Explained with ayahs 100–101
عبرت کدے کچھ آباد ہیں کچھ ویران
نبیوں اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرما کر ارشاد باری ہوتا ہے کہ یہ ان بستیوں والوں کے واقعات ہیں۔ جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں۔ ان میں سے بعض بستیاں تو اب تک آباد ہیں اور بعض مٹ چکی ہیں۔ ہم نے انہیں ظلم سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے کفر و تکذیب کی وجہ سے اپنے اوپر اپنے ہاتھوں ہلاکت مسلط کرلی۔ اور جن معبودان باطل کے انہیں سہارے تھے وہ بروقت انہیں کچھ کام نہ آسکے۔ بلکہ ان کی پوجا پاٹ نے انہیں اور غارت کردیا۔ دونوں جہاں کا وبال ان پر آپڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
سورة هُوْد 104
اس آیت سے اور قرآن مجید کی بعض دوسری تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں کسی قوم یا جماعت کے رہنما ہوتے ہیں وہی قیامت کے روز بھی اس کے رہنما ہوں گے۔ اگر وہ دنیا میں نیکی اور سچائی اور حق کی طرف رہنمائی کر تے ہیں تو جن لوگوں نے یہاں ان کی پیروی کی ہے وہ قیامت کے روز بھی انہیں کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے اور ان کی پیشوائی میں جنت کی طرف جائیں گے۔ اور اگر وہ دنیا میں کسی ضلالت ، کسی بد اخلاقی یا کسی ایسی راہ کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں جو دینِ حق کی راہ نہیں ہے ، تو جو لوگ یہاں ان کے پیچھے چل رہے ہیں وہ وہاں بھی ان کے پیچھے ہوں گے اور انہی کی سرکردگی میں جہنم کا رُخ کریں گے۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو (بھی) اپنے معجزات اور دلیل روشن دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا سو (نہ فرعون نے مانا اور نہ ان کے سرداروں نے مانا بلکہ فرعون بھی اپنے کفر پر رہا اور) وہ لوگ (بھی) فرعون (ہی) کی رائے پر چلتے رہے اور فرعون کی رائے کچھ صحیح نہ تھی وہ (فرعون) قیامت کے دن اپنی قوم سے آگے آگے ہوگا پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا، اور وہ (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جاویں گے اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی (ان کے ساتھ رہے گی، چناچہ یہاں قہر سے غرق ہوئے اور وہاں دوزخ نصیب ہوگا) برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا، یہ…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 100۔ 123:۔ اب آگے خاتمۂ سورة کی آیت ہیں۔ اس میں ان حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے جو ماضی کی سرگزشتوں کے اندر مضمر ہیں اور جن کو مخاطب کے سامنے لانے ہی کے لیے یہ سنائی گئی ہیں۔ ان کے اندر قریش کے لیے جو سبق ہیں ان کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو ان سے جو تعلیم ملتی ہے اس کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ۔
پچھلی سرگزشتوں کی طرف اشارہ : پیچھے جن قوموں کی سرگزشتیں سنائی گئی ہیں ان کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے نبی ﷺ کو اور آپ کے واسطہ سے آپ کی قوم…
Read the full tafseer →10۔ 1 قائم سے مراد وہ بستیاں، جو اپنی چھتوں پر قائم ہیں اور حَصِیْد بمعنی محصود سے مراد وہ بستیاں جو کٹے ہوئے کھیتوں کی طرح نابود ہوگئیں۔ یعنی جن گزشتہ بستیوں کے واقعات ہم بیان کر رہے ہیں، ان میں سے بعض تو اب بھی موجود ہیں، جن کے آثار و کھنڈرات نشان عبرت ہیں اور بعض بالکل ہی صفہ ہستی سے معدوم ہوگئیں اور ان کا وجود صرف تاریخ کے صفحات پر باقی رہ گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–106
59: مثلاً فرعون کا ملک مصر فرعون کے غرق ہونے کے بعد بھی باقی رہا اور عاد وثمود اور قوم لوط ؑ کی بستیاں ایسی تباہ ہوئی کہ بعد آباد نہ ہو سکیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
درس نمبر 105 ایک نظر میں
یہ سبق اس سورت کا اختتامیہ ہے ۔ اس میں کافی تبصرے اور متنوع نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ سورت کے تمام مضامین کو پیش نظر رکھ کر ایک مکمل اختتامیہ ہے۔ سورت کے آغاز اور قصص سب کا خلاصہ یہاں آگیا ہے۔ یہ تبصرے اور نتائج سورت کے مباحث کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اور سورت کے اغراض و مقاصد کے ساتھ مکمل مناسبت بھی رکھتے ہیں۔
مثلاً پہلا نتیجہ واضح طور پر قصص القرآن کے ساتھ متعلق ہے۔
ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ…
Read the full tafseer →7 یعنی پچھلی قوموں کے قصے جو تم کو سنائے گئے کہ کس طرح انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب اور گستاخیاں کیں، پھر کس طرح تباہ ہوئے، ان میں سے بعض کی بستیاں ابھی آباد ہیں جیسے " مصر " جو فرعون کا مقام تھا اور بعض اجڑ گئیں۔ مگر ان کے کچھ کھنڈر باقی ہیں۔ جیسے قوم لوط کی بستیاں، اور بعض کا نشان بھی صفحہ ہستی پر باقی نہ رہا۔
Read the full tafseer →آیت 100 ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ
حَصِیْدٌ کا لفظ اس کھیت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی فصل کاٹ لی گئی ہو۔ فصل کے کٹنے کے بعد کھیت میں جو ویرانی کا منظر ہوتا ہے اس کے ساتھ عذاب استیصال سے تباہ شدہ بستیوں کو تشبیہہ دی گئی ہے۔ پھر ان بستیوں میں کچھ تو ایسی ہیں جن کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے مگر بعض ایسی بھی ہیں جن کے آثار کو باقی رکھا گیا ہے۔ مثلاً قوم عاد کی آبادیوں کا کوئی نشان تک نہیں ملتا جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ قوم کہاں آبادتھی اگرچہ حال ہی میں سیٹلائٹ کے ذریعے ان کے شہر اور شداد کی جنت کے کچھ آثار زیر زمین ملنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
110 دنیوی اعمال کے اخروی نتائج میں مماثلت :۔ اس مقام پر قصہ موسیٰ و فرعون کی سب تفصیلات چھوڑ دی گئی ہیں نہ ہی یہ ذکر ہے کہ اس دنیا میں فرعون اور اس کے درباریوں اور پیروکاروں کا کیا انجام ہوا بلکہ ان لوگوں کا قیامت کے دن جو حال ہوگا اس کا نقشہ پیش کیا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کہ جس طرح اس دنیا میں فرعون اپنے پیروکاروں کا لیڈر بنا ہوا ہے اسی طرح قیامت کے دن بھی اپنے پیروکاروں کی قیادت کر رہا ہوگا لیکن آج تو فرعون کے پیروکاروں کو یہ نظر نہیں آرہا کہ فرعون انھیں اس ہلاکت کے گڑھے کی طرف لیے جارہا ہے لیکن قیامت کو ان سب کو یہ نظر آرہا ہوگا کہ وہ انھیں جہنم کی طرف لیے جارہا ہے لیکن اس وقت وہ اس کی…
Read the full tafseer →143۔ یہاں یہ بتا دیا کہ مغضوب ومقہور بستیوں میں سے قرآن مجید نے دونوں قسم کی بستیوں کا بیان کیا ہے ایک وہ جو سرے سے مل یا میٹ ہوگئیں مثلا امت لوط (علیہ السلام) کا مسکن اور دوسرے وہ جن کی صرف آبادی ہلاک کردی گئی باقی وہ زمین اور علاقہ بدستور قائم ہیں۔ مثلا سرزمین مصر کہ فرعونی ڈبو دیئے گئے، لیکن اصل ملک بدستور موجود ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ اشارہ اوپر بیان کیے قصص و حکایات کے مجموعہ کی طرف ہے۔ اشارۃ الی ماقص من انباء الامم وبعدہ باعتبار تقضیہ (روح) (آیت) ” القری “۔ یعنی سابق کی تباہ وہلاک شدہ بستیاں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیت نمبر 96 تا 109
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم…
Read the full tafseer →ذلک من انبآء القری ہ (جو ہم نے بیان کیا ‘ ہلاک شدہ) بستیوں کی کچھ اطلاعات ہیں۔
نقصہ علیک ہم آپ کو ان کی خبریں بتا رہے ہیں۔ یعنی ان کی خبریں آپ کو بتائی گئی ہیں۔
منھا قاءم وحصید ان بستیوں میں سے کچھ تو کھڑی ہیں۔ یعنی ان کے نشانات باقی ہیں اور کچھ کٹی ہوئی کھیتی کی طرح (بےنشان ہوگئی) ہیں۔ مقاتل نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جن کے نشان دکھائی دے رہے ہوں اور حصید سے مراد وہ ہیں جن کی نمود بھی دکھائی نہیں دیتی۔
بعض علماء نے قائم کا ترجمہ آباد اور حصید کا ترجمہ ویران کیا ہے۔
Read the full tafseer →(100) یہ اوپر جو کچھ واقعات بیان کیے گئے یہ ان گزری ہوئی بستیوں کے چند واقعات تھے جن کی اطلاع بذریعہ جبریل امین ہم آپ کو کرتے ہیں بعض بستیاں تو ان میں اب بھی قائم ہیں کہ ان کے رہنے والے نیست ونابود ہوچکے اور بعض کا مع ان کے رہنے والوں کے بالکل خاتمہ ہوچکا۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي۔۔ : ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، یعنی گزشتہ بستیوں کی یہ چند خبریں ہیں جو ہم آپ کو بیان کر رہے ہیں۔ اس سورت میں انبیاء کے حالات زمانے کی ترتیب کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، یعنی نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب اور موسیٰ ؑ۔ ”قَائِمٌ“ کھڑی (کھیتی) ، ”حَصِیٌد“ وہ کھیتی جو کاٹی جا چکی ہو، یعنی ان بستیوں میں سے بعض کے نشانات اب بھی قائم ہیں، مثلاً صالح ؑ کی قوم کے پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکانات اور بعض کے نام و نشان تک مٹ چکے ہیں، جیسے کٹی ہوئی کھیتی کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–109
آیت نمبر 100 تا 109
قولہ تعالیٰ : ذٰلک من انۘبآء القرٰی نقصہ علیک، ذٰلکمبتدا کے مضمر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی الامرذالک اور اگر آپ چاہیں تو اسے مبتدا کی حیثیت سے بھی مرفوع بناسکتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا : یہ گزشتہ خبر ان بستیوں کی بعض خبروں میں سے جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں۔ منھاقآئم وحصیدحضرت قتادہ نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو برباد ہوچکی ہی اور ان کے نشانات ہیں جب کے حصید سے مراد ویہ ہیں جن کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے : قائم سے مراد آباد ہیں جب کہ حصید سے مراد بےآباد اور برباد ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو اپنے سازو سامان سمیت…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” منھا قآئم “ سے مراد ہے ایسی بستیاں جو آباد ہیں اور (آیت) ” حصید ‘ سے وہ بستیاں مراد ہیں جو راکھ کی طرح بجھی ہوئی ہیں۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ذلک من انبآء القری نقصہ علیک “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی ﷺ سے یہ بات فرمائی (اور) (آیت) ” قآئم “ سے مراد ہے کہ جن کی جگہیں دکھائی دیتی ہیں۔ (اور) (آیت) ” وحصید “ سے مراد ہے کہ (اب) ان کا کوئی نشان نہیں دکھائی دیتا (یعنی وہ مٹ گئیں) اور دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” ھل تحس منہم من احد اوتسمع لہم رکزا…
Read the full tafseer →[ذٰلِكَ : یہ ] [مِنْ انۢبَاۗءِ الْقُرٰي : بستیوں کی خبروں میں سے (ایک خبر) ہے ] [نَقُصُّهٗ : ہم بیان کرتے ہیں جس کو ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [مِنْهَا : ان (بستیوں) میں سے ] [ قَاۗىِٕمٌ : کچھ قائم ہیں ] [وَّحَصِيْدٌ: اور کچھ تہس نہس کی ہوئی ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
اللہ تعالیٰ ظالموں کی گرفت فرماتا ہے اس کی گرفت درد ناک اور سخت ہے
سورۂ ہود کے رکوع 3 سے لے کر یہاں تک 7 انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کی بربادی کا حال بیان فرمانے کے بعد یہاں فرمایا کہ ہم آپ کو ان بستیوں کی خبریں سناتے ہیں۔ ان ہلاک شدہ بستیوں سے بعض بستیاں دنیا میں موجود ہیں کچھ تو کھنڈروں کی صورت میں ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ ان کے رہنے والوں کی ہلاکت کے بعد دوسرے لوگ ان میں رہنے لگے (وَسَکَنْتُمْ فِیْ مَسَاکِنَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ) اور کچھ ایسی بستیاں ہیں جن کا بالکل خاتمہ ہوگیا جیسے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں تھیں ان قوموں کی ہلاکت کے واقعات مخاطبین نے پہلے بھی سن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
تذکیر عواقب ونیویہ امم ظالمہ برائے عبرت
قال اللہ تعالیٰ ذلک من انباء القری .... الیٰ .... ان اخذہ الیم شدید۔
(ربط) یہاں تک امم ظالمہ کے عبرتناک قصص کا بیان ہوا جن میں کفار کے شبہات اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جوابات کا ذکر تھا اب ان واقعات کے ذکر کرنے کی حکمت بیان کرتے ہیں کہ دیکھ لو کہ کفر و تکذیب کا انجام باعتبار دنیا کے بھی برا ہے اور باعتبار آخرت کے بھی برا ہے جن لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کا مقابلہ کیا۔ وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور ان کی بستیاں تباہ و برباد ہوئیں ان آیات میں کفر و تکذیب کا مقابلہ کیا۔ وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور ان کی بستیاں تباہ و برباد ہوئیں ان آیات…
Read the full tafseer →84:۔ یہ تمام مذکورہ قصوں کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی ہم نے ان تمام مشرک قوموں کو ہلاک کردیا مگر ان کے مزعومہ معبودوں اور خود ساختہ کارسازوں نے ان کی کوئی مدد نہ کی اور آڑے وقت میں ان کے کام نہ آئے جیسا کہ سورة احقاف میں ہے۔ فَلَوْلَانَصَرَھُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللهِ قُرْبَانًا اٰلِھَةً نیز یہ جملہ معترضہ ہے اور حضرت نبی کریم ﷺ کی صداقت کی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
ربط آیات
گزشتہ دروس میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر تھا۔ تاریخ انبیاء کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے جو واقعات بیان فرمائے ہیں ، ان کے ذریعے مسئلہ توحید کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے ان پاک نفوس نے یہ مسئلہ کس طرح لوگوں کے سامنے پیش کیا پھر جن لوگوں نے اس کا انکار کیا وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں چند اقوام کا ذکر بطور تذکیر بایام اللہ کیا ہے۔ یعنی ان ایام کا تذکرہ جو مختلف اقوام پر سزا اور نکبت کے ساتھ پیش آئے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت
حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے ارشاد ہے ولقد ارسلنا…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّہٗ عَلَيْكَ مِنْہَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ 100
نبأ
خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی
يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ،
( ن ب ء ) النبا ء
کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–109
1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ذٰلِکَ مِنْ اَ منْبَآئِ الْقُرٰی نَقُصُّہٗ عَلَیْکَ مِنْھَآ قَـآئِمٌ وَّحَصِیْدٌ۔ (سورۃ ہود : 100)
(یہ ان بستیوں کی کچھ سرگزشتیں ہیں جو ہم آپ کو سنا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو قائم ہیں اور کچھ کی فصل کٹ گئی۔ )
گزشتہ سرگزشتوں کی طرف اشارہ
یہاں سے وہ آیات شروع ہورہی ہیں جو خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ گزشتہ آیات میں جتنے انبیاء اکرام کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں پیش نظر آیات میں ان پر تبصرہ ہے جس میں ان حقائق کو نمایاں کرنا ہے جو ان سرگزشتوں کے بیان کرنے کا مقصد ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی کہ جن بستیوں کے حالات ہم آپ سے بیان کررہے ہیں آپ غور کیجیے ان میں سے کچھ تو ابھی تک کھڑی ہیں اور کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کا انجام بتلانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہلاک شدہ اقوام کی دنیا میں بھی تباہی دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ وہ بستیاں ہیں جن میں کچھ کے نشانات اور کھنڈرات باقی ہیں۔ کچھ ہیں جن کا نام ونشان مٹادیا گیا ہے یہ جس حالت میں بھی ہیں ہم نے انکے رہنے والوں پر ظلم نہیں کیا یہ تو خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ جب ہمارے عتاب کا کوڑا برساتو جن کو اللہ کے سوا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھا کرتے تھے۔ کسی ایک نے انکی مددنہ کی بلکہ یہ انکی بربادی میں اضافہ کا باعث بنے۔ مجرموں کی تباہی میں اضافہ بننے کے دو مفہوم ہیں۔ جن بتوں اور مزارات پر مریدوں کا بھروسہ تھا کہ مشکل آنے پر ہماری مدد کرینگے…
Read the full tafseer →100: ذٰلِکَ (یہ) یہ مبتداء ہے مِنْ اَنْچبَآ ئِ الْقُرٰی (بستیوں والے کے واقعات و خبریں ہیں) یہ خبر ہے۔ نَقُصُّہٗ عَلَیْکَ (جو ہم تمہیں بیان کررہے ہیں) یہ دوسری خبر ہے یعنی یہ خبر ان بعض اخبار میں سے ہے۔ جو ہلاک شدہ شہروں کی ہم نے بیان کیں۔ مِنْہَا (ان میں سے) ان بستیوں میں سیقآ ئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ (بعض کھڑی اور بعض کٹ کر فنا کے گھاٹ اتر چکیں) یعنی بعض کے آثار باقی ہیں۔ اور بعض کے نشانات بھی مٹ چکے جیسا کہ وہ کھیتی جو اپنی پوری پر کھڑی ہو اور وہ کھیتی جو کٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائے۔
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔
Read the full tafseer →100۔” ذالک من انباء القریٰ نقصہ علیک منھا قائم “ قائم کا ترجمہ آباد اور حصید کا ترجمہ ویران اور بعض نے کہا ہے کہ ان میں سے قائم یعنی جن کی دیواریں باقی ہیں اور چھتیں گرگئی ہیں اور حصید جن کے آثار و نشانات مٹ گئے ۔ مقاتل کا قول ہے کہ قول سے مراد وہ ہیں جن کے نشان دکھائی دے رہے ہوں اور حصید سے مراد وہ ہیں جن کی نمود بھی دکھائی نہیں دیتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
100۔ 101۔ اوپر چند قصے بیان فرما کر اب نتیجہ کے طور پر فرمایا اے رسول اللہ کے یہ پہلی امتوں کی خبریں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ جیسا کیا ویسا پایا یہ گاؤں اور شہر جن پر عذاب آیا گیا بعض تو ایسے ہیں کہ بالکل نیست و نابود نہیں ہوئے ویران کر دئیے گئے اور بعضوں کا طبقہ ہی الٹ دیا گیا پھر فرمایا کہ ان پر اللہ کا ظلم نہیں تھا آپ ان لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور راہ حق پر نہ آئے بتوں کی پرستش کرتے رہے اور جب عذاب آیا تو ان کے وہ جھوٹے معبود کچھ نہ کرسکے اگر کچھ کام بھی آئے تو یہی کہ ان کو ہلاک ہی کر کے چھوڑا صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء ومرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسول ﷺ سے فرمایا (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ ) “ یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں ” تاکہ آپ اسے ذریعے سے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ (مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ ) “ ان میں سے بعض تو باقی ہیں ”۔ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں۔ (وَّ ) اور ان میں سے بعض نشانیاں (حَصِيْدٌ ) “ ان کی جڑ کٹ گئی ” یعنی ان کے مسکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–112
حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا
قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
196 ۔ فرعونیوں پر لعنت و پھٹکار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے پیچھے لگا دی گئی لعنت اس دنیاوی زندگی میں بھی اور قیامت کے دن بھی۔ بڑا برا انعام ہے جو دیا گیا ان بدبخت لوگوں کو۔ سو فرعون اور اس کے پیروں کاروں کا انجام نہایت ہی ہولناک انجام ہوا۔ یعنی لعنت پر لعنت اور دارین کی رسوائی و پھٹکار اور ہمیشہ کا عذاب۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے نور حق و ہدایت سے اعراض برتنے اور منہ موڑنے کا اور عناد و ہٹ دھرمی سے کام لینے کا۔ اور یہ ایسا ہولناک خسارہ ہے کہ اس کے تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں رہتی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " رفد " کے معنی عطیہ و انعام کے ہیں اور " مرفود "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
بستیوں کے حالات اور نصیحت
تشریح : ان آیات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جو چند قوموں کے قصے تمہیں سنائے گئے ہیں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط، اہل مدین اور فرعون۔ یہ سب اپنے اپنے اعمال کے مطابق انجام کو پہنچے۔ کچھ کے کھنڈرات موجود ہیں اور کچھ کی کہانیاں موجود ہیں یہ ایک عقل مند انسان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کے لیے کافی ہیں اور آخرت کا تو بیان آسمانی کتابوں میں بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات قرآن میں بتائی گئی ہے اس لیے سو فیصد ٹھیک اور یقینی ہے۔ ایسا ضرور ہوگا کہ سب لوگ قیامت کے روز اللہ کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور دنیا میں کیے گئے اعمال کے مطابق سزا اور جزا ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–109
آیات 96 تا 109
اسرار و معارف
جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ وہ آباد ہیں یا ان کے نشان باقی ہیں جیسے قوم ثمود کہ اس کے آثار موجود تھے۔
Read the full tafseer →(11:100) ابناء القری۔ ابناء بنأ کی جمع۔ خبریں۔ حقیقیں۔ القری قریۃ کی جمع ہے۔ بستیاں۔ دیہات۔
منھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب القری کے لئے ہے۔
قائم ۔ آباد۔ حصید حصاد سے بروزن فعیل بمعنی مفعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ کھیتی کٹی ہوئی۔
الحصد والحصاد۔ کے معنی کھیتی کاٹنے کے ہیں ۔ آیت واتوا حقہ یوم حصارہ (6:141) اور جس دن پھل توڑو اور کھیتی کاٹو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو۔ میں وہ کھیتی مراد ہے جو اس کے صحیح وقت پر کاٹی گئی ہو۔ لیکن آیت فجعلناھا حصیدا کان لم تغن باالامس (10:24) تو ہم نے کاٹ کر ایسا کر ڈالا کہ گویا وہاں کل کچھ تھا ہی نہیں۔ میں حصید سے مراد وہ کھیتی ہے جو کہ بےوقت فساد اور تباہی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
لغات القرآن آیت نمبر 96 تا 101
سلطن مبین (کھلی ہوئی دلیل، روشن دلیل) ملاء (سردار) امر فرعون (فرعون کی بات) یقدم (وہ آگے ہوگا) اورد (وہ پہنچائے گا، لاکھڑا کرے گا) الورد (پہنچنے کی جگہ، گھاٹ) المورود (پہنچائے گئے) انباء (خبریں) الرقد (انعام) المرفود (انعام جو دیا گیا) حصید (کٹ جانے اور مٹ جانے والی ) القریٰ (بستیاں) ما اعنت (کام نہ آئی، فائدہ نہ دیا) یدعون (وہ پکارتے ہیں) غیر تثبیب (سوائے تباہی و بربادی کے)
تشریح :- آیت نمبر 96 تا 101
قرآن کریم گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات کو نہایت مختصر انداز سے پیش کر کے عبرت و نصیحت کے ہزاروں پہلو کھول کر رکھ دیتا ہے۔
سورئہ ھود میں سات انبیاء کرام کے واقعات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
اوپر چند قصے بیان فرما کر اب نتیجہ کے طور پر فرمایا :'' اے رسول اللہ کے (ﷺ) ! یہ پہلی امتوں کی خبریں ہیں یعنی ان لوگوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ جیسا کیا ویسا پایا۔ یہ گاؤں اور شہر جن پر عذاب آتا گیا بعض تو ایسے ہیں کہ بالکل نیست و نابود نہیں ہوئے ویران کردیئے گئے، اور بعضوں کا طبقہ ہی الٹ دیا گیا۔ پھر فرمایا کہ ان پر اللہ کا ظلم نہیں تھا آپ ہی ان لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور نہ راہ حق پر آئے بتوں کی پرستش کرتے رہے، اور جب عذاب آیا تو ان کے وہ جھوٹے معبود کچھ نہ کرسکے۔ آخر کار یہی ہوا کہ ان کی بت پرستی نے ان کو ہی کر کے چھوڑا۔
Read the full tafseer →[50] جیسے سرزمین مصر کہ فرعونی ڈبو دیئے گئے لیکن اصل ملک آباد رہا۔
[51] جیسے قوم نوح اور قوم لوط کی بستیاں جو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بےنام و نشان ہوگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
جہنم کی سرداری :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون کو کبر و غرور سے روکا اور ارکان حکومت کے ساتھ بہترین سلوک روا رکھنے کی تلقین کی ، اس سے کہا گیا کہ بنی اسرائیل پر ظلم نہ کرو ، انہیں آزادی وحریت کی نعمتوں سے ہم کنار ہونے دو ، تو اس کے قیادت پسند مغرور نفس نے اس جائز اور درست مطالبے کو تسلیم نہ کیا جادوگروں کو بلایا ، موسیٰ (علیہ السلام) کو ذلیل ورسوا کرنے کی کوشش کی ، بنی اسرائیل پر اور سختیاں شروع کردیں ، محض اس بنا پر کہ طیبعت میں سیادت وفرمانروائی کا جنون تھا ، دماغ کو کبر غرور کے بام بلند سے نیچے آنا گوارا نہ تھا ، یہ کس طرح پسند نہ تھا کہ بنی اسرائیل اور فرعون ایک دین کے حلقہ بگوش…
Read the full tafseer →100 اے پیغمبر ! یہ چند تباہ شدہ بستیوں کے حالات تھے جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں ان میں سے کچھ تو اب تک موجود ہیں اور بعض بستیاں بالکل ہی کٹ گئیں اور معدوم ہوچکیں یعنی یہ ان بستیوں کے حالات تھے جن کے رہنے والوں نے تکذیب کا شیوہ اختیار کر رکھا تھا سو بعض تو ان میں سے اب بھی موجود ہیں جیسے مصر اور بعض کے کچھ نشانات پڑے ہیں جیسے سدوم کی چھوٹی چھوٹی بستیاں اور بعض بالکل ہی معدوم ہوگئیں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قائم ہے اور کٹ گیا یعنی آباد ہے اور اجاڑ 12
Read the full tafseer →ف 2۔ مثلا مصر کہ بعد اہلاک فرعونیوں کے آبار رہا۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! یہ چند آبادیوں کا بیان ہے جو ہم نے سنا دیا تاکہ عبرت رہے
۔ 126 زیر نظر آیت میں خطاب نبی اعظم و آخر ﷺ سے ہے فرمایا کہ یہ واقعات جو تمہارے سامنے پیش کئے گئے ہیں ان بستیوں کے حالات ہیں جن میں سے بعض کے کچھ کھنڈرات باقی ہیں اور اپنے پاس سے گزرنے والوں کو زبان حال سے اپنی آبادی اور بربادی کی ہوش ربا داستان سنا رہے ہیں اور بعض بستیاں ایسی بھی ہیں جن کا نام و نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ۔ اب ان کی عظمت پر نوحہ کرنے کے لئے کوئی شکستہ دیوار بھی موجود نہیں ” قائم “ سے مراد وہ بستیاں ہیں جن کا کوئی نہ کوئی نشان موجود ہے اور ” حصید “ سے مراد وہ بستیاں ہیں جو کھیتی کی طرح کاٹ لی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–111
After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said:
وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ
And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you.
The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–102
104. It clearly emerges from this verse as well as from other verses of the Qur'an that those who lead a nation or a group of people in the present world will also be their leaders on the Day of Resurrection. If the leaders had directed their people to truth, virtue and righteousness their followers will gather under their banner on the Day of Resurrection and will march to Paradise under their leadership. On the other hand, if these leaders called their people to erroneous beliefs, to immorality, or to false ways of conduct, they will continue to follow them even on the Day of Resurrection…
Read the full tafseer →