Sunan Ibne-Majah 4211

زہد کا بیان

4211Sunan Ibne-Majah

بغاوت اور سرکشی کا بیان۔

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کے کرنے پر آخرت کے عذاب کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تیار کر رکھا ہے دنیا میں بھی سزا دینی زیادہ لائق ہو سوائے بغاوت اور قطع رحمی کے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Bakrah that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no sin more deserving that Allah hasten the punishment in this world, in addition to what is stored up for him in the Hereafter - than injustice and severing the ties of kinship." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی امام برحق کی اطاعت نہ کرنا اور اس سے مقابلہ کرنے کے لئے مستعد ہونا، اور بعضوں نے کہا بغی سے یہاں ظلم مراد ہے یعنی لوگوں کو ستانا اور ان کی حق تلفی کرنا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ٥١ (٤٩٠٢)، سنن الترمذی/صفة القیامة ٥٧ (٢٥١١)، (تحفة الأشراف: ١١٦٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٦، ٣٨) (صحیح )