Explained with ayahs 109–111
مشرکوں کا حشر
مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے ؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کا عاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ ؑ کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کردیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ چونکہ ہم وقت مقرر کرچکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آجاتا ہے۔ کافروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
سورة هُوْد 111
یعنی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ آج اس قرآن کے بارے میں مختلف لوگ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کر رہے ہیں، بلکہ اس سے پہلے جب موسیٰ ؑ کو کتاب دی گئی تھی تو اس کے بارے میں ایسی ہی مختلف رائے زنیاں کی گئی تھیں، لہذا اے محمد ﷺ ، تم یہ دیکھ کر بددل اور شکستہ خاطر نہ ہو کہ ایسی سیدھی سیدھی اور صاف باتیں قرآن میں پیش کی جا رہی ہیں اور پھر بھی لوگ ان کو قبول نہیں کرتے۔
سورة هُوْد 112
یہ فقرہ بھی نبی ﷺ اور اہل ایمان کو مطمئن کرنے اور صبر دلانے کے لیے فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اس بات کے لیے بےچین نہ ہو کہ جو لوگ اس قرآن کے بارے میں اختلافات کر رہے ہیں ان کا فیصلہ جلدی سے چکا دیا جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خلاصہ تفسیر
اور آپ کے رب کی دار و گیر ایسی ہی (سخت) ہے جب وہ کسی بستی والوں پر دار وگیر کرتا ہے جبکہ وہ ظلم (و کفر) کیا کرتے ہوں، بلا شبہ اس کی دار و گیر بڑی الم رساں (اور) سخت ہے (کہ اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا) ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو (وجہ عبرت ظاہر ہے کہ جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دار الجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دار الجزاء ہے کیسا سخت عذاب ہوگا) وہ (یعنی آخرت کا دن) ایسا دن ہوگا کہ اس میں تمام آدمی جمع کئے جاویں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے اور (وہ دن گو اب تک آیا نہیں لیکن اس سے کوئی اس کے آنے میں شک نہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ۔
یہ آیت جس سیاق وسباق میں یہاں ہے۔ بعینہ اسی سیاق وسباق میں سورة حم السجدہ میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 43۔ 45۔ مَا يُقَالُ لَكَ إِلا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ (43) وَلَوْ جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا أَعْجَمِيًّا لَقَالُوا لَوْلا فُصِّلَتْ آيَاتُهُ أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
110۔ 1 یعنی کسی نے اس کتاب کو مانا اور کسی نے نہیں مانا۔ یہ نبی کو تسلی دی جا رہی ہے کہ پچھلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا آیا ہے، کچھ لوگ ان پر ایمان لانے والے ہوتے اور دوسرے تکذیب کرنے والے۔ اس لئے آپ اپنی تکذیب سے نہ گھبرائیں۔
110۔ 2 اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے ان کے لئے عذاب کا ایک وقت مقرر کیا ہوا نہ ہوتا تو وہ انھیں فورا ہلاک کر ڈالتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–113
60: اس سے موجودہ زمین اور آسمان مراد نہیں ہیں، کیونکہ یہ تو قیامت کے ساتھ ختم ہوجائیں گے، البتہ قرآن کریم ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں وہاں کے حالات کے مطابق دوسرے زمین و آسمان پیدا کئے جائیں گے (دیکھئے سورة ابراہیم 14۔ 48، سورة زمر 24۔ 74) اور چونکہ وہ زمین و آسمان ہمیشہ رہیں گے اس لئے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ بھی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔
61: رَبُّکَ : اسی قسم کا استثناء سورة انعام (6۔ 128) میں بھی گزرا ہے جیسا کہ وہاں ہم نے عرض کیا تھا، اس کی ٹھیک ٹھیک مراد تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، لیکن اس سے بظاہر ایک تو یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ کسی کے عذاب وثواب کا تمام ترفیصلہ اللہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيه (110 : 11) “ ہم اس سے پہلے موسیٰ ٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) ”
قوم موسیٰ ٰ (علیہ السلام) نے اپنی کتاب کے بارے میں بہت سے اختلافات کیے ، ان کے اعتقادات کیا سے کیا بن گئے اور وہ فرقے فرقے بن گئے۔ لیکن اللہ کی طرف سے حکم یہ تھا کہ ان کو تباہ نہ کیا جائے اور ان سے پورا پورا حساب قیامت کے دن لیا جائے۔
وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ (110 : 11) “ اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو…
Read the full tafseer →1 موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دے کر بھیجا تو آپس میں پھوٹ پڑگئی، کسی نے قبول کیا کسی نے نہ کیا۔ جس طرح آج قرآن عظیم کے متعلق یہ ہی اختلاف ہو رہا ہے۔ بیشک خدا کو قدرت تھی کہ یہ اختلاف و تفریق پیدا نہ ہونے دیتا یا پیدا ہو چکنے کے بعد تمام مکذبین کا فورا استیصال کر کے سارے جھگڑے ایک دم میں چکا دیتا۔ مگر اس کی حکمت تکوینی اس کو مقتضی نہ ہوئی۔ ایک بات اس کے یہاں پہلے سے طے شدہ ہے کہ انسان کو ایک خاص حد تک کسب و اختیار کی آزادی دے کر آزمائے کہ وہ کس راستہ پر چلتا ہے، آیا خالق و مخلوق کا ٹھیک ٹھیک حق پہچان کر خدا کی رحمت و کرامت کا مستحق بنتا ہے یا کجروی اور غلط کاری سے فطرت صحیحہ کی راہنمائی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ
یہ بات سورة الشوریٰ میں وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ ہر رسول کی امت اپنی الہامی کتاب کی وارث ہوتی ہے۔ پھر جب اس امت پر زوال آتا ہے تو اپنی اس کتاب کے بارے میں بھی ان کے ہاں شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں کہ واقعتا یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے بھی یا نہیں !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
123 کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں اختلاف کی صورتیں :۔ یعنی جس طرح آج قرآن کے بارے میں اختلاف کیا جارہا ہے۔ کوئی کہتا ہے، یہ پہلوں کی کہانیاں ہیں کوئی کہتا ہے، کہ یہ بیان کی جادوگری ہے کوئی کہتا ہے، کہ قرآن اس نبی کا تصنیف کردہ ہے، کوئی کہتا ہے، کہ یہ کسی دوسرے سے سیکھ کر یہ قرآن پیش کر رہا ہے اور ایک حق پرست گروہ اسے منزل من اللہ بھی سمجھتا ہے، اسی طرح تورات میں بھی اختلاف کیا گیا تھا اور لوگوں کا یہ جرم اتنا شدید ہے جس پر انھیں فوری طور پر ہلاک کیا جاسکتا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت اور لوگوں کی آزمائش کے لیے ایک مدت مقرر رکھی ہے اس لیے فوری طور پر نہ قوم موسیٰ ہلاک کی گئی تھی اور نہ…
Read the full tafseer →153۔ یعنی کچھ نے اسے مانا اور کچھ اس میں بھی طرح طرح کے شبہات اعتراضات بھی نکالتے رہے، حالانکہ کتاب توریت تو اسرائیلیوں کی اپنی ” قومی “ کتاب بھی تھی تو پھر قرآن کے باب میں تو جو کچھ بھی تردد و انکار ہو کوئی نئی بات نہ ہوگئی۔
154۔ یعنی اس فیصلہ ہی کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور فیصلہ سے مراد عذاب موعود ہے۔ (آیت) ” کلمۃ سبقت من ربک “۔ اور وہ ٹھہرائی ہوئی بات یہی کہ پورا عذاب آخرت ہی میں ہوگا۔ (آیت) ” لقضی بینھم “۔ یعنی اسی دنیا میں فیصلہ ہوگیا ہوتا، اور فیصلہ سے مراد عملی مشاہد فیصلہ ہے۔ (آیت) ” بینہم “ سے مراد اختلاف کرنے والوں کے در میان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیت نمبر 110 تا 123
ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…
Read the full tafseer →ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (یعنی توریت) پھر اس میں اختلاف کیا گیا۔ کسی نے اس کو مانا ‘ تصدیق کی ‘ کسی نے نہ مانا ‘ تکذیب کی۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی کا پیام ہے کہ قرآن کی تصدیق و تکذیب کوئی نئی بات نہیں ‘ حضرت موسیٰ کو جو توریت دی گئی تھی اس کو ماننے نہ ماننے میں ایسے ہی اختلاف ہوگیا تھا۔
ولا لا کلمۃ سبقت من ربک لقضي بینھم اور اگر ایک بات آپ کے رب کی طرف سے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کا قطعی فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا۔ یعنی اگر قیامت تک مہلت دینے کا اللہ کا (ازلی) حکم نہ ہوگیا ہوتا تو حق پرست اور باطل پرست کا فیصلہ یہیں ہو چکتا۔ حق پرست کو بچا لیا…
Read the full tafseer →(110) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو توریت دی تو کتاب موسیٰ میں لوگوں نے اختلاف کیا بعض اس کتاب پر ایمان لائے اور بعض نے اس کتاب کا انکار کیا،
اور اگر آپ کی امت کے بارے میں تاخیر عذاب کی بات پہلے سے مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو ابھی تک ان کی ہلاکت ہوچکی ہوتی اور کب کا عذاب ان پر آچکا ہوتا اور یہ لوگ ابھی تک شک وشبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ : سورة ہود واحد سورت ہے جس میں ایک ہی رسول کا ذکر دو بار ہوا ہے۔ اس سے پہلے یہ ذکر ہوا ہے کہ موسیٰ ؑ کو حکم دیا گیا تھا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جائیں، آیات اور سلطان مبین پیش کریں اور جیسا کہ سورة طٰہٰ میں ذکر ہے، اس سے مطالبہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو عذاب دینا چھوڑ دے اور انھیں آزادی دے کر میرے ساتھ بھیج دے۔ اگرچہ اس کے ساتھ توحید و رسالت کی دعوت بھی تھی، مگر وہ مسلمان ہی نہیں ہوا کہ اس کے لیے مفصل احکام نازل ہوتے۔ اس وقت تمام احکام زبانی تھے، تورات نازل نہیں ہوئی تھی، اس لیے ساتھ ہی اس کا انجام ذکر کردیا : (يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 110
قولہ تعالیٰ : ولولاکلمۃ سبقت من ربککلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ قیامت تک ان سے عذاب کو مؤخر کردیا جائے کیونکہ اسی میں اصلاح اور بہتری معلوم ہوتی ہے، اگر یہ فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو ان کے درمیان ان کی اجل کا فیصلہ ہوجاتا کہ مومن کو ثواب دیا جائے اور کافر کو سزا، ایک قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کے بارے میں اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ مراد ہے یا اس صورت میں مصدق اور مکذب کے درمیان تھے۔ ایک قول یہ ہے : اے محمد ! ﷺ آپ کی ذات کے بارے میں ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان اگر عقاب میں جلدی کے بارے میں فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو عذاب نازل کردیا جاتا لیکن اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو کیونکہ یقین کے بعد مکافاۃ سے افضل کوئی چیز عطا نہیں کی گئی اور شک کرنے میں سے بچو کیونکہ کفر کے بعد شک سے بڑھ کر شر پھیلانے والی کوئی چیز کسی کو نہیں دی گئی۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا لموفوھم نصیبہم غیر منقوص “ کے بارے میں فرمایا کہ جو کچھ ان کے لئے مقدر کیا گیا خیر وشر میں سے (ہم یقینی طور پر انہیں ان کا حصہ پورا پورا دیں گے اور ان میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی۔
3:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ اٰتَيْنَا : اور بیشک ہم دے چکے ہیں ] [ مُوْسَى: موسٰی (علیہ السلام) کو ] [ الْكِتٰبَ : کتاب ] [ فَاخْتُلِفَ : پھر اختلاف کیا گیا ] [ فِيْهِ : اس میں ] وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتا ] [ كَلِمَةٌ: ایک فرمان جو ] [ سَبَقَتْ : پہلے ہوا ] [مِنْ رَّبِكَ : آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] [لَقُضِيَ : تو ضرور فیصلہ کردیا جاتا ] [بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان ] [ وَانهُمْ : اور یقینا وہ ] [لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ : ایک شہد ڈالنے والے شک میں ضرور ہیں اس سے ]
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور توریت شریف کا تذکرہ ‘ آنحضرت ﷺ اور آپ کے متبعین کو استقامت پر رہنے کا حکم
ان آیات میں اولاً موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ ہم نے انہیں کتاب دی تھی (یعنی توریت شریف) اس میں اختلاف کیا گیا کسی نے مانا کسی نے نہیں مانا اس میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ قرآن مجید کے بارے میں اگر لوگ اختلاف کر رہے ہیں کوئی مانتا ہے کوئی نہیں مانتا ‘ تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا موسیٰ (علیہ السلام) پر ہم نے کتاب نازل کی تو اسے بھی کسی نے مانا کسی نے نہیں مانا۔
پھر فرمایا (وَلَوْ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ ) (آپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–115
تحذیر از اختلاف وافتراق وحکم استقامت براحکام شریعت
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ .... الیٰ .... فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی مگر لوگوں نے اس میں اختلاف کیا کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا اور مورد عتاب الٰہی بنے۔ لہٰذا اے مسلمانو ! تم کو چاہئے کہ ان سے عبرت پکڑو اور جو کتاب مبین ہم نے تم کو دی ہے سب مل کر اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور تفرق اور اختلاف سے پرہیز رکھو اور جادہ شریعت پر ایسے مستقیم ہوجاؤ کہ پائے استقامت میں تزلزل نہ آنے پائے…
Read the full tafseer →90:۔ یہ گویا سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال یہ کہ اگر قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے تو اس میں اختلاف کیوں کیا گیا سب نے کیوں نہیں مان لیا۔ جواب دیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات کو تو واقعی اللہ کا کلام مانتے ہو حالانکہ اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا بعض نے اس کو مانا بعض نے نہ مانا۔ اس میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ بھی ہے اٰمن بہ قوم و کفر بہ قوم کما اختلف فی القران وھو تسلیة لرسول اللہ ﷺ (مدارک ج 2 ص 158) ۔
91:۔ یہ سوال مقدرہ کا جواب ہے۔ مشرکین نے کہا اگر ہم نہیں مانتے تو ہمارا مواخذہ کیوں نہیں ہوتا۔ جواب دیا گیا مواخذہ اور عذاب کے لیے اجل مقرر ہے وہ اپنے وقت پر آئے گا اگر اس کے لیے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
ربط آیات
پہلے اللہ نے مختلف نافرمان قوموں کا ذکر کیا کہ اللہ کے نبیوں نے انہیں کس طرح تبلیغ کی ، پھر اس نافرمانی کی بدولت ان اقوام پر ہونے والے مئواخذہ کا ذکر کیا۔ اس دنیا میں دی گئی سزا کے علاوہ جو سزا ان کو آخرت میں ملنے والی ہے ، اس کا بھی تذکرہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے کفر اور شرک کی تردید کی اور واضح کیا کہ کافر اور مشرک اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ ہر ایک کو اپنے اپنے عقیدے اور عمل کا صلہ ملے گا ار اس ضمن میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔
نزول تورات
اسی یقین کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ولقد اتینا موسیٰ الکتب اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی۔ یہ عظیم…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْہِ 0ۭ وَلَوْ لَا كَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَہُمْ 0 ۭ وَاِنَّہُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْہُ مُرِيْبٍ 110
آتینا
وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .
[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ
[ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني .
{…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
چہارم ولقد اتینا موسیٓ الکتب سے لے کر انہ بما یعملون خبیر تک کفار عرب کا جس طرح انکار توحید پر اصرار بیان فرمایا تھا اسی طرح انکار نبوت آنحضرت ﷺ پر اصرار کا ذکر کرتا ہے کہ یہ نئی بات نہیں۔ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کیونکہ عرصہ ہوا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی تھی سو اس کو کب سب نے تسلیم کرلیا تھا بلکہ اس میں اختلاف ہوا کہ بنی اسرائیل نے مانا دیگر اقوام نے انکار کیا اس میں یہ بھی رمز ہے کہ خود بنی اسرائیل کا اس کی تعمیل اور عدم تعمیل حکم میں اور نیز خود نفس توریت میں بھی اختلاف ہو کر بیشمار فرقے پیدا ہوگئے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر ہمارے ہاں سے یہ بات مقرر نہ ہوچکی ہوتی کہ ہم…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی الْکِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْہِ ط وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ ط وَاِنَّھُمْ لَفِیْ شَکٍ مِّنْہُ مُرِیْبٍ ۔ (سورۃ ہود : 110)
(اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر ایک بات پہلے طے نہ کردی گئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ بیشک وہ ایسے شبہ میں مبتلا ہیں جو الجھن میں ڈال دینے والا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں اور یہ تینوں باتیں جاری سلسلہ بیان سے مربوط ہیں۔ گزشتہ آیات سے آنحضرت ﷺ کو معاندین اور مخالفین کی بڑھتی ہوئی دشمنی کے حوالے سے تسلی دی جارہی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
فہم القرآن
ربط کلام : چند آیات پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کے مقابلہ میں فرعون کا رد عمل اور اس کا انجام ذکر ہوا تھا اور اب پھر موسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ دے کر سورة ھود کا اختتام ہو رہا ہے۔
فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور ان کے معجزات کا انکار کیا تھا۔ فرعون سے آزادی ملنے کے بعد جب بنی اسرائیل کو تختیوں کی شکل میں مفصل کتاب عنایت کی گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر تورات کا انکار کیا کہ ہم اس وقت تک اس کے منجانب اللہ ہونے کا اقرار نہیں کریں گے۔ جب تک ہم براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل نہ کرلیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بہت…
Read the full tafseer →110: وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ (اور تحقیق ہم نے دی موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب) یعنی تورات فَاخْتُلِفَ فِیْہِ (پھر اس میں اختلاف ڈالا گیا) بعض لوگ ایمان لائے اور ایک قوم نے انکار کردیا۔ جیسا کہ قرآن میں اختلاف کر رہے ہیں اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی۔ وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ (اگر ایک بات آپ کے رب کی طرف سے نہ ہوچکی ہوتی) کہ وہ ان کو جلدی سزا نہ دے گا۔ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ (تو ان کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہوتا) نمبر 1۔ قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان نمبر 2۔ آپ کا اور آپ کی قوم کا ایسے عذاب سے جو ان کو جڑ سے اکھاڑ دیتا۔ وَاِنَّھُمْ لَفِیْ شَکٍّ…
Read the full tafseer →110” ولقد اتینا موسیٰ الکتاب “ کتاب سے مراد تورات ہے ” فاختلف فیہ “ بعض نے تصدیق کی بعض نے تکذیب جیسے آپ (علیہ السلام) کی قوم نے قرآن کے ساتھ کیا ہے ۔ اپنے نبی (علیہ السلام) کو تسلی دی ہے۔ ” ولو لا کلمۃ سبقت من ربک “ ان سے عذاب کو مؤخر کرنے میں ” لقضی بینھم “ یعنی فی الحال عذاب دیئے جاتے اور ان کے عذاب اور ہلاک کرنے سے فراغت ہوچکی ہوتی ۔” وانھم لفی شک منہ مریب “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
109۔ 110۔ اللہ پاک نے حضرت رسول خدا ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ یہ کفار مکہ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں اس کے شرک ہونے میں تم کچھ شک نہ کرو مشرکین مکہ بت پرستی کو ملت ابراہیمی بتلاتے تھے جس سے ناواقف مسلمانوں کو دھوکا ہوتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر ان ناواقف مسلمانوں کو جتلا دیا کہ بت پرستی کے شرک نہ ہونے کی ان مشرکوں کے پاس کوئی سند نہیں ہے یہ فقط اپنے باپ دادا کی پیروی کرتے ہیں ہم اس کا بدلہ پورا پورا ان کو دیں گے پھر فرمایا کہ اسی طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب اتاری تھی لوگوں نے اس میں اختلاف کیا بعضے ایمان لائے اور بعض نہیں لائے تم پر بھی جو قرآن اتارا گیا…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے جناب موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی، جس کو تورات کہا جاتا ہے جو اس کے اوامرو نواہی پر ان کے اتفاق و اجتماع کی موجب ہے۔ مگر اس کے باوجود تورات سے نسبت رکھنے والوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا جس نے ان کے عقائد اور ان کی دینی جمعیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ (وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ : اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی) ( لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ : تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا) یعنی ظالم پر عذاب نازل ہوچکا ہوتا۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو قیامت تک کے لیے مؤخر کردے اور یہ لوگ شک و شبہ ہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–112
حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا
قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
212 ۔ پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کے سامان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی مگر اس میں بھی اختلاف کیا گیا کہ کچھ نے مانا اور کچھ نے نہ مانا۔ پس قرآن پاک کے بارے میں ان کفار اشرار کے اختلاف کے باعث آپ ﷺ اے پیغمبر رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ کہ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ پہلے سے ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ (المراغی، الفتح، الجامع وغیرہ) سو آپ بھی اسی طرح صبر ہی سے کام لیتے رہیں جس طرح کہ انہوں نے صبر سے کام لیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–115
نبی اکرم ﷺ کو تسلی اور چند ہدایات
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کچھ قرآن کو مانتے اور کچھ انکار کرتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مثال دے کر تسلی دی کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) جتنے بھی دنیا میں آچکے ہیں سب کے ساتھ ایسے ہی ہوتا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بھی ایسے ہی کرتی رہی مگر ان کو فوراً عذاب نہ دیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو عذاب دینے کا وقت تو اللہ نے پہلے ہی مقرر کر رکھا ہے۔ اس بات کا یعنی آخرت کا کیونکہ ان کو یقین نہ تھا اس لیے وہ غفلت میں پڑے رہے۔ حالانکہ اللہ رب العزت تو ان کے تمام اعمال سے پوری طرح واقف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیات 110 تا 123
اسراومعارف
موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی ان کی بت پرستی کی بنیاد سوائے باپ دادا کی اندھی تقلید کے اور کچھ نہیں ہے۔ (ابن کثیر) ۔4 ۔ اہل سعادت و شقاوت کا حال بیان کرنے کے بعد آکر میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اگر آج یہ لوگ آپو پر نازل شدہ کتاب قرآن کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں تو آپ ﷺ بدل اور کبیدہ خاطر نہ ہوں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے توراۃ کے ساتھ بھی لوگ یہی معاملہ کرچکے ہیں۔ (شوکانی) ۔
5 ۔ یا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میرے رحمت میرے غصے پر غالب ہے تو اب تک ان کو تباہ و برباد کردیا جاتا۔ (شوکانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں “ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ دنیا میں سچ اور جھوٹ صاف نہ ہو۔ (از موضح) ۔
6 ۔ یعنی سخت خلجان…
Read the full tafseer →(11:110) لولا کلمۃ سبقت من ربک۔ اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی بات طے نہ ہوچکی ہوتی۔ اس میں کلمۃ اللہ سے اس حکم ازلی کی طرف اشارہ ہے جس کی حکمت الٰہی مقتضی تھی اور یہ کہ کلمات الٰہیہ کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ۔ اور نہ ہی ان میں تغیر کی گنجائش ہوتی ہے۔ دوسری جگہ آیا ہے۔ ولولا کلمۃ سبقت من ربک الی اجل مسمی لقضی بینھم (42:14) اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہی ایک وقت مقررہ تک لے لئے یہ بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوگیا ہوتا۔ یہاں کلمہ کا اشارہ عذاب الٰہی کی طرف ہے جس کا وعدہ قرآن میں کیا گیہا ہے کہ منکرین کو آخرت میں دیا جائے گا۔
لقضی بینھم۔ انکے درمیان فیصلہ ہوگیا تھا۔ تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
لغات القرآن آیت نمبر 110 تا 113
اختلف (اختلاف کیا گیا) کلمۃ (حکم) سبقت (گذر گیا، گذر گئی) قضی (فیصلہ کردیا گیا) مریب (شبہ میں ڈالنے والا) کل (ہر ایک، سب کے سب) لیوفین (پورا کئے جائیں گے) استقم (سیدھا رہ) امرت (تجھے حکم دیا گیا ) تاب (متوجہ ہوا ، توبہ کی) لاتطغوا (نافرمانی نہ کرو) لاترکنوا (تم مائل نہ ہو) تمس (پہنچے گی ) اولیاء (ولی) ، دوست، حمایتی ) لاتنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے)
تشریح :- آیت نمبر 110 تا 113
کفار و مشرکین اور مناقفین کو جب بھی موقع ملتا وہ دین اسلام اور نیب کریم ﷺ کی ذات پاک پر کیچڑ اچھالنے اور اسلام کی تعلیمات کو لوگوں کی نگاہوں میں بےوقعت اور بےقیمت بنانے میں کسر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
کفار کی مذمت
اللہ پاک نے حضرت رسول خدا ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ یہ کفار مکہ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں ان کے مشرک ہونے میں تم کچھ شک نہ کرو مشرکین مکہ بت پرستی کو ملت ابراہیمی بتلاتے تھے جس سے ناواقف مسلمانوں کو دھوکا ہوتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھرا کر ان ناواقف مسلمانوں کو یہ جتلایا کہ بت پرستی کے شرک نہ ہونے کی ان مشرکوں کے پاس کوئی سند نہیں ہے۔ یہ فقط اپنے باپ دادا کی پیروی کرتے ہیں ہم ان کا بدلہ پورا پورا ان کو دیں گے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب اتاری تھی۔ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا بعضے ایمان لائے اور بعضے ایمان نہیں لائے تم پر بھی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
[57] وہ ٹھہرائی ہوئی بات یہی ہے کہ پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔
[58] وہ فیصلہ یہی کہ منکرین پر عذاب اسی دنیا میں آگیا ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
رحمت الہی کی فراوانیاں :
(ف 1) دنیا میں ہمیشہ دو گروہ رہے ہیں ، ایک وہ جنہیں سعادت ازلی سے بہرہ وافر ملا ہے ، اور دوسرا وہ جن کے حصہ میں محرومی شقاوت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔
اللہ نے ان گروہوں کے لئے حیات اخروی میں اعمال کے موافق وومقام تجویز فرمائے ہیں ۔
ایک مقام غضب جس کا نام جہنم یا دوزخ ہے اور ایک مقام رحمت وعفو ، جو جنت یا فردوس کے نام سے مشہور ہے ان آیات میں اس حقیقت کی تشریح مذکور ہے ،
(آیت) ” مادامت السموت والارض “۔ عربی محاورہ ہے جس سے مراد دوام وتائید ہوتی ہے جیسے ” ما جن اللیل ، ماناح الحمام ما سال سبل ، ماطما جر “۔ وغیرہ محرات میں مقصد دوام ہوتا ہے ۔
عذاب کی آیت میں (آیت) ” الا…
Read the full tafseer →110 اور ہم نے یقینا موسیٰ کو کتاب دی تھی سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی ایک بات پہلے سے مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو اب تک ان میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور یہ کافر اس کی طرف سے بڑے تردد انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں یعنی جس طرح قرآن کریم کے ماننے اور نہ ماننے میں اختلاف ہورہا ہے اسی طرح جن کو توریت دی گئی تھی ان کی امت نے بھی اختلاف کیا تھا اور اگر آپ کے پروردگار کی ایک بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی کہ کامل اور فیصلہ کن عذاب آخرت ہی میں دیا جائے گا تو یہ جس بات میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ دنیا ہی میں کردیا جاتا اور یہ کفار مکہ اس عذاب کی جانب سے ایسے شک میں مبتلا ہیں کہ ان کو اطمینان ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
ف 9۔ کسی نے مانا کسی نے نہ مانا یہ کوئی آپ کے لیے نئی بات نہیں ہوئی پس آپ مغموم نہ ہوں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کتاب دی پھر اس میں اختلاف کیا گیا پھر اختلاف کا انجام کیا نکلا ؟
۔ 137 زیر نظر آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو ایک طرح سے تسلی دی جا رہی ہے کہ اے ہمارے رسول ! ﷺ اگر اہل مکہ قرآن کریم کے متعلق دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے پہلے جو کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی اس میں بھی لوگ دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے جس طرح قرآن کریم کو بعض نے اللہ کا کلام مانا اور اکثریت نے اس کا انکار کیا تو یہی کچھ قبل ازیں تو رات کے سامنے بھی ہوچکا۔ آپ پریشان و حزیں نہ ہوں ایسا ہوتا ہی آیا ہے بلاشبہ اگر تیرے رب کی طرف سے جھٹلانے والوں کے لئے اگر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–111
After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said:
وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ
And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you.
The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
111. If people launch scurrilous attacks on the Qur'an, this is not altogether novel. The same happened before. When Moses (peace be on him) was granted the scripture, people raised a variety of objections against it. The Prophet Muhammad (peace be on him) should not, therefore, feel disheartened that his people rejected the teachings of the Qur'an despite their lucidity.
112. This is being said in order to comfort the Prophet (peace be on him) and his Companions. They are being asked to be patient and not to seek a hasty judgement from God concerning those who differ about the Qur'an. For…
Read the full tafseer →