انبیاء کے فرماں بردار اور جنت
رسولوں کے تابعدار جنت میں رہیں گے۔ جہاں سے کبھی نکلنا نہ ہوگا۔ زمین و آسمان کی بقا تک ان کی بھی جنت میں بقا رہے گی مگر جو اللہ چاہے یعنی یہ بات بذاتہ واجب نہیں بلکہ اللہ کی مشیت اور اسکے ارادے پر ہے بقول ضحاک و حسن یہ بھی موحد گنہگاروں کے حق میں ہے وہ کچھ مدت جہنم میں گزار کر اس کے بعد وہاں سے نکالے جائیں گے یہ عطیہ ربانی ہے جو ختم نہ ہوگا۔ نہ گھٹے گا یہ اس لیے فرمایا کہ کہیں ذکر مشیت سے یہ کھٹکا نہ گزرے کہ ہمیشگی نہیں۔ جیسے کہ دوزخیوں کے دوام کے بعد بھی اپنی مشیت اور ارادے کی طرف رجوع کیا ہے۔ سب اس کی حکمت و عدل ہے وہ ہر اس کام کو کر گزرتا ہے جس کا ارادہ کرے۔…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 109
یعنی ان کا جنت میں ٹھیرنا بھی کسی ایسے بالاتر قانون پر مبنی نہیں ہے جس نے اللہ کو ایسا کرنے پر مجبور کر رکھا ہو۔ بلکہ یہ سراسر اللہ کی عنایت ہوگی کہ وہ ان کو وہاں رکھے گا۔ اگر وہ ان کی قسمت بھی بدلنا چاہے تو اسے بدلنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خلاصہ تفسیر
اور آپ کے رب کی دار و گیر ایسی ہی (سخت) ہے جب وہ کسی بستی والوں پر دار وگیر کرتا ہے جبکہ وہ ظلم (و کفر) کیا کرتے ہوں، بلا شبہ اس کی دار و گیر بڑی الم رساں (اور) سخت ہے (کہ اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا) ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو (وجہ عبرت ظاہر ہے کہ جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دار الجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دار الجزاء ہے کیسا سخت عذاب ہوگا) وہ (یعنی آخرت کا دن) ایسا دن ہوگا کہ اس میں تمام آدمی جمع کئے جاویں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے اور (وہ دن گو اب تک آیا نہیں لیکن اس سے کوئی اس کے آنے میں شک نہ…
Read the full tafseer →وَاَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا فَفِي الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ ۭ عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ۔
خوب سے خوب تر کی طرف ترقی : جو نیک بخت ہوں گے جنت میں داخل ہوں گے اور اسی میں رہیں گے جب آسمان و زمین قائم ہیں مگر جو تیرا رب چاہے " مگر تیرا رب جو چاہے " کے استثناء سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ان کے احوال و مراتب میں بھی تبدیلیاں ہوں گی لیکن یہ تبدیلیاں خیر سے شر کی طرف کی نوعیت کی نہیں، بلکہ خوب سے خوب تر کی طرف کی نوعیت کی ہوں گی اس لیے کہ ان کے واسطے خدا کی بخشش میں کبھی انقطاع نہیں ہوگا۔ عطاء غیر مجذوذ۔ ان کو جنگ کبھی نہ منقطع ہونے والے…
Read the full tafseer →18۔ 1 یہ استثناء بھی عصاۃ اہل ایمان کے لئے ہے۔ یعنی دیگر جنتیوں کی طرح یہ نافرمان مومن ہمیشہ سے جنت میں نہیں رہیں ہوں گے، بلکہ ابتدا میں ان کا کچھ عرصہ جہنم میں گزرے گا اور پھر انبیاء اور اہل ایمان کی سفارش سے ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا، جیسا کہ احادیث صحیحہ سے یہ باتیں ثابت ہیں۔
18۔ 2 غیر مجذوذ کے معنی ہیں غیر مقطوع۔ یعنی نہ ختم ہونے والی عطاء۔ اس جملے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جن گناہ گاروں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا، یہ دخول عارضی نہیں، ہمیشہ کے لئے ہوگا اور تمام جنتی ہمیشہ اللہ کی عطاء اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے، اور یہ ہمیشہ کیلئے جاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–113
60: اس سے موجودہ زمین اور آسمان مراد نہیں ہیں، کیونکہ یہ تو قیامت کے ساتھ ختم ہوجائیں گے، البتہ قرآن کریم ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں وہاں کے حالات کے مطابق دوسرے زمین و آسمان پیدا کئے جائیں گے (دیکھئے سورة ابراہیم 14۔ 48، سورة زمر 24۔ 74) اور چونکہ وہ زمین و آسمان ہمیشہ رہیں گے اس لئے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ بھی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔
61: رَبُّکَ : اسی قسم کا استثناء سورة انعام (6۔ 128) میں بھی گزرا ہے جیسا کہ وہاں ہم نے عرض کیا تھا، اس کی ٹھیک ٹھیک مراد تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، لیکن اس سے بظاہر ایک تو یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ کسی کے عذاب وثواب کا تمام ترفیصلہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
یہ سب لوگ جنت و جہنم میں “ اس وقت تک رہیں گے جب تک زمین و آسمان ہیں۔ ” یہ عربی محاورہ ہے جو استمرار اور دوام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ محاورات کا اپنا مفہوم ہوتا ہے اور ایک خاص اثر انگیزی ہوتی ہے ، یہاں بھی یہ محاورہ انداز تعبیر کے اعتبار سے بہت ہی خوب ہے۔
اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (11 : 107) “ بیشک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے ” یہ فقرہ ان لوگوں کے قلبی اطمینان کے لیے ہے جو خوش قسمت وافعہ ہوئے تھے کہ ان کا انعام دائمی ہوگا اور کبھی منقطع نہ ہوگا ، اگر چہ مفروصہ اپنی جگہ ہو کر اللہ تبدیل کرسکتا ہے لیکن چونکہ اللہ نے ان کے لیے ایسا ارادہ کرلیا ہے ، اس لیے انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
6 ان آیات کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جس قدر مدت آسمان و زمین دنیا میں باقی رہے اتنی مدت تک اشقیاء دوزخ میں اور سعداء جنت میں رہیں گے مگر جو اور زیادہ چاہے تیرا رب، وہ اسی کو معلوم ہے۔ کیونکہ ہم جب طویل سے طویل زمانہ کا تصور کرتے ہیں تو اپنے ماحول کے اعتبار سے بڑی مدت یہ ہی خیال میں آتی ہے۔ اسی لیے " مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ " وغیرہ الفاظ محاورات عرب میں دوام کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے بولے جاتے ہیں۔ باقی دوام و ابدیت کا اصلی مدلول جسے لامحدود زمانہ کہنا چاہیے وہ حق تعالیٰ ہی کے علم غیر متناہی کے ساتھ مختص ہے۔ جس کو " مَاشَاء ربک " سے ادا کیا۔ دوسرے معنی آیت کے یہ ہوسکتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ
ان آیات میں جنت اور جہنم کا جو موازنہ کیا گیا ہے اس میں جنت کے لیے عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ کے الفاظ اضافی طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ اس طرح کے لفظی فرق و تفاوت کا جب علماء و مفسرین باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو ان سے بڑے بڑے فلسفیانہ نکات پیدا ہوتے ہیں۔ چناچہ جنت اور جہنم کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ اور شیخ ابن عربی دونوں نے ایک رائے پیش کی ہے جو اہل سنت کے عام اجماعی عقیدے سے مختلف ہے۔ ان دونوں بزرگوں کے درمیان اگرچہ بڑا نظریاتی بعد ہے امام ابن تیمیہ بعض اوقات شیخ محی الدین ابن عربی پر تنقید کرتے ہوئے بہت سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں مگر اس رائے میں دونوں کا اتفاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
119 یہ الفاظ بطور محاورہ استعمال کیے گئے ہیں کیونکہ اہل عرب دوام اور لا محدود مدت بیان کرنے کے لیے یہی الفاظ استعمال کرتے تھے ورنہ یہ موجودہ زمین و آسمان تو قیامت کے وقت ختم کردیے جائیں گے۔ البتہ ظاہری الفاظ کا لحاظ رکھتے ہوئے ان سے عالم اخروی کے زمین و آسمان مراد لیے جاسکتے ہیں۔
120 کیا اعمال کے نتائج ناقابل تبدل ہیں ؟ اس آیت میں ان گمراہ لوگوں کا رد ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ نے اشیاء میں جو تاثیریں رکھ دی ہیں انہی کے مطابق ہی افعال کے نتائج برآمد ہوتے ہیں اور ان میں ردو بدل ناممکن ہے یہ عقیدہ دراصل اللہ کی قدرت کاملہ کا انکار ہے وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے زہر کھالیا…
Read the full tafseer →151۔ یہ بخشش غیر منقطع ہوگی، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی جنتی کچھ روز بعد جنت سے باہر کردیا جائے۔ (آیت) ” الا ما شآء ربک “۔ استثناء (آیت) ” الذین سعدوا “۔ سے ہے یعنی ہر مطیع و سعید بھی مشیت الہی وفضل خداوندی کے بعد ہی جنت میں داخل ہوسکے گا۔ معنی الاستثناء ھھنا ان دوامھم فی ماھم فیہ من النعیم لیس امرا واجبا بذاتہ بل ھو موکول الی مشیۃ اللہ تعالیٰ (ابن کثیر) مذہب اہل سنت کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ عاصی مسلم بہرحال خلود نار کا مستوجب نہیں، اگر بالکل معافی نہ ہوئی جب بھی کچھ سزاجھیلنے کے بعد جنت میں لے آیا جائے گا۔ احادیث میں یہ مضمون بہت صراحت کے ساتھ آیا ہے مفسر نسفی نے لکھا ہے کہ معتزلہ کو جب ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیت نمبر 96 تا 109
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم…
Read the full tafseer →واما الذین سعد واففی الجنۃ خلدین فیھا ما دامت السموت والارض الا ما شآء ربک اور لیکن جو خوش نصیب ہوں گے وہ جنت میں ہوں گے جہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے مگر جب آپ کے رب کی مشیت ہوگی (تو نکل سکیں گے اگرچہ کبھی نہیں نکل سکیں گے) استثناء کے متعلق علماء کے مختلف اقوال اس آیت میں بھی وہی ہیں جو گزشتہ آیت کی تفسیر میں بیان کر دئیے گئے۔
میرے نزدیک اس جگہ پسندیدہ قول یہ ہے کہ بعض اوقات میں اہل جنت کو اس درجہ پر فائز کردیا جائے گا جو جنت سے بھی اعلیٰ ہوگا ‘ یعنی اللہ کے دیدار میں استغراق اور بارگاہ اقدس سے ناقابل بیان اتصال۔ اہل تفسیر نے آیۃ وُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی…
Read the full tafseer →(108) اور رہ گئے وہ لوگ جو سعید ہیں، وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جیسا کہ آسمان و زمین پیدایش کے وقت سے لے کر اب تک موجود ہیں، تاہم اگر اللہ ہی کو منظور ہو کہ وہ اہل سعادت کو نکال کر اہل شقاوت میں داخل کردے کیوں کہ اس کا فرمان ہے کہ جس چیز کو وہ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے تو اسے پورا اختیار ہے کہ وہ سعادت کے زمرہ سے نکال کر شقاوت کے زمرہ میں داخل کردے۔
آیت کریمہ کا یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب تک جنت کے آسمان و زمین باقی رہیں گے البتہ اگر آپ کے رب ہی کو منظور ہو کہ وہ دخول جنت سے پہلے گناہوں سے پاک کرنے کے لیے دوزخ میں داخل فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ : ”جب تک سارے آسمان و زمین قائم ہیں“ مراد ہمیشہ کا عذاب ہے، کیونکہ جب کسی چیز کی ہمیشگی ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو عرب ”مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ“ کا محاورہ استعمال کرتے ہیں، ورنہ تعلیق نہیں، یعنی یہ معنی نہیں کہ جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے عذاب رہے گا پھر نہیں۔ ہاں آسمان و زمین سے مراد آخرت کے آسمان و زمین ہوں تو محاورے کے بغیر ہی ہمیشگی مراد ہے، کیونکہ دنیا کے زمین و آسمان تو اس دن بدل دیے جائیں گے، فرمایا : (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّار) [ إبراہیم : 48…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–109
آیت نمبر 100 تا 109
قولہ تعالیٰ : ذٰلک من انۘبآء القرٰی نقصہ علیک، ذٰلکمبتدا کے مضمر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی الامرذالک اور اگر آپ چاہیں تو اسے مبتدا کی حیثیت سے بھی مرفوع بناسکتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا : یہ گزشتہ خبر ان بستیوں کی بعض خبروں میں سے جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں۔ منھاقآئم وحصیدحضرت قتادہ نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو برباد ہوچکی ہی اور ان کے نشانات ہیں جب کے حصید سے مراد ویہ ہیں جن کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے : قائم سے مراد آباد ہیں جب کہ حصید سے مراد بےآباد اور برباد ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو اپنے سازو سامان سمیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ وان مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ دونوں آیتیں (آیت) ” فمنہم شقی و سعید “ اور یوم یجمع اللہ الرسل فیقول فاذا اجبتم قالوا لاعلم لنا “ (المائدہ آیت 109) پوشیدہ باتوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” فمنہم شقی و سعید “ اس سے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اس قبلہ والوں میں سے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آگ کا عذاب دے گا جب تک چاہے گا ان کے گناہوں کے بدلہ میں پھر ان کے بارے میں شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ ایمان والے ان کے لئے شفاعت کریں گے تو ان کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کردیں گے ان کا نام استفیاء رکھا گیا جب ان کو آگ میں عذاب…
Read the full tafseer →[وَاَمَا : اور جہاں تک ] [الَّذِينَ : وہ لوگ ہیں جو ] [سُعِدُوْا : نیک بخت ہوئے ] [فَفِي الْجَنَّةِ : تو (وہ) جنت میں ہیں ] [خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهَا : اس میں ] [ مَا دَامَتِ : جب تک رہیں ] [ السَّمٰوٰتُ : آسمان ] [وَالْاَرْضُ : اور زمین ] [اِلَّا : سوائے اس کے ] [ مَا : جو ] [شَاۗءَ : چاہے ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ عَطَاۗءً : بخشش ہوتے ہوئے ] [غَيْرَ مَجْذُوْذٍ : بغیر توڑی ہوئی ]
ج ذذ
[جَذًّا : (ن) کسی چیز کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ کاٹنا۔] [جُذَاذٌ: ٹکڑے۔ فَجَعَلَھُمْ جُذَاذًا (پھر انھوں (علیہ السلام) نے کردیا ان کو ٹکڑے ٹکڑے) 21:58] [مَجْذُوْذٌ: توڑا ہوا۔ کاٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
قیامت کے دن سب جمع ہوں گے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو بولنے کی اجازت نہ ہو گی
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ گزشتہ امتوں کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو ‘ پھر یہ فرمایا کہ آخرت کے دن میں سب لوگ جمع ہوں گے اور یہ حاضری کا دن ہے یہ جبری حاضری ہوگی کوئی شخص اگر یہ چاہے کہ میں حاضر نہ ہوں تو ایسا ہو نہیں سکتا ‘ حاضر ہونا ہی پڑے گا مزید فرمایا کہ ہم اس دن کو تھوڑی مدت کے لئے مؤخر کر رہے ہیں جس وقت اس کا آنا اللہ تعالیٰ کے علم میں متعین ہے اس وقت آجائے گی اس سے پہلے نہیں آئے گی لیکن فوری اور ابھی نہ آنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ آنی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
تذکیر عواقب اخرویہ کفر و تکذیب برائے موعظت و نصیحت
قال اللہ تعالیٰ ان فی ذلک لایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ .... الیٰ .... وانا لموفوھم نصیبھم غیر منقوص۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفر و تکذیب کے دنیوی انجام اور دنیاوی ذلت اور رسوائی کی یاد دہانی تھی۔ اب اس آیت میں کفر وتکذیب کے اخروی انجام کا بیان ہے دنیوی ذلت وہلاکت کے ذکر سے موعظت اور نصیحت مقصود ہے عقلمند کو چاہیے کہ پہلے سے اپنے انجام کو سوچ لے قیامت کا دن اللہ کی عدالت کا دن ہے جس میں سعداء اور اشقیاء کی جزاء اور فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن سعداء گا ئز المرام ہونگے اور اشقیاء خائب و خاسر ہونگے۔
جاننا چاہئے کہ ان آیات میں حق جل شانہ نے اہل محشر کی دو…
Read the full tafseer →88:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اور اِلَّا مَاشَاءَ رَبُّکَ کی تفسیر مذکورہ بالا بیان کے مطابق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
ربط آیات
فرعون اور اس کی قوم کا حال بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے آپ کی بات کا انکار کیا۔ لوگوں نے فرعون کی بات کا اتباع کیا ، حالانکہ وہ بالکل غلط موقف پر تھا ان کے انجام کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے آگے چل رہا ہوگا اور سب کو دوزخ میں لے جائیگا۔ اللہ نے دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی ، اور قیامت کو بھی وہ اسی لعنت میں گرفتار ہوں گے۔ اللہ نے مختلف بستیوں کا حال بیان فرمایا کہ ان میں سے بعض بالکل اجڑ چکی ہیں اور بعض کے نشانات موجود ہیں اور آنے والے لوگوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ اللہ…
Read the full tafseer →وَاَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا فَفِي الْجَنَّۃِ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ 0 ۭ عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ 108
سعد
السَّعْدُ والسَّعَادَةُ : معاونة الأمور الإلهية للإنسان علی نيل الخیر، ويضادّه الشّقاوة، وأعظم السّعادات الجنّة، فلذلک قال تعالی: وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ [هود/ 108] ، وقال : فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ [هود/ 105] ،
( س ع د ) السعد
والسعادۃ ( خوش نصیبی ) کے معنی ہیں حصول خیر میں امور الہیہ کا انسان کے لئے ممدا ور معاون ہونا ۔ اس کی ضد شقاوۃ ( بدبختی ) ہے ۔ قرآن پاک میں فرمایا ہے : وَأَمَّا الَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–109
1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَھُمْ فِیْھَا زَفِیْرٌ وَّ شَھِیْقٌ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلاَّ مَاشَآئَ رَبُّکَ ط اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلاَّ مَاشَآئَ رَبُّکَ ط عَطَآئً غَیْرَمَجْذُوْذ۔ (سورۃ ہود : 106، 107، 108)
(پس رہے وہ لوگ جو بدنصیب ہیں وہ آگ میں ہوں گے۔ ان کے لیے اس آگ میں چیخنا ہے اور پھنکارنا ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہے۔ مگر جو چاہے آپ ﷺ کا پروردگار۔ بیشک آپ ﷺ کا رب کر گزرنے والا ہے اس کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے بعدنیک لوگوں کا تذکرہ اور ان کا انعام۔
ایک طرف جہنمی اپنے برے عقیدہ اور گھناؤ نے اعمال کی سزا پاتے ہوئے جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں گدھے کی طرح آوازیں نکال رہے ہوں گے۔ دوسری طرف صحیح عقیدہ رکھنے اور اس کے مطابق نیک اعمال کرنے والے سعادت مند حضرات، اللہ تعالیٰ کی میزبانی اور جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنے رب کے شکریہ کے ترانے گا رہے ہوں گے۔ جب یہ لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے تو اظہار تشکر کے طور پر برملا اعتراف کریں گے کہ ہمارے رب نے ہمارے ساتھ دنیا میں جو وعدے کیے تھے۔ ان سے ہم کئی گنا زیادہ پا رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ اعلان ہوگا کہ اب تم ہمیشہ…
Read the full tafseer →108: وَاَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا ( اور پھر جو لوگ خوش نصیب ہونگے) قراءت : حمزہ، علی، حفص نے سُعِدُوْاپڑھا ہے۔ سَعِدَ لازم ہے۔ اور سَعَدَ یَسْعَد متعدی ہے۔ فَفِی الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآ ئَ رَبُّکَ (پس وہ جنت میں جائیں گے اسمیں ہمیشہ رہنے والے ہونگے جب تک رہیں آسمان و زمین مگر جو چاہے تمہار ارب) نمبر 1۔ یہ خلود فی الجنۃ سے استثناء ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ جنت کے علاوہ ان کو جنت سے بڑی چیزیں بھی دی جائیں گی۔ اور وہ رؤیت باری تعالیٰ اور اسکی رضا مندی ہے۔ نمبر 2۔ اسکامعنی یہ ہے کہ ما ؔ بمعنٰی من ہو کہ جس کو اللہ تعالیٰ چاہے کہ اس کو جنت…
Read the full tafseer →تفسیر : 108۔” واما الذین سعدوا “ حمزہ ، کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے ” سعدوا “ سین کے پیش اور عین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی سعادت دیئے گئے۔
اور دیگر حضرات نے سین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” شقوا “ پر قیاس کرتے ہوئے۔” ففی الجنۃ خالدین فیھا ما دامت السموات والارض الا ما شاء ربک “ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ مگر وہ مدت جو وہ آگ میں ٹھہریں گے حتی ٰکہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے استثناء کو خوب جانتا ہے۔ ” عطاء غیر مجذوذ “ یعنی ختم نہ ہوگی ۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اہل جنت کے لیے وہ کیا چاہتے ہیں تو فرمایا ” عطاء غیر مجذوذ “ اور…
Read the full tafseer →108۔ جس طرح وہاں اوپر بدبختوں کا حال بیان کیا یہاں نیک بختوں کا حال بیان فرمایا کہ جو لوگ نیک بخت ہیں رسولوں کی پیروں کی دین حق کو قبول کیا ان کے واسطے جنت ہے جب تک آسمان و زمین وہاں کے رہیں گے یہ لوگ جنت میں رہیں گے بلکہ اس سے بھی زیادہ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ جنت ہی میں رہیں گے پھر وہاں سے نکلنا کیسا بلکہ ان پر ایسی بخشش ہوگی جس کی کوئی انتہا ہی نہیں صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کل مخلوقات کا حساب و کتاب ہوجائے گا اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جاویں گے تو موت بلائی جائے گی وہ ایک بھیڑ کی صورت میں آئے گی۔ اس کو ذبح کر…
Read the full tafseer →(وَاَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا : اور جو نیک بخت ہوں گے) یعنی وہ لوگ جنہیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ (فَفِي الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ : وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب) پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا : ( عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ : بخشش بےانتہا) یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–112
حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا
قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
208 ۔ اللہ جو چاہے کرے : کہ وہ مختار کل اور حاکم مطلق ہے اور اس کی مشیت سب پر حاوی اور سب سے بالا و برتر ہے۔ پس وہ جو چاہے، جب چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ کہ وہ (علی کل شیء قدیر) بھی ہے اور (فعال لما یرید) بھی اس کے کسی ارادے میں نہ کوئی روک نہ رکاوٹ اور نہ کسی کو اس سے کسی طرح کی پرسش و پوچھ کا یارا۔ کہ اس کی صفت ہے (لایسئل عما یفعل وہم یسئلون) ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ بدبخت وہاں کے ان ہولناک عذابوں میں ہمیشہ کے لیے رہیں گے کہ ان کا عذاب دائمی ہوگا اور ان کو اس دائمی عذاب میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ کوئی ان کو اس سے چھڑانے والا نہیں ہوگا مگر یہ کہ تمہارا رب ہی کچھ چاہے۔ سو وہ اگر چاہے تو کسی کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
قیامت، نیک و بد اور جزا و سزا
تشریح : قیامت کے دن اللہ کا رعب دبدبہ اور جلال اس قدر زبردست ہوگا کہ کوئی شخض بات کرنے کی جرأت بھی نہ کرسکے گا سب لوگ مبہوت و پریشان دم بخود کھڑے ہوں گے صرف وہ شخص ہی بولنے کی جرأت کرے گا جس کو رب اعلیٰ بولنے کی اجازت دے گا یا حکم دے گا۔ اور اس میدان حشر میں بندوں کے صرف دو گروہ ہوں گے ایک نیک بخت اور دوسرا بدبخت اور پھر ان کو اپنے مقام پر پہنچا دیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رکھے جائیں گے اور یہاں آیت میں جو ہمیشہ کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ جب تک زمین و آسمان رہیں گے تو اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ عربی زبان میں محاورتاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیات 96 تا 109
اسرار و معارف
جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ دونوں آیتوں میں استثنا کا تعلق گہگار اہل توحید سے ہے۔ اوپر کی آیت میں مطلب یہ ہوگا کہ موحد مومن گنہگار جب اپنی سزا بھگت لیں گے تو انہیں دوزخ سے نکال لیا جائے گا جیسا کہ بہت سی احادیث سے ثابت ہے۔ جمہور صحابہ ؓ وتابعین (رح) سے اس کی یہی تفسیر منقول ہے۔ گو بعض نے اس سے دوزخ کے بالآخر فنا ہوجانے پر استدلال کیا ہے اور اس سلسلہ میں ایک حدیث ضعیف اور کچھ غریب اقوال بھی نقل کئے ہیں مگر یہ مطلب قرآن کی دوسری آیات کے خلاف ہے جن میں جہنمیوں کے متعلق ” خالدین “ اور ” ابدا “ کے الفاظ مذکور ہیں۔ دوسری آیت میں اہل جنت کے متعلق بھی ” الاماشاء ربک “ کا تعلق اصحاب معاصی کے ساتھ ہے۔ یعنی جنتی جنت میں…
Read the full tafseer →(11:108) سعدوا۔ سعد سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب وہ نیک بخت بنائے گئے۔ (باب فتح) سعد (باب فتح) کے معنی نیک بخت کرنا۔ میں اہل لغت نے اختلاف کیا ہے۔ بعض نے آیۃ ہذا سے استدلال کرتے ہوئے ان معنوں کو جائز رکھا ہے لیکن محققین اہل لغت نے اس سے انکار کیا ہے ان کا بیان ہے کہ ان معنی میں عرب کا محاورہ اسعدہ اللہ (اللہ اس کو نیک بخت کرے) ہے۔ اور یہ کہ سعادۃ۔ شقاوۃ کی طرح لازم ہے۔
سیبویہ نے کہا ہے کہ یہ لغت قیاس سے خارج ہے ۔ یا یہ باب فعل فعلتہ سے ہوگی یعنی لازم بھی اور متعدی بھی۔ جیسے کہ غاض وہ گھٹ گیا۔ اور غضتہ میں نے اس کا گھٹا دیا۔ اسی طرح سعد وہ نیک بخت ہوا۔ اور سعدتہ میں نے اس کو نیک بخت کیا۔ لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109
اخذ (لیا) المد شدید (شدید اور درد ناک) خاف (ڈر) یوم مجموع (جمع ہونے کا دن) یوم مشھود (حاضری کا دن) نوخر (ہم دیر کرتے ہیں۔ موخر کرتے ہیں) معدود (گنتی، مقرر) لاتکلم (بات نہ کرے گا) شقی (بدنصیب) سعید (خوش نصیب) زقیر (چیخنا، زور سے آواز لگانا) شھیق (دھاڑنا) فعال (بہت کرنیوالا) عطاء (بخشش، عطا کرنا) غیر مجذوذ (نہ منقطع ہونے والا) لاتک (لاتکن) تو نہ ہونا) مریدۃ (شک) مرفوا (پورا دینے والا) نصیب (حصہ) غیر منقوص (نہ گھٹنے والا)
تشریح : آیت نمبر 102 تا 109
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اسی لئے وہ لوگوں کے برے اعمال پر فوراً ہی سزا نہیں دیا کرتا بلکہ ان کو مہلت…
Read the full tafseer →جس طرح وہاں اوپر بد بختوں کا حال بیان کیا یہاں نیک بختوں کا حال بیان فرمایا کہ جو لوگ نیک بخت ہیں۔ رسولوں کی پیروی کی، دین حق کو قبول کیا ان کے واسطے جنت ہے، اور ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ یعنی ان پر ایسی بخشش ہوگی جس کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کل مخلوقات کا حساب و کتاب ہوجائے گا اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت بلائی جائے گی وہ ایک بھیڑ کی صورت میں آئے گی اس کو ذبح کرکے کہا جائے گا کہ اے جنت والو ! اب موت نہیں ہے۔ اب تم ہمیشہ جنت میں رہو اور اے دوزخ والو ! اب موت نہیں ہے تم ہمیشہ دوزخ میں رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
[55] '' جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں '' یہ الفاظ محاورے کے طور پر ہمیشگی کے لئے استعمال ہوتے ہیں، ورنہ ظاہر ہے کہ زمین و آسمان اس وقت فنا ہوچکے ہوں گے اس لئے لفظی معنی مراد نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
رحمت الہی کی فراوانیاں :
(ف 1) دنیا میں ہمیشہ دو گروہ رہے ہیں ، ایک وہ جنہیں سعادت ازلی سے بہرہ وافر ملا ہے ، اور دوسرا وہ جن کے حصہ میں محرومی شقاوت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔
اللہ نے ان گروہوں کے لئے حیات اخروی میں اعمال کے موافق وومقام تجویز فرمائے ہیں ۔
ایک مقام غضب جس کا نام جہنم یا دوزخ ہے اور ایک مقام رحمت وعفو ، جو جنت یا فردوس کے نام سے مشہور ہے ان آیات میں اس حقیقت کی تشریح مذکور ہے ،
(آیت) ” مادامت السموت والارض “۔ عربی محاورہ ہے جس سے مراد دوام وتائید ہوتی ہے جیسے ” ما جن اللیل ، ماناح الحمام ما سال سبل ، ماطما جر “۔ وغیرہ محرات میں مقصد دوام ہوتا ہے ۔
عذاب کی آیت میں (آیت) ” الا…
Read the full tafseer →108 اور رہے وہ لوگ جو نیک اور سعادت مند ہیں وہ جنت میں ہوں گے اور اس میں جب تک آسمان و زمین قائم ہیں ہمیشہ ہمیں رہیں گے مگر ہاں جس کو آپ کا رب چاہے تو اور بات ہے یہ خدا کا ایسا عطیہ ہے جو کبھی سطح نہیں ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس میں دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ رہیں گے آگ میں جتنی دیر رہ چکے ہیں آسمان و زمین دنیا میں مگر جتنا اور چاہے تیرا رب وہ اسی کو معلوم ہے۔
دوسرے یہ کہ رہیں آگ میں جب تک رہے آسمان و زمین میں اس جہان کا یعنی ہمیشہ مگر جو چاہے رب تو موقوف کر دے لیکن چاہ چکا کہ موقوف نہ ہو اس کہنے میں فرق نکلا اللہ کے ہمیشہ رہنے اور بندے کے کہ بندہ گوہمیشہ رہے پر ساتھ یہ بات لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
ف 6۔ یہ محاورہ ابدیت کے لیے۔
7۔ مگر باوجود قدرت کے یہ یقینی ہے کہ خدا یہ بات نہ چاہے گا اس لیے نکلنا نصیب نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →وہ لوگ جو نیک ہیں بلاشبہ وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں
۔ 134 نیک بخت اور سعید انسانوں کے لئے بلاشبہ جنت ہے اور وہ سب کے سب ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں اور اس آسمان و زمین سے بھی مراد یہ موجود آسمان و زمین نہیں ہو سکتے ہاں ! وہ آسمان و زمین جو اس وقت موجود ہوں گے جس وقت کا یہ بیان کیا جا رہا ہے یعنی قیامت کے بعد کے بدل گئے ہوئے آسمان و زمین جیسے بھی کہ وہ ہوں گے مگر ہاں وہ جو تیرا رب چاہے یہ استثناء ان لوگوں کے لئے ہوئی جن کا داخلہ سزا پان کے بعد ممکن ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ استثناء محض قدرت کے اظہار اور اختیار کے لئے ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–111
After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said:
وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ
And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you.
The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…
Read the full tafseer →109. A person's permanent stay in Paradise is equally not contingent upon some higher law that would compel God to facilitate this. On the contrary, people will be able to stay there permanently only by dint of God's grace and mercy. If God were to act otherwise, He obviously has both the power and the authority to do so.
Read the full tafseer →