Ayahs 83:1–3(1) دوہرے معیار کا معاشی جرم باعث لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے دوہرے معیار کے معاشی جرم کا ذکرو بیان فرمایا گیا ہے اور لینے اور دینے کے باٹ الگ الگ رکھنے والوں کے لیے لعنت و ملامت فرمائی گئی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والے ان لوگوں کے لیے جو جب دوسروں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں "۔ " تطفیف " ماخوذ ہے " طفیف " سے جس کے معنی " شیء یسیر " یعنی معمولی چیز کے آتے ہیں۔ کیونکہ ناپ تول میں کمی کرنے والے اس طرح ڈنڈی مار کر جو کچھ کماتے ہیں وہ ہوتا بھی معمولی ہے اور ہوتا بھی گھٹیا اور بےبرکت ہے۔ پس اس طرح اس لفظ میں ہی اس عمل کی تحقیر اور اس سے تنفیر شامل ہے، یہی سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جب بندوں کا اس طرح حق مار دینا بھی اس درجہ ہلاکت اور خرابی کا باعث ہے تو پھر کیا خیال ہے ان لوگوں کے بارے میں جو کہ حضرت حق جل مجدہ کا سب سے بڑا حق مارتے ہیں۔ اور اس کی توحید اور اطاعت و عبادت کے بارے میں " تطفیف " اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ناپ تول میں کمی کرنا اور اس طرح دوسروں کا حق مارنا اور لینے اور دینے کے باٹ الگ الگ رکھنا بڑا ہی سنگین جرم اور ہولناک گناہ ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں کے لیے لعنت اور پھٹکار کا ذکر فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کو جب دوسروں سے لینا ہوتا ہے تو اس وقت یہ بڑے حساس اور چوکس ہوجاتے ہیں، اپنا حق پورا کا پورا لیتے ہیں، اور اس میں رتی ماشے کی کمی بھی گوارا اور برداشت نہیں کرتے۔ لیکن جب دوسروں کو دینا ہوتا ہے تو اس وقت یہ ڈنڈی مارنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں اور اس طرح ایسے لوگ عدل و انصاف کے ان تقاضوں کے خلاف چلتے ہیں جو حضرت فاطر فطرت نے ان کی فطرت کے اندر ودیعت فرما رکھے ہوتے ہیں، جو بڑے خسارے اور ضیاع کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayahs 83:4–5(2) بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو دوہرے معیار رکھنے والے ایسے لوگوں کو جھنجھوڑنے کے لیے ان کو بعث بعد الموت کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر استفہام تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ اس بات کا گمان نہیں کرتے کہ ان کو دوبارہ اٹھنا ہے۔ ایک بڑے ہی ہولناک دن میں اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینے اور اس کا بدلہ پانے کے لیے، تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پائے، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں، اور اپنی کامل اور آخری منزل میں پورے ہوسکیں۔ سو اس ارشاد میں ایسے لوگوں کے حال پر اظہار تعجب بھی ہے اور ان کی سرزنش بھی، یعنی یہ کیسے عجیب لوگ ہیں اور ان کار ویہ کس قدر تعجب خیز ہے کہ یہ اس یوم عظیم کے تقاضوں سے غافل اور اس میں دوبازہ زندہ ہو کر اٹھنے سے نچنت اور بےفکر ہیں۔ حالانکہ اس دن اٹھنے کا داعیہ ہر سلیم الفطرت انسان کی فطرت میں پیوست ہے۔ اگر یہ لوگ اس کی پروا نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے فطرت کی آواز سے اپنے بند کر رکھے ہیں، اور اس طرح یہ لوگ اپنے ہی آپ کو دھوکہ دیتے اور خود اپنے ہی خسارے کا سامان کرتے ہیں، اور اس طرح یہ آنکھیں بند کیے ہوئے اس ہولناک انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے، اور ایسا ہولناک خسارہ کہ اس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دوہرے معیار کا جرم ایک بڑا سنگین معاشرتی جرم ہے جو معاشرتی امن و استحکام کی بنیادوں کو کھوکھلا کردینے والا ہے، مگر افسوس کہ آج دوہرے معیار کے اسی کالے قانون اور ظالمانہ نظام کا دنیا بھر میں دور دورہ ہے، شیطانی قوتیں اس کے ذریعے غریبوں اور مظلوموں کا استحاصل کرتی اور ان کا خون نچوڑتی ہیں، اور دنیا میں ان وقت کے ظالموں کا سب سے بڑا ہدف مسلمان ہیں، جن پر شیطانی استعماری قوتیں طرح طرح کے مظالم ڈھا رہی ہیں، اور نت نئے طریقوں سے ان کی خونریزی اور خون آشامی میں مصروف ہیں، اور کتنے ہی نام نہاد مسلمان ہیں جو اپنی کرسی وغیرہ کے دنیاوی مفادات کی ہوس میں ان شیطانی قوتوں کے آلہ کار اور ان کے پٹھو بنے ہوئے ہیں۔ فالی اللہ الشتکی، وھو المستعان، اللھم ان نجعلک فی نحورھم ونعوذبک من شرورھم، اللھم خذھم اخذ عزیز مقتدر۔ سو ایسے ظالموں کو قیامت کے یوم عظیم کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا " ی لوگ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ ان کو اٹھایا جانا ہے ایک بڑے ہی ہولناک دن میں جس میں انہوں نے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، اور وہ ایسا ہولناک دن ہوگا جس میں کوئی کسی کے کچھ کام نہیں آسکے گا۔ او اس دن کے ہول اور خوف کے مارے بچے بوڑھے ہوجائیں گے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو وہ دن بڑا ہی عظیم اور نہایت ہی ہولناک دن ہوگا، سو اس یوم عظیم میں سب نے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا اور اپنے رب کے حضور پیش ہونا، اور زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا، اور اس کا پھل پانا ہے، تاکہ اس طرح عدل و انصآف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہوسکیں۔ اور رب العالمین کی شان ربوبیت کا تقاضا ہے کہ وہ یوم عظیم بپا ہوتا کہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور ہر صاحب حق کو اس کا حق ملے، اور پورے کا پورا ملے، اس دن کوئی کسی کے کچھ کام نہیں آسکے گا۔ نہ کوئی رشتہ کام آئے گا اور نہ کوئی تعلق۔ سارا دارومدار اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور انسان کے اپنے ایمان و عمل پر ہوگا اور بس۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وعلیہ نتوکل و بہ نستعین فی کل ان وحین، وھو العزیز الرحیم، ذو القوۃ المتین۔
Ayah 83:6(3) رب العالمین کے حضور قیام کی عظمت شان کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس میں یہ کھڑے ہوں گے رب العالمین کے حضور " تاکہ وہ زندگی بھر کے اپنے کیے کرائے کا حساب دے سکیں اور اس کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کیں، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں۔ اور اس کی شان ربوبیت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ یوم عظیم بپا ہو۔ اور ہر کسی کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب کتاب ہو، اور ہر کوئی اپنی زندگی بھر کی کمائی کا پھل پائے، سو کلمہ " رب العالمین " کے اندر اس یوم کی عظمت و اہمیت اس کی حاجت و ضرورت، اور اس کے فیصلوں کی قطعیت وغیرہ تمام اہم اور بنیادی امور کا ذکر وبیان سب کچھ آگیا۔ پس اللہ تعالیٰ کے حضور قیام اور جواب دہی کا خوف اور ڈر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اسی لیے دوسرے مقام پر ان لوگوں کے لیے صاف وصریح طور پر اور ادوات تاکید و حصر کے ساتھ جنت کی سزاواری کا مژدہ جانفزا سنایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوَی۔ فَإِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَأْوَی ( النازعات 40، 41 پ 30) یعنی " جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اس نے روکے رکھا ہوگا اپنے نفس کو خواہشات کی پیروی سے، تو اس کا ٹھکانا یقینی طور پر جنت ہی ہوگا "۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب ملھم الصدق والصواب، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 83:7(4) منکرین و مکذبین کے لیے زجرو تنبیہ کا ذکرو بیان : سو منکرین و مکذبین کے مزاعم باطلہ کی تردید اور ان کے لیے زجر و تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " ہرگز نہیں " یعنی ایسا ہرگز نہیں جیسا کہ ان منکرین و مکذبین نے سمجھ رکھا ہے کہ کوئی حساب کتاب نہیں ہونے کا، بلکہ ہم یونہی مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے کا کوئی سوال نہیں، اور اگر بالفرض اٹھائے بھی گئے تو ہم وہاں بھی عیش کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسا کہنا اور سمجھنا عقل و نقل کے بھی خلاف ہے اور اس حکمت اور غرض وغایت کے بھی منافی و متصادم جس کی بنا پر اس کائنات کے خالق ومالک نے اس دنیا جو وجود بخشا۔ نیز ان لوگوں نے جو یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر ایسا یوم عظیم آیا بھی تو اس میں بھی یہ لوگ اپنی خاندانی وجاہت یادیویوں دیوتاؤں اور اپنے شفعاء اور سفارشیوں کی سفراش سے بچ جائیں گے۔ سو یہ ان لوگوں کی خام خیالی ہے، پس ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ ان میں سے کوئی بھی چیز وہاں کام نہیں آسکے گی، ان کے خود ساختہ شرکاء و شفعاء ان کے مصنوعی دویتے اور دیویاں ان کی فرضی اور وہمی سرکاریں اور ہستیاں وغیرہ۔ سب اس روز ہوا ہوجائیں گی، کسی کا وہاں پر کوئی وجود نظر نہیں آسکے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہُنَالِکَ تَبْلُو کُلُّ نَفْسٍ مَّا أَسْلَفَتْ وَرُدُّواْ إِلَی اللّہِ مَوْلاَہُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (یونس 30 پ 11) یعنی ان سب کو لوٹا دیا گیا ہوگا اللہ کی طرف جو کہ ان کا ملک حقیقی ہے اور کھو چکا ہوگا ان سے وہ سب کچھ جو یہ گھڑتے رہے تھے ( اپنی دنیاوی زندگی میں) پس صحت و سلامتی اور نجات و فلاح کی راہ انسان کے اپنے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار ہی سے وابستہ ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔
(5) سجین کا معنی و مفہوم : سجین دراصل سجن سے ماخوذ ہے جس کے معنی جیل کے آتے ہیں، اور فعیل کے اس صیغے میں تکرار و مبالغہ کا معنی و مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ " الملک الضلیل "، " رجل سکیر " اور " طعام حریف " ای شدید الحرافۃ وھی لذع اللسان ( تفسیر ابن عاشور) اسی معنی و مفہوم کو ظاہر اور واضح کرنے کے لیے ہم نے اس کا ترجمہ ایک نہایت ہی تنگ و تاریک قید خانے کے الفاظ سے کیا ہے۔ وباللہ التوفیق فلہ الحمد والشکر۔ اور روایات میں ہے کہ یہ قید خانہ ساتویں زمین کے نیچے تحت الثری میں ہے۔ ( ابن کثیر، خازن، مراغی، مدارک، صفوہ وغیرہ) بہرکیف وہ بڑا ہی ہولناک قید خانہ ہوگا، جس کو دوزخیوں کے لیے تیار کیا ہوگا۔ اور اس مقام کو اس لفظ سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ وہ روکنے اور قید رکھنے کے اعتبار سے بڑا سخت ہوگا، جو اس میں چلا گیا والعیاذ باللہ العظیم وہ پھر کبھی اس سے نکل اور چھوٹ نہیں سکے گا۔ ( تفسیر ابن عاشور) سو " فجار " کے دفاتر و اعمال نامے اسی مقام میں رکھے گئے ہوں گے، اور یہ کنایہ ہوگا اس بات سے کہ " فجار " اسی مقام میں مقید و محبوس ہوں گے، اور " فجار " کا غالب استعمال کفار و مشرکین ہی پر ہوتا ہے، جیسا کہ سورة عبس میں دوزخیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا أُوْلَئِکَ ہُمُ الْکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ ( عبس 42 پ 30) تفسیر التحریر والتنویر لابن عاشور) اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان ومکان، وانت العزیز الوھاب، جل وعلا۔
Ayahs 83:8–9(6) ایک بڑے ہی ہولناک دفت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا " سجین " کی تعریف و توضیح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایک عظیم الشان کتاب ہے جس میں ان سب دوزخیوں کے نام اور ان کے مراتب و درجات کی تفصیل درج ہوگی، اور لفظ " سجین " کا اطلاق اس نہایت تنگ و تاریک قید خانے پر بھی ہوتا ہے جو کہ اس کا اصل مصداق ہے، اور اسی طرح اس کا اطلاق " سجل " اور رجسٹر پر بھی ہوتا ہے جس میں ان دوزخیوں کے نام درج ہوں گے کہ اسی ریکارڈ کے مطابق یہ لوگ اس قید خانے اور اس کے مختلف درجات میں داخل ہوں گے، اور نار جہنم کا ایندھن بنیں گے ( ابن کثیر، خازن وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم الذی لا الہ الا ھو۔ اوپر والی آیت کریمہ میں " سجین " کا ذکر اس کے لغوی مفہوم میں نہیں بلکہ بطور ایک نام کے آیا ہے، اس لیے قرآن حکیم نے خود ہی اس کی وضاحت فرما دی، اس طرح کے نام اور بھی آئے ہیں۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ ایک ایسا عظیم الشان دفتر ہے جس میں تمام مجرموں کے اعمال کا ریکارڈ بشکل تحریر محفوظ کیا گیا ہوگا، اور بشکل تحریر کی قید سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اس میں کسی سہو و نسیان کا کوئی امکان ہوگا اور نہ اس کے حجت ہونے میں کسی شبہ کی کوئی گنجائش۔ بہر کیف سجین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایک عظیم الشان کتاب ہوگی لکھی ہوئی جس میں مجرموں کے تمام اعمال کا ریکارڈ بشکل تحریر موجود و محفوظ ہوگا، جیسا کہ ابھی اوپر گزرا، اور دوسرا معنی " مرقوم " کا ’ ’ مختوم " بھی کیا گیا ہے یعنی مہرزدہ، یعنی اس دفتر پر مہر لگی ہوئی ہوگی جس کے باعث اس میں کسی طرح کی نہ کوئی کمی کی جاس کے گی اور نہ کسی قسم کا کوئی اضافہ۔ بلکہ وہ دفتر ہر طرح کے شک و اضافہ سے سالم و محفوظ ہوگا، (ابن کثیر، محاسن التاویل، اور قرطبی وغیرہ) سو اس دفتر میں تمام مجرمین کا سارا ریکارڈ بشکل تحریر محفوظ کرلیا ہوگا، جس کی بنا پر وہاں کسی سہو و نسیان کا کوئی خدشہ و امکان نہیں ہوگا، اور نہ ہی اس کے حجت ہونے میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہے، سو اسی ریکارڈ کی بنیاد پر قیامت کے دن اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ کون سا مجرم دوزخ کے کس درجے میں داخل کیے جانے کا حقدار و سزوار ہوگا، سو " سجین " جو کہ " سجن " سے ماخوذ ہے جیسا کہ ابھی حاشیہ نمبر 6 میں ذکر ہوا ہے اس کے معنی قید خانے کے ہیں، اور اسی مناسبت سے مستحقین سزا کے دفتر اور اس کے ریکارڈ آفس کا نام " سجین " رکھا گیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے حفاظت اور پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، ویا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شی۔
Ayahs 83:10–11(7) منکرین و مکذبین کے ہولناک انجام کا ذکرو بیان : سو اس سے واضح فرمایا دیا کہ منکرین و مکذبین کے لیئے اس روز بڑی خرابی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی ہوگی ان جھٹلانے والوں کے لیے جو جھٹلاتے ہیں بدلے اور جزاء کے دن کو، سو جن لوگوں نے جزا و سزا کو جھٹلا کر لاپرواہی کی زندگی گزاری ہوگی ان کے لیے بڑی خرابی ہے، کیونکہ یوم جزا کی تکذیب دراصل جڑ بنیاد ہے تمام برائیوں اور جملہ خرابیوں کی، کہ اس کے بعد انسان ایک غیر ذمہ دار انسان بلکہ بدترین حیوان اور شر البریہ ( بدترین مخلوق) بن کر رہ جاتا ہے، بلکہ وہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر بدترین ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس روز وہ دیکھیں گے کہ ان کا سب کیا کرایا اس ریکارڈ میں محفوظ ہے اور اس کے وبال سے بچنے کی کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ ہوگی۔ اور یہ خساروں کا خسارہ ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
Ayah 83:12(8) جرم تکذیب و انکار کے اصل سبب اور باعث کی نشاندہی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور جرم تکذیب و انکار کے اصل سبب اور باعث اور منکرین و مکذبین کی تعیین و تشخیص کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کو کوئی نہیں جھٹلاتا مگر وہی جو حد سے بڑھنے والا گناہگار ہے "۔ یعنی جو عبدیت و بندگی کی حدود سے نکل کر طغیان و سرکشی کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے ان لوگوں کی تعیین و تشخیص اور نشاندہی فرما دی گئی جو سزا و جزا کے اس یوم عظیم کو جھٹلانے میں پیش پیش ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی تکذیب وہی لوگ کرتے ہیں جو حدود سے تجاوز کرنے والے حق تلفی کرنے والے ہیں، پس جس کے دل میں عدل اور رحم کی ادانی رمق بھی ہوگی وہ اس یوم عظیم کی تکذیب کی جرات نہیں کرسکتا۔ " عدوان " اور " اثم " کے معنی میں فرق ہوتا ہے کہ " عدوان " اور " اعتدای " اس کو کہتے ہیں کہ کوئی دوسروں کے حقوق میں دست درازی کرے۔ اور " اثم " یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں وہ ان کو نہ ادا کرے بلکہ وہ ان کو دبا دے، اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں صورتیں ممنوع و محرم ہیں۔ لیکن جن لوگوں کو دوسروں کے حقوق غصب کرنے کی چاٹ لگ جاتی ہے والعیاذ باللہ العظیم وہ سزا و جزا سے فرار کی راہ نکالنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں، تاکہ اس طرح ان کا ضمیر ان کی تعدیوں، زیادتیوں اور حق تلفیوں کی خلش سے بچ سکے۔ بَلِ الْإِنسَانُ عَلَی نَفْسِہِ بَصِیْرَۃٌ۔ وَلَوْ أَلْقَی مَعَاذِیْرَہُ ( القیامہ۔ 15، 14 پ 29) اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، اور ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان و مکان، وانت العزیز الوھاب۔
Ayah 83:13(9) مکذبین کے طریقہ تکذیب کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین و مکذبین کے طریقہ تکذیب کی طرف اشارہ کے طور پر فرمایا گیا کہ " جو اللہ کی آیتوں کو پہلے لوگوں کے افسانے قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ نہیں ہے مگر قصے کہانیاں اور افسانے پہلے لوگوں کی "۔ جن کو آسمانی وحی اور تنزیل کہہ کر پیش کیا جارہا ہے والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں جو جب ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں " چلو ہٹو " یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں اور بس "۔ اس لئے ہم ان کو ماننے اور ان پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں، سو اس طرح ایسے لوگ پیغام حق و ہدایت کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس کے نتیجے میں نور حق و ہدایت سے وہ خود بھی محروم رہیں اور دوسروں کو بھی محروم کریں۔ اور منکرین و مکذبین کا یہی حال پہلے تھا اور یہی آج ہے، ایسے لوگوں کے سامنے جب حق کی دعوت پیش کی جاتی ہے تو یہ اپنے خاص انداز اور مخصوص سٹائل میں سر جھٹک کر کہتے ہیں صاحب، یہ پرانے وقتوں کی باتیں ہیں اب دنیا بہت آگے چلی گئی ہے اور ہم نے بڑی ترقی کی، اور یہ اور یہ کرلیا، اور ایسے اور ایسے تیر مار دیے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اور اس کے نتیجے میں ایسے متکبر اور برخود غلط لوگ نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر تہ در تہ اندھیروں کے اندر گھر کر اور ڈوب کر رہ جاتے ہیں، اور اس طور پر کہ ان کو اپنی محرومی کا کوئی احساس بھی نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہیں الَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُونَ أَنَّہُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعا ( الکہف، 104 پ 16) یعنی اپنے ہولناک خسارے کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ٹھیک ہیں، اور ان کے طور طریقے درست ہیں تو پھر ایسوں کی اصلاح کیونکر ممکن ہوسکتی ہے ؟ بھلا جب بیمار اپنی بیماری ہی کو صحت قرار دینے لگے تو پھر وہ اس کا علاج کیوں کرے گا ؟ اور اس کو بیماری سے افاقہ کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو برائی کو اچھائی سمجھنا خرابی کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذ باللہ العظیم، من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، من کل سوء وشر۔
Ayah 83:14(10) مکذبین کے دلوں کے زنگ کا ذکرو بیان، والعیاذ باللہ جل وعلا : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور مکذبین کی تکذیب کی اصل علت کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگوں کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے ان کی اپنی کمائی کا "۔ اور دلوں کے اس زنگ نے ان کو ایسا تباہ و برباد کردیا ہے کہ یہ لوگ حق و باطل کے درمیان فرق وتمیز کی اہلیت و صلاحیت ہی کھو بیٹھے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب انسان کوئی گناہ کرتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم تو اس سے اس کے دل پر ایک سیاہ داغ پڑجاتا ہے، پھر اگر اس نے سچی توبہ سے اس کو معاف کرالیا تو وہ داغ صاف ہوجاتا ہے ورنہ اس کی سیاہی بڑھتی اور پھیلتی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ چناچہ حضور ﷺ نے فرمایا یہی وہ " ران " اور زنگ ہے جو ایسے سیاہ بختوں کے دلوں پر چھا جاتا ہے اور جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے ( روح، ابن کثیر، قرطبی، مراغی اور خازن وغیرہ) اور اس سیاہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد انسان کو گناہ گناہ ہی نہیں لگتا، بلکہ وہ اپنی برائی کو بھی اچھائی سمجھنے لگتا ہے، اور یہ مرض کا سب سے زیادہ خطرناک اور مہلک حملہ ہوتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا أَفَمَن زُیِّنَ لَہُ سُوء ُ عَمَلِہِ فَرَآہُ حَسَناً فَإِنَّ اللَّہَ یُضِلُّ مَن یَشَاء ُ وَیَہْدِیْ مَن یَشَاء ُ فَلَا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیْْہِمْ حَسَرَاتٍ إِنَّ اللَّہَ عَلِیْمٌ بِمَا یَصْنَعُونَ (فاطر 8 پ 22) یعنی " کیا اس شخص کی بدبختی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس کے لیے اس کے برے عمل کو مزین و خوشنما بنادیا گیا ہو، جس سے وہ اسے اچھا سمجھتا ہو "۔ سو یہ بدبختی کی انتہا ہے کہ انسان اپنے برے عمل کو اچھا سمجھنے لگے کہ اس کے بعد نہ وہ برے عمل کو چھوڑتا ہے اور نہ اس سے توبہ کرتا ہے اور نہ ہی وہ صحیح راستے کی طرف متوجہ ہوتا اور عمل کی فکر کرتا ہے اور اس طرح وہ اپنے ہولناک انجام کی طرف بڑھتا ہی چلا جاتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع وضلال و سوء و انحراف من کل سوء وشر۔
Ayahs 83:15–17(12) مکذبین کی تذلیل و تفضیح کے ایک منظر کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار ان کو بہرحال دوزخ میں داخل ہونا ہوگا، پھر وہاں پر ان سے کہا جائے گا کہ " یہی ہے وہ چیز جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے " یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں، اور تم لوگ حق کی دعوت کو سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہورہے تھے اس طرح ان لوگوں کے درد و الم میں مزید از مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ والعیاذ باللہ۔ اور یہ مارے حسرت و افسوس کے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے کہ کاش کہ ہم ایمان لائے ہوتے، ہم نے حق کو قبول کیا ہوتا، مگر بےوقت کے اس افسوس اور پچھتاوے سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے حسرت و افسوس میں اضافہ کے والعیاذ باللہ العظیم۔ حرف " ثم " کے تکرار سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس موقع پر یہ بات ان لوگوں سے خاص اہتمام کے ساتھ کہی جائے گی، اور اس سے مقصود ان کی تذلیل و تفضیح ہوگی کہ جس چیز کو تم لوگ زندگی بھر پورے شد وعد سے جھٹلاتے اور اس کی تکذیب و مخالفت کرتے رہے تھے اب وہ تمہارے سامنے موجود ہے، سو اب تم اس کا مزہ چکھو اور چکھتے ہی رہو، کہ اب تمہارے لیے اس سے بچنے اور خلاصی پانے کی کوئی صورت ممکن نہیں، سو اس سے جو ان پر گزرے گی اس کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو قرآن حکیم کے اپنے کرم بےپایاں سے اس قدر پیشگی اور اتنی وضاحت کے ساتھ اس سے خبردار کردیا ہے تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے، قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتماد۔
Ayahs 83:18–19(13) نیکوکاروں کے انجام کا ذکرو بیان : سو بدکاروں کے انجام کے زکرو بیان کے بعد اب نیکوکاروں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کا دفتر " علیین میں ہوگا۔ اور تم کیا جانو کیا ہے وہ " علیون "۔ علیون " اصل میں تو جمع ہے، " علی " کی جو کہ ماخوذ ہے " علو " سے بمعنی بلندی، مگر اس کے معنی جمع کے نہیں مفرد کے ہیں کہ یہ لفظ جمع سے منقول ہو کر علم بن گیا اس خاص مقام کا جو کہ آثار و روایات کے مطابق ساتویں آسمان سے اوپر اور عرش کے نیچے ہے، اور جہاں انبیاء و صلحا اور برابر و متقین کی روحیں رکھی جاتی ہیں ( صفوۃ البیان، روح، کبیر، مدارک، ابن کثیر اور خازن وغیرہ) اور اس مقام کا یہ نام اس کے علوشان کی بنا پر رکھا گیا ہے، نیز ان حضرات کی عظمت شان کی بنا پر جن کے نام وہاں موجود ہوں گے۔ پس جس طرح " سجین " کا ذکر اس کے ہوال کے اظہار کے لیے ہوا ہے، اسی طرح " علیوں " کا ذکر اس کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے ہوا ہے، سو اس سے اہم اور بنیادی حقیقت کو ظاہر اور واضح فرمادیا گیا کہ نیک و بد یکساں نہیں ہوسکتے، جس طرح کہ باطل پرستوں نے سمجھ رکھا ہے، بلکہ بدکاروں کا دفتر اور ان کا ریکارڈ سجین کے انتہائی ہولناک قید خانے میں ہے، اسی طرح نیکوکاروں کا دفتر " علیین " کے اعلی ترین مقام میں اور " علیون " ایک ایسا عالی شان دفتر ہے جس کی ہر چیز بشکل تحریر محفوظ ہے، اور اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب فرشتے اس کی نگرانی کرتے ہیں، اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب۔
Ayahs 83:20–22(14) نیکوکاروں کے لیے نعیم جنت کا مژدہ جانفزا : سو نیکوکاروں کی فائز المرامی کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک نیک لوگ بڑی ہی عظیم الشان نعمتوں میں ہوں گے، اتنی بڑی اور اس قدر عظیم الشان نعمتوں میں کہ اس جہان میں ان کا تصور بھی کسی کے بس میں نہیں، اللہ پاک نصیب فرمائے، آمین۔ یہ ان نعمتوں کا ذکر آرہا ہے جو وہاں پر ابرار کو حاصل ہوں گے " فی نعیم " کے اسلوب بیان میں جب بات کی جاتی ہے تو اس سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ وہ ہر طرف سے نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں گے، ان کی نگاہیں جدھر بھی اٹھیں گی ان کو نعمتیں ہی نعمتیں نظر آئیں گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تم وہاں دیکھو گے تو تمہیں ہر طرف نعمتیں ہی نعمتیں نظر آئیں گی، اور تم ایک بہر بڑی بادشاہی دیکھو گے " ( الدھر 20 پ 29) اللہ نصیب فرمائے محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین۔ سو نیکوکاروں کو ان کے ایمان و یقین، ان کے صدق و اخلاص اور ان کے عمل و کردار کے نتیجے میں حضرت واہب مطلق، جل جلالہ کی طرف سے ایسی ایسی عظیم الشان نعمتوں سے نوازا جائے گا کہ اس جہان میں ان کا تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں۔ جعلنا اللہ منھم بمحض منہ وکرمہ واحسانہ، وھو ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں میں چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین واکرم الاکرمین۔
Ayah 83:23(15) اہل جنت کے کیف و سرور کا ذکرو بیان : سو اہل جنت کے کیف و سرور کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے "۔ یعنی وہ جنت کے عجائب اور دلربا مناظر کے نظارے کرنے اور ان سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے، جنت کی ان عظیم الشان اور بےمثال نعمتوں سے جن سے حضرت حق جل مجدہ نے اپنے کرم بےمثال و لازوال سے ان کو نوازو ہوگا۔ اللہ نصیب فرمائے آمین۔ اوپر " فجار " سے متعلق ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنے رب کی دید و لقاء اور اس کے افضال و عنایات سے محروم ہوں گے، اس کے بالکل برعکس یہاں پر ابرار کا حال اس طرح بیان فرمایا گیا کہ وہ بلند پایہ تختوں پر بیٹھے اپنے رب کی عنایات و افضال اور اس کی مختلف شانوں اور طرح طرح کے جلووں اور نظاروں سے لطف اندوز ہوتے اور ان سے فیضیاب ہورہے ہوں گے، اللہ نصیب فرمائے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث میں وارد و منقول ہے کہ سب سے کم درجے کا جنتی وہ ہوگا جس کی جنت دو ہزار برس کی مسافت پر پھیلی ہوگئی ہوگی، وہ اس کے آخری کونے کو بھی اس طرح دیکھے گا جس طرح کہ اپنے نزدیک والے حصے کو دیکھے گا، اور سب سے اعلی درجے کا جنتی وہ ہوگا جو دن میں دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی زیارت سے سرفراز و سرشار ہوگا ( ابن کثیر، وغیرہ) سبحان اللہ۔ حضرت حق جل مجدہ کی دید و زیارت کی نعمت کتنی بڑی اور کس قدر عظیم الشان نعمت ہوگی، اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا ارحم الرحمین واکرم الاکرمین۔
Ayahs 83:24–28(18) اس شراب کی ایک اور خصوصیت کا ذکرو بیان : سو اس شراب طہور کی ایک اور خصوصیت کے ذکرو بیان کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی آمیزش تسنیم سے ہوگی "۔ " تسنیم " اصل میں ماخوذ ہے " سنام " سے، جس کے معنی کوہان اور بلندی کے ہیں، یعنی یہ چشمہ جو کہ نہایت عمدہ اور اعلی قسم کا چشمہ پوگا بلندی سے بہتا ہوا آرہا ہوگا، سو یہ شراب جنت کا سب سے اعلی اور اشرف شراب ہوگی جس سے اہل جنت کو نوازا جائے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ یہ شراب مقربین کے لیے خاص ہوگی اور باقی اہل جنت کو اس کی آمیزش ملے گی (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، مدارک وغیرہ) " مزاج " کے معنی آمیزش ملونی کے ہوتے ہیں اور اس سے مراد ہے کہ وہ آمیزش اور ملونی جو پینے والے پیتے وقت شراب کے اندر ملا دیتے ہیں تاکہ اس سے اس کے کیف و سرور میں اضافہ ہوجائے یا اس کے اندر اعتدال پیدا ہوجائے، سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس شراب میں تسنیم کی آمیزش و ملونی ہوگی، پھر تسنیم کی تعریف خود فرما دی کہ وہ ایک عظیم الشان چشمہ ہوگا جس کے ساتھ مقربین وہ شراب پئیں گے۔ " بھا " کے حرف " بائ " کے اندر دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ یہ اتصال و ملابست کے لیے ہو کہ وہ شراب کو تسنیم کی آمیزش و ملونی کے ساتھ پئیں گے، اور دوسرے یہ کہ یہ ’ ’ بائ " ظرفیہ ہو یعنی وہ اس شراب کو چشمہ تسنیم کے کنارے بیٹھ کر پئیں گے۔ اور اس طرح وہ لب جو پینے کے لطف و سرور سے بھی محظوظ اور لطف اندوز ہوں گے، کیونکہ مے نوشی کے لوازم میں سے یہ چیز بھی ہے کہ وہ لب جو ہو، دنیا میں شراب خانہ خراب کے رسیا لوگوں کا معاملہ تو الگ ہے کہ ان کو تو جس طرح بی ملے پی لیتے ہیں، یہاں تک کہ اگر پیالہ نہیں ملتا تو چلو ہی سے پی لیتے ہیں، لیکن مقربین کی بزم مے نوشی کی شان بالکل الگ ہوگی اور اس کے آداب بھی اور ہوں گے، سو وہاں کی ہر حال نرالی اور ہر کیفیت بےمثال ہوگی، اور ایک طبعی امر ہے کیونکہ یہ سب کچھ عطاء بخشش ہوگا اس ذات اقدس و اعلی کی طرف سے جو کہ " رب العالمین، وارحم الرحمین اور اکرم الاکرمین " ہے۔ سبحانہ وتعالی۔
Ayah 83:29(19) ایمان والوں سے ہنسنے کے جرم کا ذکرو بیان۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مجرم لوگ ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے " سو وہ ان پر طرح طرح کے آوازے کستے، فقرے بازیاں کرتے اور پھبتیاں چست کرتے تھے، جیسا کہ نزول قرآن کے زمانے میں ہوتا تھا اور اس کے بعد اس زمانے سے لے کر آج تک ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے، اس زمانے میں ابو جہل اور اس کی پارٹی اس طرح کرتی تھی اور اس کے بعد ان کے جانشین اور ان کے اخلاف ہر دور میں ایسے ہی کرتے رہے ہیں اور اج تک کرتے چلے آرہے ہیں۔ البتہ زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ حق و ہدایت کی دولت سے محروم و بےبہرہ ان مجرموں نے اس ضمن میں اور بھی ترقی کرلی ہے۔ چناچہ اب یہ لوگ اہل حق کی تحقیر و تذلیل کے لیے طرح طرح کے کارٹون بناتے، تصویریں بناتے، ڈرامے سٹیج کرتے، افسانے گھڑتے، ناولیں لکھتے، فلمیں بناتے اور آڈیو کیسٹیں تیار کرتے ہیں اور ان کو جگہ جگہ پھیلاتے اور تقسیم کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جعل اللہ کیدھم فی نحورھم و وقانا من شرورھم۔ اور ایمان والوں کا مذاق اڑانے اور ان کی تذلیل و تحقیر کا نتیجہ و انجام یہ ہوا کہ ایسے بدبخت لوگ خود اپنے انجام سے غافل اور نور حق و ہدایت سے مزید دور اور محروم ہوتے گئے، اور اس طرح یہ اپنے خالق ومالک کی معرفت سے محروم اور اس کے حقوق سے غافل و بےبہرہ ہوتے گئے، اور کفر و ضلال کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبتے چلے گئے، یہاں تک کہ یہ " فی النار والسقر " ہوگئے، اور اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے جس سے نکلنے اور بچنے کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ رہی اور یہی وہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ہو ہی نہیں سکتا۔ قرآن حکیم نے دوسرے مختلف مقامات پر اس کو طرح طرح سے بیان فرمایا ہے۔ مثلا سورة مومنون میں ارشاد ہوتا ہے کہ دوزخ میں پڑے ایسے بدبخت جب چیخ چیخ کر اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی درخواست پیش کریں گے تو ان کو جواب ملے گا قال اخْسَؤُوا فِیْہَا وَلَا تُکَلِّمُونِ ۔ إِنَّہُ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَیْْرُ الرَّاحِمِیْنَ ۔ فَاتَّخَذْتُمُوہُمْ سِخْرِیّاً حَتَّی أَنسَوْکُمْ ذِکْرِیْ وَکُنتُم مِّنْہُمْ تَضْحَکُونَ ۔ إِنِّیْ جَزَیْْتُہُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّہُمْ ہُمُ الْفَائِزُونَ (المومنون 108 تا 111 پ 18) سو حق اور حق والوں سے ہنسنے اور ان کا مذاق اڑانے کا انجام بڑا ہولناک اور نہایت برا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتقاد، والیہ المرجع والمآب جل جلالہ وعم نوالہ۔
Ayah 83:30(20) حق اور اہل حق کی توہین و تمسخر کا انجام نہایت برا، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جب یہ لوگ ایمان والوں کے پاس سے گزرتے تو ان کی طرف کنکھیوں سے اشارے کرتے " ان کی دلآزاری اور تحقیر و تذلیل کے لیے، جیسا کہ مشرکین مکہ اس زمانے میں کیا کرتے تھے اور اس کے بعد ان کے اخلاف آج تک کرتے چلے آرہے ہیں۔ چناچہ ان لوگوں نے اہل حق سے نفرت دلانے اور ان کی تحقیر کا سامان کرنے کے لیے ان سے متعلق طرح طرح کے القاب گھڑ رکھے ہیں کہ یہ لوگ تنگ نظر ہیں جاہل ہیں، زمانے کے تقاضوں سے غافل و بیخبر ہیں، رجعت پسند ہیں، دقیانوسی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ سو اس آیت کریمہ میں اہل حق کے لیے تسلی و تسکین کا بڑا سامان ہے کہ وہ اہل باطل کی ان کفریہ حرکتوں سے دل برداشتہ نہ ہوں کہ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں، بلکہ شروع سے ہی ایسے ہوتا چلا آرہا ہے۔ پس تم ان کی پرواہ کیے بغیر حق و ہدایت کے اس صراط مستقیم پر گامزن رہو جس کی تعلیم تم کو دین حق نے دی ہے کہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کی راہ بہرحال یہی اور صرف یہی ایک راہ ہے، اس سے جو محروم ہیں وہ ہر خیر سے محروم اور سراسر ناکام و نامراد ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ کہنے والے نے کیا خوب کہا " ہنسے جانے سے جب تک ہم ڈریں گے، زمانہ ہم پر ہنستا ہی رہے گا "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس ایسے ہنسنے والوں کی پرواہ کیے بغیر تم راہ حق پر ثابت قدم رہو، اور اپنے خالق ومالک سے اپنا تعلق و رشتہ قائم اور مضبوط رکھو، وہ ان ہنسنے اور مذاق اڑانے والوں کو خود سنبھال لے گا، اور وہ ان کو آخرت کے اس دائمی ابدی اور ہولناک عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی کبھی کبھی اپنے عذاب کا مزہ چکھا دیتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَی دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ ( السجدہ 21 پ 21) یعنی ہم ان کو آخرت کے اس بڑے عذاب سے پہلے اس دنیا میں چھوٹے عذاب بھی چکھاتے رہیں گے تاکہ یہ لوگ باز آجائیں، جس کے مظاہر اور نمونے جگہ جگہ اور طرح طرح سے تاریخ کے ہر دور میں ملتے رہے ہیں، اور آج تک یہاں اور وہاں وقتا فوقتا ملتے رہتے ہیں، جس کا ایک تازہ نمونہ اج کل روس جیسی اپنے دور کی سب سے بڑی شیطانی سپر پاور کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے جس نے اپنی مادی ترقی اور قوت کے زعم اور گھمنڈ میں کم و بیش ڈیڑھ لاکھ فوج اپنے جدید ترین اسلحہ کے ساتھ افغانستان میں اتاری تو وہاں کے نہتے مسلمانوں نے اپنی قوت ایمانی کے بل بوتے اور اپنے خالق ومالک کے بھروسے اور اعتماد پر اس شیطانی سپر پاور کو للکارا، اور کم و بیش دس سال تک اس کا ایسا حیرت انگیز مقابلہ کیا کہ اس کو بھاگنے کا راستہ نہیں مل رہا تھا، یہاں تک کہ اس کی شیطانی سپر پاور کا وجود ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ اور افغانستان مجاہدین کی صلابت و استقامت اور ان کی قوت ایمانی سے دنیا ورطہ حیرت میں ڈوب گئی۔ پھر روس کی اس ذلت آمیز و رسوا کن شکست و پسپائی کے بعد اس ملک پر جب مقامی کمیونسٹ اور بےدین عناصر چھا گئے تو امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ کی قیادت میں طالبان کے نام سے دینی مدارس کے طلبہ کی ایک ایسی نئی ایمانی اور فوجی قوت سامنے آئی کہ اس نے دنیا بھر کے ابنائے کفر و باطل کی سازشوں اور فتنہ سامانیوں کے باوجود ملک بھر سے شر و فساد کی تمام قوتوں کا صفایا کردیا۔ اور اس وقت جبکہ راقم آثم یہ سطور تحریر کر رہا ہے انہوں نے ابنائے باطل کے آخری گڑھ بامیان پر بھی قبضۃ کرلیا ہے، جس سے دنیا انگشت بدنداں ہے کہ یہ کیا سے کیا ہوگیا ؟ اور کیسے اور کیونکر ہوگیا ؟ سو اصل عزت و قوت اللہ اور اس کے ساتھ سچا اور صحیح تعلق رکھنے والوں ہی کی ہے۔ پس ایمان والوں سے ہنسنے والے آخرت کے ہولناک عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی اس طرح ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ والحمدللہ رب العالمین۔ اس لیے اہل باطل کی ہنسی اور ان کے تمسخر کی پرواہ کیے بغیر ہمیشہ اس کا خیال رکھا جائے کہ اپنے خالق ومالک سے ہمارا تعلق صحیح ہو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، جل وعلا۔
Ayah 83:31(21) منکرین کے سفلہ پن کے ایک نمونے اور مظہر کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین و متکبرین کے سفلہ پن کے ایک نمونے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جب یہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹتے تو دل لگیاں کرتے ہوئے لوٹے، اور اپنے کرتوتوں پر شرمانے کی بجائے یہ لوگ الٹا خوش ہوتے، اور انہیں مزے لے لے کر فخریہ انداز میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے آج فلاں کو اس اور اس طرح لتاڑا، اور رسوا کیا، ایسے ایسے فقرے اس پر چست کیے، اور اس طرح اس کو تضحیک اور ہوٹنگ کا نشانہ بنایا، وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہ ان بدبختوں کی کمینگی اور ان کے سفلہ پن کا ایک نمونہ ہے کہ جب یہ بدبخت اہل ایمان کے ساتھ اس طرح کی بد تمیزیاں کر کے اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تو اپنے کیے پر نادم اور شرمندہ ہونے کی بجائے مست و مگن اور ایسے اکڑتے ہوئے لوٹتے کہ گویا کہ کوئی بڑا میدان جیت کر لوٹے ہیں۔ ایسے بگڑے ہوئے لوگوں کی میں ان کی اس کمینگی اور ان کے اس سفلہ پن کی عکاسی اس طرح فرمائی گئی ہے وَلَکِن کَذَّبَ وَتَوَلَّی۔ ثُمَّ ذَہَبَ إِلَی أَہْلِہِ یَتَمَطَّی ( القیامہ 32، 33 پ 29) یعنی اس نے جھٹلایا حق اور صدق اور منہ موڑا (راہ حق و ہدایت سے) پھر وہ لوٹا اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا، سو یہ ہوتا ہے نور حق و ہدایت سے محروم اور بگڑے ہوئے لوگوں کا حال۔ والعیاذ باللہ، اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔
Ayah 83:32(22) اہل باطل کے اہل حق کے خلاف پروپیگنڈنے کا ایک نمونہ : سو اس سے اہل حق کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے کہ وہ جب ان کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ لوگ تو بڑے بھٹکے ہوئے لوگ ہیں، کہ اپنے آباء و اجداد کا دین چھوڑ دیا، ان کے طور طریقوں سے الگ ہوگئے، اور انہوں نے دنیاوی عیش و عشرت اور فوائد و ملذات سے اپنے آپ کو خود محروم کردیا، وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح ان لوگوں کی کوشش ہمیشہ یہی ہوتی کہ اہل ایمان کے بارے میں کسی کے اندر کسی نوعیت کا حسن ظن نہ پیدا ہونے پائے، اسی بنا پر وہ جب ان کو دیکھتے تو ان کے بارے میں لوگوں سے کہتے کہ یہ لوگ تو بڑے بہکے اور بھٹکے ہوئے لوگ ہیں، اپنے موروثی دین اور باپ دادا کے طور طریقوں کے مخالف ترقی اور آزادی کے دشمن اور اپنے سوا سب کو جہنمی کہنے والے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو اہل ایمان کے بارے میں اہل کفر و باطل کے یہی طریقے اور اسی طرح کے مسموم پروپیگنڈہ نزول قرآن کے اس زمانہ خیر وبرکت میں بھی اسی طرح کے تھے اور آج بھی ایسے ہی ہیں۔ چناچہ آج کا بےدین طبقہ اہل حق اور دینداروں کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ لوگ ترقی کے دشمن، رجعت پسند اور دقیانوسی ہیں جو ہمیں تعمیر ترقی سے روک کر پتھر کے زمانے میں لے جانا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء و انحراف من کل سوء وشر۔
Ayah 83:33(23) منکرین کے لیے ایک سبق آموز تنبیہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " حالانکہ ان کو کوئی ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا، کہ یہ ان کے پیچھے اس طرح لگ جاتے اور خود اپنے نفع و نقصان کو بھول جاتے، یعنی ان کفار اور مشرکین کو کوئی مسلمانوں پر نگران اور اتالیق بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ یہ ان کو اس طرح گمراہ قرار دیں۔ اور ان کو اس طرح کے طعنے دیں، اور ان کے خلاف ایسے پروپیگنڈے کریں، وہ جیسے کیسے ہیں اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں، ان کو کیا لگے کہ یہ ان کے بارے میں اس طرح کہیں ؟ سو اس میں منکرین کے لیے ایک سبق آموز تنبیہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کے پیچھے پڑنے کی بجائے خود اپنے بارے میں سوچیں کہ یہ خود کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جارہے ہیں، یہ اس ارشاد کا ایک مطلب ہے جبکہ اس میں دوسرا احتمال اور مطلب یہ بھی ہے کہ یہ دراصل کفار ہی کے قول کا حصہ ہو، یعنی جب وہ مسلمانوں کو دیکھتے تو ان کے بارے میں کہتے کہ یہ لوگ تو پکے گمراہ ہیں، اور یہ خوامخواہ ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کو کوئی ہمارے اوپر نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ اور یہ کوئی ہمارے داروغے نہیں ہیں کہ ہماری ہر چیز پر اعتراض کریں، اور ہماری اصلاح کے مدعی بن کر ہمارے سروں پر کھڑے ہوجائیں، اور ہمارے عقائد و اعمال کو کفر و شرک قرار دیں۔ بعض اہل علم نے اسی احتمال کو ترجیح دی ہے، احتمال بہرحال دونوں ہی باتوں کا موجود ہے، اور مطلب بھی دونوں ہی صورتوں میں صحیح بنتا ہے۔ والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ ، فلہ الحمد والہ الشکر، وھو اعلم بمراد کلام ربہ، جل جلالہ وعم نوالہ۔
Ayah 83:34(24) قیامت کے روز کے انقلاب حال کا ذکر بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس انقلاب حال کا ذکر کرتے ہوئے جو کہ قیامت کے روز پیش آئے گا ارشاد فرمایا گیا کہ " پس آج ایمان والے کفار پر ہنسیں گے "۔ کہ کس طرح یہ لوگ آج اپنے کیے کرائے کا عذاب بھگت رہے ہیں، اور جس عذاب اور سزا و جزا کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے آج یہ اسی میں اس بری طرح سے گرفتار ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کفار کے رویے کی تفصیل بیان کرنے کے بعد اب یہ اس انقلاب حال کا ذکر فرمایا گیا ہے جو قیامت کے اس یوم فصل وتمیز میں واقع ہوگا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اب تک تو کفار اہل ایمان کے حال پر ہنستے رہے، لیکن اب اہل ایمان کفار کے حال پر ہنسیں گے۔ اور اہل ایمان کا کفار پر ہنسنا بالکل بجا اور درست ہوگا، کیونکہ انہوں نے جب کفار پر حجت تمام کردی مگر انہوں نے کوئی اصلاح قبول کرنے کی بجائے الٹا انہی کو مورد الزام ٹھہرایا اور ان کا مذاق اڑایا، اور انہوں نے اس نور حق و ہدایت سے منہ موڑا، جس سے سرفرازی کے لیے ان کو اہل حق کی طرف سے بار بار دعوت دی گئی، تاکہ اس طرح یہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکیں، مگر انہوں نے دعوت حق کو قبول نہ کیا اس لیے وہ اسی رسواکن انجام سزا وار ہوں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو بھی کوئی ہمدردی نہ ہو، سو انہوں نے کفر و شرک کی جس راہ کو زندگی بھر اپنائے رکھا تھا اور حق بات کو مان کر نہدیا تھا، اس کا نتیجہ یہی ہونا تھا، اس لیے اہل ایمان ان پر اس روز ہنسیں گے، جس سے ان کی آتش یاس و حسرت میں اور اضافہ ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، ومن کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، بکل حال من الاحوال، جل وعلا۔
Ayahs 83:35–36(25) کفار کے کیے کرائے کے بدلے کا ذکر وبیان : سو یہ سب کچھ دکھا لینے اور بتادینے کے بعد اہل ایمان سے بطور طلب تصدیق سوال کیا گیا کہ " کیا بدلہ مل گیا کفار کو ان کے کیے کرائے گا ؟ " استفہام تقریر و تذلیل کے لیے ہے ( تفسیر التحریر والتنوری لا بن عاشور) یعنی ہاں ان کو اپنے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ مل گیا۔ سبحان اللہ، کیسا کرم و احسان ہے حضرت حق جل مجدہ کا کہ آخرت کے اس ہولناک عذاب سے اس طرح صاف وصریح طور پر دنیا کو یہیں خبردار کردیا اور اس کو اس طرح بیان فرما دیا، تاکہ جو بچنا چاہے بچ جائے، قبل اس سے کہ حیات مستعار کی فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے، اور ان کے نتیجے میں ان کو ہمیشہ کے لیے بچھتانا پڑے، مگر غفلت کے مارے پھر بھی متوجہ نہیں ہوتے، اور ہوش کے ناخن لینے کے بجائے وہ اپنی غفلت میں اسی طرح ڈوبے پڑے ہیں۔ الا ماشاء اللہ، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس استفہام میں ایک طرف تو کفار و منکرین کے لیے تحقیر و تذلیل کا سامان ہوگا اور دوسری طرف اہل ایمان کے لیے تطبیب قلوب اور مسرت و شادمانی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔