ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں، (راوی عثمان بن ابی شیبہ نے کلمہ کی جگہ آیت کہا) اگر تمام لوگ اس کو اختیار کرلیں تو وہ ان کے لیے کافی ہے ، صحابہ کرام ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کون سی آیت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ومن يتق الله يجعل له مخرجا اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نجات کا راستہ نکال دے گا (سورۃ الطلاق: ٢ - ٣) ۔
It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "I know a word - (one of the narrators) Uthman said: "a Verse" - which if all the people followed it, it would suffice them." They said: "O Messenger of Allah ﷺ , which Verse?" He said: "And whosoever fears Allah, He will make a way out for him: (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٥، ومصباح الزجاجة: ١٥٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٧٨، سنن الدارمی/الرقاق ١٧ (٢٧٦٧) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے، کیونکہ ابوالسلیل کی ملاقات ابوذر ؓ سے نہیں ہے )
ابوزہیر ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نباوہ یا بناوہ (طائف کے قریب ایک مقام ہے) میں خطبہ دیا، اور فرمایا: تم جلد ہی جنت والوں کو جہنم والوں سے تمیز کرلو گے ، لوگوں نے سوال کیا: کیسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھی تعریف اور بری تعریف کرنے سے تم ایک دوسرے کے اوپر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو ۔
It was narrated from Abu Bakr (RA) bin Abu Zuhair Ath- Thaqafi that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ addressed us in Nabawah" or Banawah (one of the narrators) said: "Nabawah is near Tairf--- And said: Soon you will be able to tell the people of Paradise from the people of Hell. They said: How," O Messenger of Allah? ﷺ He said: By praise and condemnation.You are Allahs witnesses over one another." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٤٣، ومصباح الزجاجة: ١٥٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٦، ٤٦٦)، سنن الدارمی/الرقاق ١٧ (٢٧٦٧) (حسن )
کلثوم خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں اچھا کام کروں تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میں نے اچھا کام کیا، اور جب برا کروں تو کیسے سمجھوں کہ میں نے برا کام کیا؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: جب تمہارے پڑوسی کہیں کہ تم نے اچھا کام کیا ہے تو سمجھ لو کہ تم نے اچھا کیا ہے، اور جب وہ کہیں کہ تم نے برا کام کیا ہے تو سمجھ لو کہ تم نے برا کیا ہے ۔
It was narrated that Kulthum Al-Khuza`i said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, how can I know, when I have done something good, that I have done well, and if I have done something bad, that I have done a bad deed? The Messenger of Allah ﷺ said: If your neighbors say that you have done something good, then you have done well, and if they say that you have done something bad, then you have done something bad.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١١٦٦، ومصباح الزجاجة: ١٥٠٩) (صحیح) (سند میں کلثوم بن علقمہ الخزاعی ثقہ ہیں، اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو شرف صحبت رسول حاصل ہے، آنے والی ابن مسعود ؓ کی حدیث جس کی تصحیح حاکم ابن حبان نے کی ہے، اور نسائی کے یہاں ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: ١٣٢٧ )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: جب میں کوئی اچھا کام کروں تو کیسے سمجھوں کہ میں نے اچھا کام کیا ہے؟ اور جب برا کام کروں تو کیسے جانوں کہ میں نے برا کام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسیوں کو کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، اور جب تمہارے پڑوسی کہیں کہ تم نے برا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے برا کام کیا ہے ۔
It was narrated that Abdullah said: "A man said to the Messenger of Allah ﷺ : How can I know when I have done well and when I have done something bad? The Prophet ﷺ said: If you hear your neighbors saying that you have done well, then you have done well, and if you hear them saying that you have done something bad, then you have done something bad."(Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٣١٠، ومصباح الزجاجة: ١٥١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٢) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنتی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی اچھی تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو، اور جہنمی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی بری تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said. "The people of Paradise are those whose ears Allah fills with the praise of people when they are listening, and the people of Hell-fire are those whom He fills their ears with condemnation when they are lening." (Hasan)
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: ایک شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام کرتا ہے تو کیا اس کی وجہ سے لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو مومن کے لیے نقد (جلد ملنے والی) خوشخبری (بشارت) ہے ۔
It was narrated from Abu Dharr (RA) : “I said to the Prophet ﷺ : ‘(What do you say about when) a man does a deed for the sake of Allah, and people love him for it?’ He said: ‘That is the immediate glad tidings of the believer.”(Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البروالصلة ٥١ (٢٦٤٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥٦، ١٦٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں کوئی عمل کرتا ہوں، لوگوں کو اس کی خبر ہوتی ہے، تو وہ میری تعریف کرتے ہیں، تو مجھے اچھا لگتا ہے، (اس کے بارے میں فرمائیے) آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے دو اجر ہیں: پوشیدہ عمل کرنے کا اجر اور اعلانیہ کرنے کا اجر ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A man said: O Messenger of Allah ﷺ , I do a good deed, then others find out about it and that pleases me. He said: You will have two rewards, the reward for doing it in secret and the reward for doing it openly (so that others may follow your example).": (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزہد ٤٩ (٢٣٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٣١١) (ضعیف) (سند میں حبیب بن ابی ثابت مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور سعید صدوق راوی ہیں، لیکن صاحب أوہام ہیں )
عمر بن خطاب ؓ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہے، تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہی ہوگی، اور جس کی ہجرت کسی دنیاوی مفاد کے لیے یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے ١ ؎۔
Alqamah bin Waqqas said that he heard Umar bin khattab, when he was; addressing the people, saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Actions are but by intention and every man will have but that which he intended. So he whose emigration was for Allah and His Messenger, his emigration was for Allah and His Messenger. But he whose emigration was for some worldly benefit or to take some woman in marriage , his emigration was for that which he migrated." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کرنے کا اس کو ثواب حاصل نہ ہوگا، یہ حدیث صحیح اور مشہور ہے، اور فقہائے نے اس سے سیکڑوں مسائل نکالے ہیں، اور یہ حدیث ایک بڑی اصل ہے دین کے اصول میں سے۔
ابوکبشہ انماری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس امت کی مثال چار لوگوں جیسی ہے: ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال اور علم عطا کیا، تو وہ اپنے علم کے مطابق اپنے مال میں تصرف کرتا ہے، اور اس کو حق کے راستے میں خرچ کرتا ہے، ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا اور مال نہ دیا، تو وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو یہ دونوں اجر میں برابر ہیں، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا لیکن علم نہیں، دیا وہ اپنے مال میں غلط روش اختیار کرتا ہے، ناحق خرچ کرتا ہے، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ نے نہ علم دیا اور نہ مال، تو وہ کہتا ہے: کاش میرے پاس اس آدمی کے جیسا مال ہوتا تو میں اس (تیسرے) شخص کی طرح کرتا یعنی ناحق خرچ کرتا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔
It was narrated that Abu Al-Anmari said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The likeness of this nation is that of four people: A man to whom AlIah gives wealth and knowledge,so he acts according to his knowledge with regard to his wealth, spending it as it should spent, a man to whom Allah gives knowledge, but he does not give him weaIth, so he says:"If I had been given (wealth) like this one, I would have done what (the first man) did." The Messenger of Allah ﷺ said: They will be equal in reward. And a man to whom Allah gives wealth but does not give knowledge, so he squanders his wealth and spends it in inappropriate ways; and a man to whom Allah gives neither knowledge nor wealth, and he says: "If I had (wealth) like this one, I would do what (the third man) did." The Messenger of Allah ﷺ said: They are equal in their burden (of sin)." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٤٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد ١٧ (٢٣٢٥)، مسند احمد (٤/٢٣٠) (صحیح )
ان دونوں سندوں سے بھی ابوکبشہ ؓ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "People will be resurrected (and judged) according to their to their intentions." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ بری اور فاسق جماعت کے ساتھ اس پر بھی دنیا کا عذاب آجائے لیکن آخرت میں ہر شخص اپنی نیت پر اٹھے گا جیسے اوپر ایک طویل حدیث میں گزرا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٥٣٣، ومصباح الزجاجة: ١٥١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٩٢) (صحیح) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں، لیکن جابر ؓ کی آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ اپنی اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے ۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "People will be gathered (on the Day of Resurrection) according to their intentions." (Sahih)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک چوکور لکیر کھینچی، اور اس کے بیچ میں ایک لکیر کھینچی، اور اس بیچ والی لکیر کے دونوں طرف بہت سی لکیریں کھینچیں، ایک لکیر چوکور لکیر سے باہر کھینچی اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ درمیانی لکیر انسان ہے، اور اس کے چاروں طرف جو لکیریں ہیں وہ عوارض (بیماریاں) ہیں، جو اس کو ہر طرف سے ڈستی یا نوچتی اور کاٹتی رہتی ہیں، اگر ایک سے بچتا ہے تو دوسری میں مبتلا ہوجاتا ہے، چوکور لکیر اس کی عمر ہے، جس نے احاطہٰ کر رکھا ہے اور باہر والی لکیر اس کی آرزو ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that the Prophet ﷺ drew a square, and a the middle of the square lines to the side of the line linemiddle of the square, and a Outside the square, and he said: "Do you know what this is?" They said: "Allah and His Messenger ﷺ know best." He said: "Man is the line in the middle, and these lines to his side are the sicknesses and problems that assail him from all places. If one misses him, another will befall him. The square is his life span, at his neck; and the line outside it is (his) hope." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: آدمی اپنی عمر سے زیادہ آرزو کرتا ہے، اور ایسے بندوبست کرتا اور ایسی عمارت بناتا ہے جن کے مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کی عمر گزر جاتی ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ ابن آدم (انسان) ہے اور یہ اس کی موت ہے، اس کی گردن کے پاس، پھر اپنا ہاتھ آگے پھیلا کر فرمایا: اور یہاں تک اس کی آرزوئیں اور خواہشات بڑھی ہوئی ہیں ١ ؎۔
Anas bin Malik (RA) narrated the Messenger of Allah ﷺ said: "This is the son of Adam, and this is his life span at his neck: then he spread his hand in front of him and said: And there is his hope." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ نے قد آدم تک اشارہ کیا کہ یہ آدمی ہے پھر ذرا کم کر کے بتلایا کہ یہ اس کی عمر ہے پھر اس سے بڑھا کر بتلایا کہ یہ آرزو ہے، یعنی اس کی عمر سے بہت بڑھی ہوئی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی زیادتی کی محبت میں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ :"The heart of an old man is young in the love of two things: Love of life and much wealth." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٠٤٨، ومصباح الزجاجة: ١٥١٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ٥ (٦٤٢١)، سنن الترمذی/الزھد ٢٨ (٢٣٣٨)، مسند احمد (٢/٣٥٨، ٣٩٤، ٤٤٣، ٤٤٧) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن آدم (انسان) بوڑھا ہوجاتا ہے، اور اس کی دو خواہشیں جوان ہوجاتی ہیں: مال کی ہوس، اور عمر کی زیادتی کی تمنا ۔
It was narrated from Anas that the Messenger ,of Allah ﷺ said: "The son of Adam grows old but two things remain young in him: His craving for wealth and his craving for a long life." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر ابن آدم (انسان) کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ یہ تمنا کرے گا کہ ایک تیسری وادی اور ہو، مٹی کے علاوہ اس کے نفس کو کوئی چیز نہیں بھر سکتی، اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اس کی توبہ قبول کرتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Alah ﷺ said: "If the son of Adam had two valleys of wealth, he would love to have a third along with them. Nothing could satisfy him except dust. And Allah accepts the repentance of the One who repents:" (Sahih)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے اکثر لوگوں کی عمر ساٹھ سال سے ستر کے درمیان ہوگی، اور بہت کم لوگ اس سے آگے بڑھیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The ages of (the people in) my nation will be between sixty and seventy, and few of them will exceed that." (Hasan)
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ قسم ہے اس (اللہ) کی جو آپ ﷺ کو (دنیا سے) لے گیا! آپ جب فوت ہوئے تو آپ زیادہ نماز (تہجد) بیٹھ کر ادا فرماتے تھے۔ اور آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ نیک عمل تھا جس پر بندہ ہمیشگی کرے اگرچہ تھوڑا ہو۔
It was narrated that Umm Salamah said: "By the One who took his soul ﷺ , he did not die until most of his prayers were offered sitting down. And the most beloved of deeds to him was a righteous deed which a person persists in doing, even if it is something small." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جو کام ہمیشہ کیا جائے گرچہ وہ روزانہ تھوڑا ہی ہو وہی بہت ہوجاتا ہے، اور جو بہت کیا جائے لیکن ہمیشہ نہ کیا جائے وہ تھوڑا ہی رہتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت (بیٹھی ہوئی) تھی، نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اور پوچھا: یہ کون ہے ؟ میں نے کہا: یہ فلاں عورت ہے، یہ سوتی نہیں ہے (نماز پڑھتی رہتی ہے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھہرو! تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے کی تمہیں طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آپ ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو آدمی ہمیشہ پابندی سے کرتا ہے ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "There was a woman with me, and the Prophet ﷺ entered upon me and said. Who is that? I said: So-and-so; she does not sleep." - she mentioned her excessive praying. The Prophet ﷺ said: Keep quiet. You should do what you are able to, for by Allah, Allah does not get tired (of giving reward) but you get tired:" She said: "The most beloved of religious deed to him was that in which a person persists." (Sahih)
حنظلہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اور ہم نے جنت اور جہنم کا ذکر اس طرح کیا گویا ہم اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہے ہیں، پھر میں اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا، اور ان کے ساتھ ہنسا کھیلا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی جو نبی اکرم ﷺ کے پاس تھی، میں گھر سے نکلا، راستے میں مجھے ابوبکر ؓ مل گئے، میں نے کہا: میں منافق ہوگیا، میں منافق ہوگیا، ابوبکر ؓ نے کہا: یہی ہمارا بھی حال ہے، حنظلہ ؓ گئے اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس کیفیت کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے حنظلہ! اگر (اہل و عیال کے ساتھ) تمہاری وہی کیفیت رہے جیسی میرے پاس ہوتی ہے تو فرشتے تمہارے بستروں (یا راستوں) میں تم سے مصافحہ کریں، حنظلہ! یہ ایک گھڑی ہے، وہ ایک گھڑی ہے ۔
t was narrated that Hanzalah Tamimi Al-Usaiyidi, the scribe said: “We were with the Messenger of Allah ﷺ and we spoke of Paradise and Hell until it was as if we could see them. Then I got up and went to my family and children, and I laughed and played (with them). Then I remembered how we had been, and I went out and met Abu Bakr, and said: ‘I have become a hypocrite!’ Abu Bakr (RA) said: ‘We all do that.” So Hanzalah went and mentioned that to the Prophet ﷺ , who said: “O Hanzalah, if you were (always) as you are with me, the angels would shake hands with you in your beds and in your streets. O Hanzalah, there is a time for this and a time for that.” (Sahih)