Hud 11:109

Hud · from ayah 109

11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ ؕ— مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ ؕ— وَاِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ ۟۠فَلَا تَكُ فِىۡ مِرۡيَةٍ مِّمَّا يَعۡبُدُ هٰٓؤُلَاۤءِ ‌ؕ مَا يَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا كَمَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ‌ؕ وَاِنَّا لَمُوَفُّوۡهُمۡ نَصِيۡبَهُمۡ غَيۡرَ مَنۡقُوۡصٍ

تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی) پرستش کرتے ہیں۔ اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے سے ان کے باپ دادا پرستش کرتے آئے ہیں۔ اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پورا بلا کم وکاست دینے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So do not be in doubt, [O Muhammad], as to what these [polytheists] are worshipping. They worship not except as their fathers worshipped before. And indeed, We will give them their share undiminished.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 9 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:109

پس اے نبیؐ، تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اُسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے، اور ہم اِن کا حصہ اِنہیں بھرپور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی) پرستش کرتے ہیں۔ اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے سے ان کے باپ دادا پرستش کرتے آئے ہیں۔ اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پورا بلا کم وکاست دینے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس لئے آپ ان چیزوں سے شک وشبہ میں نہ رہیں جنہیں یہ لوگ پوج رہے ہیں، ان کی پوجا تو اس طرح ہے جس طرح ان کے باپ دادوں کی اس سے پہلے تھی۔ ہم ان سب کو ان کا پورا پورا حصہ بغیر کسی کمی کے دینے والے ہی ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر) یہ (مشرکین) جن (بتوں) کی عبادت کرتے ہیں، ان کے بارے میں ذرا بھی شک میں نہ رہنا۔ یہ تو اسی طرح عبادت کر رہے ہیں جیسے ان کے باپ دادے پہلے ہی عبادت کیا کرتے تھے، اور یقین رکھو کہ ہم ان سب کو ان کا حصہ پورا پورا چکا دیں گے، جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اے سننے والے! دھوکا میں نہ پڑ اس سے جیسے یہ کافر پوجتے ہیں یہ ویسا ہی پوجتے ہیں جیسا پہلے ان کے باپ دادا پوجتے تھے اور بیشک ہم ان کا حصہ انہیں پورا پھیردیں گے جس میں کمی نہ ہوگی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس (اے سننے والے!) تو ان کے بارے میں کسی (بھی) شک میں مبتلا نہ ہو جن کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں۔ یہ لوگ (کسی دلیل و بصیرت کی بنا پر) پرستش نہیں کرتے مگر (صرف اس طرح کرتے ہیں) جیسے ان سے قبل ان کے باپ دادا پرستش کرتے چلے آرہے ہیں۔ اور بیشک ہم انہیں یقیناً ان کا پورا حصۂ (عذاب) دیں گے جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس تو اس کے بارے میں جس کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں، کسی شک میں نہ رہ، یہ لوگ عبادت نہیں کرتے مگر جیسے ان سے پہلے ان کے باپ دادا عبادت کرتے تھے اور بیشک ہم یقینا انھیں ان کا حصہ پورا پورا دینے والے ہیں، جس میں کوئی کمی نہ کی گئی ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس (اے نبی) جن چیزوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں ان کے بارے میں کسی شک میں نہ رہئے یہ تو انھیں ایسے ہی (اندھی عقیدت سے) پوج رہے ہیں جیسے ان سے پہلے ان کے باپ دادا کرتے رہے اور ہم بلا کم وکاست انھیں ان کا پورا پورا حصہ دیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو تم ان کے باب میں کسی تردد میں نہ پڑو جن کی یہ لوگ پوجا کر رہے ہیں۔ یہ اسی طرح پوج رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا پوجتے رہے اور ہم ان کا حصہ ان کو پورا پورا بغیر کسی کمی کے دے کے رہیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم کسی شک میں نہیں رہنا ان چیزوں کے بارے میں جن کی پوجا یہ لوگ کر رہے ہیں، یہ تو بس (لکیر کے فقیر بنے) ویسے ہی ان کی پوجا پاٹ کئے جار ہے ہیں جس طرح کہ ان کے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں اس سے پہلے، اور یقینا ہم ان کو پورا پورا دیں گے ان کا حصہ بغیر کسی کاٹ کسر کے

— مولانا اسحاق مدنی

سو (اے مخاطب) شک نہ کر اس چیز کے بارے میں جس کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں یہ اسی طرح عبادت کررہے ہیں جیسے ان کے باپ دادا ان کے قبل پرستش کرتے رہے ہیں اور ہم یقیناً ان کا حصہ ان کو پورا پورا دینے والے ہیں بےکم وکاست۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس (اے نبی !) آپ کسی شک میں نہ رہیں ان کے بارے میں جن کی یہ لوگ پوجا کر رہے ہیں یہ لوگ نہیں پوجا کر رہے ہیں مگر ایسے ہی جیسے کہ ان کے آباء و اَجداد پوجا کرتے رہے ہیں اس سے پہلے اور یقیناً ہم ان کو دینے والے ہیں ان کا حصہ بغیر کسی کمی کے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اللہ کی بخشش ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ تو یہ لوگ جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اس سے تم شک میں نہ پڑنا یہ اسی طرح پوجا کرتے ہیں جس طرح ان کے باپ دادا پرستش کرتے آئے ہیں اور ہم ان کو ان کا پورا پورا حصہ بلا کم وکاست دینے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

[O Prophet!] Have no doubt about what they worship. For they worship what their fathers worshipped before. And (yet) We shall grant them their due portion in full, diminishing of it nothing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, be not in doubt about what they worship. They worship only in the way their fathers used to worship earlier. Surely, We are going to pay them their full share, not curtailed in the least.

— Muhammad Taqi Usmani

So, be not in doubt about what they worship. They worship only in the way their fathers used to worship earlier. Surely, We are going to pay them their full share, not curtailed in the least.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So be not in doubt as to what these people (pagans and polytheists) worship. They worship nothing but what their fathers worshipped before (them). And verily, We shall repay them in full their portion without diminution.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So be not thou in doubt concerning that which these (folk) worship. They worship only as their fathers worshipped aforetime. Lo! we shall pay them their whole due unabated.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So do not be in doubt, [O Muhammad], as to what these [polytheists] are worshipping. They worship not except as their fathers worshipped before. And indeed, We will give them their share undiminished.

— Saheeh International

Have no doubt that these people worship (idols). They worship what their fathers had worshipped before them. We will give them the exact recompense that they deserve.

— Muhammad Sarwar

Therefore be not in doubt as to what these worship; they do not worship but as their fathers worshipped before; and most surely We will pay them back in full their portion undiminished.

— Muhammad Habib Shakir

So be not thou in dubitation concerning that which these people worship. They worship not save as their fathers worshipped afore; and verily We will repay unto them in full their portion, undiminished.

— Abdul Majid Daryabadi

Be not then in doubt as to what these men worship. They worship nothing but what their fathers worshipped before (them): but verily We shall pay them back (in full) their portion without (the least) abatement.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:109

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 109–111

مشرکوں کا حشر مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے ؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کا عاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ ؑ کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کردیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ چونکہ ہم وقت مقرر کرچکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آجاتا ہے۔ کافروں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 110 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نبی ﷺ واقعی ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں تھے بلکہ دراصل یہ باتیں نبی ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے عامۃ الناس کو سنائی جارہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کسی مرد معقول کو اس شک میں نہ رہنا چاہیے کہ یہ لوگ جو ان معبودوں کی پرستش کرنے اور ان سے دعائیں مانگنے میں لگے ہوئے ہیں تو آخر کچھ تو انہوں نے دیکھا ہوگا جس کی وجہ سے یہ ان سے نفع کی امیدیں رکھتے ہیں، واقعہ یہ ہے کہ یہ پرستش اور نذریں اور نیازیں اور دعائیں کسی علم، کسی تجربے اور کسی حقیقی مشاہدے کی بنا پر نہیں ہیں، بلکہ یہ سب کچھ نری اندھی تقلید کی وجہ سے ہورہا ہے، آخر یہی آستانے پچھلی قوموں کے ہاں ھی تو موجود تھے، اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–111

خلاصہ تفسیر اور آپ کے رب کی دار و گیر ایسی ہی (سخت) ہے جب وہ کسی بستی والوں پر دار وگیر کرتا ہے جبکہ وہ ظلم (و کفر) کیا کرتے ہوں، بلا شبہ اس کی دار و گیر بڑی الم رساں (اور) سخت ہے (کہ اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا) ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو (وجہ عبرت ظاہر ہے کہ جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دار الجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دار الجزاء ہے کیسا سخت عذاب ہوگا) وہ (یعنی آخرت کا دن) ایسا دن ہوگا کہ اس میں تمام آدمی جمع کئے جاویں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے اور (وہ دن گو اب تک آیا نہیں لیکن اس سے کوئی اس کے آنے میں شک نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ ۭ مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ وَاِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْص۔ خطاب نبی سے عتاب مخالفین پر : ہم یہ اسلوب متعدد مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ بعض مرتبہ خطاب بظاہر الفاظ تو آنحضرت ﷺ سے ہوتا ہے لیکن اس کے اندر جو عتاب مضمر ہوتا ہے اس کا رخ مخالفین کی طرف ہوتا ہے۔ وہ چونکہ اپنی ضد کے سبب سے لائق خطاب نہیں رہ جاتے اس وجہ سے بات ان کو خطاب کر کے کہنے کے بجائے پیغمبر کو خطاب کر کے کہہ دی جاتی ہے۔ سورة یونس کی آیات 94۔ 95 میں اس کی مثال گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے شرک پر جماؤ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 اس سے مراد وہ عذاب ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 107–113

60: اس سے موجودہ زمین اور آسمان مراد نہیں ہیں، کیونکہ یہ تو قیامت کے ساتھ ختم ہوجائیں گے، البتہ قرآن کریم ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں وہاں کے حالات کے مطابق دوسرے زمین و آسمان پیدا کئے جائیں گے (دیکھئے سورة ابراہیم 14۔ 48، سورة زمر 24۔ 74) اور چونکہ وہ زمین و آسمان ہمیشہ رہیں گے اس لئے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ بھی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ 61: رَبُّکَ : اسی قسم کا استثناء سورة انعام (6۔ 128) میں بھی گزرا ہے جیسا کہ وہاں ہم نے عرض کیا تھا، اس کی ٹھیک ٹھیک مراد تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، لیکن اس سے بظاہر ایک تو یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ کسی کے عذاب وثواب کا تمام ترفیصلہ اللہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آپ اپنے دل میں ذرہ برابر شک نہ کریں کہ یہ لوگ جن بتوں کی پیروں کرتے ہیں وہ غلط ہیں ، خطاب تو حضور ﷺ کو ہے لیکن ڈر اور اقوام کو ہے یہ اسلوب بسا اوقات زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہ معاملہ طے ہوچکا ہے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو آخری احکامات دے دئیے ہیں اب اس میں کوئی نزاع کا موقعہ نہیں ہے اور جو لوگ مجرم ہیں ان کو ایک طرف چھوڑ دیا گیا گویا وہ بات کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں ، اس طرح ان پر زیادہ اثر ہوگا ، بمقابلہ اس کے کہ اگر ان کو براہ راست خطاب کیا جاتا۔ فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلا كَمَا يَعْبُدُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اتنی مخلوق کا شرک و بت پرستی کے راستہ پر پڑ لینا اور اب تک سزا یاب نہ ہونا، کوئی ایسی چیز نہیں جس سے دھوکہ کھا کر آدمی شبہ میں پڑجائے۔ یہ لوگ اپنے باپ دادوں کی کو رانہ تقلید کر رہے ہیں۔ وہ جھوٹے معبود ان کے کیا کام آئے، جو ان کے کام آئیں گے ؟ یقینا ان سب کو آخرت میں عذاب کا پورا حصہ ملے گا۔ جس میں کوئی کمی نہ ہوگی یا کبھی کم نہ کیا جائے گا گویا لفظ " غَیْرَ مَنْقُوْصٍ "، (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ ) 11 ۔ ہود :108) کے مقابل ہوا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دنیا میں رزق غیرہ کا جو حصہ مقدر ہے وہ پورا ملے گا۔ پھر شرک کی پوری سزا بھگتیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ یہ تو بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

121 یہ خطاب رسول اللہ کو محض تاکید مزید کے لیے ہے ورنہ خطاب عام لوگوں کو ہے نبی تو دوسرے لوگوں کے بھی اس قسم کے شکوک رفع کرتا ہے وہ خود کیسے اس قسم کے شک میں مبتلا ہوسکتا ہے ؟ 122 مشرکانہ عقائد نقل عقل اور تجربہ کے مطابق غلط ہیں :۔ یعنی جب قوم پر عذاب آیا تو ان کے بت، مجاور اور آستانے انھیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے تو اب ان کفار مکہ کے معبود انھیں کیسے بچا سکتے ہیں یا ان کی حمایت کرسکتے ہیں ؟ لہذا جو کچھ عقائد ان لوگوں نے اپنے معبودوں سے متعلق قائم کر رکھے ہیں وہ عقل اور تجربہ کی کسوٹی پر غلط ثابت ہوتے ہیں۔ لہذا یہ جو کچھ ہو رہا ہے محض اندھی تقلید کی بنا پر ہو رہا ہے اور ہم ایسے لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

152۔ (قیامت کے دن) (آیت) ” فلا تک فی مریۃ “ یعنی مذہب شرک شک وتذبذب کا مستحق نہیں صاف صاف قطعی انکار کے قابل ہے۔ (آیت) ” کمایعبد ابآؤھم من قبل “۔ یعنی جیسے ان کے آباواجداد غیر اللہ کی پرستش میں بالکل بلادلیل بلکہ خلاف دلیل لگے رہتے تھے یہ بھی اسی طرح اسی مرض میں مبتلا ہیں۔ (آیت) ” نصیبھم “۔ یعنی ان کے عذاب وسزا کا حصہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 96–109

آیت نمبر 96 تا 109 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلاتک في مریۃ مما یعبد ھولا ما یعبدون الا کما یعبد اباؤھم من قبل وانا لموفوھم نصیبھم غیر منقوص سو (اے مخاطب ! ) جس چیز کی یہ پرستش کرتے ہیں ‘ اس کے بارے میں ذرا شبہ نہ کرنا۔ یہ لوگ بھی اسی طرح (بلادلیل کے) غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں جس طرح ان کے بزرگ ان سے پہلے عبادت کرتے تھے۔ یعنی تمام لوگوں کی سزا و جزا کی جو تفصیل ہم نے بیان کردی ‘ اس کے بعد آپ شک میں نہ رہیں کہ مشرک جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں ‘ وہ سراسر گمراہی ہے اور اسی عذاب کا مستحق بنا دینے والی ہے جس عذاب کے مستحق ان کے اسلاف اپنی مشرکانہ عبادت کی وجہ سے ہوئے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہمارے بیان کے بعد آپ کو شک نہ کرنا چاہئے کہ ان مشرکوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(109) مگر یقیناً یہ ثواب مسلسل ہوگا اور اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ ہوگی (اور اللہ تعالیٰ جنت میں بھیجنے کے بعد پھر دوبارہ وہاں سے نہ نکالے گا سو اہل مکہ جن چیزوں کی پرستش کررہے ہیں اس کے بارے میں ذرا شبہ نہ کرنا کیوں کہ یہ لوگ بھی اسی طرح عبادت کررہے ہیں جیسا کہ اس سے قبل ان کے باپ دادا کرتے تھے اور اسی وجہ سے ہلاک ہوجائیں گے اور ہم ان کی سزا ان کو پوری پوری بغیر کمی بیشی کے دیں گے۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت فرقہ قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ : یعنی ان کے معبودوں کے باطل ہونے یا نفع نقصان کا مالک نہ ہونے میں کسی قسم کا شک نہ کر۔ ”مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ“ (جن کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں) میں ”یہ لوگ“ سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ ابن عاشور نے لکھا ہے کہ میں نے قرآن کی اس اصطلاح کی جستجو کی تو تقریباً گیارہ مقامات میں ایسا ہی پایا۔ یہ بات میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالی گئی ہے اور میں نے آیت : (وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا) [ النساء : 41 ] کی تفسیر میں اس کی وضاحت کی ہے۔ [ التحریر والتنویر ] یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ کو اس قسم کا کوئی شک تھا جس سے اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 100–109

آیت نمبر 100 تا 109 قولہ تعالیٰ : ذٰلک من انۘبآء القرٰی نقصہ علیک، ذٰلکمبتدا کے مضمر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی الامرذالک اور اگر آپ چاہیں تو اسے مبتدا کی حیثیت سے بھی مرفوع بناسکتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا : یہ گزشتہ خبر ان بستیوں کی بعض خبروں میں سے جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں۔ منھاقآئم وحصیدحضرت قتادہ نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو برباد ہوچکی ہی اور ان کے نشانات ہیں جب کے حصید سے مراد ویہ ہیں جن کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے : قائم سے مراد آباد ہیں جب کہ حصید سے مراد بےآباد اور برباد ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو اپنے سازو سامان سمیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 109–111

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو کیونکہ یقین کے بعد مکافاۃ سے افضل کوئی چیز عطا نہیں کی گئی اور شک کرنے میں سے بچو کیونکہ کفر کے بعد شک سے بڑھ کر شر پھیلانے والی کوئی چیز کسی کو نہیں دی گئی۔ 2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا لموفوھم نصیبہم غیر منقوص “ کے بارے میں فرمایا کہ جو کچھ ان کے لئے مقدر کیا گیا خیر وشر میں سے (ہم یقینی طور پر انہیں ان کا حصہ پورا پورا دیں گے اور ان میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی۔ 3:۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلَا تَكُ : پس آپ ﷺ مت ہوں ] [ فِيْ مِرْيَةٍ : کسی شہہ میں ] [ مِّمَا : اس سے جس کی ] [ يَعْبُدُ : بندگی کرتے ہیں ] [هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ لوگ ] [مَا يَعْبُدُوْنَ : یہ لوگ بندگی نہیں کرتے ] [اِلَّا كَمَا : مگر اس طرح جیسے ] [يَعْبُدُ : بندگی کرتے تھے ] [اٰبَاۗؤُهُمْ : ان کے آبا و اجداد ] [مِّنْ قَبْلُ : پہلے سے ] [ وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَمُوَفُّوْهُمْ : ضرور پورا پورا دینے والے ہیں ان کو ] [ نَصِيْبَهُمْ : ان کا حصّہ ] [غَيْرَ مَنْقُوْصٍ : بغیر کسی کمی کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 105–109

قیامت کے دن سب جمع ہوں گے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو بولنے کی اجازت نہ ہو گی ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ گزشتہ امتوں کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو ‘ پھر یہ فرمایا کہ آخرت کے دن میں سب لوگ جمع ہوں گے اور یہ حاضری کا دن ہے یہ جبری حاضری ہوگی کوئی شخص اگر یہ چاہے کہ میں حاضر نہ ہوں تو ایسا ہو نہیں سکتا ‘ حاضر ہونا ہی پڑے گا مزید فرمایا کہ ہم اس دن کو تھوڑی مدت کے لئے مؤخر کر رہے ہیں جس وقت اس کا آنا اللہ تعالیٰ کے علم میں متعین ہے اس وقت آجائے گی اس سے پہلے نہیں آئے گی لیکن فوری اور ابھی نہ آنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ آنی ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 103–109

تذکیر عواقب اخرویہ کفر و تکذیب برائے موعظت و نصیحت قال اللہ تعالیٰ ان فی ذلک لایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ .... الیٰ .... وانا لموفوھم نصیبھم غیر منقوص۔ (ربط) گزشتہ آیت میں کفر و تکذیب کے دنیوی انجام اور دنیاوی ذلت اور رسوائی کی یاد دہانی تھی۔ اب اس آیت میں کفر وتکذیب کے اخروی انجام کا بیان ہے دنیوی ذلت وہلاکت کے ذکر سے موعظت اور نصیحت مقصود ہے عقلمند کو چاہیے کہ پہلے سے اپنے انجام کو سوچ لے قیامت کا دن اللہ کی عدالت کا دن ہے جس میں سعداء اور اشقیاء کی جزاء اور فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن سعداء گا ئز المرام ہونگے اور اشقیاء خائب و خاسر ہونگے۔ جاننا چاہئے کہ ان آیات میں حق جل شانہ نے اہل محشر کی دو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

89:۔ یہ چوتھے دعوے سے متعلق ہے۔ مسئلہ توحید عقلی اور نقلی دلائل سے واضح ہوچکا ہے اور اس میں شک و شبہہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اس لیے توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے میں کسی کو شک نہیں کرنا چاہئے۔ مَایَعْبُدُوْنَ الخ : ان مشرکین کے پاس کوئی دلیل نہیں وہ محض اپنے باپ دادا کی اندھا دھند پیروی کر رہے ہیں جس طرح وہ بلا دلیل وحجت معبودانِ باطلہ کو کارساز سمجھ کر پکارتے اور ان کی عبادت بجا لاتے تھے اسی طرحیہ کرتے ہیں۔ دلیل نہ ان کے پاس تھی نہ ان کے پاس ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 102–109

ربط آیات فرعون اور اس کی قوم کا حال بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے آپ کی بات کا انکار کیا۔ لوگوں نے فرعون کی بات کا اتباع کیا ، حالانکہ وہ بالکل غلط موقف پر تھا ان کے انجام کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے آگے چل رہا ہوگا اور سب کو دوزخ میں لے جائیگا۔ اللہ نے دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی ، اور قیامت کو بھی وہ اسی لعنت میں گرفتار ہوں گے۔ اللہ نے مختلف بستیوں کا حال بیان فرمایا کہ ان میں سے بعض بالکل اجڑ چکی ہیں اور بعض کے نشانات موجود ہیں اور آنے والے لوگوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَۃٍ مِّمَّا يَعْبُدُ ہٰٓؤُلَاۗءِ۝ 0 ۭ مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَـمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُہُمْ مِّنْ قَبْلُ۝ 0 ۭ وَاِنَّا لَمُوَفُّوْہُمْ نَصِيْبَہُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ۝ 109 ۧ مری المِرْيَةُ : التّردّد في الأمر، وهو أخصّ من الشّكّ. قال تعالی: وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] ، فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هؤُلاءِ [هود/ 109] ، فَلا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقائِهِ [ السجدة/ 23] ، أَلا إِنَّهُمْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقاءِ رَبِّهِمْ [ فصلت/ 54] والامتراء والممَارَاة : المحاجّة فيما فيه مرية . قال تعالی: قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 94–109

1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلاَ تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّماَّ یَعْبُدُ ھٰٓؤْلَآئِ ط مَا یَعْبُدُوْنَ اِلاَّ کَمَا یَعْبُدُاٰبَآؤْھُمْ مِّنْ قَبْلُ ط وَاِنَّا لَمُوْفُّوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ ۔ (سورۃ ہود : 109) (پس آپ ان کے باب میں کسی تردد میں نہ پڑیں جن کی یہ لوگ پوجا کررہے ہیں۔ یہ اسی طرح پوج رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا پوجتے رہے اور ہم ان کا حصہ ان کو پورا پورا بغیر کسی کمی کے دے کے رہیں گے۔ ) عتاب مخالفین پر ہے اس آیت کریمہ میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن روئے سخن مشرکینِ مکہ کی طرف ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ جب پروردگار مشرکینِ سے انتہائی ناراضی کے طور پر ان سے خطاب کرنا بھی ناگوار…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کرام کی دعوت کی یاد دہانی۔ جہنمیوں اور جنتیوں کی سزا، جزا سے پہلے مسلسل انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت اور اس کے ردّ عمل کا ذکر ہو رہا تھا۔ جس کے آخر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی آویزش کا ذکرہوا۔ اب درمیان میں رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے توجہ دلائی جارہی ہے کہ اے نبی ! جن کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں ان کے باطل ہونے کے بارے میں آپ کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو ان کی محض اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ ان سے پہلے ان کے باپ داداعبادت کرتے آرہے ہیں۔ ہم ان کو کسی کمی و بیشی کے بغیر اس کا پورا پورا بدلہ چکائیں گے۔ اس فرمان میں بظاہر رسول اکرم ﷺ کو مخاطب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مشرکوں کو ضرور سزا ملے گی : 109: جب اللہ تعالیٰ نے بتوں کے بچاریوں کے واقعات کو بیان کیا اور ان پر اترنے والے عذاب کو ذکر فرما دیا تو جو عذاب تیار شدہ ہے اس کا ذکر فرمایا۔ فَـلَا تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّمَّا یَعْبُدُ ھٰٓؤُلَآ ئِ (پس تم اے مخاطب ! جس چیز کی یہ عبادت کرتے ہیں اس کے متعلق شک میں نہ پڑو) یعنی تم ہرگز شک نہ کرو اس کے بعد کہ تمہاری طرف یہ واقعات اتار دیئے کہ غیر اللہ کی عبادت کا برا انجام ہوگا جیسا کہ ان کے ہم مثلوں کو ان سے پہلے پہنچا۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی اور کفار سے انتقام کا وعدہ فرمایا۔ اور کفار کو خبردار کیا۔ پھر فرمایا مَایَعْبُدُوْنَ اِلَّا کَمَا یَعْبُدُ اٰبَآ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 109” فلا تک فی مریۃ “ شک میں ” مما یعبد ھولاء “ کہ یہ گمراہ ہیں ۔ ” ما یعبدون الا کما یعبد “ اس میں عبادت مقدر ہے یعنی ” کما یعبد آبائو ھم من قبل وانا لموفوھم نصیبھم “ ان کا جزاء کا حصہ غیر منقوص ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 109–111

109۔ 110۔ اللہ پاک نے حضرت رسول خدا ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ یہ کفار مکہ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں اس کے شرک ہونے میں تم کچھ شک نہ کرو مشرکین مکہ بت پرستی کو ملت ابراہیمی بتلاتے تھے جس سے ناواقف مسلمانوں کو دھوکا ہوتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر ان ناواقف مسلمانوں کو جتلا دیا کہ بت پرستی کے شرک نہ ہونے کی ان مشرکوں کے پاس کوئی سند نہیں ہے یہ فقط اپنے باپ دادا کی پیروی کرتے ہیں ہم اس کا بدلہ پورا پورا ان کو دیں گے پھر فرمایا کہ اسی طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب اتاری تھی لوگوں نے اس میں اختلاف کیا بعضے ایمان لائے اور بعض نہیں لائے تم پر بھی جو قرآن اتارا گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے سول محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے (فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ : آپ ان معبودان باطل کی طرف سے کسی شک میں نہ رہیں جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں) یعنی آپ کو ان کے حال کے بارے میں کوئی شک نہ رہے وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ باطل ہے اور ان کے پاس کوئی شرعی اور عقلی دلیل نہیں ہے۔ ان کی دلیل اور شبہ تو بس یہ ہے کہ وہ ( مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ : یہ انہی کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت اس سے قبل ان کے باپ دادا کرتے تھے) اور یہ واضح طور پر معلوم ہے کہ ان کے آباء و اجداد کا ان باطل معبودوں کی عبادت کرنا،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–112

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 108–109

208 ۔ اللہ جو چاہے کرے : کہ وہ مختار کل اور حاکم مطلق ہے اور اس کی مشیت سب پر حاوی اور سب سے بالا و برتر ہے۔ پس وہ جو چاہے، جب چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ کہ وہ (علی کل شیء قدیر) بھی ہے اور (فعال لما یرید) بھی اس کے کسی ارادے میں نہ کوئی روک نہ رکاوٹ اور نہ کسی کو اس سے کسی طرح کی پرسش و پوچھ کا یارا۔ کہ اس کی صفت ہے (لایسئل عما یفعل وہم یسئلون) ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ بدبخت وہاں کے ان ہولناک عذابوں میں ہمیشہ کے لیے رہیں گے کہ ان کا عذاب دائمی ہوگا اور ان کو اس دائمی عذاب میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ کوئی ان کو اس سے چھڑانے والا نہیں ہوگا مگر یہ کہ تمہارا رب ہی کچھ چاہے۔ سو وہ اگر چاہے تو کسی کے عذاب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 105–109

قیامت، نیک و بد اور جزا و سزا تشریح : قیامت کے دن اللہ کا رعب دبدبہ اور جلال اس قدر زبردست ہوگا کہ کوئی شخض بات کرنے کی جرأت بھی نہ کرسکے گا سب لوگ مبہوت و پریشان دم بخود کھڑے ہوں گے صرف وہ شخص ہی بولنے کی جرأت کرے گا جس کو رب اعلیٰ بولنے کی اجازت دے گا یا حکم دے گا۔ اور اس میدان حشر میں بندوں کے صرف دو گروہ ہوں گے ایک نیک بخت اور دوسرا بدبخت اور پھر ان کو اپنے مقام پر پہنچا دیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رکھے جائیں گے اور یہاں آیت میں جو ہمیشہ کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ جب تک زمین و آسمان رہیں گے تو اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ عربی زبان میں محاورتاً…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 96–109

آیات 96 تا 109 اسرار و معارف جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ۔ یعنی ان کے باطل ہونے یا ان بتوں کے نفع و نقصان کا مالک نہ ہونے یا ان کی بد انجامی میں شک پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ خطاب آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ہر انسان سے ہے۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:109) فلاتک تو مت ہو۔ کون فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تک اصل میں تکون تھا لاء نہی کے عمل سے واؤ حرف علت حذف ہوگیا اور نون کو خلاف قیاس حرف علت کے مشابہ مان کر کثرت استعمال کے سبب تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا۔ مریۃ۔ المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد کرنے کے ہیں۔ اور یہ شک سے خاص ہوتا ہے فلا تک فی مریۃ مما یعبد ھؤلائ۔ سو یہ لوگ جو غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یعنی مذہب شرک شک و تذبذب کا مستحق نہیں صاف صاف قطعی انکار کے قابل ہے۔ لموفوہم۔ لام تاکید کے لئے ہے موفوا اسم فاعل جمع مذکر۔ توفیۃ (تفعیل) مصدر وفی مادہ۔ اصل میں موفیون تھا۔ غیر منقوص۔ منقوصاسم مفعول واحد مذکر۔ نقص…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 102–109

لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109 اخذ (لیا) المد شدید (شدید اور درد ناک) خاف (ڈر) یوم مجموع (جمع ہونے کا دن) یوم مشھود (حاضری کا دن) نوخر (ہم دیر کرتے ہیں۔ موخر کرتے ہیں) معدود (گنتی، مقرر) لاتکلم (بات نہ کرے گا) شقی (بدنصیب) سعید (خوش نصیب) زقیر (چیخنا، زور سے آواز لگانا) شھیق (دھاڑنا) فعال (بہت کرنیوالا) عطاء (بخشش، عطا کرنا) غیر مجذوذ (نہ منقطع ہونے والا) لاتک (لاتکن) تو نہ ہونا) مریدۃ (شک) مرفوا (پورا دینے والا) نصیب (حصہ) غیر منقوص (نہ گھٹنے والا) تشریح : آیت نمبر 102 تا 109 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اسی لئے وہ لوگوں کے برے اعمال پر فوراً ہی سزا نہیں دیا کرتا بلکہ ان کو مہلت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 109–110

کفار کی مذمت اللہ پاک نے حضرت رسول خدا ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ یہ کفار مکہ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں ان کے مشرک ہونے میں تم کچھ شک نہ کرو مشرکین مکہ بت پرستی کو ملت ابراہیمی بتلاتے تھے جس سے ناواقف مسلمانوں کو دھوکا ہوتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھرا کر ان ناواقف مسلمانوں کو یہ جتلایا کہ بت پرستی کے شرک نہ ہونے کی ان مشرکوں کے پاس کوئی سند نہیں ہے۔ یہ فقط اپنے باپ دادا کی پیروی کرتے ہیں ہم ان کا بدلہ پورا پورا ان کو دیں گے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب اتاری تھی۔ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا بعضے ایمان لائے اور بعضے ایمان نہیں لائے تم پر بھی جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[56] یعنی بہ تقاضائے بشریت تم کو یہ واہمہ نہ گزرے کہ اس کثرت سے جو بت پرستی ہو رہی ہے تو اتنے لوگوں نے ایک غلط بات پر کیونکر اجماع کرلیا۔ آگے بتلا دیا کہ یہ لوگ بھیڑ چال کے طور پر ایک دوسرے کی اندھی تقلید کرتے چلے آ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 108–111

رحمت الہی کی فراوانیاں : (ف 1) دنیا میں ہمیشہ دو گروہ رہے ہیں ، ایک وہ جنہیں سعادت ازلی سے بہرہ وافر ملا ہے ، اور دوسرا وہ جن کے حصہ میں محرومی شقاوت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔ اللہ نے ان گروہوں کے لئے حیات اخروی میں اعمال کے موافق وومقام تجویز فرمائے ہیں ۔ ایک مقام غضب جس کا نام جہنم یا دوزخ ہے اور ایک مقام رحمت وعفو ، جو جنت یا فردوس کے نام سے مشہور ہے ان آیات میں اس حقیقت کی تشریح مذکور ہے ، (آیت) ” مادامت السموت والارض “۔ عربی محاورہ ہے جس سے مراد دوام وتائید ہوتی ہے جیسے ” ما جن اللیل ، ماناح الحمام ما سال سبل ، ماطما جر “۔ وغیرہ محرات میں مقصد دوام ہوتا ہے ۔ عذاب کی آیت میں (آیت) ” الا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

109 سوائے مخاطب جن بتوں کو یہ مشرک پوجتے ہیں تو ان کے متعلق کسی شک و شبہ میں ذرا نہ پڑیہ لوگ بھی اسی طرح ان بتوں کی پرستش کرتے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے بڑے اور باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے اور یقین جان کہ ہم ان کافروں کو ان کے عذاب کا حصہ بےکم وکاست پورا پورا دینے والے ہیں یعنی بت پرستی کے باطل ہونے میں شک و شبہ نہ کر جس طرح ان کے بڑے بلا دلیل شرک کے مرتکب ہوتے تھے اسی طرح بلا دلیل و حجت یہ اپنے بڑوں کی پیروی کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یقینا ایسا ہوگا کہ پہلوں کو ان کا حصہ مل گیا اور ان کا حصہ بھی ان کو مل جائے گا ۔ 136 فرمایا ان کو کہنے دو جو کچھ وہ کہتے ہیں ہم نے ان سے پہلوں یعنی ان کے آباء و اجداد کو بھی ان کا پورا پورا حصہ دیا تھا اور ان کو بھی ان کا پورا حصہ دیں گے۔ نہ ان کے حصہ میں کچھ کمی کی تھی اور نہ ہی ان کے حصہ میں کچھ کمی کریں گے۔ دلیل کے طور پر ان سارے قصص قرآنی کو پیش کیا جاسکتا ہے کہ گزشتہ انبیاء کرام کی سرگزشتوں کا مطالعہ کرو ہر نبی کو وہی کچھ پیش آیا جو اس سے قبل کسی نبی کو پیش آچکا تھا اور ہر قوم کا یہ حشر ہوا جو اس قوم سے پہلے کی قوم کا ہوچکا تھا۔ بیان اگرچہ مختلف ہوں ، بیماریاں الگ الگ ہوں لنکل نتیجہ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–111

After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said: وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you. The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

110. This does not mean that the Prophet (peace be on him) entertained any 'doubts' concerning the deities whom the unbelievers associated with God in His divinity. Though this verse is ostensibly addressed to the Prophet (peace be on him), it is really aimed at conveying a message to the people of Makka. The thrust of the verse is that no sensible person should entertain the notion that those who worship false gods and pray to them have any plausible grounds for doing so and for expecting some benefit from such worship. The fact of the matter is that the worship of false deities and the…

Read the full tafseer →