ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باپردہ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، اور جب آپ کو کوئی چیز ناگوار لگتی تو آپ کے چہرے پر اس کا اثر ظاہر ہوجاتا تھا۔
It was narrated that "Abu Saeed Al-Khudri said: The Messenger of Allah ﷺ was more modest than a virgin in her chamber. If he disliked something, that could be seen in his face." (Sahih)
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے ۔
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every religion has its distinct characteristic, and the distinct characteristic of Islam is modesty." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٣٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٨٤) (حسن) (سند میں معاویہ بن یحییٰ صدفی ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٩٤٠ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے، اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے ۔
It was narrated from Ibn Messenger of Allah ﷺ said: Every religion has its distinct characteristic, and the distinct characteristic of Islam is modesty.": (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٥١، ومصباح الزجاجة: ١٤٨٥) (حسن) (صالح بن حسان متروک اور سعید الوراق ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٩٤٠ )
ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گزشتہ کلام نبوت میں سے جو باتیں لوگوں کو ملی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تم میں حیاء نہ ہو تو جو چاہے کرو ۔
It was narrated from Uqbah bin Amr, Abu Masud, that the Messenger of Allah ﷺ said: "Among the words that people learned from the earlier Prophets are: If you feel no shame, then do as you wish." (Sahih)
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حیاء ایمان سے ہے، اور ایمان کا بدلہ جنت ہے، اور فحش گوئی جفا (ظلم و زیادتی) ہے اور جفا (ظلم زیادتی) کا بدلہ جہنم ہے ۔
It was narrated from Abu Bakrah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Modesty is part of faith, and faith will be in Paradise. Obscenity in speech is part of harshness and harshness will be in Hell. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٨٦) (صحیح) (سند میں حسن بصری ہیں، جن کا سماع ابو بکرة ؓ سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٤٩٥ )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بےحیائی جس چیز میں بھی ہو اس کو عیب دار بنا دے گی، اور حیاء جس چیز میں ہو اس کو خوبصورت بنا دے گی ۔
It was narrated from Anas that the Maessenger of AIIah ﷺ said: There is never any obscenity in a thing, but it mars it, and there is never any modesty in a thing , but it adoms it." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البروالصلة ٤٧ (١٩٧٤)، (تحفة الأشراف: ٤٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٥) (صحیح )
معاذ بن انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے غصے پر قابو پا لیا اس حال میں کہ وہ اس کے کر گزرنے پر قادر تھا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا، اور اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے اپنے لیے چن لے ۔
It was narrated from Sahl bin Mu adh bin Anas, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever restrains his anger when he is able to implement it, Allah will call him before all of creation on the Day of Resurrection, and will give him his choice of any houri that he wants." (Hasan)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس قبیلہ عبدالقیس کے وفود آئے ہیں، اور کوئی اس وقت نظر نہیں آ رہا تھا، ہم اسی حال میں تھے کہ وہ آپہنچے، اترے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے، اشج عصری ؓ باقی رہ گئے، وہ بعد میں آئے، ایک مقام پر اترے، اپنی اونٹنی کو بٹھایا، اپنے کپڑے ایک طرف رکھے پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اشج! تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے: ایک تو حلم و بردباری، دوسری طمانینت و سہولت، اشج ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صفات میری خلقت میں ہے یا نئی پیدا ہوئی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، یہ پیدائشی ہیں ١ ؎۔
Abu Saeed Al-Khudri said:"We were silting with the Messenger of Allah ﷺ and he said: The delegations of Abdul-Qais have come to you, and no one had seen anyone. While we were like that, they came and alighted. They came to the Messenger of Allah ﷺ and Ashajj Ansari was left behind. He came afterwards, and halted at the halting-place, made his she-camel kneel down, and changed of his traveling clothes, then he came to the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said to him: O Ashajj, you have two characteristics that Allah likes: Forbearance and deliberation. He said: O Messenger of Allah, was I born with them or are they something that I have acquired? He said: No, rather it is something that you were born with. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ حلم اور وقار انسان میں فطری ہوتا ہے، اسی طرح غصہ اور جلد بازی بھی پیدائشی فطری ہوتے ہیں، لیکن اگر آدمی محنت کرے اور نفس پر بار ڈالے تو بری صفات اور برے اخلاق دور ہوسکتے ہیں، یا کم ہوسکتے ہیں، محققین علماء کا یہی قول ہے، اور اگر برے اخلاق کا علاج ممکن نہ ہوتا تو تعلیم اخلاق، محنت و ریاضت اور مجاہدہ کا کچھ فائدہ ہی نہ ہوتا، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ فطری عیوب بہت مشکل سے جاتے ہیں، یا کم ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٦٥، ومصباح الزجاجة: ١٤٨٧) (ضعیف جدا) (سند میں عمارہ بن جو ین متروک ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اشج عصری ؓ سے فرمایا: تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں: ایک حلم اور دوسری حیاء ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said to Ashajj Ansari (RA) : "You have two characteristics that Allah likes: Forbearance and modesty." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٣١، ومصباح الزجاجة: ١٤٨٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البروالصلة ٦٦ (٢٠١١) (صحیح) (سند میں عباس بن فضل انصاری متروک ہے، لیکن حدیث متابعت اور شواہد کی بناء پر صحیح ہے، لیکن لفظ الاناة کے ساتھ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی گھونٹ پینے کا ثواب اللہ تعالیٰ کے یہاں اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے غصہ کا گھونٹ پینے کا ہے ۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: there is no gulp that brings a greater reward with Allah than a gulp of anger that a man swallows (suppresses), seeking thereby the Face of Allah (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٦٩٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٢٨) (صحیح )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، اور سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے، بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کو حق ہے کہ وہ چرچرائے، اس میں چار انگل کی بھی کوئی جگہ نہیں ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور سجدے میں رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور تم بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوتے، اور تم میدانوں کی طرف نکل جاتے اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے ، اللہ کی قسم! میری تمنا ہے کہ میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ۔
It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "I see what you do not see, and I hear what you do not hear. The heaven is creaking and it should creak, for there is no space in it the width of four fingers but there is an angel there, prostrating to Allah. By Allah, if you knew what I know, you would la ugh little and weep much, and you would never enjoy women in your beds, and you would go out in the streets, beseeching Allah. (Hasan) ( Abu Dharr (RA) said:) "By Allah, I WIsh that I were a tree that was CUt to pieces."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٨٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزھد ٩ (٢٣١٢)، مسند احمد (٣/١٧٣) (حسن) (واللہ لوددت کے بغیر حدیث حسن ہے، یہ ابوذر ؓ کا قول ہے، جیسا کہ مسند احمد میں بصراحت آیا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٢٢ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ Allah ﷺ said: "If you knew what I know, you would laugh little and weep much." (Sahih)
عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ بن زبیر ؓ نے ان سے بیان کیا کہ ان کے اسلام اور اس آیت ولا يکونوا کالذين أوتوا الکتاب من قبل فطال عليهم الأمد فقست قلوبهم وكثير منهم فاسقون اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب عطا کی گئی، ان پر مدت طویل ہوگئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں (سورة الحديد: 16) کے نزول کے درمیان جس میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا ہے صرف چار سال کا وقفہ ہے ١ ؎۔
Amir bin Abdullah bin Zubair narrated that his father told him that there was no more than four years between their becoming Muslim and the revelation of this Verse, by which Allah ﷺ reprimanded them: "Lest they become as those who received the Scripture before, and the term was prolonged for them and so their hearts were hardened? And many of them were rebellious."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان لوگوں کی طرح نہ ہو جن کو اگلے زمانہ میں کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر مدت دراز گزری تو ان کے دل سخت ہوگئے ان میں بہت سے لوگ فاسق ہیں۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: میرے سامنے قرآن کی تلاوت کرو ، تو میں نے آپ کے سامنے سورة نساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت فكيف إذا جئنا من کل أمة بشهيد وجئنا بک على هؤلاء شهيدا تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور پھر ہم تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے (سورة النساء: 41) پر پہنچا تو میں نے آپ ﷺ کی طرف دیکھا آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah said: "The Prophet ﷺ said to me: Recite Quran to me: so I recited Sural An-Nisai to him, and when I reached (the Verse): "How (will it be) then, when We bring from each nation a witness and We bring you as a witness against these people?" I looked at him, and his eyes were filled with tears." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنی امت کے برے اعمال کا خیال کر کے اور اس پر کہ مجھے ان پر گواہی دینی پڑے گی، اے مسلمانو! رسول اکرم ﷺ سے شرم کرو اور کوشش کرو کہ رسول اکرم ﷺ تمہارے نیک اعمال کے گواہ ہوں، اور برے اعمال کر کے آپ کو رنج مت دو، اور ضد نفسانیت اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ دو، جو طریقہ حق ہے یعنی اتباع قرآن اور حدیث اس کو اختیار کرو تمہارے نبی تم سے راضی رہیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ٥ (٣٠٢٤)، (تحفة الأشراف: ٩٤٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٩ (٤٥٨٢)، فضائل القرآن ٣٢ (٥٠٤٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٠ (٨٠٠)، سنن ابی داود/العلم ١٣ (٣٦٦٨)، مسند احمد (١/٣٠٨، ٤٣٢) (صحیح )
براء ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک جنازے میں تھے، آپ قبر کے کنارے بیٹھ گئے، اور رونے لگے یہاں تک کہ مٹی گیلی ہوگئی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میرے بھائیو! اس جیسی کے لیے تیاری کرلو ١ ؎۔
It was narrated that Bara said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ funeral, and he sat at the edge of the grave weeping, until the ground became wet. Then he said: O my brothers, prepare yourselves for something like this:" (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: تم اس طرح ایک دن تنگ و تاریک قبر میں ڈالے جاؤ گے، نہ کوئی یار ہوگا، نہ مددگار، نئی راہ اور راہ بتانے والا کوئی نہیں، نہ رفیق صرف اپنے نیک اعمال رفیق ہوں گے، باقی سب چھٹ جائیں گے، مال متاع آل و اولاد، وغیرہ سب یہیں رہ جائیں گے، اور مرنے کے بعد تم کو مٹی میں دبا کے لوٹ کر عیش کریں گے، جب یہ حال ہے تو تم ان کی محبت میں اللہ تعالیٰ کو مت بھولو، نیک اعمال کو ہرگز نہ چھوڑو، اس کو اپنا محبوب اور رفیق سمجھو، جو رشتہ داروں، دوستوں اور بیوی بچوں سے ہزار درجہ بہتر ہے، وہ تمہارا ساتھ کبھی نہ چھوڑے گا، جب نبی اکرم ﷺ دیکھ کر اتنا روئے کہ زمین تر ہوگئی حالانکہ آپ کو اپنی نجات کا یقین تھا، تو ہم اگر آنسوؤں کی ندی بہا دیں بلکہ ساری عمر رویا کریں تو زیبا ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ وہاں ہمارا کیا حال ہوگا۔ اللهم اغفر لنا وارحمنا، آمين۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩١٢، ومصباح الزجاجة: ١٤٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٩٤) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٥٢٧ )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس مومن کی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے آنسو بہہ نکلیں، خواہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، پھر وہ اس کے رخساروں پر بہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دے گا ۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ said"There is no believing slave who sheds tears, even if they are like the head of a fly, out of fear of Allah, and they roll down his cheeks, but Allah will forbid him to the Fire. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٣٤٤، ومصباح الزجاجة: ١٤٩٣) (ضعیف) (سند میں حماد بن ابی حمید الزرقی ضعیف راوی ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة (سورة الومنون: 60) سے کیا وہ لوگ مراد ہیں جو زنا کرتے ہیں، چوری کرتے ہیں اور شراب پیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں: ابوبکر کی بیٹی یا آپ ﷺ نے فرمایا: صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزے رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے، اور نماز پڑھتا ہے، اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کا یہ عمل قبول نہ ہو ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "said: O Messenger of Allah, :And those who give that (their charity) which they give (and also do other good deeds) with their hearts full of fear:(Is this the one who commits adultery, steals and drinks alcohol? He said: No, o daughter of Abu Bakr - or O daughter of Siddiq - rather it is a man who fasts and gives charity and prays, but he fears that those will not be accepted from him." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٢٤ (٣١٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٥٩، ٢٠٥) (حسن )
معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال برتن کی طرح ہیں، جب اس میں نیچے اچھا ہوگا تو اوپر بھی اچھا ہوگا، اور جب نیچے خراب ہوگا تو اوپر بھی خراب ہوگا ١ ؎۔
Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Deeds are like vessels. If the lower part is good then the upper part wil be good, and if the lower part is bad then the upper part will be bad.": (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: پس جو اعمال خلوص اور صدق دل سے کئے جائیں ان کی تاثیر آدمی پر پڑتی ہے، اور لوگ خواہ مخواہ ایسے شخص کو اچھا سمجھتے ہیں، لیکن جو اعمال ریا کی نیت سے کئے جائیں اس کے کرنے والے پر نور نہیں ہوتا، اور تامل سے اس کا خبیث باطن عاقل آدمی کو ظاہر ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٥٨، ومصباح الزجاجة: ١٤٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٤) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٣٤ )