غم اور رونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّعَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُلَمْ يَكُنْ بَيْنَ إِسْلَامِهِمْ، وَبَيْنَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، يُعَاتِبُهُمُ اللَّهُ بِهَا، إِلَّا أَرْبَعُ سِنِينَ: وَلا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ سورة الحديد آية 16.
عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ بن زبیر ؓ نے ان سے بیان کیا کہ ان کے اسلام اور اس آیت ولا يکونوا کالذين أوتوا الکتاب من قبل فطال عليهم الأمد فقست قلوبهم وكثير منهم فاسقون اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب عطا کی گئی، ان پر مدت طویل ہوگئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں (سورة الحديد: 16) کے نزول کے درمیان جس میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا ہے صرف چار سال کا وقفہ ہے ١ ؎۔
Amir bin Abdullah bin Zubair narrated that his father told him that there was no more than four years between their becoming Muslim and the revelation of this Verse, by which Allah ﷺ reprimanded them: "Lest they become as those who received the Scripture before, and the term was prolonged for them and so their hearts were hardened? And many of them were rebellious."(Sahih)