فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ میں نے زکاۃ کے بارے میں پوچھا، یا نبی اکرم ﷺ سے زکاۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی کچھ حق ہے ١ ؎ پھر آپ نے سورة البقرہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی: «ليس البر أن تولوا وجوهكم» نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے پھیر لو ٢ ؎ الآیۃ۔
Sayyidah Fatimah bint Qays (RA) said that she or someone else asked Allah’s Messenger ﷺ about zakah. He said, “More is due on property apart from zakab”. He then recited this verse from surah al-Baqarah : It is not virtue that you turn your faces to east and (the verse 2 :177)
ضعيف، ابن ماجة (1789)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 659
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر یہ حدیث «ليس في المال حق سوی الزکاة» کے معارض ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ زکاۃ اللہ کا حق ہے اور مال میں زکاۃ کے علاوہ جو دوسرے حقوق واجبہ ہیں ان کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے۔ ٢ ؎: پوری آیت اس طرح ہے: «ليس البر أن تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملآئكة والکتاب والنبيين وآتی المال علی حبه ذوي القربی واليتامی والمساکين وابن السبيل والسآئلين وفي الرقاب وأقام الصلاة وآتی الزکاة والموفون بعهدهم إذا عاهدوا والصابرين في البأساء والضراء وحين البأس أولئك الذين صدقوا وأولئك هم المتقون» (البقرة: 177) ساری اچھائی مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقۃً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے غلاموں کو آزاد کرنے نماز کی پابندی اور زکاۃ کی ادائیگی کرے، جب وعدہ کرے تو اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں آیت سے استدلال اس طرح سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکورہ وجوہ میں مال دینے کا ذکر فرمایا ہے پھر اس کے بعد نماز قائم کرنے اور زکاۃ دینے کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ٣ (١٧٨٩)، (لکن لفظہ ” لیس فی المال حق سوی الزکاة “ ) ، سنن الدارمی/الزکاة ١٣ (١٦٧٧) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی حافظہ کے ضعیف راوی ہے، ابو حمزہ میمون بھی ضعیف ہیں، اور ابن ماجہ کے یہاں اسود بن عامر کی جگہ یحییٰ بن آدم ہیں لیکن ان کی روایت شریک کے دیگر تلامذہ کے برخلاف ہے، دونوں سیاق سے یہ ضعیف ہے)
فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں ۔
Aamir reported from Fatimah bint Qays that the Prophet ﷺ said, ‘There is more due on wealth besides zakah”. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف أيضا //، المشکاة (1 / 597)، ضعيف سنن ابن ماجة (397) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 660
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کی سند کوئی خاص نہیں ہے ١ ؎، ٢- ابوحمزہ میمون الاعور کو ضعیف گردانا جاتا ہے، ٣- بیان اور اسماعیل بن سالم نے یہ حدیث شعبی سے روایت کی ہے اور اسے شعبی ہی کا قول قرار دیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «إسناده ليس بذلک» الفاظ جرح میں سے ہے، اس کا تعلق مراتب جرح کے پہلے مرتبہ سے ہے، جو سب سے ہلکا مرتبہ ہے، ایسے راوی کی حدیث قابل اعتبار ہوتی ہے یعنی تقویت کے قابل اور اس کے لیے مزید روایات تلاش کی جاسکتی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے ١ ؎ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے ٢ ؎ اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو، یہ مال صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بڑا ہوجاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے ایک اپنے گھوڑے کے بچے یا گائے کے بچے کو پالتا ہے ۔
Sa’eed ibn Yasar said that he heard Sayyidina Abu Hurayrah (RA) say that Allah’s Messeger said, “If anyone gives zakah from his lawful wealth—and Allah does not accept but the lawful—then the Compassionate takes it in His right hand even if it is a piece of date. Then it grows in the Hand of the Compassionate till it is bigger than a thountain. It is as though a person nourishes a colt or a calf.” [Ahmed 10940, Bukhari 1410, Muslim 1014, Nisai 2521, Ibn e Majah 1842]
صحيح ظلال الجنة (623)، التعليق الرغيب، الإرواء (886)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 661
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ، عدی بن حاتم، انس، عبداللہ بن ابی اوفی، حارثہ بن وہب، عبدالرحمٰن بن عوف اور بریدہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حرام صدقہ اللہ قبول نہیں کرتا ہے کیونکہ صدقہ دینے والا حرام کا مالک ہی نہیں ہوتا اس لیے اسے اس میں تصرف کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ ٢ ؎: «یمین» کا ذکر تعظیم کے لیے ہے ورنہ رحمن کے دونوں ہاتھ «یمین» ہی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٨ (تعلیقا عقب حدیث رقم: ١٤١٠)، والتوحید ٢٣ (تعلیقا عقب حدیث رقم: ٧٤٣٠)، صحیح مسلم/الزکاة ١٩ (١٠١٤)، سنن النسائی/الزکاة ٤٨ (٢٥٢٦)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٨ (١٨٤٢)، ( تحفة الأشراف: ١٣٣٧٩)، مسند احمد (٢/٣٣١، ٤١٨، ٥٣٨)، سنن الدارمی/الزکاة ٣٥ (١٧١٧) (صحیح) وأخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٨ (١٤١٠)، والتوحید ٢٣ (٧٤٣٠)، وصحیح مسلم/الزکاة (المصدر المذکور)، و مسند احمد (٢/٣٨١، ٤١٩، ٤٣١، ٤٧١، ٥٤١) من غیر ہذا الطریق
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: شعبان کے روزے جو رمضان کی تعظیم کے لیے ہوں ، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: رمضان میں صدقہ کرنا ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ was asked, “Which fast is most superior aftçr Ramadan?” He said “Sha’ban to honour Ramadan”. He was asked, “Which sadaqah is superior?” He said, “Sadaqah given during Ramadan”.
ضعيف، الإرواء (889)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 663
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- صدقہ بن موسیٰ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٤٩) (ضعیف) (سند میں صدقہ بن موسیٰ حافظہ کے ضعیف راوی ہے)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger said, “Surely sadaqah cools down the anger of the Lord and protects one from an evil death”.
ضعيف، التعليق الرغيب (2 / 22)، الإرواء (885) // ضعيف الجامع الصغير (1489) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 664
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٢٩) (صحیح) (حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور عبداللہ بن عیسیٰ الخزار ضعیف ہیں لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں دیکھئے الصحیحة رقم: ١٩٠٨)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اسے پالتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ لقمہ احد پہاڑ کے مثل ہوجاتا ہے۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب (قرآن) سے ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ألم يعلموا أن اللہ هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات» کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے اور « (يمحق اللہ الربا ويربي الصدقات» اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely Allah accepts sadaqah and causes it to grow for one of you just as one of you looks after his colt till the morsels grow like (mount) Uhud. The confirmation for it is found in the Book of Allah, the Glorious, the Majestic: And He is (Allah) Who accepts repentance from His servants. (42 : 25) and take the alms (9 : 104) Allah blots out usury and augments charity (2 :276)
منکر بزيادة:صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 662
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- نیز عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے، ٣- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے بارے میں اور اس جیسی صفات کی دوسری روایات کے بارے میں اور باری تعالیٰ کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کے بارے میں کہا ہے کہ اس سلسلے کی روایات ثابت ہیں، ان پر ایمان لایا جائے، ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیا جائے گا، اور نہ اس کی کیفیت پوچھی جائے۔ اور اسی طرح مالک، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ ان حدیثوں کو بلا کیفیت جاری کرو ١ ؎ اسی طرح کا قول اہل سنت و الجماعت کے اہل علم کا ہے، البتہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ان سے تشبیہ لازم آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے کئی مقامات پر ہاتھ، کان، آنکھ کا ذکر کیا ہے۔ جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور ان کی ایسی تشریح کی ہے جو اہل علم کی تفسیر کے خلاف ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا، دراصل ہاتھ کے معنی یہاں قوت کے ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: تشبیہ تو تب ہوگی جب کوئی کہے: «يد كيد أو مثل يد» یا «سمع کسمع أو مثل سمع» یعنی اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے، یا ہمارے ہاتھ کے مانند ہے، اس کا کان ہمارے کان کی طرح ہے یا ہمارے کان کے مانند ہے تو یہ تشیبہ ہوئی۔ (نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اللہ کا ہاتھ ہے، اس سے تشبیہ لازم نہیں آتی) اور جب کوئی کہے جیسے اللہ نے کہا ہے کہ اس کے ہاتھ کان اور آنکھ ہے اور یہ نہ کہے کہ وہ کیسے ہیں اور نہ یہ کہے کہ فلاں کے کان کی مانند یا فلاں کے کان کی طرح ہے تو یہ تشبیہ نہیں ہوئی، یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا: «ليس کمثله شيئ وهو السميع البصير» اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع ہے بصیر ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان پر ایمان لاؤ اور ان کی کیفیت کے بارے میں گفتگو نہ کرو۔ یہاں آج کل کے صوفیاء و مبتدعین کے عقائد کا بھی رد ہوا، یہ لوگ سلف صالحین کے برعکس اللہ کی صفات کی تاویل اور کیفیت بیان کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٢٨٧)، وانظر: مسند احمد (٢/٢٦٨، ٤٠٤) (منکر) (” و تصدیق ذلک “ کے لفظ سے منکر ہے، عباد بن منصور اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے اور دوسرے کی روایتوں میں اس اضافہ کا تذکرہ نہیں ہے، یعنی اس اضافہ کے بغیر حدیث صحیح ہے)
عبدالرحمٰن بن بجید کی دادی ام بجید حواء ؓ (جو رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اور اسے دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی۔ (تو میں کیا کروں؟ ) رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر اسے دینے کے لیے تمہیں کوئی جلی ہوئی کھر ہی ملے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو ١ ؎۔
Abdur Rahman ibn Bujayd reported that his grandmother, Sayyidah Umm Bujyd (RA) who was one of those who had pledged allegiance to the Prophet ﷺ said to him, “The needy (often) stands at my door, but I do not find anything that I might give him”. So, Allah’s Messenger ﷺ said to her. “If you do not find anything you may give him except a burnt hoof then put that into his hand’. [Abu Dawud 1667, Nisai 2561)
صحيح، التعليق الرغيب (2 / 29)، صحيح أبي داود (1467)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 665
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام بجید ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، حسین بن علی، ابوہریرہ اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں مبالغہ ہے، مطلب یہ ہے کہ سائل کو یوں ہی مت لوٹاؤ جو بھی میسر ہو اسے دے دو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الزکاة ٣٣ (١٦٦٧)، سنن النسائی/الزکاة ٧٠ (٢٥٦٦)، ( تحفة الأشراف: ١٨٣٥)، مسند احمد (٦/٣٨٢- ٣٨٣)، وأخرجہ موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ ٥ (٨)، و مسند احمد (٧٠٤)، و (٦/٤٣٥)، من غیر ہذا الطریق والسیاق (صحیح)
صفوان بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے روز مجھے دیا، آپ مجھے (فتح مکہ سے قبل) تمام مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض تھے، اور برابر آپ مجھے دیتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہوگئے۔
Safwan ibn Ummayyah said, “Allah’s Messenger ﷺ gave me something on the occasion of the Battle of Hunayn. At that time he was the most despised of all creatures to me, but he did not cease to give me till he became the most liked of all creatures to me”. [Ahmed15304, Muslim 2313]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 666
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حسن بن علی نے مجھ سے اس حدیث یا اس جیسی چیز کو مذاکرہ میں بیان کیا، ٢- اس باب میں ابوسعید ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صفوان کی حدیث معمر وغیرہ نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے جس میں «عن صفوان بن أمية» کے بجائے «أن صفوان بن أمية قال أعطاني رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم» ہے گویا یہ حدیث یونس بن یزید کی حدیث سے زیادہ صحیح اور اشبہ ہے، یہ «عن سعید بن المسیب عن صفوان» کے بجائے «عن سعيد بن مسيب أن صفوان» ہی ہے ١ ؎، ٤- جن کا دل رجھانا اور جن کو قریب لانا مقصود ہو انہیں دینے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ انہیں نہ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے چند لوگ تھے جن کی آپ تالیف قلب فرما رہے تھے یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے لیکن اب اس طرح ہر کسی کو زکاۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے، سفیان ثوری، اہل کوفہ وغیرہ اسی کے قائل ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اگر کوئی آج بھی ان لوگوں جیسی حالت میں ہو اور امام اسلام کے لیے اس کی تالیف قلب ضروری سمجھے اور اسے کچھ دے تو یہ جائز ہے، یہ شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ سعید بن مسیب نے صفوان بن امیہ سے کچھ بھی نہیں سنا ہے اور راوی فلان عن فلان اسی وقت کہتا ہے جب اس نے اس سے کچھ سنا ہو گو ایک ہی حدیث ہی کیوں نہ ہو۔ ( صحیح مسلم میں «أن صفوان قال» ہی ہے ) امام شافعی کا قول قابل قبول اور قابل عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ١٤ (٢٣١٣)، (بلفظ ” عن ابن المسیب أن صفوان قال: … “ ) ، ( تحفة الأشراف: ٤٩٤٤)، مسند احمد (٣/٤٠١) و (٦/٤٦٥) (صحیح)
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقے میں دی تھی، اب وہ مرگئیں (تو اس لونڈی کا کیا ہوگا؟ ) آپ نے فرمایا: تمہیں ثواب بھی مل گیا اور میراث نے اسے تمہیں لوٹا بھی دیا ۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! میری ماں پر ایک ماہ کے روزے فرض تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں؟ آپ نے فرمایا: تو ان کی طرف سے روزہ رکھ لے ، اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! انہوں نے کبھی حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، ان کی طرف سے حج کرلے ۔
Abdullah Ibn Buraydah reported his father as saying, that he was sitting with the Prophet ﷺ when a woman arrived. She submitted, “O Messenger of Allah! ﷺ I had given a female slave to my mother as zakah, and she has died’. He said, “Your reward is due to you while she (slave) is returned to you as your inheritance”. She said, “O Messenger of Allah! ﷺ Fasting of a month was due on my mother, may I fast on her behalf?” He said, “Keep fast for her”. She asked, ‘O Messenger of Allah! ﷺ She had not performed hajj at all; may I perform hajj for her?” He said, “Yes. Make the pilrimage on her behalf”. [Muslim 1149, Abu Dawud 1656, Ibn e Majah 2394, Ahmed23032]
صحيح، ابن ماجة (1759 و 2394)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 667
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بریدہ ؓ کی یہ حدیث صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے۔ ٣- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی جب کوئی صدقہ کرے پھر وہ اس کا وارث ہوجائے تو اس کے لیے وہ جائز ہے، ٤- اور بعض کہتے ہیں: صدقہ تو اس نے اللہ کی خاطر کیا تھا لہٰذا جب اس کا وارث ہوجائے تو لازم ہے کہ پھر اسے اسی کے راستے میں صرف کر دے (یہ زیادہ افضل ہے) ۔
عمر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنا چاہا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنا صدقہ واپس نہ لو ١ ؎۔
Sayyidina Umar (RA) gave away a horse in the cause of Allah. Then he saw it being sold, so he decided to buy it. The Prophet ﷺ said. “Do not take back your sadaqah”. [Bukhari 2971, Muslim 1621, Abu Dawud 1953]
صحيح، ابن ماجة (2390)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 668
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ صدقہ دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے، ظاہر حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء نے اپنے دیئے ہوئے صدقے کے خریدنے کو حرام کہا ہے، لیکن جمہور نے اسے کراہت تنزیہی پر محمول کیا ہے کیونکہ فی نفسہ اس میں کوئی قباحت نہیں، قباحت دوسرے کی وجہ سے ہے کیونکہ بسا اوقات صدقہ دینے والا لینے والے سے جب اپنا صدقہ خریدتا ہے تو اس کے اس احسان کی وجہ سے جو صدقہ دے کر اس نے اس پر کیا تھا وہ قیمت میں رعایت سے کام لیتا ہے، نیز بظاہر یہ حدیث ابو سعید خدری ؓ کی حدیث «لا تحل الصدقة إلا لخمسة لعامل عليها اور جل اشتراها بما … الحديث» کے معارض ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ عمر ؓ والی حدیث کراہت تنزیہی پر محمول کی جائے گی اور ابوسعید ؓ والی روایت بیان جواز پر، یا عمر ؓ کی روایت نفل صدقے کے سلسلہ میں ہے اور ابو سعید خدری ؓ کی روایت فرض صدقے کے بارے میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٧)، ( تحفة الأشراف: ١٠٥٢٦)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٩٠)، والہبة ٣٠ (٢٦٢٣)، و ٣٧ (٢٦٣٦)، والوصایا ٣١ (٢٧٧٥)، والجہاد ١١٩ (٢٩٧٠)، و ١٣٧ (٣٠٠٣)، صحیح مسلم/الہبات ١ (١٦٢٠)، سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٦)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١ (٢٣٩٠)، موطا امام مالک/الزکاة ٢٦ (٤٩)، مسند احمد (١/٤٠، ٥٤)، من غیر ہذا الطریق کما أخرجہ صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٨٩)، وسنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٨)، من مسند عبداللہ بن عمر ؓ (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہوچکی ہیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا یہ ان کے لیے مفید ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، اس نے عرض کیا: میرا ایک باغ ہے، آپ گواہ رہئیے کہ میں نے اسے والدہ کی طرف سے صدقہ میں دے دیا۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a man submitted, “O Messenger of Allah! ﷺ My mother has died. Will it benefit her if I give sadaqah on her behalf? He said, ‘Yes. The man said, “I have a garden and ask you to witness that I have given it as sadaqah on her behalf”. [Bukhari 6771 Abu Dawud 2882, Nisai 3656] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (6566)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 669
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق «عن عمرو بن دينار عن عکرمة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے، ٣- اور یہی اہل علم بھی کہتے ہیں کہ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میت کو پہنچتی ہو سوائے صدقہ اور دعا کے ١ ؎، ٤- «إن لي مخرفا» میں «مخرفاً» سے مراد باغ ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں کے سلسلہ میں اہل سنت والجماعت میں کوئی اختلاف نہیں، اختلاف صرف بدنی عبادتوں کے سلسلہ میں ہے جیسے صوم و صلاۃ اور قرأت قرآن وغیرہ عبادتیں۔
ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ ﷺ کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا: عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اور کھانا بھی نہیں؟۔ آپ نے فرمایا: یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Umamah Bahiliy said that he heard Allah’s Messenger ﷺ say during a sermon in the year of the farewell Pilgrimage. “A woman must not spend anything from her husband’s home without his permission”. He was asked, “O Messenger of Allah! ﷺ And not even food?” He said, “that is the best of our properties’. [Abu Dawud 3565, Ibn e Majah 2295]
حسن، ابن ماجة (2295)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 670
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوامامہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، اسماء بنت ابی بکر، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر شوہر کی اجازت کے بیوی خرچ نہیں کرسکتی اور اگلی روایت میں اجازت کی قید نہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ اجازت کی دو قسمیں ہیں اجازت قولی اور اجازت حالی، بعض دفعہ شوہر بغیر اجازت کے بیوی کے کچھ دے دینے پر راضی ہوتا ہے جیسے دیہات وغیرہ میں فقیروں کو عورتیں کچھ غلہ اور آٹا وغیرہ دے دیا کرتی ہیں اور شوہر اس پر ان کی کوئی گرفت نہیں کرتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٥ (٢٢٩٥)، ( تحفة الأشراف: ٤٨٨٣)، مسند احمد (٥/٢٦٧) (حسن)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ کرے تو اسے اس کا اجر ملتا ہے اور اتنا ہی اجر اس کے شوہر کو بھی، اور خزانچی کو بھی، اور ان میں کسی کا اجر دوسرے کے اجر کی وجہ سے کم نہیں کیا جاتا۔ شوہر کو اس کے کمانے کا اجر ملتا ہے اور عورت کو اس کے خرچ کرنے کا ۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that the Messenger said, “If a woman gives sadaqah from her husband’s home then there is a reward for her, and the like of that for her husband, and the like of that for the treasurer. And nothing is diminished from each of them against the reward of the other. For him (the husband) against what he has earned and for her against what she spends”. [Ahmed2294, Bukhari 1437, Muslim 1024, Abu Dawud 1685, Ibn e Majah 2294]
صحيح، ابن ماجة (2294)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 671
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے خوش دلی کے ساتھ بغیر فساد کی نیت کے کوئی چیز دے تو اسے مرد کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔ اسے اپنی نیک نیتی کا ثواب ملے گا اور خازن کو بھی اسی طرح ثواب ملے گا ۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When a woman gives something (in charity) from her husband’s home with a kindheart, not in mischief, then for her is the like of his reward. She has (reward) for her pious intention. And, for the treasurer is a reward similar to that”. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح بما قبله (671)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 672
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابو وائل سے روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، عمرو بن مرہ اپنی روایت میں مسروق کے واسطے کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں ہم لوگ جب رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے - صدقہ فطر ١ ؎ میں ایک صاع گیہوں ٢ ؎ یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر نکالتے تھے۔ تو ہم اسی طرح برابر صدقہ فطر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ ؓ مدینہ آئے، تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا، اس خطاب میں یہ بات بھی تھی کہ میں شام کے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور کے برابر سمجھتا ہوں۔ تو لوگوں نے اسی کو اختیار کرلیا یعنی لوگ دو مد آدھا صاع گیہوں دینے لگے۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khurdri (RA) narrated that during the presence of Allah’s Messenger among them they used to give sadaqat ul-Fitr a sa’ of grain, or of barley, or f dates, or of raisin, or of cheese. Then did not cease to give in this manner till Mu’awiyah i came to Madinah. He spoke to the people, saying. “I think that two Syrian mudd of wheat are the equivalent of one sa’ of date”. So, the people adopted that. But, Abu Sa’eed (RA) said, “I did not cease to pay as I used to do (before that)”. [Ahmed11932, Bukhari 1506, Muslim 985, Abu Dawud 1616, Nisai 2508, Ibn e Majah 1829]
صحيح، ابن ماجة (1829)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 673
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ان کا خیال ہے کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے سوائے گیہوں کے، اس میں آدھا صاع کافی ہے، ٤- یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا بھی قول ہے۔ اور اہل کوفہ کی بھی رائے ہے کہ گیہوں میں نصف صاع ہی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صدقہ فطر کی فرضیت رمضان کے آغاز کے بعد عید سے صرف دو روز پہلے ٢ ھ میں ہوئی، اس کی ادائیگی کا حکم بھی نماز عید سے پہلے پہلے ہے تاکہ معاشرے کے ضرورت مند حضرات اس روز مانگنے سے بےنیاز ہو کر عام مسلمانوں کے ساتھ عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں، اس کی مقدار ایک صاع ہے خواہ کوئی بھی جنس ہو، صدقہ فطر کے لیے صاحب نصاب ہونا ضروری نہیں۔ اور صاع ڈھائی کلوگرام کے برابر ہوتا ہے۔ ٢ ؎: «صاعاً من طعام» میں «طعام» سے مراد «حنطۃ» گیہوں ہے کیونکہ «طعام» کا لفظ مطلقاً گیہوں کے معنی میں بولا جاتا تھا جب کہا جاتا ہے: «إذهب إلى سوق الطعام» تو اس سے «سوق الحنطۃ» گیہوں کا بازار ہی سمجھا جاتا تھا، اور بعض لوگوں نے کہا «من طعام مجمل» ہے اور آگے اس کی تفسیر ہے، یہ «عطف الخاص علی العام» ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٢ (١٥٠٥)، و ٧٣ (١٥٠٦)، و ٧٥ (١٥٠٨)، و ٧٦ (١٥١٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٥)، سنن ابی داود/ الزکاة ١٩ (١٦١٦)، سنن النسائی/الزکاة ٣٨ (٢٥١٥)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٩)، ( تحفة الأشراف: ٤٢٦٩)، مسند احمد (٣/٢٣، ٧٣، ٩٨)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٤) (صحیح)
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو مکہ کی گلیوں میں منادی کرنے کے لیے بھیجا کہ سنو! صدقہ فطر ہر مسلمان مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، گیہوں سے دو مد اور گیہوں کے علاوہ دوسرے غلوں سے ایک صاع واجب ہے ۔
Amr ibn Shu’ayb reported from his father who from his grandfather that the Prophet ﷺ sent an announcer to the streets of Makkah (to proclaim) that sadaqah ul-Fitr is wajib on every Muslim; male or female, freeman or slave, young or old, (at the rate of) two mudd of wheat, or a sa’ of (any kind of) grain apart from it.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 674
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- عمر بن ہارون نے یہ حدیث ابن جریج سے روایت کی، اور کہا: «العباس بن ميناء عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» پھر آگے اس حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٧٤٨) (ضعیف الإسناد) (سند میں سالم بن نوح حافظے کے ضعیف ہیں، مگر اس حدیث کی اصل ثابت ہے)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر، ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض کیا، راوی کہتے ہیں: پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر کرلیا۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ made sadaqatul-Fitr obligatory on (every Muslim), male or female freeman or slave, (at the rate of) one sa’ dates or barley. He said that people later changed it to a half sa’ of wheat. [Ahmed5174, Bukhari 1511, Muslim 984, Abu Dawud 1615, 2496, Ibn e Majah 1825]
صحيح، ابن ماجة (1825)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 675
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوسعید، ابن عباس، حارث بن عبدالرحمٰن بن ابی ذباب کے دادا (یعنی ابوذباب) ، ثعلبہ بن ابی صعیر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٧ (١٥١١)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤)، سنن النسائی/الزکاة ٣٠ (٢٥٠٢)، و ٣١ (٢٥٠٣)، ( تحفة الأشراف: ٧٥١٠)، مسند احمد ( ٢/٥) (صحیح) وأخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٧٠ (١٥٠٣)، و ٧١ (١٥٠٤)، و ٧٤ (١٥٠٧)، و ٧٤ (١٥٠٧)، و ٧٨ (١٥١٢)، وصحیح مسلم/الزکاة (المصدر السابق)، و سنن ابی داود/ الزکاة ١٩ (١٦١١)، وسنن النسائی/الزکاة ٣٢ (٢٥٠٤)، و ٣٣ (٢٥٠٥)، وسنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٥، و ١٨٢٦)، (٥٢)، و مسند احمد (٢/٥٥، ٦٣، ٦٦، ١٠٢، ١١٤، ١٣٧)، و سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٦٦٨)، من غیر ہذا الطریق عنہ، وانظر الحدیث الآتی۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام، مرد اور عورت پر فرض کیا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ made it obligatory to pay sadaqat ul-Fitr of Ramadan at a sa’ of dates or barley on every freeman or slave, male or female of the Muslims.
صحيح، ابن ماجة (1826)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 676
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- مالک نے بھی بطریق: «نافع عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» ایوب کی حدیث کی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں «من المسلمين» کا اضافہ ہے۔ ٣- اور دیگر کئی لوگوں نے نافع سے روایت کی ہے، اس میں «من المسلمين» کا ذکر نہیں ہے، ٤- اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ جب آدمی کے پاس غیر مسلم غلام ہوں تو وہ ان کا صدقہ فطر ادا نہیں کرے گا۔ یہی مالک، شافعی اور احمد کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ غلاموں کا صدقہ فطر ادا کرے گا خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں، یہ ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں لفظ «فَرضَ» استعمال ہوا ہے جس کے معنی فرض اور لازم ہونے کے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ صدقہ فطر فرض ہے بعض لوگوں نے «فَرضَ» کو «قَدَّرَ» کے معنی میں لیا ہے لیکن یہ ظاہر کے سراسر خلاف ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ روایت میں «من المسلمين» کی قید اتفاقی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن نماز کے لیے جانے سے پہلے صدقہ فطر نکالنے کا حکم دیتے تھے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ instructed them that sadaqat ul-Fitr must be paid before going out in the morning for the salah of eid ul-Fitr. [Ahmed5345, Bukhari 1509, Muslim 986, Abu Dawud 1610) --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، صحيح أبي داود (1428)، الإرواء (832)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 677
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اور اہل علم اسی کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی صدقہ فطر نماز کے لیے جانے سے پہلے نکال دے۔