Hud 11:101

Hud · from ayah 101

11:101

وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ ؕ— وَمَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ ۟وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ وَلٰـكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ‌ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِىۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَؕ ‌ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ‏

اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اُوپر ظلم کیا۔ غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔ اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did not wrong them, but they wronged themselves. And they were not availed at all by their gods which they invoked other than Allah when there came the command of your Lord. And they did not increase them in other than ruin.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 9 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:101

ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آ گیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آ سکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اُوپر ظلم کیا۔ غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔ اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے ان پر کوئی ﻇلم نہیں کیا، بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے اوپر ﻇلم کیا، اور انہیں ان کے معبودوں نے کوئی فائده نہ پہنچایا جنہیں وه اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے، جب کہ تیرے پروردگار کا حکم آپہنچا، بلکہ اور ان کا نقصان ہی انہوں نے بڑھا دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان پر ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب تمہارے پروردگار کا حکم آیا تو جن معبودوں کو وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے، وہ ان کے ذرا بھی کام نہ آئے، اور انہوں نے ان کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا خود انہوں نے اپنا برا کیا تو ان کے معبود جنہیں اللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے جب تمہارے رب کا حکم آیا اور ان سے انہیں ہلاک کے سوا کچھ نہ بڑھا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا لیکن انہوں نے (خود ہی) اپنی جانوں پر ظلم کیا، سو ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں وہ اﷲ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے، جب آپ کے رب کا حکمِ (عذاب) آیا، اور وہ (دیوتا) تو صرف ان کی ہلاکت و بربادی میں ہی اضافہ کر سکے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن انھوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا، پھر ان کے وہ معبود ان کے کچھ کام نہ آئے جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے، جب تیرے رب کا حکم آگیا اور انھوں نے ہلاک کرنے کے سوا انھیں کچھ زیادہ نہ دیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر کیا تھا۔ پھر جب اللہ کا حکم (عذاب) آگیا تو ان کے وہ معبود کچھ بھی کام نہ آئے جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے بلکہ ان معبودوں نے ان کی تباہی میں کچھ اضافہ ہی کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ تو ان کے وہ دیوتا جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے، جب تیرے رب کا عذاب آیا، ان کے کچھ بھی کام نہ آئے اور انہوں نے ان کی بربادی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا مگر وہ لوگ خود ہی ظلم کر رہے تھے اپنی جانوں پر، سو ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے ان کے وہ (خود ساختہ اور من گھڑت) معبود، جن کو یہ لوگ (پوجا اور) پکارا کرتے تھے اللہ کے سوا، جب کہ آپہنچا حکم تمہارے رب کا، اور انہوں نے ان کے لئے کچھ اضافہ نہ کیا سوائے ہلاکت و بربادی کے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہی نے اپنے اوپر ظلم کیا سو ان کے وہ دیوتا ان کچھ بھی کام نہ آئے جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے جب کہ آپ کے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچا اور وہ (الٹے) ان کی ہلاکت ہی بڑھا تے رہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم ڈھایا تو ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے جب آپ کے رب کا حکم آپہنچا اور انہوں نے کچھ اضافہ نہیں کیا ان کے حق میں مگر بربادی ہی کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا کیونکہ ان کے وہ الٰہ (معبود) جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے، جب آپ کے رب کا عذاب آیا تو ان کے کچھ بھی کام نہ آئے اور انہوں نے ان کی بربادی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We did not wrong them; it is rather they who wronged themselves. And when the command of your Lord came to pass, the gods besides Allah whom they had called upon, did not avail them in the least. They added nothing to them except ruin.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did no wrong to them; rather, they have wronged themselves. So, their gods whom they used to invoke beside Allah did not come to their help in any way, when came the command of your Lord, and they added nothing to them except destruction.

— Muhammad Taqi Usmani

We did no wrong to them; rather, they have wronged themselves. So, their gods whom they used to invoke beside Allah did not come to their help in any way, when came the command of your Lord, and they added nothing to them except destruction.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We wronged them not, but they wronged themselves. So their gods whom they call upon besides Allah, profited them naught when there came the command of your Lord, nor did they add aught to them but destruction.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We wronged them not, but they did wrong themselves; and their gods on whom they call beside Allah availed them naught when came thy Lord's command; they added to them naught save ruin.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did not wrong them, but they wronged themselves. And they were not availed at all by their gods which they invoked other than Allah when there came the command of your Lord. And they did not increase them in other than ruin.

— Saheeh International

We were not unjust to them but they were unjust to themselves. The idols which they worshipped instead of God were of no help to them when Our decree came to pass. The idols only brought about their destruction.

— Muhammad Sarwar

And We did not do them injustice, but they were unjust to themselves, so their gods whom they called upon besides Allah did not avail them aught when the decree of your Lord came to pass; and they added but to their ruin.

— Muhammad Habib Shakir

And We wronged them not but they wronged themselves. So their gods, whom they called upon beside Allah, availed them not in aught, when there came the decree of thy Lord, and they added unto them naught but perdition.

— Abdul Majid Daryabadi

It was not We that wronged them: They wronged their own souls: the deities, other than Allah, whom they invoked, profited them no whit when there issued the decree of thy Lord: Nor did they add aught (to their lot) but perdition!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:101

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 100–101

عبرت کدے کچھ آباد ہیں کچھ ویران نبیوں اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرما کر ارشاد باری ہوتا ہے کہ یہ ان بستیوں والوں کے واقعات ہیں۔ جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں۔ ان میں سے بعض بستیاں تو اب تک آباد ہیں اور بعض مٹ چکی ہیں۔ ہم نے انہیں ظلم سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے کفر و تکذیب کی وجہ سے اپنے اوپر اپنے ہاتھوں ہلاکت مسلط کرلی۔ اور جن معبودان باطل کے انہیں سہارے تھے وہ بروقت انہیں کچھ کام نہ آسکے۔ بلکہ ان کی پوجا پاٹ نے انہیں اور غارت کردیا۔ دونوں جہاں کا وبال ان پر آپڑا۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 98–102

سورة هُوْد 104 اس آیت سے اور قرآن مجید کی بعض دوسری تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں کسی قوم یا جماعت کے رہنما ہوتے ہیں وہی قیامت کے روز بھی اس کے رہنما ہوں گے۔ اگر وہ دنیا میں نیکی اور سچائی اور حق کی طرف رہنمائی کر تے ہیں تو جن لوگوں نے یہاں ان کی پیروی کی ہے وہ قیامت کے روز بھی انہیں کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے اور ان کی پیشوائی میں جنت کی طرف جائیں گے۔ اور اگر وہ دنیا میں کسی ضلالت ، کسی بد اخلاقی یا کسی ایسی راہ کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں جو دینِ حق کی راہ نہیں ہے ، تو جو لوگ یہاں ان کے پیچھے چل رہے ہیں وہ وہاں بھی ان کے پیچھے ہوں گے اور انہی کی سرکردگی میں جہنم کا رُخ کریں گے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 96–101

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ ؑ کو (بھی) اپنے معجزات اور دلیل روشن دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا سو (نہ فرعون نے مانا اور نہ ان کے سرداروں نے مانا بلکہ فرعون بھی اپنے کفر پر رہا اور) وہ لوگ (بھی) فرعون (ہی) کی رائے پر چلتے رہے اور فرعون کی رائے کچھ صحیح نہ تھی وہ (فرعون) قیامت کے دن اپنی قوم سے آگے آگے ہوگا پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا، اور وہ (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جاویں گے اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی (ان کے ساتھ رہے گی، چناچہ یہاں قہر سے غرق ہوئے اور وہاں دوزخ نصیب ہوگا) برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا، یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ لَّمَّا جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ ۭ وَمَا زَادُوْهُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍ۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ ہم نے ان کو تباہ جو کردیا تو یہ ان کے اوپر ہم نے کوئی ظلم کیا۔ ہم نے ان کے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ اللہ نے ان کو جن اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا تھا وہ سب انہوں نے برباد کیں اور خدا اپنے رسول کے احکام کی نافرمانی کر کے خود اپنی تباہی کے اسباب فراہم کیے۔ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 ان کو عذاب اور ہلاکت سے دو چار کر کے۔ 11۔ 2 کفر و معاصی کا ارتکاب کر کے۔ 11۔ 3 جب کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ انھیں نقصان سے بچائیں گے اور فائدہ پہنچائیں گے۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو واضح ہوگیا کہ ان کا یہ عقیدہ فاسد تھا، اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ کے سوا کوئی کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 100–106

59: مثلاً فرعون کا ملک مصر فرعون کے غرق ہونے کے بعد بھی باقی رہا اور عاد وثمود اور قوم لوط ؑ کی بستیاں ایسی تباہ ہوئی کہ بعد آباد نہ ہو سکیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 100–102

درس نمبر 105 ایک نظر میں یہ سبق اس سورت کا اختتامیہ ہے ۔ اس میں کافی تبصرے اور متنوع نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ سورت کے تمام مضامین کو پیش نظر رکھ کر ایک مکمل اختتامیہ ہے۔ سورت کے آغاز اور قصص سب کا خلاصہ یہاں آگیا ہے۔ یہ تبصرے اور نتائج سورت کے مباحث کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اور سورت کے اغراض و مقاصد کے ساتھ مکمل مناسبت بھی رکھتے ہیں۔ مثلاً پہلا نتیجہ واضح طور پر قصص القرآن کے ساتھ متعلق ہے۔ ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی خدا نے کسی کو بےقصور نہیں پکڑا جس سے ظلم کا وہم ہو سکے، جب وہ جرائم کے ارتکاب میں حد سے آگے نکل گئے اور اس طرح اپنے کو کھلم کھلا سزا کا مستحق ٹھہرا دیا تب خدا کا عذاب آیا۔ پھر دیکھ لو جن معبودوں (دیوتاؤں) کا انھیں بڑا سہارا تھا اور جن سے بڑی بڑی توقعات قائم کر رکھی تھیں وہ ایسی سخت مصیبت کے وقت کچھ بھی کام نہ آئے۔ 9 باطل معبود کام کیا آتے ؟ الٹے ہلاکت کا سبب بنے۔ جب انھیں نفع و ضرر کا مالک سمجھا، امیدیں قائم کیں، چڑھاوے چڑھائے تعظیم اور ڈنڈوت کی، تو یہ روز بد دیکھنا پڑا۔ تکذیب انبیاء وغیرہ کا جو عذاب ہوتا شرک و بت پرستی کا عذب اس پر مزید رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَمَا زَادُوْهُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب استیصال کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ان کی ہلاکت و بربادی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

112 یعنی جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو عابد اور معبودان باطل میں کچھ امتیاز نہیں کرتا۔ معبود جب اپنے آپ کو بھی اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکتے تو وہ اپنے پیرکاروں کو کیسے بچا سکتے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر جو قابل غور بات ہے وہ یہ ہے کہ انہی معبودوں کی وجہ سے ہی تو پیروکاروں پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ پھر ان معبودوں کے ضررر ساں اور تباہ کار ہونے میں شبہ کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

144۔ یعنی یہ جھوٹے دیوتا اور معبود اپنے پجاریوں کی کوئی مدد تو کیا کرتے الٹے ان کی ہلاکت کا سبب ہی بن گئے۔ نہ یہ ان کی پوجا کرتے نہ سزائے ہلاکت میں مبتلا ہوتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 96–109

آیت نمبر 96 تا 109 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ظلمنھم ولکن ظلموا انفسھم اور ہم نے (ان کو ہلاک کر کے) ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ کفر و معصیت کر کے اپنی جانوں کو تباہی کا مستحق بنا دیا۔ جمع مذکر غائب کی ضمیریں بستیوں والوں کی طرف راجع ہیں۔ فما اغنت عنھم الھتھم التی یدعون من دون اللہ من شيء لما جآء امر ربک وما زادوھم غیر تتبیب اور جب آپ کے رب (کی طرف سے ہلاکت) کا حکم آگیا تو ان کے معبود جن کو (وہ پوجتے تھے اور) اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے ‘ کچھ بھی کام نہ آئے (اور عذاب کو دفع نہ کرسکے) اور ہلاکت آفرینی و بربادی کے سوا اور کچھ (ان کے لئے) نہ بڑھا سکے۔ امر رب سے مراد ہے : عذاب تتبیب بربادی ‘ ہلاکت اور نقصان۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(101) اور ہم نے ان کو ہلاک کرکے ان پر ظلم نہیں کیا مگر خود انہوں نے کفر وشرک اور بتوں کی پوجا کرکے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے، چناچہ جب ان لوگوں پر آپ کے رب کا عذاب آیا تو ان کے وہ معبود جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، عذاب الہی سے کچھ حفاظت نہ کرسکے اور ان بتوں کی پرستش نے اور الٹا ان کو نقصان پہنچایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ۔۔ : یعنی ہم نے جو ان پر عذاب بھیجے اس میں ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اپنی جانوں پر ان کا سب سے بڑا ظلم اللہ کے ساتھ شرک اور پھر رسولوں کو جھٹلانا تھا، جس کی انھیں سزا ملی۔ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ۔۔ : پھر اللہ کا عذاب آنے پر ان کے معبود، حاجت روا، مشکل کشا، گنج بخش اور دستگیر ان کے کسی کام نہ آسکے، بلکہ وہ ان کے لیے ہلاک کیے جانے میں اور عذاب میں اضافے ہی کا سبب بنے، کیونکہ انھی کی وجہ سے ان پر تباہی اور بربادی آئی۔ ”تَتْبِيْبٍ“ فعل ”تَبَّ“ (وہ ہلاک ہوا) سے باب تفعیل ہے، ہلاک کرنا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 100–109

آیت نمبر 100 تا 109 قولہ تعالیٰ : ذٰلک من انۘبآء القرٰی نقصہ علیک، ذٰلکمبتدا کے مضمر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی الامرذالک اور اگر آپ چاہیں تو اسے مبتدا کی حیثیت سے بھی مرفوع بناسکتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا : یہ گزشتہ خبر ان بستیوں کی بعض خبروں میں سے جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں۔ منھاقآئم وحصیدحضرت قتادہ نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو برباد ہوچکی ہی اور ان کے نشانات ہیں جب کے حصید سے مراد ویہ ہیں جن کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے : قائم سے مراد آباد ہیں جب کہ حصید سے مراد بےآباد اور برباد ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو اپنے سازو سامان سمیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابوالشیخ (رح) نے فضل بن مروان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما ظلمنہم “ سے مراد ہے کہ ہم اس بات سے بےپرواہ ہیں کہ ہم ظلم کریں (یعنی ہم کو ظلم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں) 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابو عاصم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما اغنت عنہم الھتھم “ سے مراد ہے کہ ان کو نفع نہ دیا (ان کے معبودوں نے) 3:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما زادوھم غیر تتبیب “ ان کے جھوٹے خدا وں نے ان کو سوائے نقصان کے اور کوئی اضافہ نہیں کیا۔ 4:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما زادوھم غیر تتبیب “ سے مراد ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ : اور ہم نے ظلم نہیں کیا ان پر ] [وَلٰكِنْ : اور لیکن (یعنی بلکہ)] [ ظَلَمُوْٓا : انھوں نے ظلم کیا ] [ انفُسَهُمْ : اپنی جانوں پر ] [ فَمَآ اَغْنَتْ : تو کام نہ آئے ] [عَنْهُمْ : ان کے ] [اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ : ان لوگوں کے وہ الٰہ جن کو ] [يَدْعُوْنَ : وہ لوگ پکارتے تھے ] [مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [مِنْ شَيْءٍ : کچھ بھی ] [ لَمَا : جب ] [ جَاۗءَ : آیا ] [ اَمْرُ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کا حکم ] [ وَمَا زَادُوْهُمْ : اور ان (خدائوں) نے نہیں زیادہ کیا ان کو ] [غَيْرَ تَتْبِيْبٍ : انتہائی ہلاکت میں ڈالنے کے سوا ] ت ب ب [تَبًّا : (ن) تباہ برباد ہونا۔ ہلاکت میں پڑنا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 100–104

اللہ تعالیٰ ظالموں کی گرفت فرماتا ہے اس کی گرفت درد ناک اور سخت ہے سورۂ ہود کے رکوع 3 سے لے کر یہاں تک 7 انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کی بربادی کا حال بیان فرمانے کے بعد یہاں فرمایا کہ ہم آپ کو ان بستیوں کی خبریں سناتے ہیں۔ ان ہلاک شدہ بستیوں سے بعض بستیاں دنیا میں موجود ہیں کچھ تو کھنڈروں کی صورت میں ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ ان کے رہنے والوں کی ہلاکت کے بعد دوسرے لوگ ان میں رہنے لگے (وَسَکَنْتُمْ فِیْ مَسَاکِنَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ) اور کچھ ایسی بستیاں ہیں جن کا بالکل خاتمہ ہوگیا جیسے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں تھیں ان قوموں کی ہلاکت کے واقعات مخاطبین نے پہلے بھی سن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 100–102

تذکیر عواقب ونیویہ امم ظالمہ برائے عبرت قال اللہ تعالیٰ ذلک من انباء القری .... الیٰ .... ان اخذہ الیم شدید۔ (ربط) یہاں تک امم ظالمہ کے عبرتناک قصص کا بیان ہوا جن میں کفار کے شبہات اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جوابات کا ذکر تھا اب ان واقعات کے ذکر کرنے کی حکمت بیان کرتے ہیں کہ دیکھ لو کہ کفر و تکذیب کا انجام باعتبار دنیا کے بھی برا ہے اور باعتبار آخرت کے بھی برا ہے جن لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کا مقابلہ کیا۔ وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور ان کی بستیاں تباہ و برباد ہوئیں ان آیات میں کفر و تکذیب کا مقابلہ کیا۔ وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور ان کی بستیاں تباہ و برباد ہوئیں ان آیات…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 101–103

85:۔ ان قوموں کو ہلاک کر کے ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے شرک کر کے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا اور پھر جب ہمارا عذاب آپہنچا تو جنہیں وہ اپنا کارساز سمجھ کر پکارا کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا۔ وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّّکَ الخ یہ تخویف دنیوی ہے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً الخ اقوام گذشتہ کی تباہی میں آخرت سے ڈرنے والوں کے لیے عبرت ہے اس دن سب لوگ حساب کتاب کے لیے جمع ہوں گے اور سب موجود ہوں گے کوئی بھی غیر حاضر نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 96–101

ربط آیات گزشتہ دروس میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر تھا۔ تاریخ انبیاء کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے جو واقعات بیان فرمائے ہیں ، ان کے ذریعے مسئلہ توحید کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے ان پاک نفوس نے یہ مسئلہ کس طرح لوگوں کے سامنے پیش کیا پھر جن لوگوں نے اس کا انکار کیا وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں چند اقوام کا ذکر بطور تذکیر بایام اللہ کیا ہے۔ یعنی ان ایام کا تذکرہ جو مختلف اقوام پر سزا اور نکبت کے ساتھ پیش آئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے ارشاد ہے ولقد ارسلنا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا ظَلَمْنٰہُمْ وَلٰكِنْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْہُمْ اٰلِہَتُہُمُ الَّتِيْ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ شَيْءٍ لَّمَّا جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ۝ 0ۭ وَمَا زَادُوْہُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍ۝ 101 ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 94–109

1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا ظَلَمْنٰـہُمْ وَلٰـکِنْ ظَلَمُوْ ٓا اَنْفُسَھُمْ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْہُمْ اٰلِھَتُھُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ لَّمَّا جَآئَ اَمْرُ رَبِّکَ ط وَمَا زَادُوْھُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ ۔ (سورۃ ہود : 101) (اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنی جانوں پر زیادتی کی تو ان کے وہ دیوتا جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے جب تیرے رب کا عذاب آیا تو ان کے کچھ بھی کام نہ آیا۔ ان کے دیوتائوں نے ان کی بربادی کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا) اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا قوموں کی ہلاکت اور بربادی کے واقعات پڑھ کر یا سن کر آدمی سوچنے لگتا ہے کہ قوموں کو تباہ کردینا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 100–103

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کا انجام بتلانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہلاک شدہ اقوام کی دنیا میں بھی تباہی دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ وہ بستیاں ہیں جن میں کچھ کے نشانات اور کھنڈرات باقی ہیں۔ کچھ ہیں جن کا نام ونشان مٹادیا گیا ہے یہ جس حالت میں بھی ہیں ہم نے انکے رہنے والوں پر ظلم نہیں کیا یہ تو خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ جب ہمارے عتاب کا کوڑا برساتو جن کو اللہ کے سوا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھا کرتے تھے۔ کسی ایک نے انکی مددنہ کی بلکہ یہ انکی بربادی میں اضافہ کا باعث بنے۔ مجرموں کی تباہی میں اضافہ بننے کے دو مفہوم ہیں۔ جن بتوں اور مزارات پر مریدوں کا بھروسہ تھا کہ مشکل آنے پر ہماری مدد کرینگے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عذاب کے وقت کسی معبود نے کام نہ دیا : 101: وَمَا ظَلَمْنٰھُمْ (اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا) ان کو ہلاک کر کے وَلٰکِنْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ (لیکن انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا) ان چیزوں کا ارتکاب کر کے جنکی وجہ سے ہلاک کئے گئے۔ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْھُمْ اٰلِھَتُھُمُ (ان کو کچھ فائدہ نہ دیا ان کے معبودوں نے) اللہ تعالیٰ کی پکڑ کو ان سے ہٹا نہ سکے۔ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ (وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے) ان کی عبادت کرتے تھے گزشتہ حالت کی حکایت ہے۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ لَّمَّا جَآ ئَ اَمْرُ رَبِّکَ (اللہ تعالیٰ کے سواء جبکہ تیرے رب کا عذاب والا حکم آیا) امر سے عذاب مراد ہے۔ نحو : لماؔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

101” وما ظلمناھم “ اور ہم نے عذاب اور ہلاکت کے ساتھ ظلم نہیں کیا ۔ ” ولکن ظلموا انفسھم “ کفر اور معصیت کے ساتھ خود اپنے اوپر ظلم کیا ۔ ” فما اغنت عنھم آلھتھم التی یدعون من دون اللہ من شیء لما جاء امر ربک “ امر ربک سے مراد تیرے رب کا عذاب ۔” وما زادوھم غیر تتبیب “ بربادی ، ہلاکت اور نقصان۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 100–101

100۔ 101۔ اوپر چند قصے بیان فرما کر اب نتیجہ کے طور پر فرمایا اے رسول اللہ کے یہ پہلی امتوں کی خبریں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ جیسا کیا ویسا پایا یہ گاؤں اور شہر جن پر عذاب آیا گیا بعض تو ایسے ہیں کہ بالکل نیست و نابود نہیں ہوئے ویران کر دئیے گئے اور بعضوں کا طبقہ ہی الٹ دیا گیا پھر فرمایا کہ ان پر اللہ کا ظلم نہیں تھا آپ ان لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور راہ حق پر نہ آئے بتوں کی پرستش کرتے رہے اور جب عذاب آیا تو ان کے وہ جھوٹے معبود کچھ نہ کرسکے اگر کچھ کام بھی آئے تو یہی کہ ان کو ہلاک ہی کر کے چھوڑا صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ ) اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا، یعنی مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ کر ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ (وَلٰكِنْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ ) ، بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ یعنی انہوں نے شرک، کفر اور عناد کے ذریعے سے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ (فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ لَّمَّا جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ ) ، پس نہ کام آئے ان کے وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے اللہ کو چھوڑ کر، کسی چیز میں، جب آپ کے رب کا حکم آیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو مصیبت اور سختیوں کے وقت غیر اللہ کی پناہ لیتا ہے، اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–112

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 101–102

197 ۔ تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہیں کچھ حالات ان بستیوں کے جو ہم سناتے ہیں آپ کو اے پیغمبر ان میں سے کچھ اب تک کھڑی ہیں اور کچھ کی فصل کٹ چکی ہے۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا کہ ہمارا کام اور ہماری شان ظلم کرنا نہیں رحمت کرنا ہے۔ ظلم تو یہ نادان انسان اپنی جان پر خود کرتا ہے جو نور حق و ہدایت سے منہ موڑتا ہے۔ ورنہ ہماری طرف سے تو رحمت ہی رحمت ہے۔ اور ہماری رحمت سب کے لیے عام ہے۔ (رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ) سو حق و ہدایت سے منہ موڑنا اور اعراض و بےرخی برتنا سب سے بڑا ظلم ہے جس کا ارتکاب باغی سرکش انسان کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 100–104

بستیوں کے حالات اور نصیحت تشریح : ان آیات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جو چند قوموں کے قصے تمہیں سنائے گئے ہیں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط، اہل مدین اور فرعون۔ یہ سب اپنے اپنے اعمال کے مطابق انجام کو پہنچے۔ کچھ کے کھنڈرات موجود ہیں اور کچھ کی کہانیاں موجود ہیں یہ ایک عقل مند انسان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کے لیے کافی ہیں اور آخرت کا تو بیان آسمانی کتابوں میں بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات قرآن میں بتائی گئی ہے اس لیے سو فیصد ٹھیک اور یقینی ہے۔ ایسا ضرور ہوگا کہ سب لوگ قیامت کے روز اللہ کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور دنیا میں کیے گئے اعمال کے مطابق سزا اور جزا ضرور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 96–109

آیات 96 تا 109 اسرار و معارف جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ۔ انہوں نے ہمارے رسولوں ( علیہ السلام) کو جھٹلایا اور کفر کی روش اختیار کی۔ اس کی انہیں سز املی۔ (ابن کثیر) ۔ 6 ۔ اس لئے کہ انہی کی پیروی کی بدولت ان پر تباہی و بربادی آئی۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 101–102

فما اغنت عنھم ۔۔ من شیٔ ان کے کسی کان نہ آئے۔ یعنی اللہ کے عذاب سے کچھ بچت بھی کہ کرسکے۔ لما۔ جب۔ تتبیب۔ خسارہ میں رہنا۔ گھاٹا میں رہنا۔ تباہ و برباد کرنا۔ ہلاک کرنا۔ خسارہ۔ تباہی و بربادی ۔ ہلاکت۔ التب والتباب (ضرب) کے معنی مسلسل خسارہ میں رہنے کے ہیں۔ قرآن مجدی میں ہے تبت یدا ابی لہب (111:1) ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹیں۔ (یعنی وہ ہمیشہ خسارے میں رہے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 96–101

لغات القرآن آیت نمبر 96 تا 101 سلطن مبین (کھلی ہوئی دلیل، روشن دلیل) ملاء (سردار) امر فرعون (فرعون کی بات) یقدم (وہ آگے ہوگا) اورد (وہ پہنچائے گا، لاکھڑا کرے گا) الورد (پہنچنے کی جگہ، گھاٹ) المورود (پہنچائے گئے) انباء (خبریں) الرقد (انعام) المرفود (انعام جو دیا گیا) حصید (کٹ جانے اور مٹ جانے والی ) القریٰ (بستیاں) ما اعنت (کام نہ آئی، فائدہ نہ دیا) یدعون (وہ پکارتے ہیں) غیر تثبیب (سوائے تباہی و بربادی کے) تشریح :- آیت نمبر 96 تا 101 قرآن کریم گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات کو نہایت مختصر انداز سے پیش کر کے عبرت و نصیحت کے ہزاروں پہلو کھول کر رکھ دیتا ہے۔ سورئہ ھود میں سات انبیاء کرام کے واقعات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 100–101

اوپر چند قصے بیان فرما کر اب نتیجہ کے طور پر فرمایا :'' اے رسول اللہ کے (ﷺ) ! یہ پہلی امتوں کی خبریں ہیں یعنی ان لوگوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ جیسا کیا ویسا پایا۔ یہ گاؤں اور شہر جن پر عذاب آتا گیا بعض تو ایسے ہیں کہ بالکل نیست و نابود نہیں ہوئے ویران کردیئے گئے، اور بعضوں کا طبقہ ہی الٹ دیا گیا۔ پھر فرمایا کہ ان پر اللہ کا ظلم نہیں تھا آپ ہی ان لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور نہ راہ حق پر آئے بتوں کی پرستش کرتے رہے، اور جب عذاب آیا تو ان کے وہ جھوٹے معبود کچھ نہ کرسکے۔ آخر کار یہی ہوا کہ ان کی بت پرستی نے ان کو ہی کر کے چھوڑا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 101–107

(ف 2) ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے درمیان بطور تنوع اللہ تعالیٰ نے چند دوسرے قیمتی امور کا ذکر فرمایا ہے کہ قوموں کی داستان کفر ومعصیت جو بیان کی گئی ہے ، ان کا تعلق امور غیب سے ہے ، جس کی انبیاء (علیہم السلام) کے سوا اور کسی کو خبر نہیں ہوتی ، ارشاد فرمایا کہ ان قوموں پر جو عذاب آیا ہے ، ان کی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ ظالم نہیں ، جب عذاب آگیا ، تو پھر ان کے مزعومہ خدا انہیں عذاب سے نہ بچا سکے ، یہ کہا کہ یہ بات اللہ کے انتظام میں داخل ہے ، کہ جب شہروں اور بستیوں میں کفر ومعصیت پھیل جائے اور دل مردہ ہوجائیں ، تو اس وقت خدا کا غضب حرکت میں آتا ہے اور انہیں دنیا سے ہٹا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

101 اور ہم نے ان کو سزا دینے میں ان بستیوں کے لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خو د ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا پھر جب آپ کے رب کا حکم عذاب آ پہونچا تو جن معبود ان باطلہ کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پرستش کیا کرتے تھے اور ان کو پکارا کرتے تھے وہ ان کے معبود ان کے کچھ کام نہ آئے اور یہ معبود ان باطلہ ان کو بچاتے تو کیا الٹے ان لوگوں کی تباہی میں اضافہ کا موجب ہوئے۔ یعنی ان کے کام تو کیا آتے الٹا ان کو نقصان پہونچایا کیونکہ یہی تو ان کی تباہی اور بربادی کا سبب بنے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان بستیوں کے ذکر سے توحید الٰہی کا نشان لوگوں کو دکھادیا گیا ۔ 127 ان بستیوں اور بستیوں والوں کو تباہ و برباد کر کے ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ ظلم تو انہوں نے خود اپنی جانوں پر کیا تھا جس کے نتیجہ سے وہ دوچار ہوگئے گویا یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے خود ہی اپنے پائوں پر کلہاڑی چلائی تھی جیسے عزیز مصر کی بیوی کی سہیلیوں نے اپنے ہاتھوں پر خود چھریاں چلائی تھیں لیکن تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جن معبودوں کو وہ اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکار رہے تھے وہ بھی ذرہ ان کے کام نہ آئے حالانکہ اگر وہ کچھ کام آنے والے ہوتے تو اس سے زیادہ مشکل وقت اور کونسا ہوگا اور یہ بات بھی ہوئی کہ جس طرح وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–111

After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said: وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you. The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 98–102

104. It clearly emerges from this verse as well as from other verses of the Qur'an that those who lead a nation or a group of people in the present world will also be their leaders on the Day of Resurrection. If the leaders had directed their people to truth, virtue and righteousness their followers will gather under their banner on the Day of Resurrection and will march to Paradise under their leadership. On the other hand, if these leaders called their people to erroneous beliefs, to immorality, or to false ways of conduct, they will continue to follow them even on the Day of Resurrection…

Read the full tafseer →