Hud 11:103

Hud · from ayah 103

11:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ ؕ— ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ— لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ ۟اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَةِ‌ ؕ ذٰ لِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ ۙلَّهُ النَّاسُ وَذٰ لِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ

ان (قصوں) میں اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جس میں سب (خدا کے روبرو) حاضر کیے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed in that is a sign for those who fear the punishment of the Hereafter. That is a Day for which the people will be collected, and that is a Day [which will be] witnessed.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 9 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:103

حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان (قصوں) میں اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جس میں سب (خدا کے روبرو) حاضر کیے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشان عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وه دن جس میں سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وه، وه دن ہے جس میں سب حاضر کئے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان ساری باتوں میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو۔ وہ ایسا دن ہوگا جس کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا، اور وہ ایسا دن ہوگا جسے سب کے سب کھلی آنکھوں دیکھیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اس میں نشانی ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ان (واقعات) میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے۔ یہ (روزِ قیامت) وہ دن ہے جس کے لئے سارے لوگ جمع کئے جائیں گے اور یہی وہ دن ہے جب سب کو حاضر کیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اس میں اس شخص کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے، یہ وہ دن ہے جس کے لیے (سب) لوگ جمع کیے جانے والے ہیں اور یہ وہ دن ہے جس میں حاضری ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو شخص آخرت کے عذاب سے ڈرے اس کے لئے بھی اس میں نشان عبرت ہے۔ وہ ایسا دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کئے جائیں گے اور اس دن جو کچھ ہوگا سب کی موجودگی میں ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو عذاب آخرت سے ڈریں۔ وہ ایک ایسا دن ہوگا جس کے لیے سارے ہی لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور وہ حاضری کا دن ہوگا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلا شبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ہر اس شخص کے لئے جو ڈرتا ہے آخرت کے عذاب سے، یہ وہ ہولناک دن ہوگا، جس میں جمع کیا جائے گا سب لوگوں کو اور یہ وہ دن ہوگا جس میں پیشی ہوگی ہر کسی کی،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک ان (واقعات) میں اس کے لئے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو۔ وہ ایسادن ہوگا کہ اس میں (کل) انسان جمع کئے جائیں گے اور وہ دن ہے حاضری کا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہوں وہ ایک ایسا دن ہے جس میں لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور وہ دن ہے پیشی کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈریں۔ وہ ایک دن ہے جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور وہ سب کے پیش ہونے کا دن ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely in that is a sign for him who fears the chastisement of the Hereafter. That will be a Day when all men shall be mustered together; that will be a Day when whatever happens shall be witnessed by all.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In this there is a sign for the one who fears the punishment of the Hereafter. That is a day when all the people shall be gathered together, and that is a day which will be witnessed by all.

— Muhammad Taqi Usmani

In this there is a sign for the one who fears the punishment of the Hereafter. That is a day when all the people shall be gathered together, and that is a day which will be witnessed by all.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Indeed in that (there) is a sure lesson for those who fear the torment of the Hereafter. That is a Day whereon mankind will be gathered together, and that is a Day when all will be present.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! herein verily there is a portent for those who fear the doom of the Hereafter. That is a day unto which mankind will be gathered, and that is a day that will be witnessed.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed in that is a sign for those who fear the punishment of the Hereafter. That is a Day for which the people will be collected, and that is a Day [which will be] witnessed.

— Saheeh International

In this there is, certainly, a lesson for those who fear the torment of the next life in which all people will be gathered together

— Muhammad Sarwar

Most surely there is a sign in this for him who fears the chastisement of the hereafter; this is a day on which the people shall be gathered together and this is a day that shall be witnessed.

— Muhammad Habib Shakir

Verily herein is a sign unto him who feareth the torment of the Hereafter. That is a Day whereon mankind shall be gathered together, and that is a Day to be witnessed.

— Abdul Majid Daryabadi

In that is a Sign for those who fear the penalty of the Hereafter: that is a Day for which mankind will be gathered together: that will be a Day of Testimony.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:103

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 103–105

ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہوگا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہوگی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کرچکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہوگی۔ جس دن قیامت آجائے گی۔ کوئی نہ ہوگا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 103–104

سورة هُوْد 105 یعنی تاریخ کے اِن واقعات میں ایک ایسی نشانی ہے جس پر اگر انسان غور کرے تو اسے یقین آجائے گا کہ عذاب آخرت ضرور پیش آنے والا ہے اور اس کے متعلق پیغمبروں کی دی ہوئی خبر سچی ہے۔ نیز اس کی نشانی سے وہ یہ بھی معلوم کر سکتا ہے کہ عذاب آخرت کیسا سخت ہو گا اور یہ علم اس کے دل میں خوف پیدا کر کے اسے سیدھا کردے گا۔ اب رہی یہ بات کہ تاریخ میں وہ کیا چیز ہے جو آخرت اور اس کے عذاب کی علامت کہی جا سکتی ہے ، تو ہر وہ شخص اسے بآسانی سمجھ سکتا ہے جو تاریخ کو محض واقعات کا مجموعہ ہی نہ سمجھتا ہو بلکہ ان واقعات کی منگق پر بھی کچھ غور کرتا ہو اور ان سے نتائج بھی اخذ کرنے کا عادی ہو۔ ہزار ہا برس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–111

خلاصہ تفسیر اور آپ کے رب کی دار و گیر ایسی ہی (سخت) ہے جب وہ کسی بستی والوں پر دار وگیر کرتا ہے جبکہ وہ ظلم (و کفر) کیا کرتے ہوں، بلا شبہ اس کی دار و گیر بڑی الم رساں (اور) سخت ہے (کہ اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا) ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو (وجہ عبرت ظاہر ہے کہ جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دار الجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دار الجزاء ہے کیسا سخت عذاب ہوگا) وہ (یعنی آخرت کا دن) ایسا دن ہوگا کہ اس میں تمام آدمی جمع کئے جاویں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے اور (وہ دن گو اب تک آیا نہیں لیکن اس سے کوئی اس کے آنے میں شک نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ ۭ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ۔ اس دنیا کی شہادت آخرت کے حق میں : یعنی قوموں کی یہ سرگزشتیں جس طرح نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کا نجام ظاہر کرتی ہیں اسی طرح ان کے اندر عذاب آخرت سے ڈرنے والوں کے لیے بھی بہت بڑی نشانی ہے۔ ان واقعات سے اس دنیا کے خالق ومالک کی صفات سامنے آتی ہیں اور اس کی پسند و ناپسند کا معیار معین ہوتا ہے کہ جب وہ اس دنیا میں سرکشوں اور باغیوں کو عبرتناک سزائیں دیتا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس نے اس مجموعی دنیا کے لیے کوئی روز جزا و سزا نہ رکھا ہو۔ پس ضرور ہے کہ ایک روز جزا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 یعنی مواخذہ الٰہی میں یا ان واقعات میں جو عبرت و موعظبت کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔ 13۔ 2 یعنی حساب اور بدلے کے لئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 100–106

59: مثلاً فرعون کا ملک مصر فرعون کے غرق ہونے کے بعد بھی باقی رہا اور عاد وثمود اور قوم لوط ؑ کی بستیاں ایسی تباہ ہوئی کہ بعد آباد نہ ہو سکیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 103–104

دنییا کی یہ پکڑ عذاب آخرت کی یاددہانی کرانے والی اور دل میں خوف بٹھانے والی ہے۔ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ (103 : 11) “ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ ” لیکن حقیقت ہے کہ یہ عبرت وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جن کے دل میں آخرت کے عذاب کا ڈر ہو ، ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کے فکر و نظر کو جلا ملتی ہے۔ لیکن جن کے دل میں آخرت کا خوف نہیں ہوتا ، ان کے دل بہرے ہوتے ہیں ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ، وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس نے پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر قاصر ہوتی ہے اور وہ صرف اس دنیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی دنیا جو " دارعمل " ہے، جب اس میں شرک و کفر اور تکذیب انبیاء پر سزائیں ملتی ہیں اور اس قدر سخت ملتی ہیں تو یہ ایک نشان اس بات کے معلوم کرنے کا ہے کہ آخرت میں جو خالص " دار جزاء " ہے کیا کچھ سزا ان جرائم پر ملے گی ؟ اور کیا صورت رستگاری کی ہوگی۔ عقلمند آدمی کے لیے جو اپنے انجام کو سوچ کر ڈرتا رہتا ہے۔ اس چیز میں بڑی عبرت و نصیحت ہے۔ 3 یعنی تمام دنیا کا بیک وقت فیصلہ اسی دن ہوگا جب سارے اولین و آخرین اکٹھے کیے جائیں گے اور کوئی شخص غیر حاضر نہ رہ سکے گا، گویا خدائی عدالت کی سب سے بڑی پیشی کا دن وہ ہی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 102–103

آیت 102 وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ جب کسی بستی میں گناہ اور معصیت کا چلن عام ہوجاتا ہے تو وہ گویا ”ظلم“ کی مرتکب ہو کر عذاب کی مستحق ہوجاتی ہے۔ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ اللہ کی پکڑ کے بارے میں سورة البروج میں فرمایا گیا : اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ ”یقیناً تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

114 یعنی قوموں کے عروج وزوال کی داستان یا عروج وزوال کے قانون سے عبرت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جن میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور آخرت میں اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ واقعات انھیں اللہ کی نافرمانی سے باز رکھنے میں موثر ثابت ہوتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو نہ اللہ سے ڈرتے ہیں نہ آخرت کے عذاب سے تو وہ ایسے عبرت انگیز واقعات سرسری طور پر پڑھ کر یا دیکھ کر انھیں اتفاقات زمانہ سے متعلق کردیتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ ان کی مادی یا طبیعی توجیہات تلاش کرنے لگتے ہیں۔ 115 یوم مشہود کا ایک ترجمہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ اس دن سب لوگوں کو حاضر کیا جائے گا یعنی تمام لوگ اس دن صرف جمع ہی نہیں کیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

146۔ یعنی نشانی عبرت وبصیرت کی۔ اس سے بڑھ کر عبرت کا موقع اور کیا ہوسکتا ہے کہ جب دنیا ہی کا عذاب اس قدر سخت ہے، حالانکہ دنیا مہلت گاہ ہے تو پھر آخرت تو دارالجزاء ہی ہے وہاں کے عذاب کی شدت کا کہنا ہی کیا !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 96–109

آیت نمبر 96 تا 109 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان في ذلک لایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ بیشک اس میں (یعنی کافر و ظالم بستیوں کو ہلاک کرنے اور ان کے مذکورہ واقعات میں) بڑی عبرت ہے ان لوگوں کے لئے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اللہ سے ڈرنے والے عذاب آخرت کی عظمت کا اندازہ اس سے کرسکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ مجرموں پر دنیا میں جو عذاب آیا ‘ وہ عذاب آخرت کا ایک نمونہ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان واقعات کے بیان کو سن کر وہ اللہ کی نافرمانیوں کو ترک کردیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عذاب اس الٰہ مختار کی طرف سے آیا ہے جو اپنی مرضی کے مطابق جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر رحم کرنے چاہے رحم کرے۔ رہے منکرین آخرت تو وہ جانوروں کی طرح ہیں ‘ نہ ان میں فہم ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(103) ان مذکورہ واقعات میں ایسے شخص کے لیے عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو کہ ان نافرمانوں کی اتباع نہ کرے یہ قیامت کا دن ہے کہ اس میں تمام اگلے پچھلے لوگ جمع کیے جائیں گے اور اس روز سب آسمان و زمین والے حاظر کیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ : یعنی ان آیات و واقعات سے وہی عبرت حاصل کرے گا جس کا آخرت پر ایمان ہے، مگر جس کا آخرت پر ایمان نہیں وہ ان تمام واقعات کی کوئی نہ کوئی سائنسی توجیہ کرے گا کہ زمین و آسمان کے تغیرات کی وجہ سے ایسا ہوا، ظلم یا عدل سے اس کا کیا تعلق ؟ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ : یعنی وہ قیامت کا دن ایسا ہے جس کے لیے تمام لوگ جمع کیے ہوئے ہوں گے۔ زمخشری نے فرمایا کہ فعل مجہول ”یُجْمَعُ لَہُ“ (جمع کیے جائیں گے) کے بجائے اسم مفعول ”مَّجْمُوْعٌ لہ“ (جمع کیے ہوئے ہوں گے) اس لیے استعمال فرمایا کہ اسم میں دوام اور ہمیشگی پائی جاتی ہے جب کہ فعل میں یہ چیز نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 100–109

آیت نمبر 100 تا 109 قولہ تعالیٰ : ذٰلک من انۘبآء القرٰی نقصہ علیک، ذٰلکمبتدا کے مضمر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی الامرذالک اور اگر آپ چاہیں تو اسے مبتدا کی حیثیت سے بھی مرفوع بناسکتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا : یہ گزشتہ خبر ان بستیوں کی بعض خبروں میں سے جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں۔ منھاقآئم وحصیدحضرت قتادہ نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو برباد ہوچکی ہی اور ان کے نشانات ہیں جب کے حصید سے مراد ویہ ہیں جن کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے : قائم سے مراد آباد ہیں جب کہ حصید سے مراد بےآباد اور برباد ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو اپنے سازو سامان سمیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 103–104

1:۔ ابن جریر (رح) نے ان زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان فی ذلک الایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا بیشک ہم ان کے لئے ان چیزوں کے وعدے پورے کریں گے۔ جو ہم نے آخرت میں لئ ہیں جیسا کہ ہم نے پورا کیا (اپنے وعدے کو) انبیاء کے لئے کہ ہم ان کی مدد کریں گے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذلک یوم مجموع لہ الناس وذلک یوم مشہود “ سے مراد ہے قیامت کا دن۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن جریر وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے اس طرح روایت کیا کہ ضحاک (رح) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا یہ قیامت کا دن ہوگا جس میں ساری مخلوق اکھٹی ہوگی اور سب کے سب حاضر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ہے ] [لِمَنْ : اس کے لئے جس نے ] [خَافَ : خوف کیا ] [ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کے عذاب کا ] [ذٰلِكَ : یہ ] [ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ : جمع کئے جانے والا ایک دن ہے ] [لَّهُ : اس کے (یعنی اللہ کے) لئے ] [النَاسُ : لوگوں کو ] [وَذٰلِكَ : اور یہ ] [ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ: معائنہ کئے جانے والا ایک دن ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 100–104

اللہ تعالیٰ ظالموں کی گرفت فرماتا ہے اس کی گرفت درد ناک اور سخت ہے سورۂ ہود کے رکوع 3 سے لے کر یہاں تک 7 انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کی بربادی کا حال بیان فرمانے کے بعد یہاں فرمایا کہ ہم آپ کو ان بستیوں کی خبریں سناتے ہیں۔ ان ہلاک شدہ بستیوں سے بعض بستیاں دنیا میں موجود ہیں کچھ تو کھنڈروں کی صورت میں ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ ان کے رہنے والوں کی ہلاکت کے بعد دوسرے لوگ ان میں رہنے لگے (وَسَکَنْتُمْ فِیْ مَسَاکِنَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ) اور کچھ ایسی بستیاں ہیں جن کا بالکل خاتمہ ہوگیا جیسے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں تھیں ان قوموں کی ہلاکت کے واقعات مخاطبین نے پہلے بھی سن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 103–109

تذکیر عواقب اخرویہ کفر و تکذیب برائے موعظت و نصیحت قال اللہ تعالیٰ ان فی ذلک لایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ .... الیٰ .... وانا لموفوھم نصیبھم غیر منقوص۔ (ربط) گزشتہ آیت میں کفر و تکذیب کے دنیوی انجام اور دنیاوی ذلت اور رسوائی کی یاد دہانی تھی۔ اب اس آیت میں کفر وتکذیب کے اخروی انجام کا بیان ہے دنیوی ذلت وہلاکت کے ذکر سے موعظت اور نصیحت مقصود ہے عقلمند کو چاہیے کہ پہلے سے اپنے انجام کو سوچ لے قیامت کا دن اللہ کی عدالت کا دن ہے جس میں سعداء اور اشقیاء کی جزاء اور فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن سعداء گا ئز المرام ہونگے اور اشقیاء خائب و خاسر ہونگے۔ جاننا چاہئے کہ ان آیات میں حق جل شانہ نے اہل محشر کی دو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 101–103

85:۔ ان قوموں کو ہلاک کر کے ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے شرک کر کے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا اور پھر جب ہمارا عذاب آپہنچا تو جنہیں وہ اپنا کارساز سمجھ کر پکارا کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا۔ وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّّکَ الخ یہ تخویف دنیوی ہے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً الخ اقوام گذشتہ کی تباہی میں آخرت سے ڈرنے والوں کے لیے عبرت ہے اس دن سب لوگ حساب کتاب کے لیے جمع ہوں گے اور سب موجود ہوں گے کوئی بھی غیر حاضر نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 102–109

ربط آیات فرعون اور اس کی قوم کا حال بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے آپ کی بات کا انکار کیا۔ لوگوں نے فرعون کی بات کا اتباع کیا ، حالانکہ وہ بالکل غلط موقف پر تھا ان کے انجام کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے آگے چل رہا ہوگا اور سب کو دوزخ میں لے جائیگا۔ اللہ نے دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی ، اور قیامت کو بھی وہ اسی لعنت میں گرفتار ہوں گے۔ اللہ نے مختلف بستیوں کا حال بیان فرمایا کہ ان میں سے بعض بالکل اجڑ چکی ہیں اور بعض کے نشانات موجود ہیں اور آنے والے لوگوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَۃِ۝ 0ۭ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ۝ 0ۙ لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْہُوْدٌ۝ 103 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 94–109

1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَ ۃِ ط ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لا لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْھُوْدٌ۔ (سورۃ ہود : 103) (بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈریں۔ وہ ایک ایسا دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور وہ ایسا دن ہوگا جب سب کو حاضر کیا جائے گا۔ ) آیت کا مفہوم اور آج کی گمراہی معذب قوموں کے واقعات میں ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اس میں پہلی بات تو جس کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ جن قوموں پر اللہ کا عذاب آیا ہے اور قرآن کریم مختلف مواقع پر انھیں بیان فرماتا ہے اس سے مقصود محض…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 100–103

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کا انجام بتلانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہلاک شدہ اقوام کی دنیا میں بھی تباہی دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ وہ بستیاں ہیں جن میں کچھ کے نشانات اور کھنڈرات باقی ہیں۔ کچھ ہیں جن کا نام ونشان مٹادیا گیا ہے یہ جس حالت میں بھی ہیں ہم نے انکے رہنے والوں پر ظلم نہیں کیا یہ تو خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ جب ہمارے عتاب کا کوڑا برساتو جن کو اللہ کے سوا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھا کرتے تھے۔ کسی ایک نے انکی مددنہ کی بلکہ یہ انکی بربادی میں اضافہ کا باعث بنے۔ مجرموں کی تباہی میں اضافہ بننے کے دو مفہوم ہیں۔ جن بتوں اور مزارات پر مریدوں کا بھروسہ تھا کہ مشکل آنے پر ہماری مدد کرینگے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تذکرئہ آخرت اور استدراج مجرم : 103: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) جو کچھ کہ ہلاک ہونے والی امتوں کے متعلق بیان کیا لَاٰ یَۃً ( البتہ عبرت ہے) لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَۃِ (اس کے لئے جو ڈرا آخرت کے عذاب سے) یعنی اس عذاب کے وجود اور صحیح ہونے کا اعتقاد رکھا۔ ذٰلِک (یہ) کا مشار الیہ یوم القیامۃ ہے کیونکہ عذاب آخرت اس پر دلالت کر رہا ہے۔ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌٌ لَّہُ النَّاسُ (جس دن میں لوگ جمع کئے جائیں گے) الناسؔ یہ مرفوع ہے مجموع کی وجہ سے جیسا کہ اس کا فعل رفع دیتا ہے یہاں فعل کے بجائے اسم مفعول کو اس لئے ترجیح دی گئی تاکہ جمع کا معنی اس دن کیلئے اچھی طرح ثابت ہوجائے اور جمع کی نسبت لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

103” ان فی ذلک لایۃ عبرت ہے لمن خاف عذاب الآخرۃ ذلک یوم مجموع لہ الناس “ قیامت کے دن ” وذلک یوم مشھود “ اس کی گواہی آسمان اور زمین والے دیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

103۔ انبیائے سابق اور ان کی امتوں کے ذکر کے دو فائدہ تو اوپر مذکور ہوچکے یہ تیسرا فائدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے حاصل اس فائدہ کا یہ ہے کہ کافر اور منافق کے دل تو ایسے سخت ہوگئے ہیں کہ ان کے دل پر کسی نصیحت کا اثر نہیں ہے ہاں جو لوگ اللہ اور رسول اور قیامت کے قائم ہونے پر ایمان لا چکے ہیں ان پچھلے قصوں سے ان کو ایک بڑی عبرت ہونی چاہیے کس واسطے کہ پچھلی امتوں کا دنیا کا عذاب سن کر پورا یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے وعدہ کا ظہور جس طرح دنیا میں ہوچکا اسی طرح آخرت کے عذاب کا اس کا وعدہ سچا ہے اور ضرور ایک مقرر دن پر اس کا ظہو ہونے والا ہے اس وعدہ کے دن کے لئے کچھ نیکی کرنی چاہیے تاکہ اس روز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ : بیشک ان میں) یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں۔ (لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ : اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے) ، یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا ( ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ : یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے) یعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا، تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–112

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

200 ۔ عقیدہ آخرت اصلاح احوال کی اساس و بنیاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ہر شخص کے لیے جو ڈرتا ہو عذاب آخرت سے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ عبرت پذیری کے لیے اولین شرط اور بنیادی امر عذاب آخرت کا خوف اور اس کا ڈر ہے کہ اس کے بغیر انسان بےفکر اور لاپرواہ بن جاتا ہے۔ اور صرف بطن و فرج اور مادہ و معدہ کے تقاضوں کے لیے جینے اور مرنے کا عادی بن جاتا ہے جس کے بعد حق و ہدایت اور وعظ و نصیحت کی آواز اس کے کانوں کے پردوں سے ٹکرا ٹکرا کر واپس ہوتی ہے۔ اس کے دل و دماغ تک نہیں پہنچ پاتی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 100–104

بستیوں کے حالات اور نصیحت تشریح : ان آیات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جو چند قوموں کے قصے تمہیں سنائے گئے ہیں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط، اہل مدین اور فرعون۔ یہ سب اپنے اپنے اعمال کے مطابق انجام کو پہنچے۔ کچھ کے کھنڈرات موجود ہیں اور کچھ کی کہانیاں موجود ہیں یہ ایک عقل مند انسان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کے لیے کافی ہیں اور آخرت کا تو بیان آسمانی کتابوں میں بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات قرآن میں بتائی گئی ہے اس لیے سو فیصد ٹھیک اور یقینی ہے۔ ایسا ضرور ہوگا کہ سب لوگ قیامت کے روز اللہ کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور دنیا میں کیے گئے اعمال کے مطابق سزا اور جزا ضرور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 96–109

آیات 96 تا 109 اسرار و معارف جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 103–107

ف 8 ۔ دائمی عذاب سے کنایہ ہے کہ کیونکہ جب کسی چیز کی ہمشیگی ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو عربمادامت السموات والارض کا محاورہ استعمال کرتے ہیں ورنہ تعلیق نہیں ہے اور اگر آسمان و زمین سے آخرت کے آسمان و زمین مراد ہوں یا جنس سماء و ارض مراد ہو تو تعلیق بھی ہوسکتی ہے کیونکہ آخرت کے آسمان و زمین ابدی ہوں گے اور ان پر کبھی فنا نہیں آئے گی۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:103) فی ذلک میں اشارہ ان امتوں کے قصوں کی طرف ہے جو اپنی نافرمانی اور عصیاں کی وجہ سے برباد ہوگئیں اور جن کا ذکر خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اور ذلک یوم میں اشارہ یوم القیامۃ کی طرف ہے۔ لہ۔ اس (دن) میں مجموع لہ الناس اس دن (روز قیامت) کل انسان جمع کئے جائیں گے۔ المشھوداسم مفعول واحد مذکر۔ حاضر کیا گیا۔ المشھود والشھادۃ کے معنی کسی چیز کے مشاہدہ کرنے کے ہیں خواہ بصر سے ہو یا بصیرت سے ہو اور صرف حاضر ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے عالم الغیب والشھادۃ (59:12) پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا۔ لیکن اولیٰ یہ ہے کہ شھود کے معنی صرف حاضر ہونا ہوں اور شھادۃ میں حاضر ہونے کے ساتھ مشاہدہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 102–109

لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109 اخذ (لیا) المد شدید (شدید اور درد ناک) خاف (ڈر) یوم مجموع (جمع ہونے کا دن) یوم مشھود (حاضری کا دن) نوخر (ہم دیر کرتے ہیں۔ موخر کرتے ہیں) معدود (گنتی، مقرر) لاتکلم (بات نہ کرے گا) شقی (بدنصیب) سعید (خوش نصیب) زقیر (چیخنا، زور سے آواز لگانا) شھیق (دھاڑنا) فعال (بہت کرنیوالا) عطاء (بخشش، عطا کرنا) غیر مجذوذ (نہ منقطع ہونے والا) لاتک (لاتکن) تو نہ ہونا) مریدۃ (شک) مرفوا (پورا دینے والا) نصیب (حصہ) غیر منقوص (نہ گھٹنے والا) تشریح : آیت نمبر 102 تا 109 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اسی لئے وہ لوگوں کے برے اعمال پر فوراً ہی سزا نہیں دیا کرتا بلکہ ان کو مہلت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

انبیائے سابق اور ان کی امتوں کے ذکر کے دو فائدے تو اوپر مذکور ہوچکے۔ یہ تیسرا فائدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ حاصل اس فائدہ کا یہ ہے کہ کافر اور منافق کے دل تو ایسے سخت ہوگئے ہیں کہ ان کے دل پر کسی نصیحت کا اثر نہیں ہے۔ ہاں جو لوگ اللہ اور رسول اور قیامت کے قائم ہونے پر ایمان لاچکے ہیں ان پچھلے قصوں سے ان کو ایک بڑی عبرت ہونی چاہئے۔ اس واسطے کہ پچھلی امتوں کا دنیا کا عذاب سن کر پورا یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے وعدے کا ظہور جس طرح دنیا میں ہوچکا، اسی طرح آخرت کے عذاب کا اس کا وعدہ سچا ہے اور ضرور ایک مقررہ دن پر اس کا ظہور ہونے والا ہے۔ اس دن کے لئے کچھ نیکی کرنی چاہئے تاکہ اس دن چھٹکارا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 101–107

(ف 2) ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے درمیان بطور تنوع اللہ تعالیٰ نے چند دوسرے قیمتی امور کا ذکر فرمایا ہے کہ قوموں کی داستان کفر ومعصیت جو بیان کی گئی ہے ، ان کا تعلق امور غیب سے ہے ، جس کی انبیاء (علیہم السلام) کے سوا اور کسی کو خبر نہیں ہوتی ، ارشاد فرمایا کہ ان قوموں پر جو عذاب آیا ہے ، ان کی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ ظالم نہیں ، جب عذاب آگیا ، تو پھر ان کے مزعومہ خدا انہیں عذاب سے نہ بچا سکے ، یہ کہا کہ یہ بات اللہ کے انتظام میں داخل ہے ، کہ جب شہروں اور بستیوں میں کفر ومعصیت پھیل جائے اور دل مردہ ہوجائیں ، تو اس وقت خدا کا غضب حرکت میں آتا ہے اور انہیں دنیا سے ہٹا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

103 بلاشبہ ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے یوم آخرت وہ دن ہے جس روز سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہی دن سب کے لئے پیش ہونے اور سب کی حاضری کا دن ہے ینی عبرت تو ظاہر ہی ہے کہ دنیا کے عذاب کا یہ حال ہے تو آخرت میں عذاب کیا کیا ٹھکانہ ہوگا آگے یوم آخرت کا بیان ہے کہ اس دن سب میدان حشر میں جمع کئے جائیں گے اور سب حضرت حق تعالیٰ کے روبرو پیش کئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 103–106

ف 5۔ وجہ عبرت ظاہر ہے جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دارالجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دارالجزا ہے کیسا سخت ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس بات میں بڑی ہی نشانی ہے مگر ان کے لئے جو آخرت کا ڈر رکھتے ہیں ۔ 129 ” اور اس بات میں اس کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب کا خوف رکھتا ہو۔ ‘ ‘ بلاشبہ اس میں عبرت کی نشانی ہے لیکن کس کے لئے جو عذاب آخرت کا ڈر اپنے دل میں سمائے ہوئے ہے کیونکہ وہ سارے انسانوں کو جمع کردینے کا دن ہے اور سب کو چار و ناچار لوٹ کر اس مالک الملک کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہاں سب ادنیٰ و اعلیٰ کی پیشی لازم قرار پائی ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں جو اس سے مستثنیٰ کیا گیا ہو اس لئے خود ہی غور کرلو کہ زور آور کون ہوا ؟ اکٹھا ہونے والے یا اکٹھا کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–111

After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said: وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you. The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 103–104

105. In such incidents of history there are instructive signs for all people. Only a little reflection will make them realize that the punishment of the unrighteous is inevitable and that the information provided by the Prophets (peace be on them) in this respect is absolutely true. These signs can also help men have some idea of how horrible the Day of Judgement will be. This realization is likely to create in man's heart a fear which will direct him to righteous behaviour. One may well ask, what are the signs in human history which indicate that there is an After-life, one in which people…

Read the full tafseer →