Sunan Ibne-Majah 4232

زہد کا بیان

4232Sunan Ibne-Majah

انسان کی آرزو اور عمر کا بیان۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ عِنْدَ قَفَاهُ، وَبَسَطَ يَدَهُ أَمَامَهُ، ثُمَّ قَالَ: وَثَمَّ أَمَلُهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ ابن آدم (انسان) ہے اور یہ اس کی موت ہے، اس کی گردن کے پاس، پھر اپنا ہاتھ آگے پھیلا کر فرمایا: اور یہاں تک اس کی آرزوئیں اور خواہشات بڑھی ہوئی ہیں ١ ؎۔

Anas bin Malik (RA) narrated the Messenger of Allah ﷺ said: "This is the son of Adam, and this is his life span at his neck: then he spread his hand in front of him and said: And there is his hope." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ نے قد آدم تک اشارہ کیا کہ یہ آدمی ہے پھر ذرا کم کر کے بتلایا کہ یہ اس کی عمر ہے پھر اس سے بڑھا کر بتلایا کہ یہ آرزو ہے، یعنی اس کی عمر سے بہت بڑھی ہوئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ٢٢ (٢٣٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ٤ (٦٤١٨)، مسند احمد (٣/١٢٣، ١٣٥، ١٤٢، ٢٥٧) (صحیح )