علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عمر ؓ سے فرمایا: ہم عباس سے اس سال کی زکاۃ گزشتہ سال ہی لے چکے ہیں ۔
Sayyidina Ali (RA) narrated that the Prophet ﷺ said to Sayyidina Umer (RA) , “We have already taken from Abbas last year Zakah for this Year”.
حسن أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 679
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- اسرائیل کی پہلے زکاۃ نکالنے والی حدیث کو جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٣- اسماعیل بن زکریا کی حدیث جسے انہوں نے حجاج سے روایت کی ہے میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث سے جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے، ٤- نیز یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے بھی مروی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے، ٥- اہل علم کا وقت سے پہلے پیشگی زکاۃ دینے میں اختلاف ہے، اہل علم میں سے ایک جماعت کی رائے ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے، سفیان ثوری اسی کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں: کہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے، اور اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وقت سے پہلے پیشگی ادا کر دے تو جائز ہے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ١ ؎۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے جائے اور لکڑیوں کا گٹھر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے اور اس میں سے (یعنی اس کی قیمت میں سے) صدقہ کرے اور اس طرح لوگوں سے بےنیاز رہے (یعنی ان سے نہ مانگے) اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے، وہ اسے دے یا نہ دے ١ ؎ کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے ٢ ؎، اور پہلے اسے دو جس کی تم خود کفالت کرتے ہو ۔
Sayyidina Abu hurayrah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say , “One of you who goes out in the morning and returns carrying a wood on his back from which he gives Sadaqah is absolved from begging of men is better than one who begs from others who may or may not give him. For, the upper hand is better than the hand below. And begin to spend on those who are your responisibility” [ Ahmed10442, Bukhari 2074, Muslim 1042] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الإرواء (834)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 680
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- وہ بیان کی حدیث سے جسے انہوں نے قیس سے روایت کی ہے غریب جانی جاتی ہے، ٣- اس باب میں حکیم بن حزام، ابو سعید خدری، زبیر بن عوام، عطیہ سعدی، عبداللہ بن مسعود، مسعود بن عمرو، ابن عباس، ثوبان، زیاد بن حارث صدائی، انس، حبشی بن جنادہ، قبیصہ بن مخارق، سمرہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عزیمت کی راہ یہی ہے کہ آدمی ضرورت وحاجت ہونے پر بھی کسی سے سوال نہ کرے اگرچہ ضرورت و حاجت کے وقت سوال کرنا جائز ہے۔ ٢ ؎: اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے والے ہاتھ سے مراد لینے والا ہاتھ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣٥ (١٠٤٢)، ( تحفة الأشراف: ١٤٢٩٣) (صحیح) أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٥٠ (٤٧٠)، و ٥٣ (١٤٨٠)، والبیوع ١٥ (٢٠٧٤)، والمساقاة ١٣ (٢٣٧٤)، وسنن النسائی/الزکاة ٨٣ (٢٥٨٥)، و ٨٥ (٢٥٩٠)، وسنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٥ (١٨٣٦)، وط/الصدقة ٢ (١٠)، و مسند احمد (٢/٢٤٣، ٢٥٧، ٣٠٠، ٤١٨، ٤٧٥، ٤٩٦) من غیر ہذا الطریق عنہ
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مانگنا ایک زخم ہے جس سے آدمی اپنا چہرہ زخمی کرلیتا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے ١ ؎ یا کسی ایسے کام کے لیے مانگے جو ضروری اور ناگزیر ہو ۔
Sayyidina Samurah ibnJundub narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely to beg is mutilating. A man distorts his face with it, except one who seeks from a ruler, or begs when there is no way out of it. [Abu Dawud 1639, Nisai 2589]
١ ؎: حاکم سے مانگنے کا مطلب بیت المال کی طرف رجوع کرنا ہے جو اس مقصد کے لیے ہوتا ہے کہ اس سے ضرورت مند کی آبرو مندانہ کفالت کی جائے اگر وہاں تک نہ پہنچ سکے تو ناگزیر حالات و معاملات میں دوسروں سے سوال کرنا جائز ہے۔
میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے آپ نے مجھے آتا دیکھا تو فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم! قیامت کے دن یہی لوگ خسارے میں ہوں گے“ ۲؎ میں نے اپنے جی میں کہا: شاید کوئی چیز میرے بارے میں نازل کی گئی ہو۔ میں نے عرض کیا: کون لوگ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہی لوگ جو بہت مال والے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایسا ایسا کرے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سے لپ بھر کر اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور اپنے بائیں طرف اشارہ کیا، پھر فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو بھی آدمی اونٹ اور گائے چھوڑ کر مرا اور اس نے اس کی زکاۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے دن وہ اس سے زیادہ بھاری اور موٹے ہو کر آئیں گے جتنا وہ تھے ۳؎ اور اسے اپنی کھروں سے روندیں گے، اور اپنی سینگوں سے ماریں گے، جب ان کا آخری جانور بھی گزر چکے گا تو پھر پہلا لوٹا دیا جائے گا ۴؎ یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی اسی کے مثل روایت ہے، ۳- علی رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ زکاۃ روک لینے والے پر لعنت کی گئی ہے ۵؎، ۴- ( یہ حدیث ) قبیصہ بن ہلب نے اپنے والد ہلب سے روایت کی ہے، نیز جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۵- ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ «الأكثرون» سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس دس ہزار ( درہم یا دینار ) ہوں۔
Abu Dharr narrated: I came to the Messenger of Allah while he was sitting in the shade of the Ka'bah. He said: He saw me approaching and he said: 'They are lost on the Day of Judgment! By the Lord of the Ka'bah!' He said: I said t myself: Woe is me! Perhaps something has been revealed about me!' He said: So I said: 'Who are they, and may my father and mother be ransomed for you.' So the Messenger of Allah said: 'They are those who have much, except for who says like this, and this, and this and motioned with his hand to his front, and t his right, and to his left.' Then he said: 'By the One in Whose Hand is my soul! No man will die, leaving a camel or a cow that he did not pay Zakat on, except that it will come on the Day of Judgment larger and fatter than it was, they will tread him under their hooves and butt him with their horns, all of them; such that when the last of them has had a turn, the first returns to him, until he is judged before the people.'
جریر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: داود کی شعبی سے روایت کی ہوئی حدیث مجالد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، مجالد کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے وہ کثیر الغلط ہیں یعنی ان سے بکثرت غلطیاں ہوتی ہیں۔
Jarir narrated : similar (narration to no. 647 with a different chain) from the Prophet.