زہد کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 38 · 243 hadiths · Page 6 of 13

4200Sunan Ibne-Majah

عمل کے قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنا۔

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ أَبُو الزِّنَادِ، عَنْالْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فِي الْعَلَانِيَةِ فَأَحْسَنَ، وَصَلَّى فِي السِّرِّ فَأَحْسَنَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَذَا عَبْدِي حَقًّا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک جب بندہ سب کے سامنے نماز پڑھتا ہے تو اچھی طرح پڑھتا ہے، اور تنہائی میں نماز پڑھتا ہے تو بھی اچھی طرح پڑھتا ہے، (ایسے ہی بندے کے متعلق) اللہ عزوجل فرماتا ہے: یہ حقیقت میں میرا بندہ ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a person prays in public and does it well, and he prays in secret and does it well, then Allah says: This man is truly My slave. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٩٣٦، ومصباح الزجاجة: ١٤٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٣٧) (ضعیف) (سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
4201Sunan Ibne-Majah

عمل کے قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمُنْجِيهِ عَمَلُهُ، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو، اور سیدھے راستے پر رہو، کیونکہ تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات دلانے والا نہیں ہے، صحابہ کرام ؓ نے سوال کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اور مجھے بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت وفضل سے مجھے ڈھانپ لے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Be moderate and adhere to moderation, for there is no one among you who will be saved by his deeds." They said: "Not even you, O Messenger of Allah? ﷺ " He said: "Not even me." Unless Allah encompasses me with mercy and grace from Him." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: قاربوا اور سددوا دونوں کے معنی قریب ہی کے ہیں، یعنی عبادت میں اعتدال کرو اور میانہ روی پر مضبوطی سے رہو، جہاں تک خوشی سے ہو سکے عبادت کرو، جب دل اکتا جائے تو عبادت بند کر دو، بعضوں نے کہا: قاربوا کا یہ معنی ہے کہ عبادت سے اللہ تعالیٰ کی قربت چاہو، بعضوں نے کہا: کثرت عبادت سے قرب حاصل کرو لیکن صحیح وہی ترجمہ ہے جو اوپر لکھا گیا اور وہی مناسب ہے اس عبادت کے، کسی کو اس کے اعمال نجات نہیں دیں گے، اس حدیث سے فخر اور تکبر کی جڑ کٹ گئی، اگر کوئی عابد اور زہد ہو تو بھی اپنی عبادت پر گھمنڈ نہ کرے، اور گناہگاروں کو ذلیل نہ سمجھے اس لئے کہ نجات فضل اور رحمت الہی پر موقوف ہے، لیکن اس میں شک نہیں کہ اعمال صالحہ اللہ کے فضل و احسان اور اس کی رحمت و رأفت کا قرینہ ہیں، اور ان سے نجات کی امید قوی ہوئی ہے باقی اختیار مالک کو ہے اللہم اغفرلنا وارحمنا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٣٩٣، ومصباح الزجاجة: ١٤٩٦) (صحیح) (سند میں شریک بن عبداللہ القاضی متفق علیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٦٠٢ )
4202Sunan Ibne-Majah

ریا اور شہرت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، فَمَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ، غَيْرِي فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی اور بےنیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا، اور اس میں میرے علاوہ کسی اور کو شریک کیا، تو میں اس سے بری ہوں، اور وہ اسی کے لیے ہے جس کو اس نے شریک کیا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger Allah ﷺ said: "Allah says: I am , the Most Self,Sufficient and I have no need for an associate. Thus he who does an action for someone , elses sake as well as Mine will have that action renounced by Me to him whom he associated with Me. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٠٤٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٩٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزھد ٥ (٢٩٨٥) (صحیح )
4203Sunan Ibne-Majah

ریا اور شہرت کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ليَوْمَ الْقِيَامَةِ، لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ، نَادَى مُنَادٍ: مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ، فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ.

سعد بن ابی فضالہ انصاری ؓ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بےنیاز ہے ۔

It was narrated from Abu Sad bin Abu Fadalah Al-Ansari, who was one of the Companions, the Messenger of Allah ﷺ said: "When Allah assembles the first and the last on the Day of Recurrection, a day concerning which there is no doubt, a caller will cry out: Whoever used to associate anyone else in an action that he did for Allah, let him seek than reward from someone other than Allah, for Allah is so self- sufficient that He has no need of any associate." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ١٩ (٣١٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٥، ٣/٤٦٦) (حسن) (سند میں زیاد بن میناء ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٥٣١٨ )
4204Sunan Ibne-Majah

ریا اور شہرت کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنْ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، قَالَ: قُلْنَا: بَلَى، فَقَالَ: الشِّرْكُ الْخَفِيُّ، أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يُصَلِّي فَيُزَيِّنُ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس نکل کر آئے، ہم مسیح دجال کا تذکرہ کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسی چیز کے بارے میں نہ بتادوں جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے ؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ پوشیدہ شرک ہے جو یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، تو اپنی نماز کو صرف اس وجہ سے خوبصورتی سے ادا کرتا ہے کہ کوئی آدمی اسے دیکھ رہا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us when we were discussing Dajjal (False if Christ) and said: Shall I not tell .you of that which I fear more for you than Dajjal? We said: Yes: He said: Hidden polytheism, when a man stands to pray and makes it look good because he sees a man looking at him." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور جب کوئی شخص نہ ہو تو جلدی جلدی پڑھ لے، معاذ اللہ، ریا کتنی بری بلا ہے اس کو شرک فرمایا جسے بخشا نہ جائے گا، ایسے ہی ریا کا عمل کبھی قبول نہ ہوگا: فمن کان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرک بعبادة ربه أحدا (سورة الكهف: 110) اس آیت میں شرک سے ریا ہی مراد ہے اور عمل صالح وہی ہے جو خالص اللہ کی رضامندی کے لئے ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی اللہ کی رضا حاصل ک r نے کے لیے ہر طرح کے اعمال شرک سے بچتے ہوئے سنت صحیحہ کے مطابق زندگی گزارے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو قبول فرمائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٢٩، ومصباح الزجاجة: ١٤٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠) (حسن) (سند میں کیثر بن زید اور ربیح بن عبد الرحمن میں ضعف ہے، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
4205Sunan Ibne-Majah

ریا اور شہرت کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَقُولُ يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا وَثَنًا، وَلَكِنْ أَعْمَالًا لِغَيْرِ اللَّهِ وَشَهْوَةً خَفِيَّةً.

شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک سب سے زیادہ خطرناک چیز جس کا مجھ کو اپنی امت کے بارے میں ڈر ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج، چاند یا بتوں کی پوجا کریں گے، بلکہ وہ غیر اللہ کے لیے عمل کریں گے، اور دوسری چیز مخفی شہوت ہے ١ ؎۔

It was narrated from Shaddad bin Aws that the Messenger of Allah ﷺ said: "The thing that I fear most for my nation is associating others with I do not say that they will worhip the sun or the moon or idols, but deeds done for th e sake of anyone other than Allah , and hidden desires." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: مخفی شہوت یہ ہے کہ آدمی ظاہر میں تو یہ کہے کہ اسے عورتوں کا بالکل خیال نہیں ہے، اور جب تنہائی میں عورت مل جائے تو اس سے حرام کا ارتکاب کرے، اور بعض نے کہا کہ شہوت خفیہ ہر اس گناہ کو شامل ہے جس کی دل میں آرزو ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٢١، ومصباح الزجاجة: ١٤٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٣، ١٢٤) (ضعیف) (سند میں عامر بن عبد اللہ مجہول ہیں، اور الحسن بن ذکوان مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
4206Sunan Ibne-Majah

ریا اور شہرت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُرَاءِ يُرَاءِ اللَّهُ بِهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو لوگوں میں شہرت و ناموری کے لیے کوئی نیک کام کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو ذلیل و رسوا کرے گا، اور جس نے ریاکاری کی تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کر دکھائے گا ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ said: "Whoever wants to be heard of, Allah will make him heard of, and whoever wants to be seen, Allah will show him (i.e. make known to the people his true motives and intentions)." (sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٤١، ومصباح الزجاجة: ١٥٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠) (صحیح) (سند میں عطیہ العوفی اور محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن بعد کی حدیث جندب سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
4207Sunan Ibne-Majah

ریا اور شہرت کا بیان۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُرَاءِ يُرَاءِ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللَّهُ بِهِ.

جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ریاکاری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری لوگوں کے سامنے نمایاں اور ظاہر کرے گا، اور جو شہرت کے لیے کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو رسوا اور ذلیل کرے گا ۔

It was narrated from Iundab that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever wants to be heard of, Allah wili make him heard of, and whoever wants to be seen, Allah wili show him (i.e., expose hIs real motives)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٣٤ (٦٤٩٩)، صحیح مسلم/الزھد ٥ (٢٩٨٧)، (تحفة الأشراف: ٣٢٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٣) (صحیح )
4208Sunan Ibne-Majah

حسد کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَمُحَمَّدُ ابْنُ بِشْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشک و حسد کے لائق صرف دو لوگ ہیں: ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، اور پھر اس کو راہ حق میں لٹا دینے کی توفیق دی، دوسرا وہ جس کو علم و حکمت عطا کی تو وہ اس کے مطابق عمل کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے ۔

It was narrated from Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no (permissible) envy except in two cases: A man to whom Allah has given wealth and caused him to dispose of it in a proper manner, and a man to whom Allah has given wisdom, and he acts in accordance with Iand teaches it (to others)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ١٥ (٧٣)، الزکاة ٥ (١٤٠٩)، الأحکام ٣ (١٧٤١)، الاعتصام بالکتاب ١٣ (٧٣١٦)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٧ (٨١٦)، (تحفة الأشراف: ٩٥٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٥، ٤٣٢) (صحیح )
4209Sunan Ibne-Majah

حسد کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشک و حسد کے لائق صرف دو لوگ ہیں: ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا، تو وہ اسے دن رات پڑھتا ہے، دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، تو وہ اسے دن رات (نیک کاموں میں) خرچ کرتا ہے ۔

It was narrated from Salim that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no envy except in two cases. A man to whom Allah has given (knowledge of) the Quran, so he recites it night and day, and a man to whom Allah has given wealth, so he spends it night and day." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ٤٥ (٧٥٢٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٧ (٨١٥)، سنن الترمذی/البروالصلة ٢٤ (١٩٣٦)، (تحفة الأشراف: ٦٨١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦، ٨٨، ١٥٢) (صحیح )
4210Sunan Ibne-Majah

حسد کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَر، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْحَسَدُ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ، كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ، كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَالصَّلَاةُ نُورُ الْمُؤْمِنِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو، اور صدقہ و خیرات گناہوں کو اسی طرح بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو، نماز مومن کا نور ہے اور روزہ آگ سے ڈھال ہے ۔

It was narrated from Anas that Messenger of Allah ﷺ Envy consumes good deeds just as fire consumes wood, and charity extinguishes bad deeds as water extinguishes fire. Prayer is the light of the believer and fasting is a shield against the Fire."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٢، ومصباح الزجاجة: ١٥٠١) (ضعیف) (سند میں عیسیٰ الحناط ضعیف ہیں، لیکن والصيام جنة من النار کا جملہ متعدد احادیث میں ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٩٠١ - ١٩٠٢ )
4211Sunan Ibne-Majah

بغاوت اور سرکشی کا بیان۔

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کے کرنے پر آخرت کے عذاب کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تیار کر رکھا ہے دنیا میں بھی سزا دینی زیادہ لائق ہو سوائے بغاوت اور قطع رحمی کے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Bakrah that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no sin more deserving that Allah hasten the punishment in this world, in addition to what is stored up for him in the Hereafter - than injustice and severing the ties of kinship." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی امام برحق کی اطاعت نہ کرنا اور اس سے مقابلہ کرنے کے لئے مستعد ہونا، اور بعضوں نے کہا بغی سے یہاں ظلم مراد ہے یعنی لوگوں کو ستانا اور ان کی حق تلفی کرنا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ٥١ (٤٩٠٢)، سنن الترمذی/صفة القیامة ٥٧ (٢٥١١)، (تحفة الأشراف: ١١٦٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٦، ٣٨) (صحیح )
4212Sunan Ibne-Majah

بغاوت اور سرکشی کا بیان۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْرَعُ الْخَيْرِ ثَوَابًا، الْبِرُّ وَصِلَةُ الرَّحِمِ، وَأَسْرَعُ الشَّرِّ عُقُوبَةً، الْبَغْيُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے جلدی جن نیکیوں کا ثواب ملتا ہے وہ نیکی اور صلہ رحمی ہے، اور سب سے جلدی جن برائیوں پر عذاب آتا ہے وہ بغاوت و سرکشی اور قطع رحمی ہیں ۔

It was narrated from Aisha (RA) , the Mother of the Believers, that the Messenger of Allah ﷺ said: "The most quickly rewarded of good deeds are kindness and upholding the ties of kinship, and the most quickly punished of evil deeds are injustice and severing the ties of kinship." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٨٢، ومصباح الزجاجة: ١٥٠٢) (ضعیف جدا) (سند میں صالح بن موسیٰ متروک راوی ہے، اور اسے ہی سوید میں کلام ہے )
4213Sunan Ibne-Majah

بغاوت اور سرکشی کا بیان۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى 61 بَنِي عَامِرٍ 61، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شر سے آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلم بھائی کی تحقیر کرے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "It is sufficient evil for a man to look down on his Muslim brother." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البروالصلة ١٠ (٢٥٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ٤٠ (٣٨٨٢)، سنن الترمذی/البروالصلة ١٨ (١٩٢٧)، مسند احمد (٢/٢٧٧، ٣١١، ٣٦٠) (صحیح )
4214Sunan Ibne-Majah

بغاوت اور سرکشی کا بیان۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْسِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ: أَنْ تَوَاضَعُوا، وَلَا يَبْغِي بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع اختیار کرو، اور تم ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah has revealed to me that you should be humble towards one another and should not wrong one another." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٥٣، ومصباح الزجاجة: ١٥٠٣) (صحیح )
4215Sunan Ibne-Majah

تقوی اور پرہیزگاری کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِيرَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، وَعَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ، حَتَّى يَدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ الْبَأْسُ.

عطیہ سعدی ؓ جو (نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ متقیوں کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اس بات کو جس میں کوئی مضائقہ نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لیے نہ چھوڑ دے جس میں برائی ہے ۔

It was narrated from Atiyyah As-Sadi. who was one of the Companions of the Prophet ﷺ , that the Messenger of Allah ﷺ said: "A person will not reach the status of being one of those who have piety until he refrains from doing something in which there is no sin, for fear of falling into something in which there is sin." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ١٩ (٢٤٥١)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٢) (ضعیف) (ترمذی نے اس کی تحسین فرمائی ہے، اور حافظ نے صحیح الاسناد کہا ہے، سند میں عبداللہ بن یزید مجہول راوی ہیں، جن کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، اور ان کی مجہول کی توثیق کو علماء نے قبول نہیں کیا ہے، اس لئے یہ سند ضعیف ہے )
4216Sunan Ibne-Majah

تقوی اور پرہیزگاری کا بیان۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ، قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ، فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ، قَالَ: هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ، لَا إِثْمَ فِيهِ، وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ، وَلَا حَسَدَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر صاف دل، زبان کا سچا صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں، صاف دل کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پرہیزگار صاف دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد ۔

It was narrated that Abdullah bin Amr said: "It was said to the Messenger of Allah ﷺ which of the people is best? He said: Everyone who is pure of heart and sincere of speech. They if said: Sincere of speech, we know what this is, but what is pure of heart? He said: It is (the heart) that is pious and pure, with no sin,injustice, rancor or envy in it. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٣٩، ومصباح الزجاجة: ١٥٠٤) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٥٧٠ )
4217Sunan Ibne-Majah

تقوی اور پرہیزگاری کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، كُنْ وَرِعًا تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ، وَكُنْ قَنِعًا تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحْسِنْ جِوَارَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِمًا، وَأَقِلَّ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوہریرہ! ورع و تقویٰ والے بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہوجاؤ گے، قانع بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ شکر کرنے والے ہوجاؤ گے، اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، مومن ہوجاؤ گے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو، مسلمان ہوجاؤ گے، اور کم ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کردیتی ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "O Abu Hurairah (RA) h, be cautious, and you will be the most devoted of people to Allah. Be content, and you will be the most grateful of people to Allah. Love for people what you love for yourself, and you will be a (true) believer. Be a good neighbor to your neighbors, and you will be a (true) Muslim. And laugh little, for laughing a lot deadens the heart." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٠٥، ومصباح الزجاجة: ١٥٠٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد ٢ (٢٣٠٥) (صحیح )
4218Sunan Ibne-Majah

تقوی اور پرہیزگاری کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ الْمَاضِي بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ، وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ، وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ہے، اور (حرام سے) رک جانے جیسی کوئی پرہیزگاری نہیں ہے، اور اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی عالیٰ نسبی (حسب و نسب والا ہونا) نہیں ہے ۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no wisdom like reflection, no caution like restraint, and no honor like good manners." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٣٧، ومصباح الزجاجة: ١٥٠٦) (ضعیف) (سند میں قاسم بن محمد اور ماضی بن محمد دونوں راوی ضعیف ہیں )
4219Sunan Ibne-Majah

تقوی اور پرہیزگاری کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عالیٰ نسبی (اچھے حسب و نسب والا ہونا) مال ہے، اور کرم (جود و سخا اور فیاضی) تقویٰ ہے ١ ؎۔

It was narrated from Samurah bin Jundab that the Massenger of Allah ﷺ said "Being honorable is wealth and noble character is piety: (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤٩ (٣٢٧١)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠) (صحیح)