شخیر ؓ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ آیت «ألهاكم التکاثر» زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا (التکاثر: ١) ، تلاوت فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ابن آدم میرا مال، میرا مال کہے جاتا ہے (اسی ہوس و فکر میں مرا جاتا ہے) مگر بتاؤ تو تمہیں اس سے زیادہ کیا ملا جو تم نے صدقہ دے دیا اور آگے بھیج دیا یا کھا کر ختم کردیا یا پہن کر بوسیدہ کردیا ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Shikhkhir ” narrated : I went to the Prophet ﷺ He was reciting:(O mankind) your rivalry for amassing riches distracts you. (102 : 1) He said, “The son of Aadam says, ‘My wealth, my wealth!’ But, do you have any wealth as your own except that which you give in charity and make perpetual, or eat and make it vanish, or wear and make it threadbare” [Ahmed 16327, Muslim 2958, Nisai 3612]
صحيح ومضی (2445)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3354
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ابن آدم کا حقیقی مال وہی ہے جو اس نے راہ خدا میں خرچ کیا، یا خود کھایا پیا اور پہن کر بوسیدہ کردیا، اور باقی جانے والا مال تو اس کا اپنا مال نہیں بلکہ اس کے وارثین کا مال ہے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ ہم عذاب قبر کے بارے میں برابر شک میں رہے، یہاں تک کہ سورة «ألهاكم التکاثر» نازل ہوئی، تو ہمیں اس پر یقین حاصل ہوا۔ ابوکریب کبھی عمرو بن ابی قیس کہتے ہیں، تو یہ عمروبن قیس رازی ہیں - اور عمرو بن قیس ملائی کوفی ہیں اور یہ ابن ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہیں: اور وہ (ابن ابی لیلیٰ ) روایت کرتے ہیں منہال بن عمرو سے۔
Sayyidina Ali narrated : We did not cease to doubt punishment in the grave till the surah was revealed:Your rivalry in the accumulation of wealth diverts your minds . (102:1 etc.)Abu Kurayb reported from Amr ibn Abu Qays (who was Razi-and Amr ibn Qays was Mula’i Kufi), from Ibn Abu Layla, from Minhal ibn Amr.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3355
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٠٩٥) (ضعیف الإسناد) (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف اور مدلس راوی ہیں)
زبیر بن عوام ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا (التکاثر: ٨) ، نازل ہوئی تو زبیر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ ہمیں تو صرف دو ہی (کالی) نعمتیں حاصل ہیں، ایک کھجور اور دوسرے پانی ١ ؎ آپ نے فرمایا: عنقریب وہ بھی ہوجائیں گی ٢ ؎۔
Abdullah ibn Zubayr ibn Awwam reported on the authority of his father that when this verse was revealed:Then you shall be questioned that Day concerning the (wordly) blessings. (102:8)He (Zubayr) asked, “O Messenger of Allah, about which blessing shall we be asked? They are only the two black thingsO dates and water.” He said, “Indeed, they will be seen soon.” You will have the blessings shortly. [Ahmed 1405, Ibn e Majah 4158]
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3356
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان دونوں نعمتوں کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا، اور دوسرے اور بہت سی نعمتیں بھی حاصل ہوجائیں گی۔ ٢ ؎: مدینہ کی کھجوریں عموماً کالی ہوتی تھیں، اور پانی کو غالباً کالا کہہ دیا جاتا تھا اس لیے ان دونوں کو عرب «الاسودان» (دو کالے کھانے ) کہا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٢ (٤١٥٨) (تحفة الأشراف: ٣٦٢٥) (حسن)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ وہ تو صرف یہی دو سیاہ چیزیں ہیں (ایک کھجور دوسرا پانی) (ہمارا) دشمن (سامنے) حاضر و موجود ہے اور ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں ١ ؎۔ آپ نے فرمایا: (تمہیں ابھی معلوم نہیں) عنقریب ایسا ہوگا (کہ تمہارے پاس نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah . reported about this verse Then on that day you shall surely be questioned about the blessings. (102:8)He said that the sahabah -e submitted, “O Messenger of Allah, about which blessing shall we be asked, for, they only are the two black things, water and dates”He said, “Indeed, they will soon come (to you).” [Ahmed 23701]
حسن بما قبله (3356)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3357
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث سے زیادہ صحیح میرے نزدیک ابن عیینہ کی وہ حدیث ہے جسے وہ محمد بن عمر سے روایت کرتے ہیں، (یعنی پچھلی روایت) سفیان بن عیینہ ابوبکر بن عیاش کے مقابلے میں حدیث کو زیادہ یاد رکھنے اور زیادہ صحت کے ساتھ بیان کرنے والے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہمیں لڑنے مرنے سے فرصت کہاں کہ ہمارے پاس طرح طرح کی نعمتیں ہوں اور ہم ان نعمتوں میں عیش و مستی کریں جس کی ہم سے بازپرس کی جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥١٢١) (حسن) (سند میں ابوبکر بن عیاش کا حافظہ بڑھاپے میں کمزور ہوگیا تھا، لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)
ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزم اشعری کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، (وہ یہ ہیں) اس سے کہا جائے گا: کیا میں نے تمہارے لیے تمہارے جسم کو تندرست اور ٹھیک ٹھاک نہ رکھا اور تمہیں ٹھنڈا پانی نہ پلاتا رہا؟ ۔
Sayyidina Abu Huraryah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The first thing about which one will be questioned on the Day of Resurrection-meaning, the slave about blessings. It will be said, ‘Did we not give you a sound, healthy body and quench your thirst with cool water.’This Hadith is gharib. As for Dahhak, he was Ibn Abdur Rahman ibn Arzab but it is also said : Ibn Arzam and this latter is more correct.
انس ؓ کہتے ہیں کہ ارشاد باری «إنا أعطيناک الکوثر» کے متعلق نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ ایک نہر ہے جنت میں جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے ہیں، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو دی ہے ۔
Sayyidina Anas reported about (surah al-Kawthar) that the Prophet ﷺ said, “It is a river in Paradise.” He then added, “I saw a river in Paradise on whose beds on either side are tents of pearl. I asked, ‘O Jibril, what are they?’ He said, ‘It is al-Kawthar that Allah has granted you’.” [Ahmed 12675,Bukhari 4964, Abu Dawud 4748]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3359
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کوثر وہ خیر کثیر ہے جو نبی ﷺ کو دی گئی ہے اس پر بعض لوگوں نے ان کے شاگرد سعید بن جبیر سے کہا کہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ وہ ایک نہر ہے جنت میں؟ تو اس پر سعید بن جبیر نے کہا: یہ نہر بھی منجملہ خیر کثیر ہی کے ہے، گویا سعید بن جبیر نے دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق دینے کی کوشش کی ہے، ویسے جب بزبان رسالت مآب صحیح سند سے یہ تصریح آ گئی کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے تو پھر کسی اور روایت کی طرف جانے کی ضرورت نہیں ( تحفۃ وتفسیر ابن جریر )۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں جنت میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میرے سامنے ایک نہر پیش کی گئی جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے تھے، میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہی وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو دی ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ مٹی تک ڈال دیا، نکالا تو وہ مشک کی طرح مہک رہی تھی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ لا کر پیش کی گئی، میں نے وہاں بہت زیادہ نور (نور عظیم) دیکھا ۔
Sayyidina Anas reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “While I was in Paradise, I saw a river on either side of which tents of pearl were pitched. I asked the angel what they were and he said, ‘It is al-Kawthar that Allah has granted you’. Then, he struck its soil with his hand and it emitted the fragrant smell of musk. Then the Sidratul-Muntaha was raised for me, and I saw in it a great light. [Ahmed 12988]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3360
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی اور سندوں سے بھی انس ؓ سے آئی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الکوثر» جنت میں ایک نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کے پانی کا گزر موتیوں اور یاقوت پر ہوتا ہے، اس کی مٹی مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے اور اس کا پانی شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے اور برف سے بھی زیادہ سفید ہے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar reported that Allah’s Messenger -i •i said, “Al-Kawthar is a river in Paradise. Its banks are of gold and it flows over pearls and rubies. Its soil is more pleasing than musk, and its water is sweeter .than honey and more whilte than snow.” [Ahmed 5920, Ibn e Majah 4334]
صحيح، ابن ماجة (4334)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3361
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٣٤) (تحفة الأشراف: ١١٥٤) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کی موجودگی میں عمر ؓ مجھ سے (مسئلہ) پوچھتے تھے (ایک بار) عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں (کیا بات ہے؟ ) عمر ؓ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر اللہ والفتح» کے بارے میں پوچھا، (ابن عباس ؓ کہتے ہیں) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورة شروع سے آخر تک پڑھی، عمر ؓ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورة سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا اور جانا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: Umar would ask me (about religious matters) in the presence of the sahabah of the Prophet ﷺ Abdur Rahman ibn Awf said to him, “Do you ask him while he is like our children?” He said, “(You know) from where he has learnt.”O Then he asked me to explain:When comes the help of Allah and victory. (110 :1 to the end of the surah, an-Nasr) I said, “Indeed, it was the term of life of Allah’s Messenger that, he was informed, had come to the end. “And I recited the surah to the end. Umar said, “By Allah, I do not know about it more than what you know.” [Ahmed 3127, Bukhari 3627] --------------------------------------------------------------------------------
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ صفا (پہاڑ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه» ١ ؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہوگئے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا (بنا کر بھیجا گیا) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ (پہاڑ کے پیچھے سے) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو ٢ ؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگیا (تبت: ١) ، نازل فرمائی،
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ascended the Safa (mountain) one day. He called, “O Sabahah.” The Quraysh gathered towards him. He said, “I am a warner to you to warn you of a sever chastisement. What do you say if I inform you that the enemy is likely to come up to you by morning or by evening, will you believe me?” Abu Lahab exclaimed, “Is this for which you called us May you break your hands.” So, Allah, the Blessed, the Exalted revealed: Perished are the hands of Abu Lahab and perished is he. (111 :1) [Ahmed 2801, Bukhari 4971, Muslim 208]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3363
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آواز عرب اس وقت لگایا کرتے تھے جب قبیلہ حملہ والوں کو کسی خاص اور اہم معاملہ کے لیے جمع کرنا ہوتا تھا۔ ٢ ؎: دیگر روایات میں آتا ہے کہ لوگوں کے جمع ہوجانے پر پہلے آپ نے ان سے تصدیق چاہی کہ اگر میں ایسا کہوں تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے، نہیں؟ اس پر انہوں نے کہا، کیوں نہیں کریں گے، آپ ہمارے درمیان امین اور صادق مسلم ہیں، اس پر آپ ﷺ نے توحید کی دعوت پیش کی اس دلیل سے کہ تب میری اس بات پر بھی تصدیق کرو اس پر ابولہب نے مذکورہ بات کہی۔
ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے «قل هو اللہ أحد اللہ الصمد» کہہ دیجئیے اللہ اکیلا ہے، اللہ بےنیاز ہے (الاخلاص: ١- ٢) ، نازل فرمائی، اور «صمد» وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہو، اس لیے (اصول یہ ہے کہ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہوگی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہوگا، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہوگا، «ولم يكن له کفوا أحد» اور نہ اس کا کوئی «کفو» (ہمسر) ہے ، راوی کہتے ہیں: «کفو» یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔
Sayyidina Ubayy ibn Ka’b narrated: The polytheists said to Allah’s Messenger that he should describe to them the genealogy of his Lord. So, Allah, the Blessed and the Exalted revealed:Say He is Allah, the One and Only, Allah, the eternally Besought of all, He begets not, nor wasHe begotten. (112 : 1-3)This, because there is nothing born that will not die and there is nothing that dies but will be inherited. And, Allah will never die and is never inherited.And there is none co-equal with Him. (112:4)He said that there is none who resembles Him and none equal to Him and there is none like Him.
حسن دون قوله: والصمد الذی ... ظلال الجنة (663 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3364
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦) (حسن) آیت تک صحیح ہے، اور ” الصمد الذي إالخ) کا سیاق صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ سند میں ابو جعفر الرازی سیٔ الحفظ اور ابو سعید الخراسانی ضعیف ہیں، اور مسند احمد ٥/١١٣، ١٣٤، اور طبری ٣٠/٢٢١ کے طریق سے تقویت پا کر اول حدیث حسن ہے، تراجع الألبانی ٥٥٩)
ابولعالیہ (رفیع بن مہران) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے (یعنی مشرکین کے) معبودوں کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ ہم سے اپنے رب کا نسب بیان کیجئے، آپ نے بتایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) ان کے پاس یہ سورة «قل هو اللہ أحد» لے کر آئے، پھر انہوں نے اسی طرح حدیث بیان کی، اور اس کی سند میں ابی بن کعب سے روایت کا ذکر نہیں کیا۔
Sayyidina Abul Aaliyah narrated: the Prophet ﷺ mentioned the deities of the polytheists. They protested, “Tell us of the line of descent of your Lord.” So, Jibril came with this surah: (Surah al-IKhIas, 112 : 1-4) Then he mentioned a hadith like this but did not mention therein, ‘from Ubayy ibn Ka’b’. This is more sahih than the Hadith of Abu Sad. The name of Abu Sad was Muhammad ibn Muyassar.Abu Aaliyah was Rufay’. A woman of the Sabiyah had regard for him.
یہ ابوسعد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ابوسعد کا نام محمد بن میسر ہے، اور ابو جعفر رازی کا نام عیسیٰ ہے، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے یہ ایک غلام تھے جنہیں ایک قیدی عورت نے آزاد کیا تھا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: عائشہ! اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہ «غاسق» ہے جب یہ ڈوب جائے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah narrated: Allah’s Messenger looked at the moon and said, “O Ayshah, seek refuge in Allah from the mischief of this, for, it causes darkness when it sets.” [Ahmed 24377]
حسن صحيح، الصحيحة (372)، المشکاة (2475)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3366
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے ڈوبنے سے رات کی تاریکی بڑھ جاتی ہے اور بڑھی ہوئی تاریکی میں زنا، چوریاں بدکاریاں وغیرہ زیادہ ہوتی ہیں، اس لیے اس سے پناہ مانگنے کے لیے کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١١٦ (٣٠٤) (تحفة الأشراف: ١٧٧٠٣)، و مسند احمد (٦/٢١٥) (حسن صحیح)
عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھ پر کچھ ایسی آیتیں نازل کی ہیں کہ ان جیسی آیتیں کہیں دیکھی نہ گئی ہیں، وہ ہیں «قل أعوذ برب الناس» آخر سورة تک اور «قل أعوذ برب الفلق» آخر سورة تک۔
Sayyidina Uqbah ibn Aamir Juhanni reported from the Prophet ﷺ that he said, ‘Indeed, Allah has revealed to me some verses thlike of which have not been seçn. (rhey are):Say: I seek refuge with the Lord of mankind, . (114: 1 to the end of the surah 1-6) and Say: I seek refuge with the Lord of dawn, . (113:1 to the end of the surah 1-5) [Muslim 814, Nisai 953, Ahmed 17305]
صحيح وقد مضی (3078)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3367
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونک دی، تو ان کو چھینک آئی، انہوں نے «الحمد لله» کہنا چاہا چناچہ اللہ کی اجازت سے «الحمد لله» کہا، (تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں) پھر ان سے ان کے رب نے کہا: اللہ تم پر رحم فرمائے، اے آدم! ان فرشتوں کی بیٹھی ہوئی جماعت و گروہ کے پاس جاؤ اور ان سے السلام علیکم کہو، انہوں نے جا کر السلام علیکم کیا، فرشتوں نے جواب دیا، وعلیک السلام ورحمۃ اللہ، پھر وہ اپنے رب کے پاس لوٹ آئے، اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں طریقہ سلام و دعا ہے، پھر اللہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر کے آدم سے کہا: ان میں سے جسے چاہو پسند کرلو، وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے دایاں ہاتھ کو پسند کیا، اور حقیقت یہ ہے کہ میرے رب کے دونوں ہی ہاتھ داہنے ہاتھ ہیں اور برکت والے ہیں، پھر اس نے مٹھی کھولی تو اس میں آدم اور آدم کی ذریت تھی، آدم (علیہ السلام) نے پوچھا: اے میرے رب یہ کون لوگ ہیں؟ کہا یہ سب تیری اولاد ہیں اور ہر ایک کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں لکھی ہوئی ہے، ان میں ایک سب سے زیادہ روشن چہرہ والا تھا، آدم (علیہ السلام) نے پوچھا: اے میرے رب یہ کون ہے؟ کہا یہ تمہارا بیٹا داود ہے، میں نے اس کی عمر چالیس سال لکھ دی ہے، آدم (علیہ السلام) نے کہا: اے میرے رب! اس کی عمر بڑھا دیجئیے، اللہ نے کہا: یہ عمر تو اس کی لکھی جا چکی ہے، آدم (علیہ السلام) نے کہا: اے میرے رب! میں اپنی عمر میں سے ساٹھ سال اسے دیئے دیتا ہوں، اللہ نے کہا: تم اور وہ جانو؟ چلو خیر، پھر آدم (علیہ السلام) جنت میں رہے جب تک کہ اللہ کو منظور ہوا، پھر آدم (علیہ السلام) جنت سے نکال باہر کردیئے گئے، آدم (علیہ السلام) اپنی زندگی کے دن گنا کرتے تھے، ملک الموت ان کے پاس آئے تو آدم (علیہ السلام) نے ان سے کہا: آپ تو جلدی آ گئے میری عمر تو ہزار برس لکھی گئی ہے، ملک الموت نے کہا: ہاں (بات تو صحیح ہے) لیکن آپ نے تو اپنی زندگی کے ساٹھ سال اپنے بیٹے داود کو دے دیے تھے، تو انہوں نے انکار کردیا آدم (علیہ السلام) کے اسی انکار کا نتیجہ اور اثر ہے کہ ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگ گئی، آدم (علیہ السلام) بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولنے لگ گئی، اسی دن سے حکم دے دیا گیا ساری باتیں لکھ لی جایا کریں اور گواہ بنا لیے جایا کریں ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said:When Allah created Aadam and blew into him the spirit, he sneezed and said “ (all praise belongs to Allah). Thus, he praised Allah with His permission. And, so, his Lord said to him (may Allah have mercy on you), O Aadam, Go to those angels - to the angels among them who are seated - and say:(peace be on you). They responded: “ (and on you be peace, and the mercy of Allah). Then he returned to his Lord who said, “This is your salutation and the salutation of your children to each other.” And, Allah said to him while His hands were closed in a fist, “Choose whichever of the two you wish.” He said, “I choose the right hand of my Lord - and both hands of my Lord are right and blessed.” Then, Allah spread it open - and, behold, in it were Aadam and His progeny. He asked, “O Lord, who are they” He said, “They are your off-spring.” And with regard to every person, his age was inscribed between his two eyes. And, behold, among them was a man, most radiant of them all - or one of the most radiant of them. He asked, ‘O Lord, who is he” Allah said, “He is your son Dawood. And I have decreed for him the age forty years.” He said, “O Lord, add to his age.” He said, “That is what is decreed for him.” He (Aadam) said, “O Lord! Then indeed set aside for him from my age, sixty years.” Allah said, “That is for you to do.” Then, he lived in Paradise as long as Allah willed. Then he was sent down (to earth) and he kept a count of his age. The angel of death came to him and Aadam said to him, “Surely, you have made haste. For me, a thousand years have been written down.” The angel said, “Certainly, but you have set aside for your son Dawood sixty years.” But he denied. So his offspring denied. And he forgot, so his offspring forgot. (The Prophet ﷺ said): Since that day the command is issued to write down and to have witnesses.This hadith is hasan gharib. Through this sanad. It is also reported through other sanads from Abu Hurayrah from the Prophet ﷺ (Reported from Zayd ibnAslam, from Abu Salih from Abu Hurayrah, from the Prophet ﷺ --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، المشکاة (4662)، ظلال الجنة (204 - 206)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3368
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث کئی اور سندوں سے ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، اور ابوہریرہ کی اس حدیث کو زید بن اسلم نے بطریق: «أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب اللہ نے زمین بنائی تو وہ ہلنے لگی چناچہ اللہ نے پہاڑ بنائے اور ان سے کہا: اسے تھامے رہو، تو زمین ٹھہر گئی، (اس کا ہلنا و جھکنا بند ہوگیا) فرشتوں کو پہاڑوں کی سختی و مضبوطی دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! کیا آپ کی مخلوق میں پہاڑ سے بھی زیادہ ٹھوس کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ہاں، لوہا ہے ، انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں لوہے سے بھی طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ہاں، آگ ہے ، انہوں نے کہا: اے میرے رب! کیا آپ کی مخلوق میں آگ سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ہاں، پانی ہے ، انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں پانی سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ہاں، ہوا ہے ، انہوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں ہوا سے بھی زیادہ طاقتور کوئی مخلوق ہے۔ اللہ نے فرمایا: ہاں، ابن آدم ہے جو اپنے داہنے سے اس طرح صدقہ دیتا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہونے پاتی ہے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported that the Prophet ﷺ said, “When Allah created earth, it began to shake. So, He created the mountains, and commanded, “Stabilise it.” So it gained stability. The angels were surprised at the hardness of the mountains. They asked, “O Lord, is there in Your creation anything harder than the mountains” He said, “Yes the iron.” They asked. “O Lord, is there in Your creation anything harder than the iron” He said, “Yes; It is fire.” So they asked, O Lord, is there in Your creation anything harder than the fire” He said, “Yes. It is water.” They asked, “O Lord’ Is there anything in Your creation harder than wate?” He said. “Yes. It is wind” They asked, “O Lord, is there anything in Your ceration harder than wind?” He said, “Yes. He is the son of Aadam who gives charity with his right hand keeping it concealed from his left hand.”This Hadith is gharib. We do not know it in a marfu’ form except through this sanad. Tafsir (exegesis) concludes.
ضعيف، المشکاة (1923)، التعليق الرغيب (2 / 31) // ضعيف الجامع الصغير (4770) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3369
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٧١) (ضعیف) (سند میں سلیمان بن ابی سلیمان الھاشمی لین الحدیث راوی ہیں)
اوطاس کے موقع پر غنیمت میں ہمیں کچھ ایسی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے مشرک شوہر موجود تھے کچھ مسلمانوں نے عورتوں سے صحبت کرنے کو مکروہ جانا ۱؎ تو اللہ تعالیٰ نے آیت «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» ۱؎ نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: On the Day of Awtas, we captured some women who had husbands among the idolaters. So some of the men disliked that, so Allah, Most High, revealed: And women already married, except those whom your right hands possess... (4:24)
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”وہ لڑکا جسے خضر علیہ السلام نے مار ڈالا تھا پیدائشی کافر تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: that Ubayy bin Ka'b narrated that the Prophet (ﷺ) said: The boy that Al-Khidr killed was destined to be a disbeliever the day he was created.'