Explained with ayahs 103–105
ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل
کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہوگا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہوگی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کرچکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہوگی۔ جس دن قیامت آجائے گی۔ کوئی نہ ہوگا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
سورة هُوْد 106
یعنی یہ بے وقوف لوگ اپنی جگہ اس بھروسے میں ہیں کہ فلاں حضرت ہماری سفارش کر کے ہمیں بچالیں گے ، فلاں بزرگ اَڑ کر بیٹھ جائیں گے اور اپنے ایک ایک متوسل کو بخشوا ئے بغیر نہ مانیں گے ، فلاں صاحب جو اللہ میاں کے چہیتے ہیں جنت کے راستے میں مچل بیٹھیں گے اور اپنے دامن گرفتوں کی بخشش کا پروانہ لے کر ہی ٹلیں گے۔ حالانکہ اَڑنا اور مچلنا کیسا، اُس پُر جلال عدالت میں تو کسی بڑے سے بڑے انسان اور کسی معزز سے معزز فرشتے کو بھی مجال دم زدن تک نہ ہو گی اور اگر کوئی کچھ کہہ بھی سکے گا تو اُس وقت جبکہ احکم الحاکمین خود اسے کچھ عرض کرنے کی اجازت دیدے۔ پس جو لوگ یہ سمجھتے ہوئے غیر اللہ کے آستانوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خلاصہ تفسیر
اور آپ کے رب کی دار و گیر ایسی ہی (سخت) ہے جب وہ کسی بستی والوں پر دار وگیر کرتا ہے جبکہ وہ ظلم (و کفر) کیا کرتے ہوں، بلا شبہ اس کی دار و گیر بڑی الم رساں (اور) سخت ہے (کہ اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا) ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو (وجہ عبرت ظاہر ہے کہ جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دار الجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دار الجزاء ہے کیسا سخت عذاب ہوگا) وہ (یعنی آخرت کا دن) ایسا دن ہوگا کہ اس میں تمام آدمی جمع کئے جاویں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے اور (وہ دن گو اب تک آیا نہیں لیکن اس سے کوئی اس کے آنے میں شک نہ…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ۔ جھوٹی شفاعت کی تردید : جب وہ گھڑی آئے گی تو کسی کی مجال نہ ہوگی کہ خدا کے اذن کے بغیر کوئی اس سے بات کرنے کے لیے زبان ہلاسکے۔ یہ مشرکین کے اس گمان کی تردید ہے کہ ان کے معبودوں کو خدا کے ہاں عزت و اعتماد کا وہ مقام حاصل ہے کہ خواہ ان کے اعمال کچھ ہی کیوں نہ ہوں لیکن وہ اپنے پجاریوں کو بہرحال چھڑا ہی لیں گے اور خدا ان کی دلداری میں مجبور ہوگا کہ ان کی سفارش سنے اور ان کی بات مانے۔ فرشتوں کی نسبت ان کا گمان تھا کہ یہ خدا کی چہیتی بیٹیاں ہیں اور جس طرح چہیتی بیٹیاں ناز اور تدلل سے اپنی ہر بات اپنے باپ سے منوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
15۔ 4 گفتگو نہ کرنے سے مراد، کسی کو اللہ تعالیٰ سے کسی طرح کی بات یا شفاعت کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔ طویل حدیث شفاعت میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " اس دن انبیاء کے علاوہ کسی کو گفتگو کی ہمت نہ ہوگی اور انبیاء کی زبان پر بھی اس دن صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ ! ہمیں بچا لے، ہمیں بچا لے '۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–106
59: مثلاً فرعون کا ملک مصر فرعون کے غرق ہونے کے بعد بھی باقی رہا اور عاد وثمود اور قوم لوط ؑ کی بستیاں ایسی تباہ ہوئی کہ بعد آباد نہ ہو سکیں
Read the full tafseer →يَوْمَ يَأْتِ لا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ (105 : 11) “ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی ، الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ ” سب لوگوں پر ہیبت طاری ہوگی اور خوفناک سکوت کا ماحول ہوگا ، لوگ سہمے ہوں گے ، وہاں بات اجازت سے ہوگی مگر اجازت طلب کرنا کارے دارد۔ یہ اللہ ہی ہوگا جو کسی کو اجازت دے دے ، تو کچھ عرض کی جاسکتے گی۔
اب لوگوں کو ان کے انجام کے مطابق تقسیم کردیا جائے گا :
فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ (11 : 105) “ پھر کچھ لوگ اس روز بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ ” انداز تعبیر ایسا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ بدبختی کا شکار ہوئے…
Read the full tafseer →5 یعنی کوئی شخص ایسی بات جو منقول و نافع ہو بدون حکم الٰہی کے نہ کرسکے گا اور محشر کے بعض مواقف میں تو مطلقا ایک حرف بھی اذن و اجازت کے بدون منہ سے نہ نکال سکیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 105 يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ
یعنی کچھ انسان بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔
Read the full tafseer →117 اللہ کے ہاں سفارش کی کڑی شرائط :۔ اس آیت سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو اپنے بزرگوں کی سفارش پر تکیہ لگائے بیٹھے ہیں ہمیں اولیاء کے تذکروں میں بکثرت ایسی حکایات ملتی ہیں کہ فلاں بزرگ اکڑ کر بیٹھ جائیں گے اور اپنے ایک ایک مرید کو بخشوائے بغیر راضی نہ ہوں گے اور نہ خود جنت میں داخل ہوں گے اور بالآخر وہ اللہ میاں کو اپنی بات منوا کے ہی چھوڑیں گے حالانکہ وہ دن ایسا سخت ہوگا کہ انبیاء بھی اللہ کے حضور لوگوں کی سفارش کرنے سے ہچکچائیں گے اور بالآخر قرعہ فال رسول اللہ پر پڑے گا اور وہی اللہ کے حضور سفارش کریں گے۔ بلاشبہ دوسرے انبیاء اور بعض دوسرے نیک لوگوں کی سفارش کرنا بھی احادیث سے ثابت…
Read the full tafseer →148۔ (آیت) ” شقی “۔ یعنی بدبخت یا سزا وار نار۔ الذی وجبت لہ نار لا ساء تہ (کشاف) (آیت) ” سعید “۔ یعنی خوش نصیب یا قابل عفو وسزا وار جنت۔ الذی وجبت لہ اجنۃ لاحسانہ (کشاف) (آیت) ” لا تکلم نفس الا باذنہ “۔ یہ بیان یوم قیامت کے ہول اور دہشت کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” منھم “۔ یعنی اہل محشر میں سے۔ ضمیر ھم اہل موقف کے لیے ہے اور ایسے موقع کے لیے جو سیاق سے بہ خوبی سمجھ میں آجائے عربی اسلوب بلاغت میں ضمیر کے قبل اسم لانا بالکل غیر ضروری ہے۔ الضمیر لاھل الموقف ولم یذکر لان ذلک معلوم (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیت نمبر 96 تا 109
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم…
Read the full tafseer →یوم یات لا تکلم نفس الا باذنہ جب وہ دن آجائے گا تو کوئی شخص اللہ کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرسکے گا یعنی شفاعت نہ کرسکے گا یا ایسی کوئی بات نہ کہہ سکے گا جو اس کو فائدہ پہنچا سکے۔ دوسری آیت میں آیا ہے : لاَ یَتَکَلَّمُوْنَ الاَّ مَنْ اَذنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ ۔
یَوْمَ یَاْتِ میں یَاْتِ کا فعال یا جزا ہے ‘ یعنی جس روز سزا و جزا آجائے گی۔ یا یوم سے مراد ہے وقت اور یات کا فاعل ہے یوم یعنی جب اور جس وقت وہ دن آجائے گا۔ یا اللہ فاعل ہے ‘ یعنی جس روز اللہ آجائے گا۔ اللہ کے ظہور کو دوسری آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے ‘ فرمایا ہے : ھَلْ یَنْظُرُوْنَ الاّآ یَّاْتِیَھُمُ اللہ - وَجَآءَ رَبُّکَ ۔
فمنھم شقي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
(104۔ 105) اور ہم اس دن کو ایک معلوم مدت کے لیے ملتوی کیے ہوئے ہیں جس وقت وہ دن آئے گا تو کوئی نیکوکار بھی اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکے گا۔
Read the full tafseer →يَوْمَ يَاْتِ : یہاں چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس دن کا کچھ نقشہ بیان فرمایا ہے۔ ”یَاتِ“ اصل میں ”یَأْتِیْ“ ہی ہے۔ زمخشری نے لکھا ”يَوْمَ يَاْتِ“ کی طرح ”لاَ أَدْرِ“ بھی کہہ دیتے ہیں۔ سیبویہ اور خلیل نے یہ بیان فرمایا ہے کہ یاء کو حذف کرکے اس کی جگہ کسرہ پر اکتفا کرنا ہذیل کی لغت میں بہت ہے (یعنی دوسری لغات میں بھی ہے مگر کم ہے)۔ ”يَاْتِ“ کا فاعل وہی ہے جو اوپر گزرا ”يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ“۔ ”یَوْمٌ“ کا لفظ عربی میں وقت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ”التحریر والتنویر لابن عاشور“ یعنی جس دن وہ وقت آئے گا، یا جس وقت وہ دن آئے گا۔ زمخشری نے ایک معنی یہ لکھا ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–109
آیت نمبر 100 تا 109
قولہ تعالیٰ : ذٰلک من انۘبآء القرٰی نقصہ علیک، ذٰلکمبتدا کے مضمر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی الامرذالک اور اگر آپ چاہیں تو اسے مبتدا کی حیثیت سے بھی مرفوع بناسکتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا : یہ گزشتہ خبر ان بستیوں کی بعض خبروں میں سے جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں۔ منھاقآئم وحصیدحضرت قتادہ نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو برباد ہوچکی ہی اور ان کے نشانات ہیں جب کے حصید سے مراد ویہ ہیں جن کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے : قائم سے مراد آباد ہیں جب کہ حصید سے مراد بےآباد اور برباد ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو اپنے سازو سامان سمیت…
Read the full tafseer →نیک بخت و بدبخت کا انجام :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یوم یات “ سے مراد ہے وہ دن (یعنی قیامت کا دن ) ۔
2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن لوگوں کا کلام سریانی زبان میں ہوگا۔
3:۔ ابن الانباری (رح) نے المصاحف میں عمر بن ذررحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” یوم یات لا تکلم نفس الا باذنہ “۔
4:۔ ترمذی نے اور آپ نے اس کو حسن کہا وابوایعلی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” فمنہم شقی و سعید “ نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ…
Read the full tafseer →[يَوْمَ : جس دن ] [يَاْتِ : وہ (دن) آئے گا ] [لَا تَكَلَّمُ : تو بات نہیں کرے گی ] [نَفْسٌ: کوئی جان ] [اِلَّا : مگر ] [بِاِذْنِهٖ : اس کی اجازت سے ] [فَمِنْهُمْ : تو ان میں سے ] [شَقِيٌّ: کوئی بدبخت ہوگا ] [ وَّسَعِيْدٌ: اور کوئی نیک سخت ہوگا ]
ش ق و
[شَقَا : (س) (1) کسی مشقت یا سختی میں پڑنا۔ (2) نامراد یا بدبخت ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 106 ۔] [شَقِیٌّ: فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ نامراد۔ بدبخت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 105 ۔] [اَشْقٰی : اَفْعَلُ التَّفْضِیْل۔ زیادہ یا سب سے زیادہ بدبخت۔ وَیَتَجَنَّبُھَا الْاَشْقَی الَّذِیْ یَصْلَی النَّارَ الْکُبْرٰی (اور اس سے یعنی نصیحت سے اجتناب کرے گا وہ بڑا بدبخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
قیامت کے دن سب جمع ہوں گے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو بولنے کی اجازت نہ ہو گی
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ گزشتہ امتوں کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو ‘ پھر یہ فرمایا کہ آخرت کے دن میں سب لوگ جمع ہوں گے اور یہ حاضری کا دن ہے یہ جبری حاضری ہوگی کوئی شخص اگر یہ چاہے کہ میں حاضر نہ ہوں تو ایسا ہو نہیں سکتا ‘ حاضر ہونا ہی پڑے گا مزید فرمایا کہ ہم اس دن کو تھوڑی مدت کے لئے مؤخر کر رہے ہیں جس وقت اس کا آنا اللہ تعالیٰ کے علم میں متعین ہے اس وقت آجائے گی اس سے پہلے نہیں آئے گی لیکن فوری اور ابھی نہ آنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ آنی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
تذکیر عواقب اخرویہ کفر و تکذیب برائے موعظت و نصیحت
قال اللہ تعالیٰ ان فی ذلک لایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ .... الیٰ .... وانا لموفوھم نصیبھم غیر منقوص۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفر و تکذیب کے دنیوی انجام اور دنیاوی ذلت اور رسوائی کی یاد دہانی تھی۔ اب اس آیت میں کفر وتکذیب کے اخروی انجام کا بیان ہے دنیوی ذلت وہلاکت کے ذکر سے موعظت اور نصیحت مقصود ہے عقلمند کو چاہیے کہ پہلے سے اپنے انجام کو سوچ لے قیامت کا دن اللہ کی عدالت کا دن ہے جس میں سعداء اور اشقیاء کی جزاء اور فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن سعداء گا ئز المرام ہونگے اور اشقیاء خائب و خاسر ہونگے۔
جاننا چاہئے کہ ان آیات میں حق جل شانہ نے اہل محشر کی دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
86:۔ قیامت کا ایک دن مقرر ہے اس سے پہلے نہیں آئے گی۔ یَوْمَ یَاتِ لَاتَکَلَّمُ نَفْسٌ الخ اور جب اپنے وقت پر قیامت آجائے گی اس دن کوئی شخص اللہ کے حکم اور اس کی اجازت کے بغیر دم نہیں مار سکے گا۔ فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا تخویف اخروی ہے۔ زَفِیْرٌ : گدھے کی ابتدائی اور پست آواز۔ شَھِیْقٌ: گدھے کی بلند آواز۔ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ : یہ دوام اور عدم انقطاع عذاب سے کنایہ ہے کیونکہ یہ زمین و آسمان تو وہاں موجود ہی نہ ہوں گے۔ واجری ذلک علی عادۃ العرب فی الاخبار عن دوام الشیء وتابیدہ (قرطبی ج 9 ص 99) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
ربط آیات
فرعون اور اس کی قوم کا حال بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے آپ کی بات کا انکار کیا۔ لوگوں نے فرعون کی بات کا اتباع کیا ، حالانکہ وہ بالکل غلط موقف پر تھا ان کے انجام کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے آگے چل رہا ہوگا اور سب کو دوزخ میں لے جائیگا۔ اللہ نے دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی ، اور قیامت کو بھی وہ اسی لعنت میں گرفتار ہوں گے۔ اللہ نے مختلف بستیوں کا حال بیان فرمایا کہ ان میں سے بعض بالکل اجڑ چکی ہیں اور بعض کے نشانات موجود ہیں اور آنے والے لوگوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ اللہ…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِـاِذْنِہٖ 0 ۚ فَمِنْہُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ 105
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40]
( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی " آنا " ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–109
1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
وَمَا نُؤَخِّرُہٗٓ اِلاَّ لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ ۔ یَوْمَ یَاْتِ لاَ تَکَلَّمُ نَفْسٌ اِلاَّ بِاِذْنِہ ج فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ۔ (سورۃ ہود : 104، 105)
(ہم اس کو ٹال رہے ہیں بس ایک گنتی کی مدت کے لیے۔ جب وہ دن آئے گا کوئی جان اس کے اذن کے بغیر کلام نہ کرسکے گی، پس ان میں کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ )
قیامت کو دور مت سمجھو
انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ قیامت کو بہت دور سمجھتا ہے۔ اگر اس کے سامنے قیامت کا ذکر بھی کیا جائے تو وہ اسے چنداں اہمیت نہیں دیتا۔ سمجھتا ہے کہ ابھی معاملہ بہت دور کا ہے، تو جس چیز کا آنا ابھی بہت دور ہے اس کے لیے ابھی سے اپنا عیش مکدر کیوں کیا جائے۔ پروردگار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
فہم القرآن
ربط کلام : جس دن تمام کے تمام لوگ حاضر ہوں گے اور ان پر گواہ پیش کیے جائیں گے۔ اس دن کا پہلا قانون یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی بات نہ کر پائے گا۔
قیامت کے دن تمام کے تمام لوگ رب زوالجلال کی عدالت میں دست بستہ پیش کیے جائینگے۔ وہ دن اتنا بھاری اور خوفناک ہوگا۔ کہ حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے۔ سب لوگوں کی حالت یوں ہوگی جیسے کسی نے انہیں نشہ پلارکھا ہو۔ یہ حالت کسی نشہ کی وجہ سے نہیں بلکہ رب ذوالجلال کے جلال اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ ( الحج : 2) حضرت جبریل امین (علیہ السلام) اور تمام ملائکہ دم بخودقطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ کوئی نبی، ولی اور فرشتہ۔ اللہ…
Read the full tafseer →105: یَوْمَ یَاْتِ (جس دن آئے گا) قراءت : مکی نے یا سے پڑھا اور ابو عمرو، نافع، علی نے وصل میں اسکی موافقت کی ہے۔ اور اصل یاؔ کا اثبات ہے کیونکہ حذف کی کوئی وجہ نہیں یا ؔ کا حذف اور کسرہ پر اکتفاء لغت ہذیل میں کثرت سے ملتا ہے اور اسکی مثال ماکنا نبغ [ الکہف : 64[ اور یأت کا فاعل ضمیر ہے جو اس قول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ یوم مجموع لہ الناس ۔ [ ھود : 103[ اس یوم کی طرف جو یأت سے پہلے آرہا ہے یوم یہ اذکر کی وجہ سے منصوب ہے۔ یا لَا تَکَلَّمُ کی وجہ سے یہ لاتتکلم ہے (نہ کلام کرے گا) ۔ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِہٖ (کوئی نفس مگر اس کے حکم سے) یعنی کسی کی کوئی سفارش نہ کرسکے گا مگر اللہ تعالیٰ کی اجازت سے…
Read the full tafseer →شقی کون ہے اور سعید کون
105۔” یوم یات “ یاء کو ثابت کھ کر اور حذف کر کے ” لا تکلم “ یعنی یہ اصل میں ” لا تتکلم نفس الا باذنہ فمنھم شقی و سعید “ یعنی پس بعض ان میں سے وہ ہیں جن کے لیے شقاوت مقدر ہوچکی اور بعض کے لیے سعادت مقدر ہوچکی ۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازہ پر نکلے جب ہم جنت البقیع میں تھے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ آپ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں چھوٹی لاٹھی تھی۔ آپ (علیہ السلام) تشریف لائے اور بیٹھ گئے پھر اس کے ذریعے زمین کو کھودنے لگے ۔ پھر فرمایا کہ نہیں ہے کوئی جان سانس لینے والی مگر اس کی جگہ جنت یا جہنم سے لکھ دی گئی ہے مگر تحقیق اس کا شقی یا سعید ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
104۔ 105۔ اس سے پہلے کی آیت میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ قیامت کے دن اول سے آخر تک سب لوگ جمع ہوں گے اس لئے فرمایا کہ قیامت کے آنے میں دیر اس لئے ہو رہی ہے کہ خدا نے یہ بات اس لئے ٹھہرائی ہے کہ جب تک دنیا کے تمام پیدا ہونے والے لوگ پیدا نہ ہولیں گے۔ اور ان کے پیدا ہونے کے لئے جو مدت مقرر ہے وہ پوری نہ ہوجاوے گی اس وقت تک قیامت نہ آوے گی اور اس مدت کی خبر خدا ہی کو ہے سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا جب یہ مدت دنیا کی ختم ہوجاوے گی تو وہ قیامت کا دن قائم ہوگا اور ہر شخص کو اس کے عمل کے موافق جزا و سزا ملے گی پھر اس کے بعد فرمایا کہ جب وہ دن آئے گا تو کسی کی کیا مجال ہے جو میرا حکم خدا کے ایک بات بھی…
Read the full tafseer →( يَوْمَ يَاْتِ : جس روز وہ آجائے گا) یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ (لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ : اس کی اجزت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکیں گے۔ آیت فمنہم، پس ان میں سے بعض، یعنی تمام مخلوق میں سے، شقی و سعید، بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں۔ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–112
حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا
قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
204 ۔ مشرکانہ عقیدہ شفاعت کی تردید : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہاں کوئی اللہ کے اذن کے بغیر بات بھی نہیں کرسکے گا چناچہ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر فرمایا گیا کہ جس دن وہ آپہنچے گا اس دن کوئی بات بھی نہیں کرسکے گا مگر اس کے اذن سے۔ پس بڑی غلطی پر ہیں وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں ہستی یا فلاں سرکار کا لڑ پکڑ رکھا ہے۔ وہی ہمارا کام بنادیں گی۔ ہم ان کی نذر و نیاز دیتے رہیں گے۔ ان کو خوش رکھیں گے۔ باقی عمل وغیرہ ہم سے کوئی نہیں ہوسکتا۔ وہی ہمارا سارا کام کروا دیں گے کہ یہ خدا کے پیارے ہیں جو اڑ کر بیٹھیں گے اور ہمارا کام کرا دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح ایسے لوگ نعمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
قیامت، نیک و بد اور جزا و سزا
تشریح : قیامت کے دن اللہ کا رعب دبدبہ اور جلال اس قدر زبردست ہوگا کہ کوئی شخض بات کرنے کی جرأت بھی نہ کرسکے گا سب لوگ مبہوت و پریشان دم بخود کھڑے ہوں گے صرف وہ شخص ہی بولنے کی جرأت کرے گا جس کو رب اعلیٰ بولنے کی اجازت دے گا یا حکم دے گا۔ اور اس میدان حشر میں بندوں کے صرف دو گروہ ہوں گے ایک نیک بخت اور دوسرا بدبخت اور پھر ان کو اپنے مقام پر پہنچا دیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رکھے جائیں گے اور یہاں آیت میں جو ہمیشہ کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ جب تک زمین و آسمان رہیں گے تو اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ عربی زبان میں محاورتاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیات 96 تا 109
اسرار و معارف
جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
ف 8 ۔ دائمی عذاب سے کنایہ ہے کہ کیونکہ جب کسی چیز کی ہمشیگی ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو عربمادامت السموات والارض کا محاورہ استعمال کرتے ہیں ورنہ تعلیق نہیں ہے اور اگر آسمان و زمین سے آخرت کے آسمان و زمین مراد ہوں یا جنس سماء و ارض مراد ہو تو تعلیق بھی ہوسکتی ہے کیونکہ آخرت کے آسمان و زمین ابدی ہوں گے اور ان پر کبھی فنا نہیں آئے گی۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(11:105) یوم۔ ای اذکر یوم۔ یعنی بوجہ اذکر منصوب ہے۔
یات۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اتیان مصدر۔ (باب ضرب) اصل میں یاتی تھا۔ مقام شرط میں واقع ہونے کی وجہ سے یا کو حذف کردیا گیا۔ فعل لازم ہے (اگر اس کے بعد مفعول پر باء آئے تو فعل متعدی ہوتا ہے) ۔ یات کا فاعل کون ہے ؟ اس کے متعلق صاحب الکشاف لکھتے ہیں :۔ فان قلت فاعل یاتی ماھو ؟ قلت اللہ عزوجل۔ اس صورت میں یوم یأت کا ترجمہ ہوگا۔ (یاد کرو وہ) دن جب اللہ تعالیٰ جلوہ افروز ہوگا۔
اور مدارک التنزیل میں ہے۔ فاعل یأت ضمیر یرجع الی قولہ یوم مجموع لہ الناس۔ یعنی اس فعل کا فاعل وہ دن ہے جس دن تمام انسان جمع کئے جائیں گے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ (یاد کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109
اخذ (لیا) المد شدید (شدید اور درد ناک) خاف (ڈر) یوم مجموع (جمع ہونے کا دن) یوم مشھود (حاضری کا دن) نوخر (ہم دیر کرتے ہیں۔ موخر کرتے ہیں) معدود (گنتی، مقرر) لاتکلم (بات نہ کرے گا) شقی (بدنصیب) سعید (خوش نصیب) زقیر (چیخنا، زور سے آواز لگانا) شھیق (دھاڑنا) فعال (بہت کرنیوالا) عطاء (بخشش، عطا کرنا) غیر مجذوذ (نہ منقطع ہونے والا) لاتک (لاتکن) تو نہ ہونا) مریدۃ (شک) مرفوا (پورا دینے والا) نصیب (حصہ) غیر منقوص (نہ گھٹنے والا)
تشریح : آیت نمبر 102 تا 109
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اسی لئے وہ لوگوں کے برے اعمال پر فوراً ہی سزا نہیں دیا کرتا بلکہ ان کو مہلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
اس آیت میں فرمایا کہ قیامت کے آنے میں دیر اس لئے ہورہی ہے کہ خدا نے یہ بات اس لئے ٹھرائی ہے کہ جب تک دنیا کے تمام پیدا ہونے والے لوگ پیدا نہ ہولیں گے اور ان کے پیدا ہونے کے لئے مدت مقرر ہے وہ پوری نہ ہوجائے گی اس دن تک قیامت نہ آئے گی۔ پھر فرمایا کہ جب وہ دن آئے گا تو کسی کی مجال ہے جو بغیر حکم خدا کے ایک بات بھی زبان سے نکال سکے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت کے دن جتنے لوگ ہوں گے ان میں سے بعض بد بخت ہوں گے جن کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور بعض نیک بخت ہوں گے جن کے لئے جنت بنائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
[54] یعنی جو مدت ہم نے بقائے دنیا کے لئے مقرر فرمائی ہے اس کے تمام ہونے تک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–107
(ف 2) ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے درمیان بطور تنوع اللہ تعالیٰ نے چند دوسرے قیمتی امور کا ذکر فرمایا ہے کہ قوموں کی داستان کفر ومعصیت جو بیان کی گئی ہے ، ان کا تعلق امور غیب سے ہے ، جس کی انبیاء (علیہم السلام) کے سوا اور کسی کو خبر نہیں ہوتی ، ارشاد فرمایا کہ ان قوموں پر جو عذاب آیا ہے ، ان کی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ ظالم نہیں ، جب عذاب آگیا ، تو پھر ان کے مزعومہ خدا انہیں عذاب سے نہ بچا سکے ، یہ کہا کہ یہ بات اللہ کے انتظام میں داخل ہے ، کہ جب شہروں اور بستیوں میں کفر ومعصیت پھیل جائے اور دل مردہ ہوجائیں ، تو اس وقت خدا کا غضب حرکت میں آتا ہے اور انہیں دنیا سے ہٹا…
Read the full tafseer →105 جب وہ دن آجائے گا تو کوئی متنفس بلا اذن و اجازت خداوندی بات تک بھی نہیں کرسکے گا پھر اسوقت لوگوں میں سے بعض بدبخت اور بعض نیک بخت اور سعادت مند ہوں گے یعنی اس دن کی ہیبت ایسی ہوگی کہ کسی کو مجال دم زدن نہ ہوگا مگر ہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد ہی کوئی بول سکے گا اور اس دن لوگ دو حصہ میں منقسم ہوں گے کوئی شقی اور کوئی سعید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
ف 5۔ وجہ عبرت ظاہر ہے جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دارالجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دارالجزا ہے کیسا سخت ہوگا۔
Read the full tafseer →جب وہ دن آجائے تو کس کی مجال ہے کہ وہ بغیر اذن کے زبان کھولے ؟
۔ 131 جب ان کی زندگی کا ایک ایک حرف اور ایک ایک حرکت ان کے سامنے پیش کردی جائے گی اور سب کچھ کرتے ہوئے بھی ان کو دکھا دیا جائے گا ، ان کی زبانوں کو بند کر کے ان کے جوارح کی حرکتیں انہیں جوارح کی زبانی ٹیلی ویژن کی طرح سامنے دکھا دی جائیں گی تو پھر آخر وہ کس طرح ان باتوں کا انکار کرسکیں گے۔ فرمایا ، اے پیغمبر اسلام ! آج تو ان خدا فراموشوں اور خود فریبوں کی چرب زبانی کا یہ عالم ہے کہ بولتے بولتے تھکنے کا نام نہیں لیتے اور ان کی زبانیں اتنی کھلی ہوئی ہیں کہ ان کو لگام دینے والا کوئی نہیں لیکن اس روز سب کے سب دم بخود کھڑے ہوں گے ، کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–111
After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said:
وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ
And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you.
The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
106. Some people entertain the misconception that their saintly patrons will intercede on their behalf and obtain salvation for them on the Day of Resurrection. They believe that some of the saints will simply stage a sit-in protest before God, and will thus virtually extract from Him a pardon for their devotees. All this, of course, is sheer nonsense. For in God's majestic court, everyone - howsoever great they may otherwise be, including angels - will be in a state of spellbinding awe. At that awe-inspiring moment - the Day of Judgement - none will even dare speak until God Himself permits…
Read the full tafseer →