Explained with ayahs 106–107
عذاب یافتہ لوگوں کی چیخیں
گدھے کے چیخنے میں جیسے زیر و بم ہوتا ہے ایسے ہی ان کی چیخیں ہوں گی۔ یہ یاد رہے کہ عرب کے محاوروں کے مطاق قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ وہ ہمیشگی کے محاورے کو اسی طرح بولا کرتے ہیں کہ یہ ہمیشیگی والا ہے جب تک آسمان و زمین کو قیام ہے۔ یہ بھی ان کے محاورے میں ہے کہ یہ باقی رہے گا جب تک دن رات کا چکر بندھا ہوا ہے۔ پس ان الفاظ سے ہمیشگی مراد ہے نہ کہ قید۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس زمین و آسمان کے بعد دار آخرت میں ان کے سوا اور آسمان و زمین ہو پس یہاں مراد جنس ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر جنت کا آسمان و زمین ہے۔ اس کے بعد اللہ کی منشا کا ذکر ہے جیسے (النَّارُ…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 107
ان الفاظ سے یا تو عالمِ آخرت کے زمین و آسمان مراد ہیں ، یا پھر محض محاورے کے طور پر ان کو دوام اور ہمیشگی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ بہر حال موجودہ زمین و آسمان تو مراد نہیں ہو سکتے کیونکہ قرآن کے بیان کی رو سے یہ قیامت کے روز بدل ڈالے جائیں گے اور یہاں جن واقعات کا ذکر ہو رہا ہے وہ قیامت کے بعد پیش آنے والے ہیں۔
سورة هُوْد 108
یعنی کوئی اور طاقت تو ایسی ہے ہی نہیں جو ان لوگوں کو اس دائمی عذ اب سے بچا سکے۔ البتہ اگر اللہ تعالیٰ خود ہی کسی کے انجام کو بدلنا چاہے یا کسی کو ہمیشگی کا عذاب دینے کے بجائے ایک مدت تک عذاب دے کر معاف کر دینے کا فیصلہ فرما ئے تو اسے ایسا کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خلاصہ تفسیر
اور آپ کے رب کی دار و گیر ایسی ہی (سخت) ہے جب وہ کسی بستی والوں پر دار وگیر کرتا ہے جبکہ وہ ظلم (و کفر) کیا کرتے ہوں، بلا شبہ اس کی دار و گیر بڑی الم رساں (اور) سخت ہے (کہ اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا) ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو (وجہ عبرت ظاہر ہے کہ جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دار الجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دار الجزاء ہے کیسا سخت عذاب ہوگا) وہ (یعنی آخرت کا دن) ایسا دن ہوگا کہ اس میں تمام آدمی جمع کئے جاویں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے اور (وہ دن گو اب تک آیا نہیں لیکن اس سے کوئی اس کے آنے میں شک نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
106۔ 107:۔ فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ۔ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ۔
دوزخیوں کے چیخنے چلانے کی تعبیر : جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں پڑیں گے اور اس میں ان کا حال یہ ہوگا کہ لہم فیہا زفیر و شہیق، زفیر اور شہیق دونوں لفظ گدھے کی چیخ کے لیے آتے ہیں جب وہ چیختا ہے تو جو سانس وہ باہر کی طرف نکالتا ہے اس کو زفیر کہتے ہیں اور جو سانس اندر کی طرف لے جاتا ہے اس کو شہیق کہتے ہیں۔ یہ دوزخیوں کے چیخنے چلانے اور رونے گھگھیانے کی تعبیر ہے اور ان لفظوں میں جو حقارت…
Read the full tafseer →17۔ 1 ان الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ لگا ہے کہ کافروں کے لئے جہنم کا عذاب دائمی نہیں ہے بلکہ موقت ہے یعنی اس وقت تک رہے گا جب تک آسمان و زمین رہیں گے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں۔ کیونکہ یہاں (مَا دَ امَتِ السِّمٰوٰ تُ وَالْاَرْضُ) اہل عرب کے روز مرہ کی گفتگو اور محاورے کے مطابق نازل ہوا ہے۔ عربوں کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کا دوام ثابت کرنا مقصود ہوتا تو وہ کہتے تھے (یہ چیز اسی طرح ہمیشہ رہے گی۔ جس طرح آسمان و زمین کا دوام ہے) اسی محاورے کو قرآن کریم میں استعمال کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل کفر و شرک جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ جس کو قرآن نے متعدد جگہ خالدین فیھا کے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–113
60: اس سے موجودہ زمین اور آسمان مراد نہیں ہیں، کیونکہ یہ تو قیامت کے ساتھ ختم ہوجائیں گے، البتہ قرآن کریم ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں وہاں کے حالات کے مطابق دوسرے زمین و آسمان پیدا کئے جائیں گے (دیکھئے سورة ابراہیم 14۔ 48، سورة زمر 24۔ 74) اور چونکہ وہ زمین و آسمان ہمیشہ رہیں گے اس لئے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ بھی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔
61: رَبُّکَ : اسی قسم کا استثناء سورة انعام (6۔ 128) میں بھی گزرا ہے جیسا کہ وہاں ہم نے عرض کیا تھا، اس کی ٹھیک ٹھیک مراد تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، لیکن اس سے بظاہر ایک تو یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ کسی کے عذاب وثواب کا تمام ترفیصلہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
یہ سب لوگ جنت و جہنم میں “ اس وقت تک رہیں گے جب تک زمین و آسمان ہیں۔ ” یہ عربی محاورہ ہے جو استمرار اور دوام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ محاورات کا اپنا مفہوم ہوتا ہے اور ایک خاص اثر انگیزی ہوتی ہے ، یہاں بھی یہ محاورہ انداز تعبیر کے اعتبار سے بہت ہی خوب ہے۔
اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (11 : 107) “ بیشک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے ” یہ فقرہ ان لوگوں کے قلبی اطمینان کے لیے ہے جو خوش قسمت وافعہ ہوئے تھے کہ ان کا انعام دائمی ہوگا اور کبھی منقطع نہ ہوگا ، اگر چہ مفروصہ اپنی جگہ ہو کر اللہ تبدیل کرسکتا ہے لیکن چونکہ اللہ نے ان کے لیے ایسا ارادہ کرلیا ہے ، اس لیے انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
6 ان آیات کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جس قدر مدت آسمان و زمین دنیا میں باقی رہے اتنی مدت تک اشقیاء دوزخ میں اور سعداء جنت میں رہیں گے مگر جو اور زیادہ چاہے تیرا رب، وہ اسی کو معلوم ہے۔ کیونکہ ہم جب طویل سے طویل زمانہ کا تصور کرتے ہیں تو اپنے ماحول کے اعتبار سے بڑی مدت یہ ہی خیال میں آتی ہے۔ اسی لیے " مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ " وغیرہ الفاظ محاورات عرب میں دوام کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے بولے جاتے ہیں۔ باقی دوام و ابدیت کا اصلی مدلول جسے لامحدود زمانہ کہنا چاہیے وہ حق تعالیٰ ہی کے علم غیر متناہی کے ساتھ مختص ہے۔ جس کو " مَاشَاء ربک " سے ادا کیا۔ دوسرے معنی آیت کے یہ ہوسکتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →آیت 107 خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ
یہ مقام مشکلات القرآن میں سے ہے۔ یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں خٰلِدِیْنَ فِیْہَا کے ساتھ کچھ استثنات بھی آئے ہیں۔ جہنم اور جنت کب تک رہیں گی یا جہنمی اور جنتی لوگ ان میں کب تک رہیں گے ؟ اس کے بارے میں فرمایا : مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ کہ جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے۔ اس سے مراد ابدیت بھی ہوسکتی ہے اور اس طرح کا کوئی اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ شاید کبھی کوئی ایسا وقت آئے جب زمین و آسمان کا وہ نظام بدل بھی جائے اور کوئی دوسرا نظام اس کی جگہ لے لے۔ واضح رہے کہ اس ”زمین و آسمان“ سے مراد بھی موجودہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
119 یہ الفاظ بطور محاورہ استعمال کیے گئے ہیں کیونکہ اہل عرب دوام اور لا محدود مدت بیان کرنے کے لیے یہی الفاظ استعمال کرتے تھے ورنہ یہ موجودہ زمین و آسمان تو قیامت کے وقت ختم کردیے جائیں گے۔ البتہ ظاہری الفاظ کا لحاظ رکھتے ہوئے ان سے عالم اخروی کے زمین و آسمان مراد لیے جاسکتے ہیں۔
120 کیا اعمال کے نتائج ناقابل تبدل ہیں ؟ اس آیت میں ان گمراہ لوگوں کا رد ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ نے اشیاء میں جو تاثیریں رکھ دی ہیں انہی کے مطابق ہی افعال کے نتائج برآمد ہوتے ہیں اور ان میں ردو بدل ناممکن ہے یہ عقیدہ دراصل اللہ کی قدرت کاملہ کا انکار ہے وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے زہر کھالیا…
Read the full tafseer →150۔ اسلام نے جس خدا کو پیش کیا ہے اس کے اختیار ات غیر محدود ہیں اور اس کا اقتدار اعلی سب پر حاکم ہے اس کے ارادہ کو قید میں رکھنے والی نہ کوئی اور قوت ارادی ہے نہ کوئی اور بےجان ضابطہ، آیت میں رد آگیا ان تمام ادیان باطل کا جنہوں نے خدا کا وجود تو مانا ہے لیکن محدود قوی اور اختیارات کے ساتھ یہ یہ کہہ دیا کہ خدا صرف انصاف کرسکتا ہے عفو پر قادر نہیں۔ یا یہ تعلیم دی ہے کہ ” کرم “ (ہندی زبان میں قانون مجازات کا مرادف) خدایا قانون ساز کی بھی قوت سے بالا دست ہے ! اس طرح کا کوئی عجیب و غریب خدا ہرگز اسلام کی نظر میں خدا نہیں۔ وہ جس عاصی، خاطی، مجرم کو چاہے بغیر کسی سزا کے یا بہت خفیف سزا کے بعد بخش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیت نمبر 96 تا 109
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم…
Read the full tafseer →خلدین فیھا ما دامت السموت والارض ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں۔
ضحاک نے کہا : آسمان و زمین سے جنت و دوزخ کے آسمان و زمین مراد ہیں۔ جو چیز سر کے اوپر کی جانب ہو وہ سماء ہے اور جس پر قدم ٹکے ہوئے ہوں وہ ارض ہے۔ یہ بات ناقابل انکار ہے کہ حشر میں سب لوگوں کا اجتماع ہوگا تو وہ کسی جگہ ہوگا۔ قدموں کے نیچے بھی کوئی چیز ہوگی اور سر کے اوپر کی جانب بھی کچھ ہوگا۔ اہل معنی کہتے ہیں کہ عرب لوگ جب کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کو آسمان و زمین کے وجود کے ساتھ مشروط کرتے ہیں تو ان کی مراد اس فعل یا عدم فعل کا دوام ہوتا ہے۔ اس قول کی روشنی میں مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالاَرْضِ کی مراد ہوگی :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
(106۔ 107) اور پھر اس دن بعض لوگ تو شقی ہوں گے کہ ان کے لیے شقاوت لکھ دی ہوگی اور بعض سعید کہ ان کے لیے سعادت لکھی ہوئی ہوگی، سو جو لوگ شقی ہیں وہ دوزخ میں ایسے حال سے ہوں گے کہ اس میں ان کی چیخ و پکار پڑے گی، نعوذ باللہ جیسا کہ گدھا پہلی مرتبہ اپنے سینے سے آواز نکال کرچیختا ہے اور آخر میں چیختا ہے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، جیسا کہ آسمان و زمین پیدایش کے وقت سے لے کر فنا تک موجود ہیں اور آپ کے پروردگار کی مشیت ان کے جہنم میں رہنے کے بارے میں ہے، یا یہ کہ اہل شقاوت ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے جیسا کہ دوزخ کا آسمان اور دوزخ کی زمین موجود ہے، یا پھر یہ کہ آپ کا پروردگار ان لوگوں میں سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ : ”جب تک سارے آسمان و زمین قائم ہیں“ مراد ہمیشہ کا عذاب ہے، کیونکہ جب کسی چیز کی ہمیشگی ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو عرب ”مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ“ کا محاورہ استعمال کرتے ہیں، ورنہ تعلیق نہیں، یعنی یہ معنی نہیں کہ جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے عذاب رہے گا پھر نہیں۔ ہاں آسمان و زمین سے مراد آخرت کے آسمان و زمین ہوں تو محاورے کے بغیر ہی ہمیشگی مراد ہے، کیونکہ دنیا کے زمین و آسمان تو اس دن بدل دیے جائیں گے، فرمایا : (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّار) [ إبراہیم : 48…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–109
آیت نمبر 100 تا 109
قولہ تعالیٰ : ذٰلک من انۘبآء القرٰی نقصہ علیک، ذٰلکمبتدا کے مضمر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی الامرذالک اور اگر آپ چاہیں تو اسے مبتدا کی حیثیت سے بھی مرفوع بناسکتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا : یہ گزشتہ خبر ان بستیوں کی بعض خبروں میں سے جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں۔ منھاقآئم وحصیدحضرت قتادہ نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو برباد ہوچکی ہی اور ان کے نشانات ہیں جب کے حصید سے مراد ویہ ہیں جن کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے : قائم سے مراد آباد ہیں جب کہ حصید سے مراد بےآباد اور برباد ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو اپنے سازو سامان سمیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ وان مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ دونوں آیتیں (آیت) ” فمنہم شقی و سعید “ اور یوم یجمع اللہ الرسل فیقول فاذا اجبتم قالوا لاعلم لنا “ (المائدہ آیت 109) پوشیدہ باتوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” فمنہم شقی و سعید “ اس سے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اس قبلہ والوں میں سے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آگ کا عذاب دے گا جب تک چاہے گا ان کے گناہوں کے بدلہ میں پھر ان کے بارے میں شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ ایمان والے ان کے لئے شفاعت کریں گے تو ان کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کردیں گے ان کا نام استفیاء رکھا گیا جب ان کو آگ میں عذاب…
Read the full tafseer →[خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ مَا دَامَتِ : جب تک رہیں ] [السَّمٰوٰتُ : آسمان ] [وَالْاَرْضُ : اور زمین ] [اِلَّا : سوائے اس کے ] [مَا : جو ] [ شَاۗءَ : چاہے ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ان : بیشک ] [رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ فَعَّالٌ: کر گزرنے والا ہے ] [ لِمَا : اس کو جو ] [ يُرِيْدُ : وہ ارادہ کرتا ہے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 107 میں جو الفاظ آئے ہیں ان سے یا تو عالم آخرت کے زمین و آسمان مراد ہیں یا محض محاورہ کے طور پر ان کو دوام اور ہمیشگی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ بہرحال موجودہ زمین و آسمان مراد نہیں ہوسکتے کیونکہ قرآن کی رو سے یہ قیامت کے روز بدل ڈالے جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
قیامت کے دن سب جمع ہوں گے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو بولنے کی اجازت نہ ہو گی
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ گزشتہ امتوں کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو ‘ پھر یہ فرمایا کہ آخرت کے دن میں سب لوگ جمع ہوں گے اور یہ حاضری کا دن ہے یہ جبری حاضری ہوگی کوئی شخص اگر یہ چاہے کہ میں حاضر نہ ہوں تو ایسا ہو نہیں سکتا ‘ حاضر ہونا ہی پڑے گا مزید فرمایا کہ ہم اس دن کو تھوڑی مدت کے لئے مؤخر کر رہے ہیں جس وقت اس کا آنا اللہ تعالیٰ کے علم میں متعین ہے اس وقت آجائے گی اس سے پہلے نہیں آئے گی لیکن فوری اور ابھی نہ آنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ آنی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
تذکیر عواقب اخرویہ کفر و تکذیب برائے موعظت و نصیحت
قال اللہ تعالیٰ ان فی ذلک لایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ .... الیٰ .... وانا لموفوھم نصیبھم غیر منقوص۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفر و تکذیب کے دنیوی انجام اور دنیاوی ذلت اور رسوائی کی یاد دہانی تھی۔ اب اس آیت میں کفر وتکذیب کے اخروی انجام کا بیان ہے دنیوی ذلت وہلاکت کے ذکر سے موعظت اور نصیحت مقصود ہے عقلمند کو چاہیے کہ پہلے سے اپنے انجام کو سوچ لے قیامت کا دن اللہ کی عدالت کا دن ہے جس میں سعداء اور اشقیاء کی جزاء اور فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن سعداء گا ئز المرام ہونگے اور اشقیاء خائب و خاسر ہونگے۔
جاننا چاہئے کہ ان آیات میں حق جل شانہ نے اہل محشر کی دو…
Read the full tafseer →87:۔ اَلَا بمعنی سِوٰی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے لک علی الفان الا الالف التی کانت یعنی سواھا۔ یہ قول امام زجاج، فراء اور سجاوندی سے منقول ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ سزا اس کے علاوہ ہے جو اس سے بھی زیادہ اللہ کے یہاں ان کے لیے مقرر ہے والمعنی سوی ماشاء ربک من الزیادۃ التی لا اخر لھا (روح ج 12 ص 144) اس کی مثال یوں ہے کہ ایک شخص محض عمر قید کی سزا بھگت رہا ہو اور دوسرا عمر قید با مشقت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
ربط آیات
فرعون اور اس کی قوم کا حال بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے آپ کی بات کا انکار کیا۔ لوگوں نے فرعون کی بات کا اتباع کیا ، حالانکہ وہ بالکل غلط موقف پر تھا ان کے انجام کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے آگے چل رہا ہوگا اور سب کو دوزخ میں لے جائیگا۔ اللہ نے دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی ، اور قیامت کو بھی وہ اسی لعنت میں گرفتار ہوں گے۔ اللہ نے مختلف بستیوں کا حال بیان فرمایا کہ ان میں سے بعض بالکل اجڑ چکی ہیں اور بعض کے نشانات موجود ہیں اور آنے والے لوگوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ اللہ…
Read the full tafseer →خٰلِدِيْنَ فِيْہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ 0 ۭ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ 107
خلد
الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ،
( خ ل د ) الخلودُ ( ن )
کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم
رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–109
1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَھُمْ فِیْھَا زَفِیْرٌ وَّ شَھِیْقٌ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلاَّ مَاشَآئَ رَبُّکَ ط اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلاَّ مَاشَآئَ رَبُّکَ ط عَطَآئً غَیْرَمَجْذُوْذ۔ (سورۃ ہود : 106، 107، 108)
(پس رہے وہ لوگ جو بدنصیب ہیں وہ آگ میں ہوں گے۔ ان کے لیے اس آگ میں چیخنا ہے اور پھنکارنا ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہے۔ مگر جو چاہے آپ ﷺ کا پروردگار۔ بیشک آپ ﷺ کا رب کر گزرنے والا ہے اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
فہم القرآن
ربط کلام : شقی یعنی بدعقیدہ اور برے اعمال والے لوگوں کا انجام۔
یہ بات پہلے بھی عرض کی ہے کہ قرآن مجید کا مستقل یہ اسلوب ہے کہ وہ نیک اور بد، اچھے اور برے، جنت اور جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن پاک کی تلاوت کرنے والاشخص بیک وقت اور برمحل فیصلہ کرسکے کہ اسے کونسا عقیدہ اور راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اسی اسلوب کے مطابق یہاں نیک وبد کا بیک محل ذکر کیا جارہا ہے۔ چناچہ کفر و شرک اور کبیرہ گناہوں کے مرتکب مجرموں کو دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا جس آگ کے بارے میں قرآن مجید بتلاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جلائی ہوئی آگ ہے جو لوگوں کے کلیجوں پر اتر جائے گی اور مجرموں کو آگ…
Read the full tafseer →107: خٰلِدِیْنَ فِیْھَا (وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہونگے) یہ حال مقدرہ ہے۔ مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَ رْضُ جب تک رہیں آسمان اور زمین) یہ موضع نصب میں ہے یعنی مدۃ دوام السموت والارض۔ آسمانوں و زمین کے دوام کی مدت اور آسمان و زمین سے آخرت کے آسمان و زمین مراد ہیں۔ وہ دوامی ہونگے اور ابد کیلئے بنائے جائیں گے۔ اور آخرت میں آسمان و زمین کے وجود کیلئے یہ آیت دلیل ہے۔ یوم تبدل الارض غیر الارض والسٰمٰوت ] ابراہیم : 48 [ نمبر 2۔ جب تک فوق و تحت باقی ہے کیونکہ آخرت والوں کیلئے ایسی چیز ہوگی جو ان کو اٹھائے اور ان پر سایہ کرے گی خواہ سایہ کرنے والا آسمان ہو یا عرش اور ہر چیز جو سایہ کرے وہ سماء ہے۔…
Read the full tafseer →اہل جنت اور اہل جہنم کا زمانہ
107” خالدین فیھا “ اس میں ٹھہرے رہیں گے ۔” مادامت السموت والارض “ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ جب تک جنت اور جہنم کے آسمان اور ان کی زمین باقی رہیں گے اور ہر وہ چیز جو تیرے اوپر ہو اور سایہ کرے تو یہ سماء ہے اور جس چیز پر تیرے قدم ٹک جائیں گے وہ ارض ہے۔ اہل معافی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ عرب کی عادت کے مطابق یہ ہمیشگی سے کنایہ ہے ، وہ کہتے ہیں میں تیرے پاس نہ آئوں گا جب تک آسمان اور زمین باقی ہیں ۔
الا ماشاء اللہ کے استثناء کی تفسیر
” الا ماشاء ربک “ ان دونوں استثناء کے بارے میں اختلاف ہے تو بعض فرماتے ہیں کہ یہ استثناء مؤمنین کے ان اہل شقاوت کے بارے میں ہے جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
106۔ 107۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بد بختوں کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں نے دین حق کے قبول کرنے سے انکار کیا اور کجروی سے باز نہیں آئے اور بدبخت کے بدبخت ہی رہے ان کے واسطے دوزخ میں جگہ ہے وہاں یہ لوگ خوب روئیں گے پہنچیں گے چلائیں گے دہاڑیں گے مفسروں نے الا ماشاء ربک کی تفسیر میں دونوں مطلب بیان کئے ہیں ایک یہ کہ آگ میں یہ لوگ اتنے دنوں تک رہیں گے جتنے دنوں دنیا کے آسمان و زمین میں رہ چکے ہیں اور اگر خدا چاہے گا تو زیادہ دنوں تک رکھے گا یہ اس کی مرضی پر موقوف ہے اور دوسرا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ بد بخت ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے مگر خدا جس کو چاہے گا ہمیشہ ہمیشہ نہیں رکھے گا یہ بھی اس کی…
Read the full tafseer →(خٰلِدِيْنَ فِيْهَا : وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے (مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ : جب تک رہے گا آسمان اور زمین، مگر جو چاہے آپ کا رب) یعنی وہ اس میں ہہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ( اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ : بیشک آپ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–112
حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا
قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…
Read the full tafseer →206 ۔ نیک بختوں کی کامیابی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بدبخت لوگ وہاں پر دوزخ میں پڑے چیختے چلاتے اور دھاڑیں مار رہے ہوں گے اور ان کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہوگا جب تک زمین و آسمان قائم رہیں گے۔ لیکن نیک بخت جنت میں ہوں گے جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا جب تک کہ زمین و آسمان قائم رہیں گے۔ اپنے ایمان و عقیدہ اطاعت و بندگی اور اعمال صالحہ کی بناء پر۔ اللہم اجعلنا منہم۔ اور ایسے نیک بخت اور سعادت مند جنت کی ان سدابہار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے جن کا اس جہان رنگ و بو میں تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اور یہی وہ کامیابی ہے جو کہ اصل اور حقیقی کامیابی ہے اور جو سدابہار اور ابدی و دائمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
قیامت، نیک و بد اور جزا و سزا
تشریح : قیامت کے دن اللہ کا رعب دبدبہ اور جلال اس قدر زبردست ہوگا کہ کوئی شخض بات کرنے کی جرأت بھی نہ کرسکے گا سب لوگ مبہوت و پریشان دم بخود کھڑے ہوں گے صرف وہ شخص ہی بولنے کی جرأت کرے گا جس کو رب اعلیٰ بولنے کی اجازت دے گا یا حکم دے گا۔ اور اس میدان حشر میں بندوں کے صرف دو گروہ ہوں گے ایک نیک بخت اور دوسرا بدبخت اور پھر ان کو اپنے مقام پر پہنچا دیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رکھے جائیں گے اور یہاں آیت میں جو ہمیشہ کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ جب تک زمین و آسمان رہیں گے تو اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ عربی زبان میں محاورتاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیات 96 تا 109
اسرار و معارف
جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
ف 8 ۔ دائمی عذاب سے کنایہ ہے کہ کیونکہ جب کسی چیز کی ہمشیگی ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو عربمادامت السموات والارض کا محاورہ استعمال کرتے ہیں ورنہ تعلیق نہیں ہے اور اگر آسمان و زمین سے آخرت کے آسمان و زمین مراد ہوں یا جنس سماء و ارض مراد ہو تو تعلیق بھی ہوسکتی ہے کیونکہ آخرت کے آسمان و زمین ابدی ہوں گے اور ان پر کبھی فنا نہیں آئے گی۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(11:107) فعال۔ صیغہ مبالغہ فاعل سے۔ زبردست کام کرنے والا۔ خودمختاری سے کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109
اخذ (لیا) المد شدید (شدید اور درد ناک) خاف (ڈر) یوم مجموع (جمع ہونے کا دن) یوم مشھود (حاضری کا دن) نوخر (ہم دیر کرتے ہیں۔ موخر کرتے ہیں) معدود (گنتی، مقرر) لاتکلم (بات نہ کرے گا) شقی (بدنصیب) سعید (خوش نصیب) زقیر (چیخنا، زور سے آواز لگانا) شھیق (دھاڑنا) فعال (بہت کرنیوالا) عطاء (بخشش، عطا کرنا) غیر مجذوذ (نہ منقطع ہونے والا) لاتک (لاتکن) تو نہ ہونا) مریدۃ (شک) مرفوا (پورا دینے والا) نصیب (حصہ) غیر منقوص (نہ گھٹنے والا)
تشریح : آیت نمبر 102 تا 109
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اسی لئے وہ لوگوں کے برے اعمال پر فوراً ہی سزا نہیں دیا کرتا بلکہ ان کو مہلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
بد بختوں اور نیک بختوں کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بد بختوں کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں نے دین قبول کرنے سے انکار کیا اور کجروی سے باز نہیں آئے اور بد بخت کے بد بخت ہی رہے، ان کے واسطے دوزخ میں جگہ ہے۔ وہاں یہ لوگ خوب روئیں گے چیخیں گے چلائیں گے دھاڑیں گے، پھر بھی یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ مگر خدا جس پر چاہے گا ایک عذاب ہمیشہ نہیں رکھے گا بلکہ اس کو بدل کر دوسرا عذاب بھیج دے گا۔ مثلا اگر چاہے گا گرم دوزخ میں سے نکال کر ٹھنڈی دوزخ میں ڈال دے گا۔ ہر دوزخ میں طرح طرح کے عذاب ہیں، انہی میں سے آگ کا عذاب بھی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا جو چاہے کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
[55] '' جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں '' یہ الفاظ محاورے کے طور پر ہمیشگی کے لئے استعمال ہوتے ہیں، ورنہ ظاہر ہے کہ زمین و آسمان اس وقت فنا ہوچکے ہوں گے اس لئے لفظی معنی مراد نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–107
(ف 2) ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے درمیان بطور تنوع اللہ تعالیٰ نے چند دوسرے قیمتی امور کا ذکر فرمایا ہے کہ قوموں کی داستان کفر ومعصیت جو بیان کی گئی ہے ، ان کا تعلق امور غیب سے ہے ، جس کی انبیاء (علیہم السلام) کے سوا اور کسی کو خبر نہیں ہوتی ، ارشاد فرمایا کہ ان قوموں پر جو عذاب آیا ہے ، ان کی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ ظالم نہیں ، جب عذاب آگیا ، تو پھر ان کے مزعومہ خدا انہیں عذاب سے نہ بچا سکے ، یہ کہا کہ یہ بات اللہ کے انتظام میں داخل ہے ، کہ جب شہروں اور بستیوں میں کفر ومعصیت پھیل جائے اور دل مردہ ہوجائیں ، تو اس وقت خدا کا غضب حرکت میں آتا ہے اور انہیں دنیا سے ہٹا…
Read the full tafseer →107 وہ اس دوزخ میں جب تک زمین و آسمان قائم ہیں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے مگر ہاں جس کو آپ کا رب چاہے تو دوسری بات ہے بیشک آپ کا رب جو چاہتا ہے وہ کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
ف 6۔ یہ محاورہ ابدیت کے لیے۔
7۔ مگر باوجود قدرت کے یہ یقینی ہے کہ خدا یہ بات نہ چاہے گا اس لیے نکلنا نصیب نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ آسمان و زمین موجود ہیں
۔ 133 ” وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین موجود ہیں۔ “ ان الفاظ سے کونسا آسمان و زمین مراد ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس سے مراد یا تو محض محاورہ کے طور پر ان کو دوام اور ہمیشگی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ بہرحال موجودہ زمین و آسمان تو مراد ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ قرآن کریم کے بیان کی رو سے یہ قیامت کے روز بدل ڈالے جائیں گے اور اس جگہ جن واقعات کا ذکر ہو رہا ہے وہ قیامت کے بعد پیش آنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کے سوا کوئی اور طاقت تو ایسی ہے ہی نہیں جو ان لوگوں کو اس دائمی عذاب سے بچا سکے مگر ہاں ! اگر اللہ تعالیٰ خود ہی کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–111
After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said:
وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ
And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you.
The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…
Read the full tafseer →107. There are two possible interpretations for the words, 'as long as the heavens and the earth endure'. One possibility is that they refer to the heavens
108. There is no power other than God's that can prevent the sinners from suffering eternal punishment. However, God may Himself will that someone may be spared His unending punishment. He may also decide to pardon such a person after he has been made to suffer a period of punishment in the After-life. In such cases, God certainly has both the authority and the power to do that. For if there is any law, it is God Who has made it, and hence…
Read the full tafseer →