سورہ تکاثر کی تفسیر
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا زِلْنَا نَشُكُّ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ حَتَّى نَزَلَتْ: أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ سورة التكاثر آية 1 ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: مَرَّةً عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ هُوَ رَازِيٌّ، وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ كُوفِيٌّ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
علی ؓ کہتے ہیں کہ ہم عذاب قبر کے بارے میں برابر شک میں رہے، یہاں تک کہ سورة «ألهاكم التکاثر» نازل ہوئی، تو ہمیں اس پر یقین حاصل ہوا۔ ابوکریب کبھی عمرو بن ابی قیس کہتے ہیں، تو یہ عمروبن قیس رازی ہیں - اور عمرو بن قیس ملائی کوفی ہیں اور یہ ابن ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہیں: اور وہ (ابن ابی لیلیٰ ) روایت کرتے ہیں منہال بن عمرو سے۔
Sayyidina Ali narrated : We did not cease to doubt punishment in the grave till the surah was revealed:Your rivalry in the accumulation of wealth diverts your minds . (102:1 etc.)Abu Kurayb reported from Amr ibn Abu Qays (who was Razi-and Amr ibn Qays was Mula’i Kufi), from Ibn Abu Layla, from Minhal ibn Amr.