگہ ابو جعفر نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے ( لما) اصل میں ” لمن ما “ تھا نون کو میم سے بدل دیا ۔ تین میم جمع ہوگئے اول میم کو حذف کردیا ، پھر ایک میم کو دوسرے میم میں ادغام کردیا ، یہاں پر ما بمعنی من کے ہے۔ لوگوں کی جماعت کو کہا جاتا ہے ، بعض نے کہا کہ ماصلہ ہے ، یہ دو میموں کے درمیان زیادہ لایا گیا ۔ بعض نے کہا ما من کے معنی میں ہے تقدیر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 109–111

109۔ 110۔ اللہ پاک نے حضرت رسول خدا ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ یہ کفار مکہ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں اس کے شرک ہونے میں تم کچھ شک نہ کرو مشرکین مکہ بت پرستی کو ملت ابراہیمی بتلاتے تھے جس سے ناواقف مسلمانوں کو دھوکا ہوتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر ان ناواقف مسلمانوں کو جتلا دیا کہ بت پرستی کے شرک نہ ہونے کی ان مشرکوں کے پاس کوئی سند نہیں ہے یہ فقط اپنے باپ دادا کی پیروی کرتے ہیں ہم اس کا بدلہ پورا پورا ان کو دیں گے پھر فرمایا کہ اسی طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب اتاری تھی لوگوں نے اس میں اختلاف کیا بعضے ایمان لائے اور بعض نہیں لائے تم پر بھی جو قرآن اتارا گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ : اور جتنے لوگ ہیں، سب کو پورا دے گا آپ کا رب ان کے اعمال (کا بدلہ) یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان ضرور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو وہی سزا و جزا دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ (اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ : بیشک وہ اس سے جو عمل یہ کرتے ہیں) اچھے یا برے۔ (خَبِيْرٌ: باخبر ہے) ۔ ان کے اعمال میں سے کوئی چھوٹی یا بری چیز اس پر مخفی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کی عدم استقامت کا ذکر کرنے کے بعد، جو ان کے اختلاف و افتراق کا باعث تھی، اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ صراط مستقیم پر گامزن رہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–112

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 110–112

212 ۔ پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کے سامان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی مگر اس میں بھی اختلاف کیا گیا کہ کچھ نے مانا اور کچھ نے نہ مانا۔ پس قرآن پاک کے بارے میں ان کفار اشرار کے اختلاف کے باعث آپ ﷺ اے پیغمبر رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ کہ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ پہلے سے ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ (المراغی، الفتح، الجامع وغیرہ) سو آپ بھی اسی طرح صبر ہی سے کام لیتے رہیں جس طرح کہ انہوں نے صبر سے کام لیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 110–115

نبی اکرم ﷺ کو تسلی اور چند ہدایات تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کچھ قرآن کو مانتے اور کچھ انکار کرتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مثال دے کر تسلی دی کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) جتنے بھی دنیا میں آچکے ہیں سب کے ساتھ ایسے ہی ہوتا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بھی ایسے ہی کرتی رہی مگر ان کو فوراً عذاب نہ دیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو عذاب دینے کا وقت تو اللہ نے پہلے ہی مقرر کر رکھا ہے۔ اس بات کا یعنی آخرت کا کیونکہ ان کو یقین نہ تھا اس لیے وہ غفلت میں پڑے رہے۔ حالانکہ اللہ رب العزت تو ان کے تمام اعمال سے پوری طرح واقف ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 110–123

آیات 110 تا 123 اسراومعارف موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 111–112

ف 7 ۔ یعنی اللہ کے حکم اور شریعت پر قائم رہیں۔ ” استقامت “ ایک نہایت ہی جامع لفظ ہے جو شریعت کے پورے نظام کی پابندی سے عبارت ہے۔ ایک صحابی ؓ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتلا دیئے جس کے بعد مجھے آپ ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے سے دریافت کی ضرورت نہ رہے۔ “ فرمایا : قل امنت باللہ ثم استقم کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر استقامت اختیا کرو۔ (فتح البیان) یہ آیات شامل ہے عقائد و اعمال اور اخلاق کو عقائد میں استقامت یہ ہے کہ تشبیہ و تعطیل اور اہل ذریغ کی تاویل سے اجتناب کیا جائے اور اعمال میں زیادت و نقصان، بدعات اور تقلید رجال و آراء سے احتراز لازم ہے۔ اخلاق…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:111) کلا۔ تمام ۔ سارے۔ ہر ایک۔ کلا کا نصب بوجہ عمل ان اور تنوین بعوض مضاف الیہ ہے۔ اسی ان کل المختلفین المؤمنین والکافرین۔ لما۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ (ا) (1) یہ اصل میں لمن ما تھا۔ نون کو میم سے بدلا گیا۔ لمما ہوگیا تین میم جمع ہوگئے پہلے میم کو حذف کیا گیا۔ لما ہوگیا۔ (2) یہ لم سے لم یلم (باب نصر) لما مصدر ہے بمعنی جمع کرنا۔ تنوین کے عوض تخفیف کے لئے الف آگیا۔ لما ہوگیا۔ اس صورت میں معنی ہوگا۔ ان کلا جمیعا۔ (ب) لما میں لام لام قسم ہے۔ ما زائدہ ہے لیوفینھم۔ جواب قسم ۔ اور تقدیر کلام یوں ہے وان جمیعہم واللہ لیوفینھم۔ خدا کی قسم ہے وہ ان سب کو ضرور پورا پورا معاوضہ دیگا پس صدیقین کو ان کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 110–113

لغات القرآن آیت نمبر 110 تا 113 اختلف (اختلاف کیا گیا) کلمۃ (حکم) سبقت (گذر گیا، گذر گئی) قضی (فیصلہ کردیا گیا) مریب (شبہ میں ڈالنے والا) کل (ہر ایک، سب کے سب) لیوفین (پورا کئے جائیں گے) استقم (سیدھا رہ) امرت (تجھے حکم دیا گیا ) تاب (متوجہ ہوا ، توبہ کی) لاتطغوا (نافرمانی نہ کرو) لاترکنوا (تم مائل نہ ہو) تمس (پہنچے گی ) اولیاء (ولی) ، دوست، حمایتی ) لاتنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) تشریح :- آیت نمبر 110 تا 113 کفار و مشرکین اور مناقفین کو جب بھی موقع ملتا وہ دین اسلام اور نیب کریم ﷺ کی ذات پاک پر کیچڑ اچھالنے اور اسلام کی تعلیمات کو لوگوں کی نگاہوں میں بےوقعت اور بےقیمت بنانے میں کسر نہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 111–113

مستعد ہونے کا حکم، ظالموں یا کافروں سے دوستی نہ کرو اگرچہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب ٹھرایا ہے لیکن اس حکم میں آپ کی امت اول سے آخر تک سب شامل ہے۔ حکم یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کا حکم ہوا ہے اس پر قائم رہو۔ جب یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ مستعد ہوجاؤ مستعد ہوجاؤ پھر آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہی وہ آیت ہے جس سے شرع کے کل احکام نکلتے ہیں۔ یہ خطاب مسلمانوں سے ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ حد سے نہ گزرو، دیکھو اللہ تمہارے کاموں کو دیکھتا ہے۔ آگے ارشاد ہوتا ہے کہ اے مسلمانو ! جو لوگ ظالم ہیں یا کافر ہیں ان کی طرف میلان نہ کرو یعنی ان سے دوستی کا خیال نہ کرو ورنہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 110–113

[57] وہ ٹھہرائی ہوئی بات یہی ہے کہ پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔ [58] وہ فیصلہ یہی کہ منکرین پر عذاب اسی دنیا میں آگیا ہوتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 108–111

رحمت الہی کی فراوانیاں : (ف 1) دنیا میں ہمیشہ دو گروہ رہے ہیں ، ایک وہ جنہیں سعادت ازلی سے بہرہ وافر ملا ہے ، اور دوسرا وہ جن کے حصہ میں محرومی شقاوت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔ اللہ نے ان گروہوں کے لئے حیات اخروی میں اعمال کے موافق وومقام تجویز فرمائے ہیں ۔ ایک مقام غضب جس کا نام جہنم یا دوزخ ہے اور ایک مقام رحمت وعفو ، جو جنت یا فردوس کے نام سے مشہور ہے ان آیات میں اس حقیقت کی تشریح مذکور ہے ، (آیت) ” مادامت السموت والارض “۔ عربی محاورہ ہے جس سے مراد دوام وتائید ہوتی ہے جیسے ” ما جن اللیل ، ماناح الحمام ما سال سبل ، ماطما جر “۔ وغیرہ محرات میں مقصد دوام ہوتا ہے ۔ عذاب کی آیت میں (آیت) ” الا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

1 1 1 اور بیشک وقت آنے پر ان سب کو آپ کا رب ان کے اعمال کا پورا پورا بدلے دے گا بلاشبہ خدا تعالیٰ ان کے سب اعمال سے باخبر ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں یعنی جب سب اعمال کا علم ہے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے تو بدلہ بھی سب ہی کا ملنا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 110–113

ف 9۔ کسی نے مانا کسی نے نہ مانا یہ کوئی آپ کے لیے نئی بات نہیں ہوئی پس آپ مغموم نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تیرا رب ان کے اعمال کا بدلہ پورا پورا دے گا کہ وہ اچھی طرح خبردار ہے ۔ 138 اللہ تعالیٰ کے ہاں قانون امہال کے باعث ڈھیل دینا مشیت الٰہی میں طے ہے اس لئے جن لوگوں کو ڈھیل دی گئی اور ایک مدت کے بعد ان کا فیصلہ ہوا اور وہ اپنے انجام کو پہنچے یا اس وقت جن کو اس قانون امہال کے تحت ڈھیل دی جا رہی ہے کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اللہ کے ہاں سب کا جمع ہونا یقینی امر ہے اور سب کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جانا بھی رب ذوالجلال والا کرام پر لازم و ضروری ہے کیونکہ اس نے خود بغیر کسی کے کہے اس بات کا وعدہ فرمایا ہے اور وعدئہ الٰہی کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ اس لئے فرمایا گیا کہ ” سب کے لئے یہی ہونا ہے کہ جب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–111

After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said: وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you. The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 110–113

111. If people launch scurrilous attacks on the Qur'an, this is not altogether novel. The same happened before. When Moses (peace be on him) was granted the scripture, people raised a variety of objections against it. The Prophet Muhammad (peace be on him) should not, therefore, feel disheartened that his people rejected the teachings of the Qur'an despite their lucidity. 112. This is being said in order to comfort the Prophet (peace be on him) and his Companions. They are being asked to be patient and not to seek a hasty judgement from God concerning those who differ about the Qur'an. For…

Read the full tafseer →