Explained with ayahs 112–113
استقامت کی ہدایت
استقامت اور سیدھی راہ پر دوام، ہمیشگی اور ثابت قدمی کی ہدایت اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور تمام مسلمانوں کو کر رہا ہے۔ یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ ساتھ ہی سرکشی سے روکا ہے کیونکہ یہی توبہ کرنے والی چیز ہے گو کسی مشرک ہی پر کی گئی ہو۔ پروردگار بندوں کے ہر عمل سے آگاہ ہے مداہنت اور دین کے کاموں میں سستی نہ کرو۔ شرک کی طرف نہ جھکو۔ مشرکین کے اعمال پر رضامندی کا اظہار نہ کرو۔ ظالموں کی طرف نہ جھکو۔ ورنہ آگ تمہیں پکڑ لے گی۔ ظالموں کی طرف داری ان کے ظلم پر مدد ہے یہ ہرگز نہ کرو۔ اگر ایسا کیا تو کون ہے جو تم سے عذاب اللہ ہٹائے ؟ اور کون ہے جو تمہیں اس سے بچائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
سورة هُوْد 111
یعنی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ آج اس قرآن کے بارے میں مختلف لوگ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کر رہے ہیں، بلکہ اس سے پہلے جب موسیٰ ؑ کو کتاب دی گئی تھی تو اس کے بارے میں ایسی ہی مختلف رائے زنیاں کی گئی تھیں، لہذا اے محمد ﷺ ، تم یہ دیکھ کر بددل اور شکستہ خاطر نہ ہو کہ ایسی سیدھی سیدھی اور صاف باتیں قرآن میں پیش کی جا رہی ہیں اور پھر بھی لوگ ان کو قبول نہیں کرتے۔
سورة هُوْد 112
یہ فقرہ بھی نبی ﷺ اور اہل ایمان کو مطمئن کرنے اور صبر دلانے کے لیے فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اس بات کے لیے بےچین نہ ہو کہ جو لوگ اس قرآن کے بارے میں اختلافات کر رہے ہیں ان کا فیصلہ جلدی سے چکا دیا جائے۔…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
جس طرح کہ آپ کو حکم ہوا ہے (راہ دین پر) مستقیم رہیے اور وہ لوگ بھی (مستقیم رہیں) جو کفر سے توبہ کر کے آپ کے ساتھ ہیں اور دائرہ (دین) سے ذرا مت نکلو یقینًا وہ تم سب کے اعمال کو خوب دیکھتا ہے اور (اے مسلمانو ! ان) ظالموں کی طرف (یا جو ان کی مثل ہوں ان کی طرف دلی دوستی سے یا اعمال و احوال میں مشارکت و مشابہت سے) مت جھکو، کبھی تم کو دوزخ کی آگ لگ جاوے اور (اس وقت) خدا کے سوا تمہارا کوئی رفاقت کرنے والا نہ ہو پھر تمہاری حمایت کسی طرف سے بھی نہ ہو (کیونکہ رفاقت تو حمایت سے سہل ہے جب رفاقت کرنے والا بھی کوئی نہیں تو حمایت کرنے والا کون ہوتا)۔
معارف و مسائل
سورة ہود میں انبیاء سابقین اور…
Read the full tafseer →فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۭ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ یہ پیغمبر سلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والوں کو جادہ حق پر استوار رہنے کی تلقین ہے کہ مخالفتوں کے اس طوفان کے اندر اسی راہ پر پوری مضبوطی سے قائم رہ وجو تمہارے رب نے تمہارے لیے کھولی ہے۔ ولا تطغو۔ یعنی حالات سے مرعوب ہو کر یا ترغیبات سے متاثر ہو کر ذرا اس راہ سے کج نہ ہونا۔ انہ بما تعملون بصیر۔ جو کچھ تم کر رہے ہو یا کروگے وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ وہ مشکلات میں تمہاری رہنمائی فرمائے گا اور جب تم اس کی مدد کے محتاج ہوگے وہ تم کو سہارا دے گا۔
Read the full tafseer →112۔ 1 اس آیت میں نبی اور اہل ایمان کو ایک تو استقامت کی تلقین کی جا رہی ہے، جو دشمن کے مقابلے کے لئے ایک بہت بڑا ہتھیار ہے۔ دوسرے حد سے بڑھ جانے سے روکا گیا ہے، جو اہل ایمان کی اخلاقی قوت اور رفعت کردار کے لئے بہت ضروری ہے۔ حتٰی کہ یہ تجاوز، دشمن کے ساتھ معاملہ کرتے وقت بھی جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–113
60: اس سے موجودہ زمین اور آسمان مراد نہیں ہیں، کیونکہ یہ تو قیامت کے ساتھ ختم ہوجائیں گے، البتہ قرآن کریم ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں وہاں کے حالات کے مطابق دوسرے زمین و آسمان پیدا کئے جائیں گے (دیکھئے سورة ابراہیم 14۔ 48، سورة زمر 24۔ 74) اور چونکہ وہ زمین و آسمان ہمیشہ رہیں گے اس لئے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ بھی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔
61: رَبُّکَ : اسی قسم کا استثناء سورة انعام (6۔ 128) میں بھی گزرا ہے جیسا کہ وہاں ہم نے عرض کیا تھا، اس کی ٹھیک ٹھیک مراد تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، لیکن اس سے بظاہر ایک تو یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ کسی کے عذاب وثواب کا تمام ترفیصلہ اللہ…
Read the full tafseer →فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ (112 : 11) “ پس اے نبی ﷺ تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ”
اس حکم کی مشکلات اور شدت اور ہیبت کو حضور ﷺ نے محسوس فرمایا تھا۔ حضور ﷺ سے روایت میں آتا ہے کہ “ مجھے ہود اور اس کے ساتھی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔ ” استقامت کا مفہوم ہے کہ اعتدال سے چلو اور اسلامی منہاج کے مطابق سیدھے چلو ، کوئی انحراف نہ ہونے پائے۔ ہر وقت غور فکر کی ضرورت پڑتی ہے اور ہر وقت حدود اللہ پر نظر رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ہے اور ان انسانی میلانات اور رحجانات کو ضبط کرنے…
Read the full tafseer →3 آپ ان مشرکین کی جھنجھٹ میں نہ پڑیے۔ آپ کو اور ان لوگوں کو جنہوں نے کفر وغیرہ سے توبہ کر کے آپ کی معیت اختیار کرلی اور حق تعالیٰ کی طرف رجوع کیا، احکام الٰہیہ پر نہایت پامردی اور استقلال کے ساتھ ہمیشہ جمے رہنا چاہیے۔ عقائد، اخلاق، عبادات، معاملات، دعوت و تبلیغ وغیرہ، ہر چیز میں افراط وتفریط سے علیحد ہو کر توسط و استقامت کی راہ پر سیدھے چلے جاؤ۔ کسی معاملہ میں افراط یا تفریط کی جانب اختیار کر کے حد سے نہ نکلو، اور یقین رکھو کہ حق تعالیٰ ہر آن تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 112 فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ
آپ کے ساتھ وہ لوگ بھی صبر و استقامت کے ساتھ ڈٹے رہیں جو شرک سے باز آئے ہیں جنہوں نے کفر کو چھوڑا ہے اور آپ کے ساتھ ایمان لائے ہیں۔
وَلاَ تَطْغَوْا
تجاوز کی ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ منکرین حق پر جلد عذاب لے آنے کی خواہش کریں اور یہ بھی کہ چاروں طرف سے ان لوگوں کی مخالفت کے سبب کسی لمحے غصے میں آجائیں اور حلم و بردباری کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔
اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ
اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال بھی دیکھ رہا ہے اور جو کچھ تمہارے مخالفین کر رہے ہیں ان کی تمام حرکتیں بھی اس کے علم میں ہیں۔ اس لیے اس کے ہاں سے تمہیں تمہارا اجر…
Read the full tafseer →124 یعنی آپ خود بھی اور آپ کے متبعین بھی مخالفین کی باتوں کی قطعاً پروا نہ کریں اور اللہ کے حکم بجالانے کے لیے مضبوطی سے ڈٹ جائیں اور اس کی قائم کردہ حدود کا پورا پورا خیال رکھیں، ان سے تجاوز نہ کریں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایک ایک فرد سے اور تمہارے تمام تر اعمال سے پوری طرح خبردار ہے۔
Read the full tafseer →156۔ یعنی آپ راہ دین پر پوری طرح قائم رہیے اور کفار ومنکرین کے انجام کی فکر میں نہ پڑئیے اور یہی حکم آپ کے متبع مومنین کے حق میں بھی ہے۔۔ آپ کا درجہ استقامت آپ ﷺ کے مرتبہ کے لائق اور آپ کے ہمراہی مومنین کا ان کے مرتبہ کے لائق، محققین نے لکھا ہے کہ اعلی استقامت یہی ہے کہ حقوق حق اور حقوق خلق دونوں پوری طرح ادا ہوتے رہیں۔ ای فی القیام بحقوق الحق والخلق (روح) (آیت) ” ومن تاب معک “۔ اس عطف سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی استقامت اور مومنین کی استقامت ایک درجہ یا ایک مرتبہ کی چیز ہے اشتراک صرف نفس عمل میں ظاہر ہوتا ہے نہ کہ مراتب عمل میں، والعطف لایقتضی اکثر من المشارکۃ فی مطلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیت نمبر 110 تا 123
ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…
Read the full tafseer →فاستقم کما امرت ومن تاب معک پس جو حکم آپ کو دیا گیا ہے ‘ آپ بھی اس پر قائم رہیں اور وہ لوگ بھی جو آپ کے ساتھ ایمان لائے ہیں۔
جب اللہ نے مؤمنوں اور کافروں یعنی توحید و نبوت کو ماننے اور نہ ماننے والوں کا ذکر پہلے کردیا اور سزا و جزا کے وعد اور وعید کی بھی وضاحت کردی تو اب استقامت کا حکم دیا رسول اللہ ﷺ کو بھی اور دوسرے اہل ایمان کو بھی۔ استقامت کا لفظ اپنے اندر عموم رکھتا ہے ‘ ہر طرح کی استقامت کو شامل ہے۔
1) عقائد کی استقامت ‘ یعنی اللہ کی ذات کو تمام صفات کمالیہ کا جامع سمجھنا (صفات خداوندی کا انکار نہ کرنا) مگر اس کی صفات کو مخلوق کو صفات کے مشابہ بھی نہ قرار دینا (یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ…
Read the full tafseer →(112) سو اطاعت خداوندی پر جیسا کہ آپ کو قرآن حکیم میں حکم ہوا ہے مستقیم رہیے اور وہ حضرات بھی جو کفر وشرک سے توبہ کرکے آپ کی ہمراہی میں آچکے ہیں، آپ کے ساتھ مستقیم رہیں اور کفر وشرک نہ کرو اور قرآن کریم میں جو حلال و حرام کے بارے میں احکامات ہیں ان کی نافرمانی نہ کرو، اللہ تعالیٰ خیر وشر کو خوب دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكًَ : ”فَاسْتَقِمْ“ میں سین اور تاء کا اضافہ یا تو طلب کے لیے ہے، معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح سیدھا اور قائم رہنے کی درخواست کرتا رہ جس طرح تجھے حکم دیا گیا ہے اور یہ اضافہ مبالغے اور تاکید کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ قرطبی نے فرمایا، استقامت دائیں یا بائیں طرف جائے بغیر ایک طرف کو سیدھے چلتے چلے جانا ہے۔ یہ معنی یہاں زیادہ مناسب ہے۔ پہلا معنی بھی درست ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے ہی ہم ہر رکعت میں صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا کرتے ہیں۔ استقامت کا معنی باطل کے دونوں کناروں افراط اور تفریط (زیادتی اور کمی) سے بچ کر ان کے عین درمیان سیدھا رہنا ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 112
قولہ تعالیٰ : فاستقیم کمآامرت نبی کریم ﷺ اور دیگر لوگوں کو خطاب ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ خطاب آپ ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے۔ یہ سدی کا قول ہے۔ اور ایک قول یہ ہے :إستقم یعنی میں اللہ تعالیٰ سے دین پر قائم رہنے کی گزارش کرتا ہوں اور اس بات کا سوال کرتا ہوں لہٰذا استقم کی سین سوال کی سین ہوگی۔ جس طرح آپ استغفر اللہ کہتے ہیں یعنی میں مغفرت طلب کرتا ہوں۔ دائیں، بائیں کی طرف سے کوئی چیز لیے بغیر صرف ایک ہی جہت میں استمرا اختیار کرنا استقامت کہلاتا ہے، یعنی اللہ کے امر کی بجا آوری پر ثابت قدم رہیے، صحیح مسلم میں حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی سے راویت ہے انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! ﷺ مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
استقامت فی الدین کی تعلیم :
1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” فاستقم کما امرت “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم فرمایا کہ اس کے حکم پر ثابت قدم رہیں اور اس کی نعمت میں سرکشی نہ کریں۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاستقم کما امرت “ یعنی قرآن پر آپ پکے ہو کررہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) ” فاستقم کما امرت ومن تاب معک “ نازل ہوئی تو فرمایا تیار رہو تیار رہو (آخرت کے لئے) پھر کوئی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
4:۔ ابن منذر…
Read the full tafseer →[فَاسْتَقِمْ : پس آپ ﷺ سیدھے رہیں (یعنی ڈٹے رہیں)] [ كَمَآ : جیسے کہ ] [اُمِرْتَ : آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ] [وَمَنْ : اور وہ (بھی) جنھوں نے ] [ تَابَ : توبہ کی ] [مَعَكَ : آپ ﷺ کے ساتھ ] [وَلَا تَطْغَوْا : اور تم لوگ سرکشی مت کرو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [بِمَا : اس کو جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [بَصِيْرٌ: دیکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →حد سے آگے بڑھنے کی ممانعت :
پھر فرمایا (وَلَا تَطْغَوْا) اس میں حد سے زیادہ جانے کی ممانعت فرمائی ‘ استقامت کا حکم دے کر یہ بھی بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود سے آگے بڑھو گے تو اس سے استقامت میں فرق آئے گا۔ یہ حدود سے آگے بڑھ جانا ہی تو بدعات اعتقادیہ اور بدعات اعمالیہ میں مبتلا کرتا ہے اور اس حد سے نکلنے ہی کو غلو کہا جاتا ہے اسی غلو نے تو نصاریٰ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں خدا اور خدا کا بیٹا ہونے کے اعتقاد پر آمادہ کردیا ‘ اور بہت سے مدعیان اسلام کو اس پر آمادہ کردیا کہ رسول اللہ ﷺ کی بشریت کا انکار کریں جبکہ قرآن کریم میں آپ کے بشر ہونے کی تصریح ہے۔ یہ بدعت اعتقادی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–115
تحذیر از اختلاف وافتراق وحکم استقامت براحکام شریعت
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ .... الیٰ .... فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی مگر لوگوں نے اس میں اختلاف کیا کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا اور مورد عتاب الٰہی بنے۔ لہٰذا اے مسلمانو ! تم کو چاہئے کہ ان سے عبرت پکڑو اور جو کتاب مبین ہم نے تم کو دی ہے سب مل کر اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور تفرق اور اختلاف سے پرہیز رکھو اور جادہ شریعت پر ایسے مستقیم ہوجاؤ کہ پائے استقامت میں تزلزل نہ آنے پائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
93:۔ سورت میں ابتداء سے یہاں تک چاروں دعوے ذکر کرنے اور ان سے متعلق سات قصے بیان کرنے کے بعد مذکورہ بالا تمام مضامین پر پانچ امور مرتب فرمائے (1) فَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ : جس طرح آپ کو اور ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے اس پر آپ اور آپ کے ساتھی استقامت سے عمل پیرا رہیں۔ (2) وَلَا تَطْغَوْا : اور اللہ کی حدود سے سر مو انحراف نہ ہونے پائے۔ (3) ۔ وَلَاتَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوْا : اللہ کی حدود کو توڑنے والوں اور اللہ کی توحید کے باغیوں کی طرف تمہارے دلوں میں ادنی سا میلان بھی نہ پایا جائے ورنہ تم بھی ان کے ساتھ شریک عذاب ہوجاؤ گے۔ وَمَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہ مِنْ اَوْلِیَاءِ جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
ربط آیات
پہلے اللہ نے مختلف نافرمان قوموں کا ذکر کیا کہ اللہ کے نبیوں نے انہیں کس طرح تبلیغ کی ، پھر اس نافرمانی کی بدولت ان اقوام پر ہونے والے مئواخذہ کا ذکر کیا۔ اس دنیا میں دی گئی سزا کے علاوہ جو سزا ان کو آخرت میں ملنے والی ہے ، اس کا بھی تذکرہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے کفر اور شرک کی تردید کی اور واضح کیا کہ کافر اور مشرک اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ ہر ایک کو اپنے اپنے عقیدے اور عمل کا صلہ ملے گا ار اس ضمن میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔
نزول تورات
اسی یقین کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ولقد اتینا موسیٰ الکتب اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی۔ یہ عظیم…
Read the full tafseer →فَاسْتَقِمْ كَـمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا 0 اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ 112
الاسْتِقَامَةُ
يقال في الطریق الذي يكون علی خطّ مستو، وبه شبّه طریق المحقّ. نحو : اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] واسْتِقَامَةُ الإنسان : لزومه المنهج المستقیم . نحو قوله :إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30]
الاستقامۃ ( استفعال )
کے معنی راستہ خط مستقیم کی طرح سیدھا ہونے کے ہیں اور تشبیہ کے طور پر راہ حق کو بھی صراط مستقیم کہا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] ہم کو سداھے راستے پر چلا ۔ اور کسی انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
چہارم ولقد اتینا موسیٓ الکتب سے لے کر انہ بما یعملون خبیر تک کفار عرب کا جس طرح انکار توحید پر اصرار بیان فرمایا تھا اسی طرح انکار نبوت آنحضرت ﷺ پر اصرار کا ذکر کرتا ہے کہ یہ نئی بات نہیں۔ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کیونکہ عرصہ ہوا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی تھی سو اس کو کب سب نے تسلیم کرلیا تھا بلکہ اس میں اختلاف ہوا کہ بنی اسرائیل نے مانا دیگر اقوام نے انکار کیا اس میں یہ بھی رمز ہے کہ خود بنی اسرائیل کا اس کی تعمیل اور عدم تعمیل حکم میں اور نیز خود نفس توریت میں بھی اختلاف ہو کر بیشمار فرقے پیدا ہوگئے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر ہمارے ہاں سے یہ بات مقرر نہ ہوچکی ہوتی کہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ وَلاَ تَطْغَوْا ط اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْر۔ وَلاَ تَرْکَنُوْٓا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ لا وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآئَ ثُمَّ لاَ تُنْصَرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 112، 113)
(پس ثابت قدم رہئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ بھی (ثابت قدم رہیں) جنھوں نے آپ کے ساتھ توبہ کی ہے اور سرکشی نہ کرو۔ بیشک جو کچھ تم کررہے ہو وہ اسے خوب دیکھ رہا ہے اور ان لوگوں کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا ہے کہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ آپکڑے اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی حامی نہیں، پھر تمہاری مدد بھی نہیں کی جائے گی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے رد عمل کے مقابلہ میں نبی اکرم ﷺ کو استقامت اختیار کرنے کا حکم۔
کفار، مشرکین اور یہود و نصاریٰ اس حد تک آپ کی مخالفت پر اتر آئے تھے کہ آپ کو صادق و امین ماننے کے باوجود آپ کو کذّاب اور جادو گر قرار دیتے تھے۔ جس کا بحیثیت انسان آپ کو بہت رنج ہوتا تھا۔ آپ کی ڈھارس بندھانے اور مستقل مزاجی کا سبق دینے کے لیے آپ ﷺ اور آپ کے متبعین کو مسلسل ہدایات دی گئی ہیں۔
1۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس پر قائم رہیے۔
2۔ کسی حال میں بھی اللہ کی نازل کردہ وحی سے سرتابی نہیں کرنی۔
3۔ ہر دم یہ خیال رہنا چاہیی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
4۔ ظالموں کی طرف…
Read the full tafseer →استقامت کا حکم :
112: فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ (پس جو حکم آپ کو دیا گیا ہے اس پر قائم رہو) تم اس طرح قائم رہو۔ جس طرح استقامت کا آپ کو حکم ہوا۔ اس سے عدول کرنے والے نہ ہو۔ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ (اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ایمان لانے والے ہیں) اسکا عطف مستتر پر ہے۔ جو استقم میں ہے اور فصل کیلئے ایساجائز ہے۔ تقدیر اس طرح ہے۔ فاستقم انت ولیستقم من تاب عن الکفر ورجع الی اللّٰہ مخلصًا پس تم استقامت اختیار کرو اور وہ بھی استقامت اختیار کریں جو آپ کے ساتھ ایمان لائے اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کیطرف رجوع کیا۔ وَلَا تَطْغَوْا (اور تجاوز نہ کرو ( حد ود شرع سے) یعنی اللہ تعالیٰ کی حدود سے نہ نکلو…
Read the full tafseer →ایمان لا کر پھر اس پر ڈٹ جائو
تفسیر : 112’ فاستقیم کما امرت “ یعنی اپنے رب کے دین پر ڈٹے رہیں اور اس پر عمل کرنے اور اس کی طرف بلانے میں جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ ” ومن تاب معک “ یعنی جو آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لائے وہ بھی ڈٹے رہیں ۔ عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ استقامت یہ ہے کہ امر اور نہی پر قائم رہے۔ اور لومڑی کی طرح چالبازی نہ کرے۔ سفیان بن عبد اللہ ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات کہیں کہ میں اس کے بارے میں آپ (علیہ السلام) کے بعد کسی سے سوال نہ کروں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو کہہ میں ایمان لایا اللہ پر پھر ڈٹ جا۔ ” ولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
112۔ 113۔ اگرچہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب ٹھہرایا ہے لیکن اس حکم میں آپ کی کل امت اول سے آخر تک سب شامل ہے حکم یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کا حکم ہوا ہے اس پر قائم رہو یہ آیت جب اتری تو حضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ مستعد ہوجاؤ مستعد ہوجاؤ اور پھر آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا یہی وہ آیت ہے جس سے شرح کے کل احکام نکلتے ہیں کیونکہ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح پر حکم ہوا ہے اس پر جمے رہو کسی طرح کی کمی بیشی نہ ہونے پائے اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے ان سے بچتے رہو اور جن کاموں کا حکم کیا گیا ہے ان پر مستعدی سے عمل کرتے رہو ذرا بھی فرق نہ ہونے پائے یہی وہ حکم ہے جس سے کوئی…
Read the full tafseer →اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ : وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی مخفی نہیں اور وہ تمہیں ان اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات کریمہ میں استقامت کو مسلک بنانے کی ترغیب اور اس کے برعکست راستہ اختیار کرنے پر ترہیب دی گئی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف میلان رکھنے سے منع فرمایا جنہوں نے استقامت کو چھوڑ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–112
حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا
قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
212 ۔ پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کے سامان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی مگر اس میں بھی اختلاف کیا گیا کہ کچھ نے مانا اور کچھ نے نہ مانا۔ پس قرآن پاک کے بارے میں ان کفار اشرار کے اختلاف کے باعث آپ ﷺ اے پیغمبر رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ کہ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ پہلے سے ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ (المراغی، الفتح، الجامع وغیرہ) سو آپ بھی اسی طرح صبر ہی سے کام لیتے رہیں جس طرح کہ انہوں نے صبر سے کام لیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–115
نبی اکرم ﷺ کو تسلی اور چند ہدایات
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کچھ قرآن کو مانتے اور کچھ انکار کرتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مثال دے کر تسلی دی کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) جتنے بھی دنیا میں آچکے ہیں سب کے ساتھ ایسے ہی ہوتا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بھی ایسے ہی کرتی رہی مگر ان کو فوراً عذاب نہ دیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو عذاب دینے کا وقت تو اللہ نے پہلے ہی مقرر کر رکھا ہے۔ اس بات کا یعنی آخرت کا کیونکہ ان کو یقین نہ تھا اس لیے وہ غفلت میں پڑے رہے۔ حالانکہ اللہ رب العزت تو ان کے تمام اعمال سے پوری طرح واقف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیات 110 تا 123
اسراومعارف
موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
ف 7 ۔ یعنی اللہ کے حکم اور شریعت پر قائم رہیں۔ ” استقامت “ ایک نہایت ہی جامع لفظ ہے جو شریعت کے پورے نظام کی پابندی سے عبارت ہے۔ ایک صحابی ؓ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتلا دیئے جس کے بعد مجھے آپ ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے سے دریافت کی ضرورت نہ رہے۔ “ فرمایا : قل امنت باللہ ثم استقم کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر استقامت اختیا کرو۔ (فتح البیان) یہ آیات شامل ہے عقائد و اعمال اور اخلاق کو عقائد میں استقامت یہ ہے کہ تشبیہ و تعطیل اور اہل ذریغ کی تاویل سے اجتناب کیا جائے اور اعمال میں زیادت و نقصان، بدعات اور تقلید رجال و آراء سے احتراز لازم ہے۔ اخلاق…
Read the full tafseer →(11:112) فاستقم۔محذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے تقدیر عبارت یوں ہے لما بین امر المختلفین فاستقم کما امرت۔ جب ہر دو امر (حق و باطل) بین طور پر واضح ہوگئے ہیں تو ہمارے حکم کے مطابق (حق پر) قائم ہوجاؤ۔ استقم۔ تو قائم رہ۔ تو ثابت قدم رہ استقامۃ سے باب افتعال سے امر و احد مذکر حاضر ۔ امرت۔ امر سے۔ ماضی مجہول واحد مذکر حاضر۔ کما امرت جیسا تجھے حکم دیا گیا
ومن تاب معک۔ اور جو تائب ہوکر تیرے ہمراہ ہوگئے ہیں۔ و حرف عطف تاب معک کا عطف استقم پر ہے ای فاستقم انت ولیستقم من تاب من الکفر ورجع الی اللہ مخلصا۔ یعنی تو ثابت قدم رہ اور وہ لوگ بھی ثابت قدم رہیں جنہوں نے کفر سے توبہ کرکے خالص اللہ کی طرف رجوع کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
لغات القرآن آیت نمبر 110 تا 113
اختلف (اختلاف کیا گیا) کلمۃ (حکم) سبقت (گذر گیا، گذر گئی) قضی (فیصلہ کردیا گیا) مریب (شبہ میں ڈالنے والا) کل (ہر ایک، سب کے سب) لیوفین (پورا کئے جائیں گے) استقم (سیدھا رہ) امرت (تجھے حکم دیا گیا ) تاب (متوجہ ہوا ، توبہ کی) لاتطغوا (نافرمانی نہ کرو) لاترکنوا (تم مائل نہ ہو) تمس (پہنچے گی ) اولیاء (ولی) ، دوست، حمایتی ) لاتنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے)
تشریح :- آیت نمبر 110 تا 113
کفار و مشرکین اور مناقفین کو جب بھی موقع ملتا وہ دین اسلام اور نیب کریم ﷺ کی ذات پاک پر کیچڑ اچھالنے اور اسلام کی تعلیمات کو لوگوں کی نگاہوں میں بےوقعت اور بےقیمت بنانے میں کسر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
مستعد ہونے کا حکم، ظالموں یا کافروں سے دوستی نہ کرو
اگرچہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب ٹھرایا ہے لیکن اس حکم میں آپ کی امت اول سے آخر تک سب شامل ہے۔ حکم یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کا حکم ہوا ہے اس پر قائم رہو۔ جب یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ مستعد ہوجاؤ مستعد ہوجاؤ پھر آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہی وہ آیت ہے جس سے شرع کے کل احکام نکلتے ہیں۔ یہ خطاب مسلمانوں سے ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ حد سے نہ گزرو، دیکھو اللہ تمہارے کاموں کو دیکھتا ہے۔ آگے ارشاد ہوتا ہے کہ اے مسلمانو ! جو لوگ ظالم ہیں یا کافر ہیں ان کی طرف میلان نہ کرو یعنی ان سے دوستی کا خیال نہ کرو ورنہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
[57] وہ ٹھہرائی ہوئی بات یہی ہے کہ پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔
[58] وہ فیصلہ یہی کہ منکرین پر عذاب اسی دنیا میں آگیا ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
(ف 1) (آیت) ” فاستقم کما امرت : میں تمام اسلامی تعلیم آجاتی ہے اس میں اشارہ ہے کہ فرائض دینی کو عزم و استقلال کے ساتھ ادا کرو ، خدا کی منشاء کے مطابق تمہارا ہر قدم اٹھے ، مخالفت وعناد سے خوف وہراس درست نہیں مرد مومن وہ ہے جو عقائد کو جب عقل و دانش کے معیار پر پرکھ لے ، تو پھر اس کے پائے ہمت میں کہیں لغزش پیدا نہ ہو ، یہ چھوٹا سا جملہ سورة ہود کی جان ہے جس میں جدوجہد کا ایک عالم پہناں ہے اسی لئے حضور فرمایا کرتے تھے ، ” شیبتنی ھود “۔ کہ سورة ہود میں ادائے فرض کی تلقین کے فکر نے مجھے بوڑھا کردیا ہے ، اللہ اللہ ! وہ رسول جس کی ہر ساعت خدمت دین میں صرف ہوتی ہے ، اسے اپنی ذمہ داریوں کا کس قدر…
Read the full tafseer →112 سوائے پیغمبر ! جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ راہ راست پر جو دین کی راہ ہے قائم رہیے اور سیدھے چلے جائیے اور آپ کے وہ ہمراہی بھی جو کفرو شرک سے توبہ کرکے آپ کے ساتھی ہوئے ہیں وہ بھی قائم رہیں اور دین کی مقررہ حد سے آگے نہ بڑھو یقینا تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو وہ خدا کی نگاہ میں ہے اور وہ خوب دیکھ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
ف 9۔ کسی نے مانا کسی نے نہ مانا یہ کوئی آپ کے لیے نئی بات نہیں ہوئی پس آپ مغموم نہ ہوں۔
Read the full tafseer →حکم الٰہی کے مطابق آپ اور آپ کے ساتھی استوار ہو جائو اور حد سے تجاوز نہ کرو
۔ 139 اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ دین کے راستہ پر اس طرح مستقیم رہئے جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی مستقیم رہیں جو کفر سے توبہ کر کے آپ کے ساتھ ہوگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مقرر حدود سے نہ نکلو کیونکہ وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ ” استقامت “ کے معنی سیدھا کھڑا رہنے کے ہیں جس میں کسی طرف ذرا سا جھکائو بھی نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ کام آسان نہیں ، کسی لوہے پتھر وغیرہ کے عمود کو ماہر انجینئر ایک مرتبہ اس طرح کھڑا کرسکتے ہیں کہ اس کے ہر طرف زاویہ قائمہ ہی رہے کسی طرف ادنیٰ میلان نہ ہو لیکن کسی متحرک چیز کا ہر وقت…
Read the full tafseer →Commentary
Events relating to past prophets and their peoples, from Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to Sayyidna Musa, have been mentioned in Surah Hud in a fair enough order and detail with many wise counsels, injunctions and directives. At the end of the description of these events, it is by ad-dressing the Holy Prophet ﷺ that his entire community has been exhorted to draw their essential lessons from them. It was said: ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْقُرَىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَ ۖ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (That is a part of the stories of the towns that We narrate to you. Some of them are standing, and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
111. If people launch scurrilous attacks on the Qur'an, this is not altogether novel. The same happened before. When Moses (peace be on him) was granted the scripture, people raised a variety of objections against it. The Prophet Muhammad (peace be on him) should not, therefore, feel disheartened that his people rejected the teachings of the Qur'an despite their lucidity.
112. This is being said in order to comfort the Prophet (peace be on him) and his Companions. They are being asked to be patient and not to seek a hasty judgement from God concerning those who differ about the Qur'an. For…
Read the full tafseer →