عمر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنا چاہا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنا صدقہ واپس نہ لو ١ ؎۔
Sayyidina Umar (RA) gave away a horse in the cause of Allah. Then he saw it being sold, so he decided to buy it. The Prophet ﷺ said. “Do not take back your sadaqah”. [Bukhari 2971, Muslim 1621, Abu Dawud 1953]
صحيح، ابن ماجة (2390)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 668
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ صدقہ دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے، ظاہر حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء نے اپنے دیئے ہوئے صدقے کے خریدنے کو حرام کہا ہے، لیکن جمہور نے اسے کراہت تنزیہی پر محمول کیا ہے کیونکہ فی نفسہ اس میں کوئی قباحت نہیں، قباحت دوسرے کی وجہ سے ہے کیونکہ بسا اوقات صدقہ دینے والا لینے والے سے جب اپنا صدقہ خریدتا ہے تو اس کے اس احسان کی وجہ سے جو صدقہ دے کر اس نے اس پر کیا تھا وہ قیمت میں رعایت سے کام لیتا ہے، نیز بظاہر یہ حدیث ابو سعید خدری ؓ کی حدیث «لا تحل الصدقة إلا لخمسة لعامل عليها اور جل اشتراها بما … الحديث» کے معارض ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ عمر ؓ والی حدیث کراہت تنزیہی پر محمول کی جائے گی اور ابوسعید ؓ والی روایت بیان جواز پر، یا عمر ؓ کی روایت نفل صدقے کے سلسلہ میں ہے اور ابو سعید خدری ؓ کی روایت فرض صدقے کے بارے میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٧)، ( تحفة الأشراف: ١٠٥٢٦)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٩٠)، والہبة ٣٠ (٢٦٢٣)، و ٣٧ (٢٦٣٦)، والوصایا ٣١ (٢٧٧٥)، والجہاد ١١٩ (٢٩٧٠)، و ١٣٧ (٣٠٠٣)، صحیح مسلم/الہبات ١ (١٦٢٠)، سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٦)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١ (٢٣٩٠)، موطا امام مالک/الزکاة ٢٦ (٤٩)، مسند احمد (١/٤٠، ٥٤)، من غیر ہذا الطریق کما أخرجہ صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٨٩)، وسنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٨)، من مسند عبداللہ بن عمر ؓ (صحیح)