Sunan Ibne-Majah 4199

زہد کا بیان

4199Sunan Ibne-Majah

عمل کے قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنا۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ عِمْرَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ كَالْوِعَاءِ، إِذَا طَابَ أَسْفَلُهُ طَابَ أَعْلَاهُ، وَإِذَا فَسَدَ أَسْفَلُهُ فَسَدَ أَعْلَاهُ.

معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال برتن کی طرح ہیں، جب اس میں نیچے اچھا ہوگا تو اوپر بھی اچھا ہوگا، اور جب نیچے خراب ہوگا تو اوپر بھی خراب ہوگا ١ ؎۔

Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Deeds are like vessels. If the lower part is good then the upper part wil be good, and if the lower part is bad then the upper part will be bad.": (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: پس جو اعمال خلوص اور صدق دل سے کئے جائیں ان کی تاثیر آدمی پر پڑتی ہے، اور لوگ خواہ مخواہ ایسے شخص کو اچھا سمجھتے ہیں، لیکن جو اعمال ریا کی نیت سے کئے جائیں اس کے کرنے والے پر نور نہیں ہوتا، اور تامل سے اس کا خبیث باطن عاقل آدمی کو ظاہر ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٥٨، ومصباح الزجاجة: ١٤٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٤) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٣٤ )