Al-Mutaffifin 83:34

Al-Mutaffifin · from ayah 34

83:34

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَ ۟ۙفَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ

تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So Today those who believed are laughing at the disbelievers,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:34

آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آج ایمان والے ان کافروں پر ہنسیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

آخر ہوگا یہ کہ آج ایمان لانے والے کافروں پر ہنس رہے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو آج ایمان والے کافروں سے ہنستے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آج (دیکھو) اہلِ ایمان کافروں پر ہنس رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سو آج ایماندار کافروں پر ہنس رہے ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس آج ایمان واے کفار کے حال پر ہنسیں گے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آج وہ لوگ جو ایمان لائے تھے ان کفار پر ہنس رہے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

سو آج ایمان والے کافروں پر ہنستے ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو آج (قیامت) کے دن اہل ایمان ان کفار پر ہنس رہے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو آج۔ (روز آخر) مومن کافروں سے ہنسی کریں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

But today the believers are laughing at the unbelievers;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, today those who believed will laugh at the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

So, today those who believed will laugh at the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But this Day those who believe will laugh at the disbelievers

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This day it is those who believe who have the laugh of disbelievers,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So Today those who believed are laughing at the disbelievers,

— Saheeh International

On the Day of Judgment, the believers will laugh at the disbelievers

— Muhammad Sarwar

So today those who believe shall laugh at the unbelievers;

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore Today, those who believed at the infidels are laughing,

— Abdul Majid Daryabadi

But on this Day the Believers will laugh at the Unbelievers:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 83:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–36

یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذار سانی کے درپے ہوجاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے اللہ فرماتا ہے کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ہے اخسؤا فیھا الخ یعنی اس جہنم میں پڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–35

سورة الْمُطَفِّفِيْن 14 اس مختصر سے فقرے میں ان مذاق اڑانے والوں کو بڑی سبق آموز تنبیہ کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بالفرض وہ سب کچھ غلط ہے جس پر مسلمان ایمان لائے ہیں۔ لیکن وہ تمہارا تو کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں۔ جس چیز کو انہوں نے حق سمجھا ہے اس کے مطابق وہ اپنی جگہ خود ہی ایک خاص اخلاقی رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اب کیا خدا نے تمہیں کوئی فوجدار بنا کر بھیجا ہے کہ جو تمہیں نہیں چھیڑ رہا ہے اس کو تم چھیڑو اور جو تمہیں کوئی تکلیف نہیں دے رہا ہے اسے تم خواہ مخواہ تکلیف دو ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–36

(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ ، ان آیات میں حق تعالیٰ نے اہل حق کے ساتھ اہل باطل کے طرز عمل کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ کفار اہل باطل مومین اہل حق پر استہزا ہنستے اور دل لگی کرتے ہیں اور جب اہل حق ان کے سامنے آتے ہیں تو یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو آنکھ کے اشارے کرتے ہیں جس سے مقصود بھی ان کی اشتہزا اور ایذا رسانی ہوتی ہے۔ پھر جب یہ کفار اہل باطل اپنے اپنے ٹھکانوں پر لوٹتے ہیں تو مومنین کے ساتھ جو تمسخر اور استہزا کیا ہے اس کا باہم تذکرہ مزے لے کر کرتے ہیں کہ ہم نے خوب ان لوگوں کو ذلیل کیا۔ اور جب کفار مومنین کو دیکھتے ہیں تو بظاہر ہمدردی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کفار کے رویہ کی تفصیل کے بعد اب یہ اس انقلاب حال کا ذکر ہے جو قیامت کے دن واقع ہو گا۔ فرمایا کہ اب تک تو کفار مسلمانوں کے حال پر ہنستے رہے لیکن اب اہل ایمان کفار کے حال پر ہنسیں گے۔ اہل ایمان کا یہ ہنسنا بالکل جائز ہو گا۔ جب انھوں نے کفار پر حجت تمام کر دی اور انھوں نے کوئی اصلاح قبول کرنے کے بجائے الٹے انہی کو مجرم ٹھہرایا تو وہ اسی کے سزاوار ہوں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو کوئی ہمدردی نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–36

5: جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، تسنیم جنت کے ایک چشمے کا نام ہے۔ اس کا پانی جب اس شراب میں ملے گا تو اس کے ذائقے اور لطف میں بہت اضافہ کردے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 34–35

فالیوم ........................ ینظرون (35:83) ” آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں ، مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں “۔ آج کا دن کیسا ہے کہ کفار دیدار ربانی جیسی نعمت سے محروم اور محجوب ہیں۔ اور اس محرومیت کا ان کو بےحد غم ہے ، اس کی وجہ سے ان کی انسانیت گرگئی اور وہ واصل جہنم ہوگئے اور اس جہنم رسیدگی پر مزید یہ کہ ان کی اہانت بھی ہوگی اور سرزنش بھی ہوگی۔ ھذا ................ تکذبون (17:83) ” وہ یہی ہے نا وہ چیز جس کی تم تکذیب کرتے تھے ؟ “ آج کا دن تو یوں ہے کہ اہل ایمان اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھے ہیں اور کفار کے حالات کا نظارہ کررہے ہیں اور دائمی نعمتوں میں مزے لے رہے ہیں ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی قیامت کے دن مسلمان ان کافروں پر ہنستے ہیں کہ یہ لوگ کیسے کوتاہ اندیش اور احمق تھے جو خسیس اور فانی چیز کو نفیس اور باقی نعمتوں پر ترجیح دی۔ آخر آج دوزخ میں کس طرح عذاب دائم کا مزہ چکھ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 32–34

آیت 32{ وَاِذَا رَاَوْہُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَضَآلُّوْنَ۔ } ”اور جب وہ ان اہل ایمان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔“ مخالفین کے ایسے تبصرے طنزیہ بھی ہوسکتے ہیں اور ان میں ہمدردی کا پہلو بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے آج کل بھی ہمیں ایسے فقرے اکثر سننے کو مل جاتے ہیں کہ دیکھیں ! یہ اچھا بھلا ذہین نوجوان تھا۔ بورڈ ٹاپ کیا ‘ یونیورسٹی میں گولڈ میڈل لیا ‘ ملازمت بھی بہت اچھی ملی ‘ لیکن پھر اچانک خدا جانے اسے کیا ہوا کہ اس کا رجحان مذہب کی طرف ہوگیا ‘ اس کے بعد تو اس کی ترجیحات ہی بدل گئی ہیں ‘ اب اسے نہ اپنا خیال ہے اور نہ ملازمت کی فکر ‘ بس رات دن اس کے سر پر تبلیغ کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 33–35

19 یعنی اللہ نے انہیں مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجا تھا کہ ان کی نظروں میں مسلمانوں میں جو جو غلطیاں پائی جاتی ہیں ان کی وہ نشاندہی کیا کریں۔ یعنی اے کفار مکہ ! اگر مسلمان تمہارے خیال کے مطابق غلط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں پھر بھی تمہیں تو کچھ نہیں کہتے۔ پھر کیا اللہ نے تمہیں ان پر فوجدار بنا کر تو نہیں بھیجا کہ اگر تمہیں نہیں ستاتے یا نہیں چھیڑتے تب بھی تمہیں یہ حق ہے کہ ان کو تنگ کرو۔ ان کا مذاق اڑاؤ اور ان پر پھبتیاں کسو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 34–35

16۔ (جہنم میں منکروں اور کافروں کا حال زار) الیوم یعنی آخرت میں، جنت سے، (آیت) ” فالیوم ...... یضحکون “۔ ہنستے اس پر ہوں گے کہ یہ لوگ کس درجہ احمق تھے کہ اتنی واقعہ شہادتوں کے باوجود بھی آخرت کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور بدستور دنیا پرستی اور مادیت ہی میں غرق رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–36

کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی) ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فالیوام الذین امنوا من الکفار یضحکون . یعنی جب مؤمن اپنی اپنی مسہریوں پر بیٹھے دیدار خدا کر رہے ہوں گے اور کافروں کو طوق و زنجیر میں بندھا ہوا دوزخ کے اندر دیکھیں گے تو اس روز مؤمن کافروں پر ہنسیں گے۔ ابو صالح نے کہا : اس کی صورت یہ ہوگی کہ جب کافر دوزخ کے اندر ہوں گے تو دوزخ کے دروازے کھول کر ان سے کہا جائے گا ‘ باہر نکل جاؤ ‘ دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ کافر دروازے کھلے دیکھ کر باہر نکلنے کے لیے دروازوں کی طرف بڑھیں گے۔ مؤمن ان کی یہ حالت دیکھتے ہوں گے ‘ کافر دروازوں پر پہنچیں گے تو یکدم دروازے بند کردیئے جائیں گے۔ ایسی حرکت بار بار ہوگی۔ اس وقت مؤمن کافروں پر ہنسیں گے ‘ جیسے دنیا میں کافر مسلمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–36

(29۔ 36) اور جو مشرک تھے یعنی ابو جہل وغیرہ وہی ایمان والوں یعنی حضرت علی پر ہنسا کرتے تھے اور جب ایمانداروں کا حضور کے پاس آنے کے لیے ان پر سے گزر ہوتا تھا تو آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے اور جب یہ کافر اپنے گھروں کو جاتے تھے تو اپنے شرک پر خوشی اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو دیکھ کر یہ کافر کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ گمراہ ہیں۔ حالانکہ یہ کافر مسلمانوں پر اور ان کے اعمال پر نگراں نہیں بھیجے گئے، سو آج قیامت کے دن ایمان والے کافروں پر ہنستے ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے، واقعی کافروں کو آخرت میں ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا پورا پورا بدلہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فالیوم الذین امنوا…: یعنی قیامت کے دن معاملہ الٹ ہوجائے گا، اب اہل ایمان کفار پر ہسنتے ہوں گے کہ یہ لوگ کس درجہ احمق تھے کہ خود گمراہ ہونے کے باوجود ہمیں گمراہ کہتے تھے اور واضح دلائل کے باوجود نہ انہوں نے پیدا کرنے والے کا حق پہچانا اور نہ آخرت کی فکر کی اور یہ جانتے ہوئے بھی دنیا کی لذتوں میں مست رہے کہ یہ عارضی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–35

فالیوم الذین آمنو من الکفار یضحکون۔ یعنی قیامت کے روز حضور ﷺ پر ایمان لانے والے کفار پر ہنسیں گے جس طرح کفار دنیا میں ان پر ہنسا کرتے تھے اس کی مثل سورة المومنین میں گزرچکی ہے۔ ابن مبارک نے یہ ذکر کیا ہے محمد بن بشارنے قتادہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ہمارے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ کعب کہا کرتے تھے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک روشن دان ہے جب مومن ارادہ کرے گا، کہ دنیا میں جو اس کا دشمن تھا اس کو دیکھتے تو وہ اس روشن دان سے جھانکے گا اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا، فاطلع فراہ فی سواء الجحیم۔ الصافات) اس پر جھانکا تو اسے جہنم میں دیکھا، کہا یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے جھانکا تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–36

24۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فالیوم الذین اٰمنوا من الکفار یضحکون۔ پس آج وہ لوگ جو ایمان لائے کفار سے ہنس رہے ہوں گے۔ کعب ؓ نے فرمایا اہل جنت اور اہل دوزخ والوں کے درمیان روشندان ہوں گے۔ اہل جنت میں سے کوئی آدمی اگر چاہے گا کہ اپنے دشمن کی طرف دیکھے دوزخ والوں میں سے تو وہ ایسا کرے گا۔ 25۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہل ثوب کیا بدلہ دیا جائے گا یعنی کیا کچھ بدلہ دیا گیا

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَالْيَوْمَ الَّذِينَ اٰمَنُوْا : تو آج کے دن وہ لوگ جو ایمان لائے ][ مِنَ الْكُفَّارِ : انکار کرنے والوں سے ][ يَضْحَكُوْنَ : ٹھٹھا کریں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–36

نیک بندوں کا ایمان اور خوشی کا انجام بیان فرمانے کے بعد مجرمین کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو لوگ اہل ایمان کے مخالف ہیں ان سے بغض اور دشمنی رکھتے ہیں دنیا میں ان کا یہ طریقہ تھا کہ جب کہیں اہل ایمان بیٹھے ہوتے اور یہ لوگ وہاں سے گزرتے تو اہل ایمان کا مذاق بنانے کے لیے آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے کہ دیکھو کہ یہ جا رہے ہیں پھٹیچر، جنت کے دعوے دار، تن پر کپڑا نہیں، پاؤں میں جوتا نہیں، بنتے ہیں بڑے اللہ کے پیارے وغیرہ وغیرہ۔ حضرت خباب، حضرت بلال اور دیگر فقراء مومنین ؓ پر ایسی پھبتیاں کستے تھے اور جب یہ مجرمین اپنے گھروں کو جاتے تھے تو خوش ہوتے ہوئے جاتے تھے کہ دیکھو ہم نے بڑا کمال کیا،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–36

کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔ ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 34–36

11:۔ “ فالیوم “ دنیا میں مشرکین مسلمانوں پر ہنستے اور ان کا تمسخر اڑاتے تھے۔ آج قیامت کے دن مسلمان جنت میں تختوں پر بیٹھے کافروں کو دوزخ میں زنجیروں سے جکڑے دیکھ کر ہنسیں گے۔ ” ھل ثوب الکفار “ استفہام تقریر کے لیے ہے یعنی مشرکین و کفار دنیا میں جو کچھ کیا کرتے تھے اس کی ان کو پوری پوری سزا مل گئی۔ سورة مطففین ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–36

(گذشتہ سے پیوستہ اس سورة مبارکہ میں قیامت ہی کا ذکر ہے اس میں تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے۔ ابرار اور۔ فجار کے انجام کا بھی ذکر ہے۔ کہ آئندہ زندگی میں ان کے ساتھ کیا معاملات پیش آنے والے ہیں۔ اب ان آخری آیات میں کفار اور مشرکین کے اس برے سلوک کا ذکر ہے جو وہ اہل ایمان سے روا رکھتے تھے۔ (ایمانداروں کے ساتھ استہزاء) ارشاد دباری تعالیٰ ہے ان الذین اجرمو جو لوگ مجرم یعنی گہنگار ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ کانو من الذین آمنو یضحکون یہ ایمانداروں پر ہنستے ہیں۔ کفار و مشرکین عام طور پر یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں پہلے ادوار میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ۝ 34 ۙ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–36

ترکیب ¦ الذین مع صلۃ اسم ان۔ کانوا اسم کان ضمیر متصل یضحکون خبرھا من الذین امنوا متعلق بیضحکون ای یستہزون منھم فالجملۃ کانوا الخ خبران واذا مروا ای المسلمون بھم بالکفار وہم فی مجالسھم یتغامزون الکفار من الغمز وھو الاشارۃ بالجفون والحواجب واذا انقلبوا ای الکفار شرط انقلبوا جواب اذا فکہین حال منہ قرء عاصم فی روایۃ حفص عنہ فکھین بغیر الف فی ھذا الموضع وحدہ وقراء الباقون فاکھین بالالف فقیل معنا ھما واحد وقیل ان الف کہ الاشرالبطر والفاکھہ الناعم المتنعم واذا شرطیہ وا ای الکفار ھم المسلمین قالوا جواب الشرط وما ارسلوا الجملۃ حال من فاعل قالوا فالیوم منصوب بیضحکون و فاعلہ الذین آمنوا وتقدیم الفاعل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْـکُفَّارِ یَضْحَکُوْنَ ۔ (المطففین : 34) (پس آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کفار کے حال پر ہنس رہے ہیں۔ ) دنیا میں کفار کے طرزعمل کی تصویر دکھانے کے بعد یہ بتایا جارہا ہے کہ قیامت کے دن کس طرح صورتحال بدلے گی کہ دنیا میں جو لوگ مسلمانوں پر ہنستے اور مذاق اڑاتے رہے ہیں آج ان پر ہنسا جائے گا۔ جس طرح وہ مسلمانوں کی بےسروسامانی اور بےچارگی کو تضحیک و استہزاء کا موضوع بناتے تھے آج قیامت کے دن مسلمان ان کی بےبسی پر ہنسیں گے۔ اور جائز طور پر ان کے گزشتہ اطوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہیں گے کہ کہاں گیا وہ ٹھاٹ باٹ اور کہاں گیا ان کا وہ فرعون صفت رویہ اور کہاں گیا ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–36

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کی جہنم میں جانے کی ایک وجہ اور ان کی حالت زار پر جنتی کا خوش ہونا۔ جہنمی کے جرائم میں یہ جرم بھی شامل ہوگا کہ دنیا میں انہیں اللہ کے عذاب اور قیامت سے ڈرایا جاتا تو وہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ایمانداروں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ جب نیک لوگوں کے پاس سے گزرتے تو اپنی آنکھوں اور ہاتھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے۔ انبیاء اور ان کے ساتھی اپنی کمزوری یا شرافت کی وجہ سے ان کے بیہودہ اشاروں کا جواب نہ دیتے تو مذاق اڑانے والے مزید تکبر کا شکار ہوجاتے اور اپنے دوست و احباب اور اہل خانہ کے پاس جا کر اس بات پر اتراتے کہ ہم نے آج ایمان کے دعویداروں کو بہت زچ کیا ہے۔ گمراہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34 : فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنَ الْکُفَّارِ یَضْحَکُوْنَ (پس آج کے دن ایمان والے کفار پر ہنستے ہونگے) الیومؔ سے قیامت کا دن مراد ہے۔ یضحکونؔ کفار جس طرح ایمان والوں سے دنیا میں ہنسا کرتے تھے۔ اسکے بدلے میں مومن ان سے ہنسیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

34 ۔” فالیوم “ یعنی آخرت میں۔ ” الذین امنوا من الکفار یضحکون “ ابو صالح (رح) فرماتے ہیں کہ کفار کے لئے جب وہ جہنم میں ہوں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور ان کو کہا جائے گا تم نکلو۔ پس جب وہ دروازے کھلے ہوئے دیکھیں گے تو ان کی طرف متوجہ ہوں گے تاکہ وہ نکل جائیں اور مومنین ان کو دیکھ رہے ہوں گے۔ پس جب وہ جہنم کے دروازوں تک پہنچیں گے تو ان کے سامنے بند کردیئے جائیں گے، یہ ان کے ساتھ کئی مرتبہ کیا جائے گا اور مومنین ہنستے ہوں گے اور کعب (رح) فرماتے ہیں جنت اور جہنم کے درمیان روشن دان ہیں۔ پس جب مومن اپنے دنیا کے دشمن کو دیکھنے کا ارادہ کرے گا تو اس پر اس روشن دان سے جھانکے گا جیسا کہ فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–36

29۔ 36۔ اوپر جنتوں اور دوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لئے اس مدنی سورة میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ‘ ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ بلالو عمار جیسے غریب مسلمانوں کو طرح طرح کی مسخرا پن کی باتوں میں اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ رشک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول و فعل کی نگرانی و نگہبانی کے لئے نہیں پیدا کئے گئے ہیں جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبیٰ کا دونوں فریق کا یہ حال سنایا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ ) یعنی قیامت کے دن مومن کافروں سے ہنسی کریں گے جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہوگا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے تب ان کی ہنسی ارائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(24) قیامت کے روز کے انقلاب حال کا ذکر بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس انقلاب حال کا ذکر کرتے ہوئے جو کہ قیامت کے روز پیش آئے گا ارشاد فرمایا گیا کہ " پس آج ایمان والے کفار پر ہنسیں گے "۔ کہ کس طرح یہ لوگ آج اپنے کیے کرائے کا عذاب بھگت رہے ہیں، اور جس عذاب اور سزا و جزا کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے آج یہ اسی میں اس بری طرح سے گرفتار ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کفار کے رویے کی تفصیل بیان کرنے کے بعد اب یہ اس انقلاب حال کا ذکر فرمایا گیا ہے جو قیامت کے اس یوم فصل وتمیز میں واقع ہوگا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اب تک تو کفار اہل ایمان کے حال پر ہنستے رہے، لیکن اب اہل ایمان کفار کے حال پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 33–34

ف 7 کہ یہ لوگ کیسے احمق اور کوتاہ اندیش تھے کہ دنیا کی عارضی خوشحالی اور فانی لذتوں کو پا کر ایسے مست ہوگئے کہ آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی اور اس کی پائیدار نعمتوں سے غافل ہوگئے بلکہ الٹا ان لوگوں کا مذاق اڑاتے رہے جو انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:34) فالیوم الزین امنوا من الکفار یضحکون :عاطفہ ہے بمعنی پس، الیوم روز قیامت، آج، آج کے دن۔ دن۔ یضحکون کا مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ الذین امنوا موصول و صلہ مل کر فاعل یضحکون کا۔ اہل ایمان مسلمان۔ من الکفار۔ کفار سے۔ کفار پر۔ جیسے آیت 29: مذکور بالا میں ہے۔ یضحکون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ضحک (باب سمع) مصدر سے۔ وہ ہنستے ہیں۔ وہ ہنسیں گے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے ۔ کافروں پر ہنسیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–36

جنتی اور دوزخی کی پہچان۔ (ف 1) اوپر جنتیوں اودوزخیوں کا ذکر تھا اسی ذکر کو پورا کرنے کے لیے اس مدنی سورت میں کچھ مکہ کے نافرمان صاحب نخوت مشرک لوگوں کا ذکر فرمایا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ابوجہل ولید بن مغیرہ اور اس قسم کے مالدار لوگ غریب مسلمانوں کو طرح طرح کے مسخراپن کی باتوں میں اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تو اس قصہ کا یہ فیصلہ کیا کہ یہ مشرک مالدار لوگ ان غریب مسلمانوں کے قول وفعل کی نگرانی ونگہبانی کے لیے نہیں پیدا کیے گئے جو یہ ہر وقت ان غریب مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں، ان کو اپنے کام سے کام دوسروں سے ان کو کیا غرض اور عقبی کا دونوں فریق کا یہ حال سنادیا کہ وہاں کا معاملہ برعکس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–36

[4] کافروں کو ان کی حرکتوں کا بدلہ مل گیا نا جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–36

مذاق کا بدلہ مذاق 1: کفار کے لئے یہ منظر کتنا تکلیف دہ اور اذیت بخش ہوگا کہ دنیا میں جن لوگوں پر یہ لوگ ہنستے تھے ۔ جن کی تحقیر اور تذلیل کے لئے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے ہوتے تھے ۔ جن لوگوں کو اپنے گھروں میں یہ ہدف طعن وتشنیع بناتے تھے اور جن کو دیکھ پاتے تھے تو بڑی بےباکی اور دلسوزی سے کہتے تھے کہ افسوس یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ یہ بات کہنے کا ان کو کوئی استحقاق نہ تھا ۔ آیا ان کو دیکھیں گے کہ وہ بلندیوں اور رفعتوں کے مالک ہیں ۔ اور مسہریوں پر تمکنت اور وقار سے بیٹھے ان کا مضحکہ اڑا رہے ہیں ۔ آج ان منکرین اور کفار کو ان کے استہزاء اور تمسخر کا پورا پورا بدلہ مل گیا اور آج ان کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–34

ف 5۔ مطلب یہ کہ غیبت و حضور ہر حالت میں مومنوں کی تحقیر و استہزاء کا مشغلہ رہتا ہے۔ البتہ حضور میں اشارے چلا کرتے اور غیبت میں صراحة برائیاں کرتے، حالانکہ مسلمانوں کی تحقیر و استہزاء کی بجائے کفار کو اپنی فکر کرنا چاہئے تھا، انہوں نے ایک تو اہل حق کے ساتھ استہزاء کیا پھر اپنی اصلاح سے بےفکر رہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آج لوگ ایمان لائے وہ کفار پر ہنسیں گے 34 ؎ دنیا میں تو کفار ان غریب مسلمانوں پر طرح طرح کے آوازے بلند کرتے تھے اور ان پر طرح طرح کی پھبتیاں کستے تھے لیکن قیامت کے روز معاملہ اس کے بالکل الٹ ہوگا اور ایمان والے ان کفار کو دیکھ کر ان پر ہنسیں گے کہ تم ہی وہ لوگ ہو کہ دنیا میں ہماری ہوٹنگ (Hooting) کیا کرتے تھے اور آج وہی ہوٹنگ (Hooting) تم سے کی جا رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم آج اپنے کیے کی پاداش میں پکڑے جا چکے ہو اور تم کو تمہارے کیے کا جو بدلہ دیا گیا ہے اس کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ تم اپنے دام میں خود ہی پھنس کر رہ گئے ہو اس وقت تم نے ہم کو اپنی دل لگی کا موضوع بنایا اور آج تم خود اپنے اعمال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–36

إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ (Indeed those who were guilty used to laugh at those who believed, 83:29). In these verses, Allah depicts fully the attitudes of the followers of falsehood [ non-believers ] towards the upholders of truth [ the believers ]. The non-believers used to laugh at the believers in the worldly life. In other words, they would mock at them and despise them. Whenever they would pass by the believers, they would wink at each other in contempt of them. When the non-believers returned home, they would take great pleasure in describing…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–35

14 In this brief sentence the mockers and jesters have been given an instructive warning to the effect: "Even if what the Muslims have believed in, is false, they are not harming you at all They regard something as we and are accordingly adopting a certain moral attitude for themselves, for their own good. AIIah has not appointed you to be keepers over them so that you may be free to criticise and persecute those who are not harming you in any way."

Read the full tafseer →