Sunan Ibne-Majah 4177

زہد کا بیان

4177Sunan Ibne-Majah

تواضع کا بیان اور کبر کے چھوڑ دینے کا بیان۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَسَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَمَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهَا حَتَّى تَذْهَبَ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي حَاجَتِهَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ اگر اہل مدینہ میں سے کوئی ایک باندی رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑتی تو آپ ﷺ اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے، یہاں تک کہ وہ آپ کو اپنی ضرورت کے لیے جہاں چاہتی لے جاتی ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "If a female slave among the people of AI-Madinah were to take the hand of the Messenger of Allah ﷺ , he would not take his hand away from hers until she had taken him wherever she wanted in Al-Madinah so that her needs may be met." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ کے تواضع کا حال تھا کہ ایک لونڈی کے ساتھ تشریف لے جاتے، اور اس کا کام کردیتے حالانکہ تمام مخلوقات میں آپ افضل اور اعلیٰ تھے، اور بڑے بڑے دنیا کے بادشاہ درجہ میں آپ کے غلام کے غلام سے بھی کم تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٦، ومصباح الزجاجة: ١٤٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٧٤، ٢١٥) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے حدیث صحیح ہے )