Hud 11:102

Hud · from ayah 102

11:102

وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰی وَهِیَ ظَالِمَةٌ ؕ— اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ ۟وَكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِىَ ظَالِمَةٌ‌ ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ‏

اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اس کی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور سخت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And thus is the seizure of your Lord when He seizes the cities while they are committing wrong. Indeed, His seizure is painful and severe.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 9 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:102

اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اس کی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور سخت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو بستیاں ظالم ہوتی ہیں، تمہارا رب جب ان کو گرفت میں لیتا ہے تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ واقعی اس کی پکڑ بڑی دردناک، بڑی سخت ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر، بیشک اس کی پکڑ دردناک کرّ ی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اسی طرح آپ کے رب کی پکڑ ہوا کرتی ہے جب وہ بستیوں کی اس حال میں گرفت فرماتا ہے کہ وہ ظالم (بن چکی) ہوتی ہیں۔ بیشک اس کی گرفت دردناک (اور) سخت ہوتی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی دردناک، بہت سخت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب بھی آپ کا پروردگار کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو اس کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے بلاشبہ اس کی گرفت دکھ دینے والی اور سخت ہوتی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تیرے رب کی پکڑ، جب کہ وہ بستیوں کو ان کے ظلم میں پکڑتا ہے، اسی طرح ہوتی ہے۔ بیشک اس کی پکڑ بڑی ہی دردناک اور سخت ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ایسی ہی ہوتی ہے پکڑ تمہارے رب کی جب کہ وہ پکڑتا ہے بستیوں کو، ان کے ظلم پر یقینا اس کی پکڑ بڑی ہی دردناک نہایت ہی سخت ہوتی ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف وہ ہے بڑی سخت ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی !) ایسے ہی ہوتی ہے پکڑ آپ کے رب کی جب وہ پکڑتا ہے بستیوں کو جبکہ وہ ظالم ہوتی ہیں یقیناً اس کی پکڑ بڑی دردناک بھی ہے اور بڑی سخت بھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ کے رب کی پکڑ، جب کہ وہ بستیوں کو ان کے ظلم میں پکڑتا ہے، اسی طرح ہوتی ہے، بیشک اس کی پکڑ بڑی سخت اور دردناک ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Such is the seizing of your Lord that when He does seize the towns immersed in wrong-doing, His seizing is painful, terrible.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Such is the seizing of your Lord when He seizes the (people of) towns when they are transgressing. Indeed, His seizing is painful, severe.

— Muhammad Taqi Usmani

Such is the seizing of your Lord when He seizes the (people of) towns when they are transgressing. Indeed, His seizing is painful, severe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Such is the punishment of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong. Verily, His punishment is painful (and) severe.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Even thus is the grasp of thy Lord when He graspeth the townships while they are doing wrong. Lo! His grasp is painful, very strong.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And thus is the seizure of your Lord when He seizes the cities while they are committing wrong. Indeed, His seizure is painful and severe.

— Saheeh International

Thus was the punishment of your Lord when He punished the unjust people of the towns. The punishment of your Lord is certainly severe.

— Muhammad Sarwar

And such is the punishment of your Lord when He punishes the towns while they are unjust; surely His punishment is painful, severe.

— Muhammad Habib Shakir

And even such is the overtaking of thy Lord when He overtaketh the cities while they are wrong-doers; verily His overtaking is afflictive, severe.

— Abdul Majid Daryabadi

Such is the chastisement of thy Lord when He chastises communities in the midst of their wrong: grievous, indeed, and severe is His chastisement.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:102

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

جس طرح ان ظالموں کی ہلاکت ہوئی ان جیسا جو بھی ہوگا اسی نتیجے کو وہ بھی دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ المناک اور بہت سختی والی ہوتی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالموں کو ڈھیل دے کر پھر پکڑیں گے۔ وقت ناگہاں دبا لیتا ہے۔ پھر مہلت نہیں ملتی پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 98–102

سورة هُوْد 104 اس آیت سے اور قرآن مجید کی بعض دوسری تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں کسی قوم یا جماعت کے رہنما ہوتے ہیں وہی قیامت کے روز بھی اس کے رہنما ہوں گے۔ اگر وہ دنیا میں نیکی اور سچائی اور حق کی طرف رہنمائی کر تے ہیں تو جن لوگوں نے یہاں ان کی پیروی کی ہے وہ قیامت کے روز بھی انہیں کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے اور ان کی پیشوائی میں جنت کی طرف جائیں گے۔ اور اگر وہ دنیا میں کسی ضلالت ، کسی بد اخلاقی یا کسی ایسی راہ کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں جو دینِ حق کی راہ نہیں ہے ، تو جو لوگ یہاں ان کے پیچھے چل رہے ہیں وہ وہاں بھی ان کے پیچھے ہوں گے اور انہی کی سرکردگی میں جہنم کا رُخ کریں گے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–111

خلاصہ تفسیر اور آپ کے رب کی دار و گیر ایسی ہی (سخت) ہے جب وہ کسی بستی والوں پر دار وگیر کرتا ہے جبکہ وہ ظلم (و کفر) کیا کرتے ہوں، بلا شبہ اس کی دار و گیر بڑی الم رساں (اور) سخت ہے (کہ اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا) ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو (وجہ عبرت ظاہر ہے کہ جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دار الجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دار الجزاء ہے کیسا سخت عذاب ہوگا) وہ (یعنی آخرت کا دن) ایسا دن ہوگا کہ اس میں تمام آدمی جمع کئے جاویں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے اور (وہ دن گو اب تک آیا نہیں لیکن اس سے کوئی اس کے آنے میں شک نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ۔ قریش کو تنبیہ : یعنی جب خدا قوموں اور بستیوں کو ان کے ظلم، ان کی سرکشی اور ان کے طغیان کی سزا دیتا ہے تو اسی طرح دیتا ہے جس طرح ان قوموں کو دی جن کی سرگزشتیں اوپر بیان ہوئیں۔ اس وقت خدا کی پکڑ بڑی دردناک اور سخت ہوتی ہے۔ یہ بات نبی ﷺ کو مخاطب کر کے قریش کو سنائی گئی ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ اب ان کی قوم بھی اسی میزان میں ہے جس میں دوسری قومیں تولی جا چکی ہیں۔ خدا نے جو معاملہ ان قوموں کے ساتھ کیا ہے کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان کے ساتھ اس سے کوئی مختلف معاملہ کرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 یعنی جس طرح گزشتہ بستیوں کو اللہ تعالیٰ نے تباہ اور برباد کیا، آئندہ بھی وہ ظالموں کی اسی طرح گرفت کرنے پر قادر ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ان اللہ لیملی للظالم حتی اذا اخذہ لم یفلتہ اللہ تعالیٰ یقیناً ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب اس کی گرفت کرنے پر آتا ہے تو پھر اس طرح اچانک گرتا ہے کہ پھر مہلت نہیں دیتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 100–106

59: مثلاً فرعون کا ملک مصر فرعون کے غرق ہونے کے بعد بھی باقی رہا اور عاد وثمود اور قوم لوط ؑ کی بستیاں ایسی تباہ ہوئی کہ بعد آباد نہ ہو سکیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 100–102

درس نمبر 105 ایک نظر میں یہ سبق اس سورت کا اختتامیہ ہے ۔ اس میں کافی تبصرے اور متنوع نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ سورت کے تمام مضامین کو پیش نظر رکھ کر ایک مکمل اختتامیہ ہے۔ سورت کے آغاز اور قصص سب کا خلاصہ یہاں آگیا ہے۔ یہ تبصرے اور نتائج سورت کے مباحث کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اور سورت کے اغراض و مقاصد کے ساتھ مکمل مناسبت بھی رکھتے ہیں۔ مثلاً پہلا نتیجہ واضح طور پر قصص القرآن کے ساتھ متعلق ہے۔ ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ظالموں کو بڑی حد تک مہلت دی جاتی ہے۔ جب کسی طرح باز نہیں آتے تو پکڑ کر گلا دبا دیا جاتا ہے۔ مجرم چاہے کہ تکلیف کم ہو، یا اس کی پکڑ سے چھوٹ کر بھاگ نکلے، ایں خیال است و محال است و جنوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 102–103

آیت 102 وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ جب کسی بستی میں گناہ اور معصیت کا چلن عام ہوجاتا ہے تو وہ گویا ”ظلم“ کی مرتکب ہو کر عذاب کی مستحق ہوجاتی ہے۔ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ اللہ کی پکڑ کے بارے میں سورة البروج میں فرمایا گیا : اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ ”یقیناً تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

113 یعنی اللہ ظالم لوگوں کو مہلت دیئے جاتا ہے اور مہلت سے مقصود تنبیہ بھی ہوتا ہے اور اتمام حجت بھی۔ لیکن جس قوم پر اتمام حجت ہوچکے اور تنبیہات بھی سود مند ثابت نہ ہوں اور ان لوگوں میں خیر اور بھلائی کو قبول کرنے کی استعداد ہی باقی نہ رہے تو پھر اس وقت ان پر ایسا قہر الٰہی نازل ہوتا ہے جو ان کے لیے سخت تکلیف دہ بھی ہوتا ہے اور جان لیوا بھی۔ اور اس عذاب سے بسا اوقات اس قوم کا نام و نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹادیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

145۔ (اور وہ انہی لوگوں کے لیے ہے جو سخت نافرمانی کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں) (آیت) ” القری “۔ قری سے مراد اہل قری ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 96–109

آیت نمبر 96 تا 109 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وھي ظالمۃ اور مذکورہ اقوام کی گرفت کی طرح آپ کے رب کی طرف سے پکڑ (دوسری) بستیوں والوں کی بھی ہوئی ہے جبکہ وہ ظالم تھے۔ یعنی وہ ظالم ہونے کی وجہ سے مستحق عذاب تھے ‘ اس لئے اللہ نے ان کی بھی گرفت کی۔ ان اخذہ الیم شدید بیشک اللہ کی پکڑ سخت دکھ پہنچانے والی ہے جس سے رہائی ناممکن ہے۔ حضرت ابو موسیٰ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے۔ آخر اس کی گرفت کرتا ہے تو ایسی کرتا ہے کہ پھر وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ یہ فرمانے کے بعد حضور ﷺ نے آیت : کَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَآ اَخَذَا الْقُرٰی وَھِيَ ظَالِمَۃٌ تلاوت فرمائی۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(102) اور آپ کے پروردگار کا عذاب ایسا ہی سخت ہے جب وہ کسی بستی کے لوگوں پر عذاب نازل کرتا ہے جب کہ وہ کفر وشرک میں مبتلا ہوں، بیشک اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ۔۔ : ”اَخَذَ“ کا معنی اچانک جلدی سے پکڑ لینا، جیسا کہ کہتے ہیں : ”فُلَانٌ اَخَذَہُ الْمَوْتُ“ فلاں کو موت نے آدبوچا۔ یعنی جس طرح گزشتہ سات انبیاء ؑ کی اقوام پر ظلم کی وجہ سے پکڑ آئی، کسی بھی ظالم بستی (والوں) پر تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ لَیُمْلِیْ للظَّالِمِ حَتّٰی إِذَا أَخَذَہٗ لَمْ یُفْلِتْہُ ، ثُمَّ قَرَأَ : (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) [ بخاری، التفسیر، باب : (و کذلک أخذ ربک۔۔) : 4686۔ مسلم : 2583 ] ”اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 100–109

آیت نمبر 100 تا 109 قولہ تعالیٰ : ذٰلک من انۘبآء القرٰی نقصہ علیک، ذٰلکمبتدا کے مضمر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی الامرذالک اور اگر آپ چاہیں تو اسے مبتدا کی حیثیت سے بھی مرفوع بناسکتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا : یہ گزشتہ خبر ان بستیوں کی بعض خبروں میں سے جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں۔ منھاقآئم وحصیدحضرت قتادہ نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو برباد ہوچکی ہی اور ان کے نشانات ہیں جب کے حصید سے مراد ویہ ہیں جن کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے : قائم سے مراد آباد ہیں جب کہ حصید سے مراد بےآباد اور برباد ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو اپنے سازو سامان سمیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

ظالموں کو تھوڑے وقت کے لئے ڈھیل دی جاتی ہے : 1:۔ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردیہ والبیہقی رحمہم اللہ نے السماء والصفات میں ابو موسیٰ اشعی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ البتہ ڈھیل دیتے ہیں ظالم کو یہاں تک کہ جب اس کو نہیں چھوڑتے پھر آپ نے یہ (آیت) پڑھی ” وکذلک اخذ ربک اذا اخذالقری وھی ظالمۃ ان اخذہ الیم شدید “۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابوعمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ تم کو طویل مہلت اور اچھی طلب دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ دردناک اور سخت ہے۔ 3:۔ ابن ابی داود (رح) نے سفیان (رح) سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ اَخْذُ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کی پکڑ سے ] [اِذَآ : جب بھی ] [ اَخَذَ : وہ پکڑتا ہے ] [ الْقُرٰي : بستیوں کو ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هِىَ : وہ ] [ظَالِمَةٌ: ظم کرنے والی ہوں ] [ان : بیشک ] [ اَخْذَهٗٓ : اس کی پکڑ ] [اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ: شدید دردناک ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 100–104

اللہ تعالیٰ ظالموں کی گرفت فرماتا ہے اس کی گرفت درد ناک اور سخت ہے سورۂ ہود کے رکوع 3 سے لے کر یہاں تک 7 انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کی بربادی کا حال بیان فرمانے کے بعد یہاں فرمایا کہ ہم آپ کو ان بستیوں کی خبریں سناتے ہیں۔ ان ہلاک شدہ بستیوں سے بعض بستیاں دنیا میں موجود ہیں کچھ تو کھنڈروں کی صورت میں ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ ان کے رہنے والوں کی ہلاکت کے بعد دوسرے لوگ ان میں رہنے لگے (وَسَکَنْتُمْ فِیْ مَسَاکِنَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ) اور کچھ ایسی بستیاں ہیں جن کا بالکل خاتمہ ہوگیا جیسے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں تھیں ان قوموں کی ہلاکت کے واقعات مخاطبین نے پہلے بھی سن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 100–102

تذکیر عواقب ونیویہ امم ظالمہ برائے عبرت قال اللہ تعالیٰ ذلک من انباء القری .... الیٰ .... ان اخذہ الیم شدید۔ (ربط) یہاں تک امم ظالمہ کے عبرتناک قصص کا بیان ہوا جن میں کفار کے شبہات اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جوابات کا ذکر تھا اب ان واقعات کے ذکر کرنے کی حکمت بیان کرتے ہیں کہ دیکھ لو کہ کفر و تکذیب کا انجام باعتبار دنیا کے بھی برا ہے اور باعتبار آخرت کے بھی برا ہے جن لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کا مقابلہ کیا۔ وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور ان کی بستیاں تباہ و برباد ہوئیں ان آیات میں کفر و تکذیب کا مقابلہ کیا۔ وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور ان کی بستیاں تباہ و برباد ہوئیں ان آیات…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 101–103

85:۔ ان قوموں کو ہلاک کر کے ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے شرک کر کے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا اور پھر جب ہمارا عذاب آپہنچا تو جنہیں وہ اپنا کارساز سمجھ کر پکارا کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا۔ وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّّکَ الخ یہ تخویف دنیوی ہے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً الخ اقوام گذشتہ کی تباہی میں آخرت سے ڈرنے والوں کے لیے عبرت ہے اس دن سب لوگ حساب کتاب کے لیے جمع ہوں گے اور سب موجود ہوں گے کوئی بھی غیر حاضر نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 102–109

ربط آیات فرعون اور اس کی قوم کا حال بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے آپ کی بات کا انکار کیا۔ لوگوں نے فرعون کی بات کا اتباع کیا ، حالانکہ وہ بالکل غلط موقف پر تھا ان کے انجام کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے آگے چل رہا ہوگا اور سب کو دوزخ میں لے جائیگا۔ اللہ نے دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی ، اور قیامت کو بھی وہ اسی لعنت میں گرفتار ہوں گے۔ اللہ نے مختلف بستیوں کا حال بیان فرمایا کہ ان میں سے بعض بالکل اجڑ چکی ہیں اور بعض کے نشانات موجود ہیں اور آنے والے لوگوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَہِىَ ظَالِمَۃٌ۝ 0 ۭ اِنَّ اَخْذَہٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ۝ 102 أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 94–109

1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَآ اَخَذَالْقُرٰی وَھِیَ ظَالِمَۃٌ ط اِنَّ اَخْذَہٗٓ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ۔ (سورۃ ہود : 102) (اور اسی طرح ہوتی ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ بستیوں کو ان کے ظلم میں پکڑتا ہے۔ بیشک اس کی پکڑ بڑی ہی دردناک اور سخت ہے) قریش کو تنبیہہ گزشتہ چند رکوع میں جن معذب قوموں کی داستان بیان ہوئی ہے اور جیسا ہولناک عذاب ان پر ٹوٹا ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار فرما رہا ہے کہ جب قومیں اپنے رب کو بھول جاتی ہیں اور اس کی نافرمانی اور سرکشی پر دلیر ہوجاتی ہیں، اس کی ربوبیت کے فیضان سے پلتی اور پروان چڑھتی ہیں لیکن اسی کی نافرمانی بھی کرتی ہیں تو پھر جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 100–103

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کا انجام بتلانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہلاک شدہ اقوام کی دنیا میں بھی تباہی دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ وہ بستیاں ہیں جن میں کچھ کے نشانات اور کھنڈرات باقی ہیں۔ کچھ ہیں جن کا نام ونشان مٹادیا گیا ہے یہ جس حالت میں بھی ہیں ہم نے انکے رہنے والوں پر ظلم نہیں کیا یہ تو خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ جب ہمارے عتاب کا کوڑا برساتو جن کو اللہ کے سوا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھا کرتے تھے۔ کسی ایک نے انکی مددنہ کی بلکہ یہ انکی بربادی میں اضافہ کا باعث بنے۔ مجرموں کی تباہی میں اضافہ بننے کے دو مفہوم ہیں۔ جن بتوں اور مزارات پر مریدوں کا بھروسہ تھا کہ مشکل آنے پر ہماری مدد کرینگے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

102: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) کاف ؔ محلًا مرفوع ہے ای مثل ذلک الاخذ اس جیسا پکڑنا۔ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰی (تیرے رب کا پکڑنا ہے جبکہ اس نے بستیوں والوں کو پکڑا) القرٰی سے اہل القرٰی مراد ہیں۔ وَھِیَ ظَالِمَۃٌ (جبکہ وہ ظالم تھے) یہ القر ٰی سے حال ہے۔ اِنَّ اَخْذَہٗ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ (بیشک اسکی پکڑ بڑی سخت دردناک ہوتی ہے) الیم مولم کے معنی میں ہے دردناک اور شدید۔ پکڑے ہوئے پر سخت ہوتی ہے۔ یہ ہر ظالم بستی کیلئے ڈرا وا ہے خواہ مکہ والے ہوں یا کوئی اور۔ ظالم کو چاہیے کہ وہ جلد توبہ کرے اور مہلت کے دھوکے میں مبتلا نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 102۔ ” وکذلک “ اور اسی طرح ” اخذ ربک اذا اخذ القریٰ و ھی ظالمۃ ان اخذہ الیم شدید “ ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتے رہتے ہیں حتیٰ کہ جب اس کو پکڑتے ہیں تو بالکل مہلت نہیں دیتے ، پھر آپ (علیہ السلام) نے یہ آیت پڑھی ۔ وکذالک اخذ ربک اذا اخذ القری الآیۃ

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

102۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اپنے رسول برحق ﷺ کو یہ خبر دی کہ تیرے خدا کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب کسی ظالم کو پکڑ لیتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا جیسے یہ گاؤں جن میں ظالم بستے تھے جن کا ذکر ہوچکا ہے کہ آخر برباد ہی کر دئیے گئے اس کی پکڑ بہت درد ناک ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ حکم انہیں گاؤں اور بستیوں کے لئے تھے اوروں کے وا سطے نہیں ہے بلکہ ہر ایک ظالم کا یہی نتیجہ ہوگا ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے گزر چکی ہے کہ اللہ پاک ظالم کو مہلت دیتا ہے اور جب پکڑ لیتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا 1 ؎ یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 قولہ وکذلک اخذ ربک الخ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے ذریعے سے ظالموں کی کمر توڑ دیتا ہے اور ان کو تباہ و برباد کردیتا ہے اور وہ ہستیاں ان کے کسی کام نہیں آتیں جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–112

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 101–102

197 ۔ تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہیں کچھ حالات ان بستیوں کے جو ہم سناتے ہیں آپ کو اے پیغمبر ان میں سے کچھ اب تک کھڑی ہیں اور کچھ کی فصل کٹ چکی ہے۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا کہ ہمارا کام اور ہماری شان ظلم کرنا نہیں رحمت کرنا ہے۔ ظلم تو یہ نادان انسان اپنی جان پر خود کرتا ہے جو نور حق و ہدایت سے منہ موڑتا ہے۔ ورنہ ہماری طرف سے تو رحمت ہی رحمت ہے۔ اور ہماری رحمت سب کے لیے عام ہے۔ (رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ) سو حق و ہدایت سے منہ موڑنا اور اعراض و بےرخی برتنا سب سے بڑا ظلم ہے جس کا ارتکاب باغی سرکش انسان کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 100–104

بستیوں کے حالات اور نصیحت تشریح : ان آیات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جو چند قوموں کے قصے تمہیں سنائے گئے ہیں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط، اہل مدین اور فرعون۔ یہ سب اپنے اپنے اعمال کے مطابق انجام کو پہنچے۔ کچھ کے کھنڈرات موجود ہیں اور کچھ کی کہانیاں موجود ہیں یہ ایک عقل مند انسان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کے لیے کافی ہیں اور آخرت کا تو بیان آسمانی کتابوں میں بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات قرآن میں بتائی گئی ہے اس لیے سو فیصد ٹھیک اور یقینی ہے۔ ایسا ضرور ہوگا کہ سب لوگ قیامت کے روز اللہ کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور دنیا میں کیے گئے اعمال کے مطابق سزا اور جزا ضرور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 96–109

آیات 96 تا 109 اسرار و معارف جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان اللہ لیملی للظالم حتی اذا اخذہ لم یفلتہ کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن آخر کار جب اسے پکڑتا ہے تو ایسا پکڑتا ہے کہ وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ “ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن کثیر) ۔ یہ آیت ہر زمانہ میں ہر ظالم کو شامل ہے۔ ایک بزرگ نے کہا ہے کافر کی سلطنت قائم رہتی ہے ظالم کی نہیں رہتی۔ (وحیدی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 101–102

فما اغنت عنھم ۔۔ من شیٔ ان کے کسی کان نہ آئے۔ یعنی اللہ کے عذاب سے کچھ بچت بھی کہ کرسکے۔ لما۔ جب۔ تتبیب۔ خسارہ میں رہنا۔ گھاٹا میں رہنا۔ تباہ و برباد کرنا۔ ہلاک کرنا۔ خسارہ۔ تباہی و بربادی ۔ ہلاکت۔ التب والتباب (ضرب) کے معنی مسلسل خسارہ میں رہنے کے ہیں۔ قرآن مجدی میں ہے تبت یدا ابی لہب (111:1) ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹیں۔ (یعنی وہ ہمیشہ خسارے میں رہے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 102–109

لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109 اخذ (لیا) المد شدید (شدید اور درد ناک) خاف (ڈر) یوم مجموع (جمع ہونے کا دن) یوم مشھود (حاضری کا دن) نوخر (ہم دیر کرتے ہیں۔ موخر کرتے ہیں) معدود (گنتی، مقرر) لاتکلم (بات نہ کرے گا) شقی (بدنصیب) سعید (خوش نصیب) زقیر (چیخنا، زور سے آواز لگانا) شھیق (دھاڑنا) فعال (بہت کرنیوالا) عطاء (بخشش، عطا کرنا) غیر مجذوذ (نہ منقطع ہونے والا) لاتک (لاتکن) تو نہ ہونا) مریدۃ (شک) مرفوا (پورا دینے والا) نصیب (حصہ) غیر منقوص (نہ گھٹنے والا) تشریح : آیت نمبر 102 تا 109 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اسی لئے وہ لوگوں کے برے اعمال پر فوراً ہی سزا نہیں دیا کرتا بلکہ ان کو مہلت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ پاک نے اس آیت میں اپنے رسول برحق ﷺ کو یہ خبر دی کہ تمہارے خدا کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب کسی ظالم کو پکڑ لیتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ جیسے یہ بستی جس میں یہ ظالم بستے تھے جن کا ذکر ہوچکا ہے کہ آخر برباد ہی کردیئے گئے۔ اس کی پکڑ بہت دردناک ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ یہ حکم انہیں گاؤں اور بستیوں کے لئے تھا اوروں کے واسطے نہیں ہے نل کہ ہر ایک ظالم کا یہی نتیجہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 101–107

(ف 2) ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے درمیان بطور تنوع اللہ تعالیٰ نے چند دوسرے قیمتی امور کا ذکر فرمایا ہے کہ قوموں کی داستان کفر ومعصیت جو بیان کی گئی ہے ، ان کا تعلق امور غیب سے ہے ، جس کی انبیاء (علیہم السلام) کے سوا اور کسی کو خبر نہیں ہوتی ، ارشاد فرمایا کہ ان قوموں پر جو عذاب آیا ہے ، ان کی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ ظالم نہیں ، جب عذاب آگیا ، تو پھر ان کے مزعومہ خدا انہیں عذاب سے نہ بچا سکے ، یہ کہا کہ یہ بات اللہ کے انتظام میں داخل ہے ، کہ جب شہروں اور بستیوں میں کفر ومعصیت پھیل جائے اور دل مردہ ہوجائیں ، تو اس وقت خدا کا غضب حرکت میں آتا ہے اور انہیں دنیا سے ہٹا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

102 اور جب آپ کا پروردگار ان بستیوں کو جن کے رہنے والے ظالم ہوتے ہیں پکڑتا ہے تو اس کی داروگیر ایسی ہی ہوا کرتی ہے یقینا اس کی پکڑ اور اسکی داروگیر بڑی دردناک اور بڑی سخت ہے یعنی جن بستیوں کے باشندے ظلم اور کفر کے خوگر ہوجاتے ہیں اور باز نہیں آتے اور تیرا رب ان کی گرفت کرتا ہے تو اس کی گرفت ایسی ہی ہوا کرتی ہے کہ پھر ان کو تباہ و برباد ہی کرکے چھوڑتا ہے کیونکہ اس کی گرفت دردناک اور سخت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ان کو بتا دو کہ تمہارے پروردگار کی پکڑ اس طرح ہوتی ہے ۔ 128 اس میں پیغمبر اسلام ﷺ کی امت کے لئے تعلیم کا بندوبست کیا گیا ہے یعنی ان واقعات کے بیان کرنے کا مقصد وحید تو صرف یہ ہے کہ گمراہ لوگ اپنی اصلاح کریں لیکن ایسا نہیں ہوتا ، کیوں ؟ اس لئے کہ جو عیش و عشرت میں کھوئے ہوتے ہیں وہ ان باتوں کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ ان کے لئے یہ اجڑے ہوئے دیار اور کھنڈرات تفریح کا سامان ہوتے ہیں۔ ان کے استاد انہیں یہ بتاتے ہیں کہ ان بربادیوں کا تعلق سرکشیوں سے نہیں تھا بلکہ طبعی اسباب کے باعث تھا حالانکہ ان کے لئے بہتر ہوتا کہ وہ یوں ارشاد فرماتے کہ یہ سارے طبعی اسباب ان کی ہلاکت کے لئے اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–111

After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said: وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you. The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 98–102

104. It clearly emerges from this verse as well as from other verses of the Qur'an that those who lead a nation or a group of people in the present world will also be their leaders on the Day of Resurrection. If the leaders had directed their people to truth, virtue and righteousness their followers will gather under their banner on the Day of Resurrection and will march to Paradise under their leadership. On the other hand, if these leaders called their people to erroneous beliefs, to immorality, or to false ways of conduct, they will continue to follow them even on the Day of Resurrection…

Read the full tafseer →