83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 83:1–3

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

بڑی خرابی ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کی ،

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

کہ جب لوگوں سے ناپ کرلیں پورا ہی لے لیں ،

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب انہیں ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا دیں،1۔

1۔ قرآن مجید، جیسا کہ بار بار گزر چکا ہے، کوئی کتاب محض الہیات یا عقائد کی نہیں، بلکہ اخلاق ودیانات کے بھی سارے شعبوں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ یہاں تعلیم تجارتی اخلاق کی مل رہی ہے۔ اور قریش ایک زبردست تجارت پیشہ قوم تھے۔ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ کمی وبیشی عرف عام یا کسی شرط معلوم و متعارف کی صورت میں جائز ہے۔ (آیت) ” علی الناس “۔ علی یہاں من کے مرادف ہے۔ آیت نے ایسے لوگوں کی بددیانتی کے ساتھ ساتھ ان کی خود غرضی کی طرف بھی اشارہ کردیا۔ خریداری کے وقت تو خوب ہوشیار اور بڑے چوکس رہتے ہیں۔ ایک ایک چیز خوب ناپ جو کھ کر کے اور خوب پرکھ کر کرکے لیتے ہیں، اور بیچتے وقت اس کے برعکس ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” علی الناس یستوفون “۔ نحوعربی کا قاعدہ ہے کہ جب مفعول کو فعل پر مقدم لاتے ہیں، تو معنی مفعول میں تخصیص وتحدید کے پیدا ہوتے ہیں، چناچہ یہاں بھی یہی مفہوم پیدا ہوگیا ہے کہ جب دوسروں سے لینا ہوتا ہے، جب تو پورا ہی لیتے ہیں۔ ویقدم المفعول علی الفعل لافادۃ الخصوصیۃ اے یستوفون علی الناس خاصۃ فاما انفسھم فیستوفون لھا (کشاف) آیت تجارتی اخلاقی کی ایک نبی ادی اور کلیدی آیت ہے، جس سے بیسیوں مسئلے نکل سکتے ہیں اور قرآن مجید کی ان چند آیتوں میں سے ہے، جس کی مدح و توصیف مسیحی پادریوں نے بھی کی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ المطففین “۔ بعض محققین نے تطفیف کو عام وسیع معنی میں لیا ہے، یعنی کمی اور کوتاہی کو صرف وزن وپیمائش کی چیزوں تک محدود نہیں رکھا ہے۔ بلکہ طاعت و عبادت کی ہر چیز کو اس میں داخل رکھا ہے، جیسے کہ چوری صرف مال ہی میں نہیں، ہر شے میں ممکن ہے۔ قال علماء الدین التطفیف فی کل شیء فی الصلوۃ والوضوء ولکیل والمیزان قال ابن العربی کما ان السرقۃ فی کل شیء (ابن العربی)
Ayahs 83:4–6

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا انہیں اس کا یقین نہیں کہ وہ زندہ اٹھائے جائیں گے ،

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

ایک بڑے سخت دن میں ،

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن کہ (تمام) لوگ پروردگار کے روبرو کھڑے ہوں گے،2۔

2۔ (اور اس دن انہیں اپنی ان بےایمانیوں کا بھی جواب دینا ہوگا) تجارتی دیانت وامانت اور کاروبار میں حسن معاملت کے سیاق میں حشر اور اس کی باز پرس کی یاد دہانی انہیں اور مؤکد بنانے کے لیے ہے۔ انفرادی اور اجتماعی دونوں تجربے گواہ ہیں کہ فرد وقوم دونوں کو دیانتدار بنانے میں جرمانہ کی سزاؤں اور جیل کی دھمکیوں سے کہیں زیادہ مؤثر وکار گراندر کا تقوی اور خوب آخرت ہی ہوتا ہے، اور قرآن حکیم ایسے موقعوں پر اسی حربہ سے کام لیتا ہے۔ (آیت) ” یوم ....... العلمین۔ ل۔ سے مراد ہے کہ رب العلمین کے حکم سے اور اس کی نافذ کی ہوئی سزا وجزاء بھگتنے کے لیے۔ اے لامرہ ولجزاۂ ولحسابہ (معالم) یا یہ مراد ہو کہ رب العالمین کی عظمت وتعظیم کے لیے حدیث نبوی میں یہی تفسیر آئی ہے۔ عن ابن عمر ؓ سمعت رسول اللہ ﷺ یقول یوم یقوم الناس لرب العلمین لعظمۃ الرحمن عزوجل (ابن کثیر)
Ayahs 83:7–9

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

ہرگز (ایسا) نہیں (کہ جزا وسزا نہ ہو) بیشک بدکاروں کا نامہ عمل سجین میں رہے گا ،

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور آپ کو کیا خبر کہ سجین (والا نامہ عمل) ہے کیا چیز ؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

ایک رجسٹر ہے نشان کیا ہوا،3۔

3۔ (جس میں کسی تغیروتبدل و ترمیم وتنسیخ کا احتمال ہی نہیں) مطلب یہ ہوا کہ ہر شخص کے اعمال سارے کے سارے منضبط و محفوظ ہیں۔ (آیت) ” سجین “۔ سجن (قیدخانہ) ہی کے معنی میں ہے، اور حرف ہی کی زیادتی معنی میں زیادتی کے اظہار کے لیے ہے۔ زید لفظہ تنبیھا علی زیادۃ معناہ (راغب) تشریح میں مختلف قول نقل ہوئے ہیں، حاصل ولب لباب یہ ہے کہ وہ عالم غیب میں کوئی ایسا مقام ہے، جہاں مجرموں، منکروں کے اعمال نامے محفوظ رہتے ہیں۔ (آیت) ” ما سجین “۔ تقدیر کلام ماکتاب سجین ہے۔ اور حذف مضاف قرآن کے اسلوب بیان میں بہت عام ہے۔ (آیت) ” الفجار “۔ فجار سے مراد وہی لوگ ہیں جو غرق فجور رہے ہیں۔ اور ایمان وتصدیق تک کی نیکی سے محروم۔
Ayahs 83:10–13

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

بڑی خرابی ہے اس روز جھٹلانے والوں کیلئے ،

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

جو روز جزاء کو جھٹلا رہے ہیں ،

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اس کو تو، بس وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے گزرنے والا ہوں، گناہوں میں پڑا ہوا ہو ،

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

(اور) جب اسے ہماری آیتیں سنائی جاتی ہوں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے خرافات ہیں،4۔

4۔ یعنی رسول کی تکذیب پر مصر اور دلیر تو وہی لوگ ہیں، جو فسق وفجور کی کثرت وشدت سے اپنی اخلاقی صلاحتیوں کو پہلے ہی برباد کرچکے ہیں۔ (آیت) ” قال اساطیر الاولین “۔ قرآن کے مکذبین ومنکرین میں بھی ایسے بہت سے گزرے ہیں اور اب بہت سے ایسے ہیں جو اس کی آیتوں اور ان کے مضامین کو سن کر بول اٹھتے ہیں کہ یہ بےسند اور بےبنیاد باتیں تو اگلے صحیفوں اور پرانے نوشتوں سے منقول چلی آرہی ہیں۔ گویا حقانیت قرآں کے خلاف یہ بھی کوئی دلیل ہوسکتی ہے کہ اس کی بیان کی ہوئی بعض روایتیں کسی نہ کسی بگڑی ہوئی شکل میں پہلے ہی بیان ہوچکی ہیں ! عجب مسخ شدہ ذہینت منکرین قرآن کی ہر زمانہ میں رہی ہے۔ قرآن کوئی نئی تعلیم پیش کرے تو یہ کہہ کر اسے رد کردیجئے کہ یہ نئی بات دل کی گڑھی ہوئی ہے۔ اگر صحیح ومستند ہوتی تو آخر پہلے بھی تو کبھی سننے میں آئی ہوتی ! اور قرآن اگر قدیم حقیقتوں کو ان کی اصلی اور غیر محرف شکل میں پیش کرے تو بس یہ کہہ کر انکار کر دیجئے کہ یہ تو پہلے صحیفوں کی نکل یا سرقہ ہے !
Ayah 83:14

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

ہرگز (ایسا) نہیں (کہ جزاء وسزا نہ ہو) اصل یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے کرتوتوں کا زنگ بیٹھ گیا ہے،5۔

5۔ (جس سے ان کی استعداد ہی قبول حق کی فاسد ہوگئی ہے۔ اور اسی سے وہ انکار وتکذیب پر براہ عناد تلے رہتے ہیں۔ ) آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ آدمی اپنی اصل وسرشت سے متمرد ومنکر نہیں، بلکہ اس کے ارادی واختیاری اعمال ہی اس کے دل کو تاریک اور چشم بصیرت کو بےنور اور قبول حق سے دور کردیتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ظلمت قلب جس کا ذکر صوفیہ کے ہاں بکثرت آتا ہے اس کی سند اسی آیت میں ملتی ہے ،
Ayahs 83:15–16

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

ہرگز (ایسا) نہیں (کہ جزاوسزا نہ ہو) یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے روک دیئے جائیں گے ،

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر یہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے،6۔

6۔ (اور یہ دیدار حق سے محجوبی بجائے خود ایک بہت بڑی سزا ہے، جس کا اندازہ کچھ اسی دن ہوگا) یہاں محجوبون مقدم ہے، اور داخلہ جہنم مؤخر ثم کے تحت میں اس سے عارفوں نے نکتہ یہ پیدا کیا ہے کہ اصل سزا دوزخ نہیں بلکہ دیدار الہی سے محرومی ہی ہے اور دوزخ محض اس کا نتیجہ ہے۔ ثم بعد کو نھم معجزبین عن ربھم الداخلون النار (مدارک) آیت سے یہ استنباط بھی کیا گیا ہے کہ مومنین کو رؤیت باری ہوگی ورنہ کافروں کے لیے بطور سزا اس نعمت سے محرومی کے کوئی معنی نہ تھے۔ قال الزجاج فی الایۃ دلیل علی ان ال مومنین یرون ربھم والالا یکون التخصیص مفیدا (مدارک) فلا یرونہ بخلاف ال مومنین (بیضاوی) قال الامام ابو عبداللہ الشافعی وفی الایۃ دلیل علی ان ال مومنین یرونہ عزوجل یومئذ وھذا الذی قالہ الامام الشافعی فی غایہ الحسن وھو الستدلال بمفہوم ھذہ الایۃ کما دل علیہ منطوق قولہ تعالیٰ وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ وکما دلت علی ذلک الاحادیث الصحاح المتواترۃ (ابن کثیر)
Ayahs 83:17–21

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر کہا جائے گا کہ یہی وہ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

ہرگز (ایسا) نہیں (کہ جزاء وسزا نہ ہو) بیشک نیک کاروں کا نامہ عمل علیین میں رہے گا ،

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور آپ کو کیا خبر کہ علیین (والا نامہ عمل) ہے کیا چیز ؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

نشان کیا ہوا رجسٹر ہے ،

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

جس کو مقرب (فرشتے) دیکھتے ہیں،7۔

7۔ (ذوق وشوق کے ساتھ) اس سے مقصود مرتبہ ابرار کے فضل و عظمت کا اظہار ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مجرموں اور نافرمانوں کے لئے عذاب و عقاب یقینی ہے۔ اسی طرح مطیعون اور فرمانبرداروں کا اجر وثواب بھی برحق ہے۔ (آیت) ” المقربون “۔ یہاں ملائکہ مقربین مراد ہیں۔ المقربون من الملئکۃ (کبیر) وھم الملائکۃ قال قتادۃ (ابن کثیر) (آیت) ” علیین۔ سجین “۔ کے مقابلہ کی چیز ہے، اور کوئی ایسا مقام عالم غیب میں ہے، جو نیک کاروں کے اعمال ناموں کے لیے مخصوص ہے۔
Ayahs 83:22–23

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بیشک نیک کار بڑی راحت میں ہوں گے ،

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

مسہریوں پر سے دیکھ رہے ہوں گے،8۔

8۔ (جن کے عجائب ومناظر) ہوسکتا ہے کہ دیدار جمال الہی مراد ہو، اور چونکہ (آیت) ” ینظرون “ محجوبون کے مقابلہ میں آیا ہے، اس لیے قرینہ بھی اسی معنی کو چاہتا ہے۔
Ayah 83:24

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

تو ان کے چہروں ہی سے راحت کی بشاشت جان لے گا،9۔

9۔ (اے مخاطب) مطلب یہ کہ اہل جنت کی مسرتیں نمایاں ہوں گی، اور ان کے چہروں ہی سے جھلک رہی ہوں گی۔
Ayahs 83:25–26

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

انہیں پینے کو شراب خالص ملے گی ،

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

جس پر مشک کی مہر ہوگی،10۔ ایسی ہی چیز کی حرص کرنا چاہیے حرص کرنے والوں کو،11۔

10۔ یعنی نہایت پاکیزہ خوش ذائقہ، خوش رائحہ، (آیت) ” یسقون “۔ کا صیغہ مجہول اہل جنت کے مرتبہ عظمت پر دلالت کررہا ہے۔ 11۔ یعنی تحصیل کے لائق اور شوق کے قابل یہ نعمتیں دنیوی نعمتیں۔ اور ان کی تحصیل کا طریق ایمان وطاعت ہیں۔ (آیت) ” ذلک “۔ اشارہ رحیق کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔ اور نعیم کیطرف بھی، حاصل دونوں کا ایک ہی ہے۔ اے فی الرحیق او النعیم (مدار)
Ayahs 83:27–28

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور اس کی آمیزش تسنیم سے ہوگی ،

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

وہ چشمہ جس سے مقرب بندے پئیں گے،12۔

12۔ (آیت) ” تسنیم “۔ جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے، مقربین اس میں سے برابر پیتے ہی رہیں گے۔ اور ابرار کو بھی شراب خالص کے ساتھ کوئی جزو اس آب تسنیم کا مرحمت ہوتا رہے گا۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ آب تسنیم میں شاید کوئی قوت خاص ہے، جو لذات جسمانی اور غبات نفسانی سے چھڑا کر تمامتر شوق حضور و سرور لقاء پیدا کردیتی ہے، عوام اہل جنت کو اسی لیے اس میں سے کچھ کچھ بقدر ان کے تحمل کے عطا ہوتا رہے گا۔
Ayahs 83:29–31

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

اور جو لوگ مجرم تھے وہ ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے ،

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے سے گزرتے تھے آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے جاتے تھے ،

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب اپنے گھروں کو جاتے تھے دل لگیاں کرتے،13۔

13۔ یہ سب ذکر اسی دنیا میں ہورہا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اس دنیا میں سامنے اور پیچھے ہر طرح ہر وقت اہل ایمان کی تحقیر و استہزاء کا مشغلہ جو لوگ جاری رکھتے تھے۔ (آیت) ” الذین اجرموا “۔ یعنی منکرین ومکذبین۔ جرم آیت میں قرآن کی متعدد دوسری آیتوں کی طرح ایمان کے مقابلہ میں ہے۔ المراد من قولہ ان الذین اجرموا اکابر المشرکین (کبیر) اے اشرکوا (معالم) (آیت) ” المقربون “۔ یہ جنت کے افضل ترین مرتبہ والے ہیں، جن کا ذکرسورۃ الواقعہ (پ 27) میں آچکا ہے۔ بعض محققین نے مراد یہ لی ہے کہ جنت میں مقربین تو مشاہدۂ ذات کی لذت میں مستغرق رہیں گے۔ اور اصحب الیمین یا ابرار مشاہدۂ ذات میں بھی رہیں گے اور مشاہدۂ مخلوقات میں بھی۔ فالمقربون لایشربون الا من التسنیم اے لایشتغلون الا بمطالعۃ وجھہ الکریم واصحاب الیمین یکون شرابھم ممزوجا فتارۃ یکون نظرھم الیہ وتارۃ الی مخلوقاتہ (کبیر)
Ayah 83:32

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب انہیں دیکھتے تو کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ کیسے بھٹکے ہوئے ہیں،14۔

14۔ (اور ایسے احمق جو آج کی دم نقد لذتوں کو ” کل “ کے خیالی وعدوں کے پیچھے چھوڑے ہوئے ہیں ! ) اسی زمانہ کے نہیں، آج بیسویں صدی کے بھی ابوجہل اور ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل مسلمانوں کو ” رجعت پسند “ اور ’ دقیانوسی “۔ اور ” تاریک خیال “ کے خطابات دے دے کر اپنے دل کا بخار نکال رہے ہیں، بعض شاعروں نے اپنی حماقت سے جنت اور اہل جنت پر چوٹیں کی ہیں۔ آیت کے مضمون سے انہیں بھی ڈرنا چاہیے۔
Ayah 83:33

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ یہ ان پر نگراں کرکے نہیں بھیجے گئے،15۔

15۔ (انہیں اہل ایمان پر طنز ومضح کہ کا حق ہی کیا تھا) اس میں ان لوگوں کی مزید حماقت کی طرف اشارہ ہے کہ اپنے انجام کی طرف سے تو غافل ہیں، اور اہل ایمان کی فکر میں خواہ مخواہ پڑگئے ہیں۔
Ayahs 83:34–35

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

سو آج ایمان والے کافروں پر ہنستے ہوں گے ،

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

مسہریوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے،16۔

16۔ (جہنم میں منکروں اور کافروں کا حال زار) الیوم یعنی آخرت میں، جنت سے، (آیت) ” فالیوم ...... یضحکون “۔ ہنستے اس پر ہوں گے کہ یہ لوگ کس درجہ احمق تھے کہ اتنی واقعہ شہادتوں کے باوجود بھی آخرت کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور بدستور دنیا پرستی اور مادیت ہی میں غرق رہے۔
Ayah 83:36

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

واقعی کافروں کو ان کے کرتوتوں کا بدلہ خوب مل کررہا،17۔

17۔ (یہاں تک کہ مومنین سے کافروں کا مضحکہ وطنز بھی بغیرانتقام نہ رہا) ھل یہاں سوالیہ نہیں مؤکدہ ہے، قد کے معنی میں، جیسا کہ سورة الدھر کے بھی بالکل شروع میں آچکا ہے۔ 1۔ (اور مان لے) یہ واقعات قیامت کے نفخہ ثانی کے وقت کے بیان ہورہے ہیں۔ (آیت) ” اذنت لربھا “۔ اذن یا حکم سے مراد پھٹ جانے کا حکم تکوینی ہے۔ (آیت) ” انشقت۔ انفطار “۔ اور انشقاق “۔ اور اسی قسم کے دوسرے الفاظ سے قدیم تفسیر نے یہ نکالا ہے کہ اجرام علوی میں خرق التیام کی قابلیت موجود ہے، اور عجب نہیں کہ مزید تحقیقات کے بعد ماہرین فلکیات کو بھی اسی کی تصدیق کرنا پڑے۔