Sunan At-Tirmidhi 3365

قرآن کی تفسیر کا بیان

3365Sunan At-Tirmidhi

سورہ اخلاص کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ آلِهَتَهُمْ، فَقَالُوا: انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ، قَالَ: فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِهَذِهِ السُّورَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعْدٍ، وَأَبُو سَعْدٍ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ اسْمُهُ عِيسَى، وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ وَكَانَ عَبْدًا أَعْتَقَتْهُ امْرَأَةٌ صَابِئَةٌ.

ابولعالیہ (رفیع بن مہران) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے (یعنی مشرکین کے) معبودوں کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ ہم سے اپنے رب کا نسب بیان کیجئے، آپ نے بتایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) ان کے پاس یہ سورة «قل هو اللہ أحد» لے کر آئے، پھر انہوں نے اسی طرح حدیث بیان کی، اور اس کی سند میں ابی بن کعب سے روایت کا ذکر نہیں کیا۔

Sayyidina Abul Aaliyah narrated: the Prophet ﷺ mentioned the deities of the polytheists. They protested, “Tell us of the line of descent of your Lord.” So, Jibril came with this surah: (Surah al-IKhIas, 112 : 1-4) Then he mentioned a hadith like this but did not mention therein, ‘from Ubayy ibn Ka’b’. This is more sahih than the Hadith of Abu Sad. The name of Abu Sad was Muhammad ibn Muyassar.Abu Aaliyah was Rufay’. A woman of the Sabiyah had regard for him.

ضعيف ظلال الجنة (663 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3365
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ ابوسعد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ابوسعد کا نام محمد بن میسر ہے، اور ابو جعفر رازی کا نام عیسیٰ ہے، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے یہ ایک غلام تھے جنہیں ایک قیدی عورت نے آزاد کیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (ضعیف) (یہ مرسل روایت ہے)