Explained with ayahs 103–105
ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل
کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہوگا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہوگی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کرچکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہوگی۔ جس دن قیامت آجائے گی۔ کوئی نہ ہوگا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
سورة هُوْد 105
یعنی تاریخ کے اِن واقعات میں ایک ایسی نشانی ہے جس پر اگر انسان غور کرے تو اسے یقین آجائے گا کہ عذاب آخرت ضرور پیش آنے والا ہے اور اس کے متعلق پیغمبروں کی دی ہوئی خبر سچی ہے۔ نیز اس کی نشانی سے وہ یہ بھی معلوم کر سکتا ہے کہ عذاب آخرت کیسا سخت ہو گا اور یہ علم اس کے دل میں خوف پیدا کر کے اسے سیدھا کردے گا۔
اب رہی یہ بات کہ تاریخ میں وہ کیا چیز ہے جو آخرت اور اس کے عذاب کی علامت کہی جا سکتی ہے ، تو ہر وہ شخص اسے بآسانی سمجھ سکتا ہے جو تاریخ کو محض واقعات کا مجموعہ ہی نہ سمجھتا ہو بلکہ ان واقعات کی منگق پر بھی کچھ غور کرتا ہو اور ان سے نتائج بھی اخذ کرنے کا عادی ہو۔ ہزار ہا برس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خلاصہ تفسیر
اور آپ کے رب کی دار و گیر ایسی ہی (سخت) ہے جب وہ کسی بستی والوں پر دار وگیر کرتا ہے جبکہ وہ ظلم (و کفر) کیا کرتے ہوں، بلا شبہ اس کی دار و گیر بڑی الم رساں (اور) سخت ہے (کہ اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا) ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو (وجہ عبرت ظاہر ہے کہ جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دار الجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دار الجزاء ہے کیسا سخت عذاب ہوگا) وہ (یعنی آخرت کا دن) ایسا دن ہوگا کہ اس میں تمام آدمی جمع کئے جاویں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے اور (وہ دن گو اب تک آیا نہیں لیکن اس سے کوئی اس کے آنے میں شک نہ…
Read the full tafseer →وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ اس دن کے آنے میں اتنی غیر محدود مدت باقی ہے کہ اس کے اندیشہ میں ابھی اسے اپنا عیش مکدر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مدت غیر محدود نہیں، بلکہ شمار کی ہوئی مدت ہے۔ شمار کی ہوئی مدت۔ نہ کوئی مبالغہ کا اسلوب بیان ہے اور نہ یہ بات علم الٰہی کے اعتبار سے ارشاد ہوئی ہے بلکہ یہ ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار ہے اس لیے کہ جو شخص مرا تو، جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے، من مات فقد قامت قیامت ہ، اس کی قیامت آگئی۔ برزخ میں جو مدت گزرے گی نفخ صورت کے وقت اس کا کوئی احساس باقی نہیں رہے گا۔ ہر شخص یہ محسوس کرے گا کہ ابھی سوئے تھے ابھی اٹھ بیٹھے ہیں۔…
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی قیامت کے دن میں تاخیر کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے لئے ایک وقت معین کیا ہوا ہے۔ جب وہ وقت مقرر آجائے گا، تو ایک لمحے کی تاخیر نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–106
59: مثلاً فرعون کا ملک مصر فرعون کے غرق ہونے کے بعد بھی باقی رہا اور عاد وثمود اور قوم لوط ؑ کی بستیاں ایسی تباہ ہوئی کہ بعد آباد نہ ہو سکیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
دنییا کی یہ پکڑ عذاب آخرت کی یاددہانی کرانے والی اور دل میں خوف بٹھانے والی ہے۔
إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ (103 : 11) “ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ ” لیکن حقیقت ہے کہ یہ عبرت وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جن کے دل میں آخرت کے عذاب کا ڈر ہو ، ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کے فکر و نظر کو جلا ملتی ہے۔
لیکن جن کے دل میں آخرت کا خوف نہیں ہوتا ، ان کے دل بہرے ہوتے ہیں ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ، وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس نے پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر قاصر ہوتی ہے اور وہ صرف اس دنیا…
Read the full tafseer →4 یعنی اللہ کے علم میں جو میعاد مقرر ہے وہ پوری ہوجائے گی تب وہ دن آئے گا، تاخیر سے یہ گمان مت کرو کہ یہ محض فرضی اور وہمی باتیں ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 104 وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ
اس کے آنے کی ایک گھڑی معین ہے جس کو باقاعدہ گن کر اور حساب لگا کر طے کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →116 قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہوگی :۔ حدیث میں ہے کہ لاَتَقُوْمُ السَّاعَۃُ الاَّ عَلٰی شَرَار النَّاسِ یعنی قیامت اس وقت قائم ہوگی جب برائی اتنی عام ہوجائے گی کہ تمام نیک لوگ دنیا سے اٹھ جائیں گے یا اٹھا لیے جائیں گے قیامت کی بہت سی نشانیاں تو احادیث میں مذکور ہیں مگر اس کا معین وقت کسی کو نہیں بتلایا گیا اور نہ ہی کسی کو اس کی موت کا وقت بتلایا گیا ہے اس لیے یہ باتیں اللہ کی مشیئت کے خلاف ہیں اور اس سے وہ مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے جس کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →147۔ یعنی وہ دن جو سب کی حاضری کا ہے اس کی آمد اور وقوع یقینی ہے اور اسے ملتوی تو صرف ایک قلیل مدت کے لیے رکھا گیا ہے۔ (آیت) ” یوم مشھود “۔ مشھود کے معنی مشھود فیہ کے لیے گئے ہیں۔ ای مشھود فیہ (کشاف) والمراد بالمشھود الذی کثر مشاھدوہ (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیت نمبر 96 تا 109
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم…
Read the full tafseer →وما نوخرہ الا لاجل معدود اور ہم اس دن کو صرف اس لئے پیچھے رکھ رہے ہیں کہ وہ مدت (زندگی) جو اللہ کے نزدیک مقرر ہے ‘ پوری ہوجائے۔ اجل سے پہلے لفظ انتہاء محذوف ہے۔ اجل سے پوری مدت زندگی مراد ہے ‘ ختم زندگی کا وقت مراد نہیں ہے کیونکہ ساعت اختتام میں تعدد نہیں ہے ‘ اس کو معدود نہیں کہا جاسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
(104۔ 105) اور ہم اس دن کو ایک معلوم مدت کے لیے ملتوی کیے ہوئے ہیں جس وقت وہ دن آئے گا تو کوئی نیکوکار بھی اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکے گا۔
Read the full tafseer →وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ :”مَّعْدُوْدٍ“ کا معنی ہے گنا ہوا۔ گنی ہوئی چیز آخر ختم ہوجاتی ہے، یعنی قیامت کی مہلت گنتی کے چند دن ہیں، جیسے روزوں کے متعلق فرمایا : (اَیَّاماً مَّعْدُوْدَاتٍ) [ البقرۃ : 184 ] ”گنے ہوئے چند دنوں میں۔“ اور وہ گنتی صرف اللہ کے علم میں ہے، قیامت نہ اس سے پہلے آسکتی ہے، نہ اس سے مؤخر ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–109
آیت نمبر 100 تا 109
قولہ تعالیٰ : ذٰلک من انۘبآء القرٰی نقصہ علیک، ذٰلکمبتدا کے مضمر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی الامرذالک اور اگر آپ چاہیں تو اسے مبتدا کی حیثیت سے بھی مرفوع بناسکتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا : یہ گزشتہ خبر ان بستیوں کی بعض خبروں میں سے جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں۔ منھاقآئم وحصیدحضرت قتادہ نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو برباد ہوچکی ہی اور ان کے نشانات ہیں جب کے حصید سے مراد ویہ ہیں جن کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے : قائم سے مراد آباد ہیں جب کہ حصید سے مراد بےآباد اور برباد ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو اپنے سازو سامان سمیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
1:۔ ابن جریر (رح) نے ان زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان فی ذلک الایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا بیشک ہم ان کے لئے ان چیزوں کے وعدے پورے کریں گے۔ جو ہم نے آخرت میں لئ ہیں جیسا کہ ہم نے پورا کیا (اپنے وعدے کو) انبیاء کے لئے کہ ہم ان کی مدد کریں گے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذلک یوم مجموع لہ الناس وذلک یوم مشہود “ سے مراد ہے قیامت کا دن۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن جریر وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے اس طرح روایت کیا کہ ضحاک (رح) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا یہ قیامت کا دن ہوگا جس میں ساری مخلوق اکھٹی ہوگی اور سب کے سب حاضر…
Read the full tafseer →[وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ: اور ہم مؤخر نہیں کرتے اس کو ] [ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ : مگر ایک گنی ہوئی موت کے لئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
اللہ تعالیٰ ظالموں کی گرفت فرماتا ہے اس کی گرفت درد ناک اور سخت ہے
سورۂ ہود کے رکوع 3 سے لے کر یہاں تک 7 انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کی بربادی کا حال بیان فرمانے کے بعد یہاں فرمایا کہ ہم آپ کو ان بستیوں کی خبریں سناتے ہیں۔ ان ہلاک شدہ بستیوں سے بعض بستیاں دنیا میں موجود ہیں کچھ تو کھنڈروں کی صورت میں ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ ان کے رہنے والوں کی ہلاکت کے بعد دوسرے لوگ ان میں رہنے لگے (وَسَکَنْتُمْ فِیْ مَسَاکِنَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ) اور کچھ ایسی بستیاں ہیں جن کا بالکل خاتمہ ہوگیا جیسے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں تھیں ان قوموں کی ہلاکت کے واقعات مخاطبین نے پہلے بھی سن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
تذکیر عواقب اخرویہ کفر و تکذیب برائے موعظت و نصیحت
قال اللہ تعالیٰ ان فی ذلک لایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ .... الیٰ .... وانا لموفوھم نصیبھم غیر منقوص۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفر و تکذیب کے دنیوی انجام اور دنیاوی ذلت اور رسوائی کی یاد دہانی تھی۔ اب اس آیت میں کفر وتکذیب کے اخروی انجام کا بیان ہے دنیوی ذلت وہلاکت کے ذکر سے موعظت اور نصیحت مقصود ہے عقلمند کو چاہیے کہ پہلے سے اپنے انجام کو سوچ لے قیامت کا دن اللہ کی عدالت کا دن ہے جس میں سعداء اور اشقیاء کی جزاء اور فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن سعداء گا ئز المرام ہونگے اور اشقیاء خائب و خاسر ہونگے۔
جاننا چاہئے کہ ان آیات میں حق جل شانہ نے اہل محشر کی دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
86:۔ قیامت کا ایک دن مقرر ہے اس سے پہلے نہیں آئے گی۔ یَوْمَ یَاتِ لَاتَکَلَّمُ نَفْسٌ الخ اور جب اپنے وقت پر قیامت آجائے گی اس دن کوئی شخص اللہ کے حکم اور اس کی اجازت کے بغیر دم نہیں مار سکے گا۔ فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا تخویف اخروی ہے۔ زَفِیْرٌ : گدھے کی ابتدائی اور پست آواز۔ شَھِیْقٌ: گدھے کی بلند آواز۔ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ : یہ دوام اور عدم انقطاع عذاب سے کنایہ ہے کیونکہ یہ زمین و آسمان تو وہاں موجود ہی نہ ہوں گے۔ واجری ذلک علی عادۃ العرب فی الاخبار عن دوام الشیء وتابیدہ (قرطبی ج 9 ص 99) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
ربط آیات
فرعون اور اس کی قوم کا حال بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے آپ کی بات کا انکار کیا۔ لوگوں نے فرعون کی بات کا اتباع کیا ، حالانکہ وہ بالکل غلط موقف پر تھا ان کے انجام کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے آگے چل رہا ہوگا اور سب کو دوزخ میں لے جائیگا۔ اللہ نے دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی ، اور قیامت کو بھی وہ اسی لعنت میں گرفتار ہوں گے۔ اللہ نے مختلف بستیوں کا حال بیان فرمایا کہ ان میں سے بعض بالکل اجڑ چکی ہیں اور بعض کے نشانات موجود ہیں اور آنے والے لوگوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ اللہ…
Read the full tafseer →وَمَا نُؤَخِّرُہٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ 104 ۭ
أخر ( تاخیر)
والتأخير مقابل للتقدیم، قال تعالی: بِما قَدَّمَ وَأَخَّرَ [ القیامة/ 13] ، ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَما تَأَخَّرَ [ الفتح/ 2] ، إِنَّما يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصارُ [إبراهيم/ 42] ، رَبَّنا أَخِّرْنا إِلى أَجَلٍ قَرِيبٍ [إبراهيم/ 44]
( اخ ر ) اخر
التاخیر یہ تقدیم کی ضد ہے ( یعنی پیچھے کرنا چھوڑنا ۔ چناچہ فرمایا :۔ { بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ } ( سورة القیامة 13) جو عمل اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے ۔ { مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ } ( سورة الفتح 2) تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ { إِنَّمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–109
1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
وَمَا نُؤَخِّرُہٗٓ اِلاَّ لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ ۔ یَوْمَ یَاْتِ لاَ تَکَلَّمُ نَفْسٌ اِلاَّ بِاِذْنِہ ج فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ۔ (سورۃ ہود : 104، 105)
(ہم اس کو ٹال رہے ہیں بس ایک گنتی کی مدت کے لیے۔ جب وہ دن آئے گا کوئی جان اس کے اذن کے بغیر کلام نہ کرسکے گی، پس ان میں کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ )
قیامت کو دور مت سمجھو
انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ قیامت کو بہت دور سمجھتا ہے۔ اگر اس کے سامنے قیامت کا ذکر بھی کیا جائے تو وہ اسے چنداں اہمیت نہیں دیتا۔ سمجھتا ہے کہ ابھی معاملہ بہت دور کا ہے، تو جس چیز کا آنا ابھی بہت دور ہے اس کے لیے ابھی سے اپنا عیش مکدر کیوں کیا جائے۔ پروردگار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
فہم القرآن
ربط کلام : جس دن تمام کے تمام لوگ حاضر ہوں گے اور ان پر گواہ پیش کیے جائیں گے۔ اس دن کا پہلا قانون یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی بات نہ کر پائے گا۔
قیامت کے دن تمام کے تمام لوگ رب زوالجلال کی عدالت میں دست بستہ پیش کیے جائینگے۔ وہ دن اتنا بھاری اور خوفناک ہوگا۔ کہ حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے۔ سب لوگوں کی حالت یوں ہوگی جیسے کسی نے انہیں نشہ پلارکھا ہو۔ یہ حالت کسی نشہ کی وجہ سے نہیں بلکہ رب ذوالجلال کے جلال اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ ( الحج : 2) حضرت جبریل امین (علیہ السلام) اور تمام ملائکہ دم بخودقطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ کوئی نبی، ولی اور فرشتہ۔ اللہ…
Read the full tafseer →104: وَمَا نُؤَ خِّرُہٗ (اور ہم نہیں اس کو مؤخر کر رہے) یعنی مذکورہ دن کو، الاجلؔ، تمام مہلت کی مدت پر بولا جاتا ہے اور اسکی انتہاء کو بھی کہتے ہیں اور گننا اور شمار کرنا تو اسکی مدت کو بیان کرنے کیلئے غایت ومنتہا کیلئے نہیں۔ پس اس ارشاد کا معنی اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ (مگر ایک مقررہ مدت کیلئے) نمبر 1۔ مگر اس لئے کہ گنی ہوئی مدت پوری ہوجائے۔ مضاف مدۃ حذف کردیا یا نمبر 2۔ ہم اس دن کو مؤخر نہیں کر رہے مگر اسلئے تاکہ وہ مدت ختم ہوجائے جو ہم نے بقائے دنیا کیلئے مقرر کی ہے۔
Read the full tafseer →104” وما نوخرہ “ ہم اس دن کو مؤخر نہ کریں گے تم پر قیامت قائم نہ کریں گے۔ یعقوب نے وما یوخرہ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔” الا لاجل معدود “ جو اللہ کو معلوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
104۔ 105۔ اس سے پہلے کی آیت میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ قیامت کے دن اول سے آخر تک سب لوگ جمع ہوں گے اس لئے فرمایا کہ قیامت کے آنے میں دیر اس لئے ہو رہی ہے کہ خدا نے یہ بات اس لئے ٹھہرائی ہے کہ جب تک دنیا کے تمام پیدا ہونے والے لوگ پیدا نہ ہولیں گے۔ اور ان کے پیدا ہونے کے لئے جو مدت مقرر ہے وہ پوری نہ ہوجاوے گی اس وقت تک قیامت نہ آوے گی اور اس مدت کی خبر خدا ہی کو ہے سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا جب یہ مدت دنیا کی ختم ہوجاوے گی تو وہ قیامت کا دن قائم ہوگا اور ہر شخص کو اس کے عمل کے موافق جزا و سزا ملے گی پھر اس کے بعد فرمایا کہ جب وہ دن آئے گا تو کسی کی کیا مجال ہے جو میرا حکم خدا کے ایک بات بھی…
Read the full tafseer →(وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ : ہم اس میں تاخیر نہیں کر رہے) یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے (اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ : مگر وقت مقرر کے لیے) یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہوجائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–112
حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا
قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…
Read the full tafseer →203 ۔ یوم حساب کی تاجیل و تاخیر ایک مقررہ مدت تک کے لیے اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور نفلی واثبات کے اسلوب حصر وقصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اس کو مؤخر نہیں کرتے مگر ایک گنی چنی مدت تک کے لیے جس کا علم ہمارے سوا کسی کو بھی نہیں ہوسکتا۔ سو اس نے اپنے مقرر وقت پر بہرحال آکر رہنا ہے۔ نہ وہ اس سے ایک لمحہ پہلے آسکتا ہے اور نہ ایک لمحہ کے لیے پیچھے ہوسکتا ہے۔ سو عقل و خرد اور ہوشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حیات دنیا کی اس مختصر و محدود فرصت کو وہاں کی کامیابی اور فائز المرامی کے لیے صرف کرے کہ وہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی جو کہ ہمیشہ رہے گی۔ نہ یہ کہ اس سے غفلت برتے اور اس کے آنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
بستیوں کے حالات اور نصیحت
تشریح : ان آیات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جو چند قوموں کے قصے تمہیں سنائے گئے ہیں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط، اہل مدین اور فرعون۔ یہ سب اپنے اپنے اعمال کے مطابق انجام کو پہنچے۔ کچھ کے کھنڈرات موجود ہیں اور کچھ کی کہانیاں موجود ہیں یہ ایک عقل مند انسان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کے لیے کافی ہیں اور آخرت کا تو بیان آسمانی کتابوں میں بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات قرآن میں بتائی گئی ہے اس لیے سو فیصد ٹھیک اور یقینی ہے۔ ایسا ضرور ہوگا کہ سب لوگ قیامت کے روز اللہ کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور دنیا میں کیے گئے اعمال کے مطابق سزا اور جزا ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیات 96 تا 109
اسرار و معارف
جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
ف 8 ۔ دائمی عذاب سے کنایہ ہے کہ کیونکہ جب کسی چیز کی ہمشیگی ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو عربمادامت السموات والارض کا محاورہ استعمال کرتے ہیں ورنہ تعلیق نہیں ہے اور اگر آسمان و زمین سے آخرت کے آسمان و زمین مراد ہوں یا جنس سماء و ارض مراد ہو تو تعلیق بھی ہوسکتی ہے کیونکہ آخرت کے آسمان و زمین ابدی ہوں گے اور ان پر کبھی فنا نہیں آئے گی۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(11:104) وما نؤخرہ۔ ہم نے اس (یوم قیامت) کو ملتوی نہیں کر رکھا الا (مگر) لاجل معدود۔ ایک وعدہ کے لئے جو مقرر شدہ ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109
اخذ (لیا) المد شدید (شدید اور درد ناک) خاف (ڈر) یوم مجموع (جمع ہونے کا دن) یوم مشھود (حاضری کا دن) نوخر (ہم دیر کرتے ہیں۔ موخر کرتے ہیں) معدود (گنتی، مقرر) لاتکلم (بات نہ کرے گا) شقی (بدنصیب) سعید (خوش نصیب) زقیر (چیخنا، زور سے آواز لگانا) شھیق (دھاڑنا) فعال (بہت کرنیوالا) عطاء (بخشش، عطا کرنا) غیر مجذوذ (نہ منقطع ہونے والا) لاتک (لاتکن) تو نہ ہونا) مریدۃ (شک) مرفوا (پورا دینے والا) نصیب (حصہ) غیر منقوص (نہ گھٹنے والا)
تشریح : آیت نمبر 102 تا 109
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اسی لئے وہ لوگوں کے برے اعمال پر فوراً ہی سزا نہیں دیا کرتا بلکہ ان کو مہلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
اس آیت میں فرمایا کہ قیامت کے آنے میں دیر اس لئے ہورہی ہے کہ خدا نے یہ بات اس لئے ٹھرائی ہے کہ جب تک دنیا کے تمام پیدا ہونے والے لوگ پیدا نہ ہولیں گے اور ان کے پیدا ہونے کے لئے مدت مقرر ہے وہ پوری نہ ہوجائے گی اس دن تک قیامت نہ آئے گی۔ پھر فرمایا کہ جب وہ دن آئے گا تو کسی کی مجال ہے جو بغیر حکم خدا کے ایک بات بھی زبان سے نکال سکے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت کے دن جتنے لوگ ہوں گے ان میں سے بعض بد بخت ہوں گے جن کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور بعض نیک بخت ہوں گے جن کے لئے جنت بنائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
[54] یعنی جو مدت ہم نے بقائے دنیا کے لئے مقرر فرمائی ہے اس کے تمام ہونے تک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–107
(ف 2) ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے درمیان بطور تنوع اللہ تعالیٰ نے چند دوسرے قیمتی امور کا ذکر فرمایا ہے کہ قوموں کی داستان کفر ومعصیت جو بیان کی گئی ہے ، ان کا تعلق امور غیب سے ہے ، جس کی انبیاء (علیہم السلام) کے سوا اور کسی کو خبر نہیں ہوتی ، ارشاد فرمایا کہ ان قوموں پر جو عذاب آیا ہے ، ان کی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ ظالم نہیں ، جب عذاب آگیا ، تو پھر ان کے مزعومہ خدا انہیں عذاب سے نہ بچا سکے ، یہ کہا کہ یہ بات اللہ کے انتظام میں داخل ہے ، کہ جب شہروں اور بستیوں میں کفر ومعصیت پھیل جائے اور دل مردہ ہوجائیں ، تو اس وقت خدا کا غضب حرکت میں آتا ہے اور انہیں دنیا سے ہٹا…
Read the full tafseer →104 اور ہم نے اس دن کو موخر اور ملتوی نہیں کیا ہے مگر صرف ایک وعدے کیلئے جو مقرر ہے یعنی قیامت کے دن کا وقوع بعض مصالح کی بنا پر ایک وقت معلوم و محدود کے لئے ملتوی کر رکھا ہے اور اس وقت کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
ف 5۔ وجہ عبرت ظاہر ہے جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دارالجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دارالجزا ہے کیسا سخت ہوگا۔
Read the full tafseer →وہ دن پیچھے کیوں رکھا گیا ؟ اسلئے کہ ایک مقررہ وقت پر اس کا ظہور ہو
۔ 130 وہ مقرر دن تو یقینا آئے ہی گا لیکن ہم اتنا پوچھتے ہیں کہ یہ جلدی مچانے والے یہ بات نہیں جانتے کہ آخر انسان کی زندگی کتنی لمبی ہے اور کتنا وقت اس کو زندہ رہنا ہے پھر جب وہ مر گیا تو کیا ابھی تک اس کی قیامت آنا باقی رہ گئی ؟ کیا وہ بار بار اس زندگی میں آتا رہے گا ؟ اگر نہیں تو پھر جب اس کا یہاں سے انتقال ہوگیا تو وہ انتقال کے بعد کہاں گیا ؟ وہ اپنی متعینہ گھڑی کو تو پہنچ گیا اور اس کی قیامت تو آگئی۔ اب بھی اگر وہ اس معاملہ میں شک کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی نادانی اور ناسمجھی کی بات ہے حالانکہ اس کی مدت عمر بھی گنی جا چکی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–111
After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said:
وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ
And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you.
The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
105. In such incidents of history there are instructive signs for all people. Only a little reflection will make them realize that the punishment of the unrighteous is inevitable and that the information provided by the Prophets (peace be on them) in this respect is absolutely true. These signs can also help men have some idea of how horrible the Day of Judgement will be. This realization is likely to create in man's heart a fear which will direct him to righteous behaviour.
One may well ask, what are the signs in human history which indicate that there is an After-life, one in which people…
Read the full tafseer →