عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے اس وقت ہم اپنی ایک جھونپڑی درست کر رہے تھے، آپ ﷺ نے سوال کیا: یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا: یہ ہماری جھونپڑی ہے، ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے خیال میں موت اس سے بھی جلد آسکتی ہے ۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by us we were fixing a hut of ours, and said: What is this? It is a hut of ours that has fallen into disreparr, and we are fixing it.` The Messenger of Allah ﷺ said: The matter (of death) may come sooner than that.(sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٦٩ (٥٢٣٥، ٥٢٣٦)، سنن الترمذی/الزہد ٢٥ (٢٣٣٥)، (تحفة الأشراف: ٨٦٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦١) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری کے دروازے پر بنے گنبد پر سے گزرے، تو سوال کیا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: یہ گول گھر ہے، اس کو فلاں نے بنایا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مال اس طرح خرچ ہوگا، وہ اپنے مالک کے لیے روز قیامت وبال ہوگا، انصاری کو اس کی خبر پہنچی، تو اس نے اس گھر کو ڈھا دیا، جب دوبارہ نبی اکرم ﷺ وہاں سے گزرے، تو دیکھا کہ وہاں وہ بنگلہ نہیں ہے، تو اس کے بارے میں سوال فرمایا تو بتایا گیا کہ جب اس کو آپ کی کہی ہوئی بات کی خبر پہنچی، تو اس نے اسے ڈھا دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اللہ اس پر رحم کرے ۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by a dome-shaped structure at the door of a man among the Ansar and said: What is this? They said: A dome that was built by so-and-so: The Messenger of Allah ﷺ said: All wealth that is like this (extravagant) will bring evil consequences to its owner on the Day of Resurrection. News of that reached the Ansari, so he demolished it. Then the Prophet ﷺ passed by (that place) later on and did not see it. He asked about it and was told that its owner had demolished it because of what he had heard from him. He said: May Allah have mercy on him, May Allah have mercy on him."(Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٦، ومصباح الزجاجة: ١٤٧٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ١٦٩ (٥٢٣٧) مطولاً (صحیح) (سند میں عیسیٰ بن عبد الاعلی مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٨٣٠ ، سنن ابی داود: میں يرحمه الله کا لفظ نہیں ہے اس کی جگہ پر یہ الفاظ ہیں: كل بناء وبال على صاحبه إلا مالاً یعنی إلا ما لا بد منه )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دیکھا کہ میں نے ایک گھر بنایا جو مجھے بارش اور دھوپ سے بچائے، اور اللہ کی مخلوق نے میری اس میں (گھر بنانے میں) کوئی مدد نہیں کی تھی۔
It was narrated that Ibn umar said: "I had built a house to shelter me from the rain and the sun, during the time of Allahs Messenger ﷺ , and no creature of Allah helped me in building it.(Sahih)
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ ہم خباب ؓ کی عیادت کے لیے آئے، تو آپ کہنے لگے کہ میرا مرض طویل ہوگیا ہے، اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ تم موت کی تمنا نہ کرو تو میں ضرور اس کی آرزو کرتا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: بندے کو ہر خرچ میں ثواب ملتا ہے سوائے مٹی میں خرچ کرنے کے ، یا فرمایا: عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا ہے ۔
It was narrated that Harithah bin Mudarrib said: "We came to Khabbab to visit him (when he was sick), and he said: I have been sick for a long time, and were it not that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Do not wish for death," I would have wished for it. And he said: "A person will be rewarded for all his spending, except for (what he spends) on dust," or he said, fI on building." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٣ (٩٧٠)، صفة القیامة ٤٠ (٢٨٨٣)، (تحفة الأشراف: ٣٥١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠٩، ١١٠، ١١١، ٦/٣٩٥) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١ ٢٨٣ )
عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں ۔
Umar said: ."I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If you were to rely upon Allah with the reliance He is due, you would be given provision like the birds: They go out hungry in the morning and come back with full bellies in the evening." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزھد ٣٣ (٢٣٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠، ٥٢) (صحیح )
ابنائے خالد حبہ اور سواء ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
It was narrated that Habbah and Sawa, the two daughters of KhaIid, said: "We entered upon the Prophet ﷺ When he was doing something, so we helped him with it. Then he said: Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a persons mother bears him red with raw skin,then Allah provides for him." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٤٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٩) (ضعیف) (سلام بن شرحبیل لین الحدیث ہیں )
عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن آدم کے دل میں دنیا کی ہر چیز کی خواہش ہوتی ہے، جس نے اپنا دل تمام خواہشات کے پیچھے لگا دیا، تو اللہ تعالیٰ کو کوئی پروا نہیں کہ وہ اس کو کس وادی میں ہلاک کرے، اور جس نے اللہ پر بھروسہ کرلیا تو ہر طرح کی خواہش کی فکر اس سے جاتی رہے گی ۔
.It was narrated from Amr bin As that the Messenger of Allah ﷺ said: "The heart of the son of Adam has an inclination towards every desirable thing, so whoever follows all of those inclinations, Allah will not care which one will cause his doom. And whoever relies upon Allah, Allah will protect him from the pain of scattered inclinations." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٤١، ومصباح الزجاجة: ١٤٧٨) (ضعیف) (سند میں صالح بن زریق مجہول ہیں، اور ان کی حدیث منکر ہے، قالہ الذہبی، اور سعید بن عبدالرحمن ضعیف ہیں )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے نیک گمان (حسن ظن) رکھتا ہو ۔
It was narrated that Jâbir said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘No one of you should die except thinking positively of Allah.” (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: طاقتور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور و ناتواں مومن سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے، اور ہر ایک میں بھلائی ہے، تم اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں فائدہ پہنچائے، اور عاجز نہ بنو، اگر مغلوب ہوجاؤ تو کہو اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے، جو اس نے چاہا کیا، اور لفظ اگر مگر سے گریز کرو، کیونکہ اگر مگر شیطان کے کام کا دروازہ کھولتا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said, attributing it to the Prophet ﷺ : "The stronger believer is better and more beloved to Allah than the weak believer, Although both are good. Strive to seek that which will benefit you and do not feel helpless. If something overwhelms you, then say: Qadarulah, wa ma sha fa`al (It is the decree of Allah and what He wills He does). And beware of (saying) If only, for If only opens the door to Satan." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٩٥٢)، قد أخرجہ: صحیح مسلم/القدر ٨ (٢٦٦٤)، مسند احمد (٢/٣٦٦، ٣٧٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: .A wise word is the lost property of the believer, so Wherever he finds it, he has more right to it." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بہ نسبت کافر کے مسلمان کو حکمت حاصل کرنے کا زیادہ شوق ہونا چاہیے، افسوس ہے کہ ایک مدت دراز سے مسلمانوں کو حکمت کا شوق جاتا رہا نہ دنیا کی حکمت سیکھتے ہیں نہ دین کی، اور کفار حکمت یعنی دنیاوی علوم اور سائنس وغیرہ سیکھ کر ان پر غالب ہوگئے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ١٩ (٣٦٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٤٠) (ضعیف جدا) (سند میں ابراہیم بن الفضل ضعیف اور منکر الحدیث راوی ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں: صحت و تندرستی اور فرصت و فراغت (کے ایام) ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Saeed bin Abu Hind that his father said: "I heard Ibn Abbas saying that the Messenger of Allah ﷺ said: Two blessings which many people squander: Good health and leisure:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی قدر نہیں کرتے اور یوں ہی ضائع کرتے ہیں۔ اور جب دونوں نعمتیں اللہ تعالیٰ دے تو جلدی خوب عبادت کرلے، علم حاصل کرے، ایسا نہ ہو کہ یہ وقت گزر جائے اور فکر اور بیماری میں گرفتار ہو پھر کچھ نہ ہو سکے گا۔
ابوایوب ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آ کر کہا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ بتائیے، اور مختصر نصیحت کیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ایسی نماز پڑھو گویا کہ دنیا سے جا رہے ہو، اور کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالو جس کے لیے آئندہ عذر کرنا پڑے، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے پوری طرح مایوس ہو جاؤ۔
It was narrated that Abu Ayyub said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah ﷺ , teach me but make it concise. He said: When you stand to pray, pray like a man bidding farewell. Do not say anything for which you will have to apologize. And give up hope for what other people have.": (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٧٦، ومصباح الزجاجة: ١٤٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١٢) (حسن) (سند میں عثمان بن جبیر مقبول عند المتابعہ ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٤٠٠ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھ کر حکمت کی باتیں سنے، پھر اپنے ساتھی سے صرف بری بات بیان کرے، تو اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص کسی چرواہے کے پاس جائے، اور کہے: اے چرواہے! مجھے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری ذبح کرنے کے لیے دو، چرواہا کہے: جاؤ اور ان میں سب سے اچھی بکری کا کان پکڑ کرلے جاؤ، تو وہ جائے اور بکریوں کی نگرانی کرنے والے کتے کا کان پکڑ کرلے جائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The likeness of the one who sits and listens to wisdom then only speaks of the bad things that he has heard, is that of a man who comes to a shepherd and says: "O shephered, give me one of your sheep to slaughter," and (the shepherd) says: Go and grab the ear of the best of them." Then he goes and grabs the ear of the sheepdog."(Da`if) Another chain with similar wording
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٠٤، ومصباح الزجاجة: ١٤٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٣، ٤٠٥، ٥٠٨) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف اور اوس بن خالد مجہول راوی ہیں )
اس سند سے بھی حماد نے اسی طرح روایت کی ہے، اس میں بأذن خيرها کے بجائے بأذن خيرها شاة کا لفظ ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جنت میں نہیں داخل ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر و غرور ہوگا اور وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from AbduIlah bin Masood that "the Messenger of Allah ﷺ said: No one will enter Paradise who has pride in his heart equal to the weight of a grain of mustard seed, and no one will enter Hell who has faith in his heart equal to the weight of a grain of mustard seed." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تو معلوم ہوا کہ اگر رائی کے دانے کے برابر بھی آدمی میں ایمان ہوگا تو وہ تکبر و غرور نہ کرے گا اور جب وہ غرور کرتا ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ذرہ برابر بھی اس میں ایمان نہیں ہے، اور اس کا جنت میں جانا مشکل ہے، اس لیے آدمی کو اس سے ممکن طور پر دور رہنا چاہیے، اور اللہ تعالیٰ سے اس سے چھٹکارا پانے کی دعا کرنی چاہیے، تاکہ آدمی صاف دل اور متواضع طبیعت کے ساتھ دنیا سے جائے، اور ایمان اور عمل صالح کی برکت سے اللہ کی رحمت کا مستحق ہو، اور جنت اس کا آخری ٹھکانہ ہو۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بڑائی (کبریائی) میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند، جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑے، (یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی دعویٰ کرے) میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: " Allah, the Glorified, says: Pride is My cloak and greatness My robe, and whoever competes with Me with regard to either of them, I shall throw him into Hell.": (Hasan)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بڑائی میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند ہے، جو ان دونوں میں سے ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑا کرے گا، میں اس کو آگ میں ڈال دوں گا ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: " Allah the Glorified, says: Pride is My cloak and greatness My robe, and whoever competes with Me with regard to either of them, I shall throw him into Hell." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٥٧٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٨١) (صحیح) (سند میں عطاء بن السائب ہیں، آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٥٤١ )
ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ایک درجہ تواضع کیا، تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا، اور جو اللہ تعالیٰ پر ایک درجہ تکبر اختیار کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ نیچے کر دے گا، یہاں تک کہ اس کو تمام لوگوں سے نیچے درجہ میں کر دے گا ۔
It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of ﷺ said: "Whoever humbles himself one degree for the sake of Allah, Allah will raise him In degree, and whoever behaves arrogantly towards Allah one degree, Allah will lower him in status one degree, until He makes him among the lowest of the low." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٦٧، ومصباح الزجاجة: ١٤٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٧٦) (ضعیف) (سند میں دراج ہیں، جو ابو الہیثم سے روایت حدیث میں ضعیف ہیں، لیکن پہلا جملہ صحیح مسلم میں آیا ہے، لفظ درجة کے بغیر، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٣٢٨ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ اگر اہل مدینہ میں سے کوئی ایک باندی رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑتی تو آپ ﷺ اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے، یہاں تک کہ وہ آپ کو اپنی ضرورت کے لیے جہاں چاہتی لے جاتی ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "If a female slave among the people of AI-Madinah were to take the hand of the Messenger of Allah ﷺ , he would not take his hand away from hers until she had taken him wherever she wanted in Al-Madinah so that her needs may be met." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ کے تواضع کا حال تھا کہ ایک لونڈی کے ساتھ تشریف لے جاتے، اور اس کا کام کردیتے حالانکہ تمام مخلوقات میں آپ افضل اور اعلیٰ تھے، اور بڑے بڑے دنیا کے بادشاہ درجہ میں آپ کے غلام کے غلام سے بھی کم تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٦، ومصباح الزجاجة: ١٤٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٧٤، ٢١٥) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے حدیث صحیح ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مریض کی عیادت کرتے، جنازے کے پیچھے جاتے، غلام کی دعوت قبول کرلیتے، گدھے کی سواری کرتے، جس دن بنو قریظہ اور بنو نضیر کا واقعہ ہوا، آپ گدھے پر سوار تھے، خیبر کے دن بھی ایک ایسے گدھے پر سوار تھے جس کی رسی کھجور کی چھال کی تھی، اور آپ کے نیچے کھجور کی چھال کا زین تھا۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to visit the sick, attend funerals, accept the invitations of slaves and ride donkeys. On the day (of the battle) of Quraizah and Nadir, he was riding a donkey. On the day of Khaibar he was riding a donkey that was bridled with palmfibers and beneath him was a packsaddle made of palmfibers." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٣٢ (١٠١٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٨) (ضعیف) (سند میں مسلم الاعور ضعیف ہیں )
عیاض بن حمار ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا: بیشک اللہ عزوجل نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع و فروتنی اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے ۔
It was narrated from Iyad bin Himar that the Prophet ﷺ addressed them and said: "Allah has revealed to me that you should be humble towards one another so that none of you boasts to another." (Sahih)