83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 83:1–5

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

وہ لوگ کہ جب دوسروں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں۔

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب خود انہیں ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو کمی کردیتے ہیں۔

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا ان کو یہ گمان نہیں کہ وہ دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں۔

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

ایک بڑے دن کے لیے۔

آیت 1{ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۔ } ”ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔“ وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں کم تولنے یا کم ماپنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی نوید سنائی گئی ہے۔
Ayah 83:6

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن کہ لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے رب کے سامنے۔

آیت 6{ یَّوْمَ یَـقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ } ”جس دن کہ لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے رب کے سامنے۔“ ناپ تول میں کمی کرتے ہوئے ہاتھ کو ہلکی سی جنبش دینا بظاہر تو ایک معمولی سا عمل ہے لیکن ”تل کی اوٹ میں پہاڑ“ کے مصداق ایسا کرنے والے کی اس حرکت سے ثابت ہوتا ہے کہ یا تو اس کا بعث بعد الموت پر یقین نہیں یا پھر اسے اس کی پروا نہیں کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
Ayahs 83:7–8

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! یقینا گناہگاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تم نے کیا سمجھا کہ سجین کیا ہے ؟

آیت 7{ کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ۔ } ”ہرگز نہیں ! یقینا گناہگاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔“ عام طور پر کتاب سے یہاں اعمال نامہ ہی مراد لیا گیا ہے کہ کافر و فاجر لوگوں کے اعمال نامے ”سِجِّین“ میں ‘ جبکہ نیک لوگوں کے اعمال نامے ”عِلِّیّین“ بحوالہ آیت 18 میں ہوں گے۔ تاہم بعض احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ”سجین“ ایک مقام ہے جہاں اہل دوزخ کی روحیں محبوس ہوں گی ‘ جبکہ اہل جنت کی ارواح ”علیین“ میں ہوں گی۔ چناچہ سجین اور علیین کا یہ فرق صرف اعمال ناموں کو رکھنے کے اعتبار سے نہیں ہوسکتا۔ اس حوالے سے میرے غور و فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے خاکی جسم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو روح پھونکی گئی ہے وہ ایک نورانی چیز ہے۔ انسان اچھے برے جو بھی اعمال کرتا ہے اس کے اثرات اس کی روح پر مترتب ہوتے رہتے ہیں ‘ جیسے آواز کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے ٹیپ کے فیتے ‘ سی ڈی یا مائیکرو کارڈ وغیرہ پر اس آواز کے اثرات نقش ہوجاتے ہیں۔ چناچہ انسانوں کی ارواح جب اس دنیا سے جاتی ہیں تو اعمال کے اثرات اپنے ساتھ لے کر جاتی ہیں۔ ان ”اثرات“ کی وجہ سے ہر روح دوسری روح سے مختلف ہوجاتی ہے اور یوں نیک اور برے انسانوں کی ارواح میں زمین آسمان کا فرق واقع ہوجاتا ہے۔ چناچہ میری رائے میں انسانی ارواح پر ثبت شدہ اثراتِ اعمال کو یہاں لفظ ”کتاب“ سے تعبیر کیا گیا ہے ‘ یعنی انسانی ارواح اعمال کے اثرات لیے ہوئے جب اس دنیا سے جائیں گی تو برے اعمال کے اثرات والی ارواح کو سجین میں رکھا جائے گا۔ سجن کے معنی ”جیل خانہ“ کے ہیں۔ گویا برے لوگوں کی ارواح کو وہاں کسی جیل نما جگہ میں بند کردیا جائے گا ‘ جیسے ضلعی انتظامیہ کے ”محافظ خانے“ میں پرانی فائلوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔
Ayahs 83:9–11

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

لکھا ہوا دفتر۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

تباہی اور ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

جو جھٹلا رہے ہیں جزا و سزا کے دن کو۔

آیت 9{ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ } ”لکھا ہوا دفتر۔“ اس ”کتاب“ سے مراد ایک انسان کی جان اور روح کا وہ ملغوبہ ہے جس میں اس کے اعمال کے اثرات بھی ثبت ہوتے ہیں۔ کسی برے انسان کے مرنے پر متعلقہ فرشتہ وہ ملغوبہ لا کر سجین میں ”جمع“ کرا دیتا ہے۔
Ayah 83:12

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور نہیں جھٹلاتا اس دن کو مگر وہی کہ جو حد سے بڑھنے والا گناہگار ہے۔

آیت 12{ وَمَا یُکَذِّبُ بِہٖٓ اِلَّا کُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ۔ } ”اور نہیں جھٹلاتا اس دن کو مگر وہی کہ جو حد سے بڑھنے والا گناہگار ہے۔“ ایسا شخص سزا و جزا کے دن کو دراصل اس لیے جھٹلاتا ہے کہ وہ اپنے گناہوں اور حرام خوریوں کی وجہ سے اس دن کے احتساب کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ چناچہ جس طرح بلی سے بچنے کے لیے کبوتر اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے اسی طرح یوم حساب کی جواب دہی سے بچنے کے لیے ایسے لوگ اس دن کے وقوع کا ہی انکار کردیتے ہیں۔
Ayah 83:13

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیات تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

آیت 13{ اِذَا تُـتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُـنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ۔ } ”جب اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیات تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔“ یعنی یہ تو وہی باتیں ہیں جو پچھلے زمانے کے لوگوں سے سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں۔
Ayah 83:14

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

نہیں ! بلکہ (اصل صورت حال یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر زنگ آگیا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔

آیت 14{ کَلَّا بَلْ سکتۃ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ۔ } ”نہیں ! بلکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ ان کے دلوں پر زنگ آگیا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔“ اس ’ زنگ ‘ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے ‘ اس گناہ سے باز آجائے اور استغفار کرے تو اس کے دل کا یہ داغ صاف ہوجاتا ہے ‘ لیکن اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ داغ بڑھتے جاتے ہیں ‘ یہاں تک کہ سارے دل کو گھیر لیتے ہیں۔“ مسند احمد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ وغیرہ گناہگار اہل ِایمان کے دلوں کے اندر ان کی روحوں کا ”نور“ تو موجود ہوتا ہے لیکن دلوں کے ”شیشے“ زنگ آلود ہوجانے کی وجہ سے یہ نور خارج میں اپنے اثرات نہیں دکھا سکتا۔ جیسے کسی فانوس یا لالٹین کا شیشہ اگر دھوئیں سے سیاہ ہوجائے تو اس کے اندر جلنے والے شعلے کی روشنی باہر نہیں آسکتی اور باہر کی روشنی اندر نہیں جاسکتی۔ انسانی دل کی اس کیفیت کی وضاحت کرتے ہوئے حضور ﷺ نے اس کا علاج بھی تجویز فرمادیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر - روایت کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : اِنَّ ھٰذِہِ الْقُلُوْبَ تَصْدَأُ کَمَا یَصْدَأُ الْحَدِیْدُ اِذَا اَصَابَہُ الْمَائُ قِیْلَ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا جِلَائُ ھَا ؟ قَالَ : کَثْرَۃُ ذِکْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَۃُ الْقُرْآنِ 1 ”ان دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسے لوہا پانی پڑنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے“۔ دریافت کیا گیا : یارسول اللہ ! اس زنگ کو دور کس چیز سے کیا جائے ؟ فرمایا : ”موت کی بکثرت یاد اور قرآن مجید کی تلاوت !“
Ayah 83:15

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

نہیں ! یقینایہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔

آیت 15{ کَلَّآ اِنَّہُمْ عَنْ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ۔ } ”نہیں ! یقینایہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔“ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم کردیے جائیں گے۔ اس کے برعکس نیکوکار لوگوں کے لیے سورة القیامہ میں یہ خوشخبری سنائی گئی ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ } کہ اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میدانِ حشر میں اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کے دیدار یا اس کی کسی خاص شان کے مشاہدے سے سرفراز فرمایا جائے گا جس کے باعث اس دن کے سخت مراحل ان کے لیے آسان ہوجائیں گے۔ اس حوالے سے ہمارے عام مفسرین کی رائے بھی یہی ہے کہ میدانِ حشر میں بھی مومنین صادقین کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرایا جائے گا۔ آیت زیر مطالعہ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس وقت میدانِ حشر میں کفار و مشرکین بھی کھڑے ہوں گے لیکن انہیں اس نعمت سے محروم کردیا جائے گا۔ میدانِ حشر کے ایسے ہی ایک منظر کی جھلک سورة نٓ کی اس آیت میں بھی دکھائی گئی ہے : { یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّیُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۔ } ”جس دن پنڈلی کھولی جائے گی ‘ اور انہیں پکارا جائے گا اللہ کے حضور سجدے کے لیے ‘ لیکن وہ کر نہیں سکیں گے“۔ یعنی اہل ایمان جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے کرتے تھے وہ تو اس حکم کو سنتے ہی سجدے میں گرجائیں گے لیکن دوسرے لوگوں کی کمریں تختہ ہو کر رہ جائیں گی ‘ وہ تمام تر خواہش اور کوشش کے باوجود سجدہ نہیں کرسکیں گے۔
Ayah 83:16

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر انہیں جھونک دیا جائے گا جہنم میں۔

آیت 16{ ثُمَّ اِنَّہُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِ۔ } ”پھر انہیں جھونک دیا جائے گا جہنم میں۔“ اس آیت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ مرحلہ دوزخ میں داخلے سے پہلے کا ہے ‘ یعنی دیدارِ الٰہی سے محروم رکھے جانے کا واقعہ میدانِ حشر میں ہی رونما ہوگا۔
Ayahs 83:17–19

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا : یہ ہے وہ چیز جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے !

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

نہیں ! یقینا نیکوکاروں کے کتاب یا اعمال نامے علیین میں ہوں گے۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور تمہیں کچھ اندازہ ہے وہ علیون کیا ہے ؟

آیت 17{ ثُمَّ یُـقَالُ ہٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ۔ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : یہ ہے وہ چیز جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے !“ دنیا میں تم لوگ جنت ‘ دوزخ اور جزا و سزا کو بڑے شدومد سے جھٹلایا کرتے تھے۔ اب دیکھ لو ! دوزخ اور اس کی سزائیں حقیقت بن کر تمہارے سامنے آگئی ہیں۔
Ayah 83:20

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

لکھا ہوا دفتر۔

آیت 20{ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ } ”لکھا ہوا دفتر۔“ یعنی ان لوگوں کی ارواح کا مقام جن پر ان کے نیک اعمال کے اثرات بھی ثبت ہوں گے۔
Ayahs 83:21–23

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

وہاں موجود ہوں گے ملائکہ مقربین۔

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

یقینا نیکوکار نعمتوں میں ہوں گے۔

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

وہ تختوں پر بیٹھے (مناظر ِجنت) دیکھ رہے ہوں گے۔

آیت 21{ یَّشْہَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ } ”وہاں موجود ہوں گے ملائکہ مقربین۔“ ان لوگوں کی ارواح کو ملائکہ مقربین کی صحبت میسر ہوگی۔ اس بلند مقام پر انہیں قیام قیامت تک رکھا جائے گا۔
Ayah 83:24

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

تم دیکھو گے ان کے چہروں پر تروتازگی کی علامات۔

آیت 24{ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْہِہِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ۔ } ”تم دیکھو گے ان کے چہروں پر تروتازگی کی علامات۔“ جیسے دنیا میں انسان کی خوشحالی اور آسودگی کے اثرات اس کے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن اہل جنت اپنے تروتازہ چہروں سے صاف پہچانے جائیں گے۔
Ayah 83:25

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

انہیں پلائی جائے گی خالص شراب جس پر مہر لگی ہوگی۔

آیت 25{ یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ۔ } ”انہیں پلائی جائے گی خالص شراب جس پر مہر لگی ہوگی۔“ ہندوستان کے معروف اہل حدیث عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے احادیث کے حوالے سے سیرت پر ایک بہت عمدہ کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام انہوں نے اس آیت سے اخذ کیا ہے۔ انہیں اس کتاب پر شاہ فیصل ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ الرحیق المختوم کے نام سے یہ کتاب اردو میں ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی چھپ چکا ہے۔
Ayah 83:26

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

اس کی مہر ہوگی مشک کی۔ اس چیز کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کریں سبقت لے جانے والے۔

آیت 26{ خِتٰمُہٗ مِسْکٌ} ”اس کی مہر ہوگی مشک کی۔“ { وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ۔ } ”اس چیز کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کریں سبقت لے جانے والے۔“ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی حقیر چیزوں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے ان دوامی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لیے محنت اور مسابقت کریں۔
Ayahs 83:27–28

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور اس کی ملونی ہوگی تسنیم سے۔

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

یہ ایک چشمہ ہے جس پر جام نوشی کریں گے مقربین بارگاہ۔

آیت 27{ وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ۔ } ”اور اس کی ملونی ہوگی تسنیم سے۔“ اس شراب یعنی رحیق مختوم میں تسنیم کا مشروب بھی ملایا گیا ہوگا۔ اور یہ تسنیم کیا ہے ؟
Ayah 83:29

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

یقینا جو مجرم تھے وہ اہل ِ ایمان پر ہنسا کرتے تھے۔

آیت 29{ اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَکُوْنَ۔ } ”یقینا جو مجرم تھے وہ اہل ِ ایمان پر ہنسا کرتے تھے۔“ وہ اہل ایمان کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ دیکھو ان بیوقوفوں کو جنہوں نے آخرت کے موہوم وعدوں پر اپنی زندگی کی خوشیاں اور آسائشیں قربان کردی ہیں۔
Ayahs 83:30–31

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب یہ ان کے قریب سے گزرتے تھے تو آپس میں آنکھیں مارتے تھے۔

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تھے تو باتیں بناتے ہوئے لوٹتے تھے۔

آیت 30{ وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ۔ } ”اور جب یہ ان کے قریب سے گزرتے تھے تو آپس میں آنکھیں مارتے تھے۔“ کہ دیکھو ! یہ ہیں وہ احمق جو جنت کی حوروں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔
Ayahs 83:32–34

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب وہ ان (اہل ایمان) کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

جب کہ انہیں نہیں بھیجا گیا تھا ان پر نگران بنا کر۔

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

تو آج (قیامت) کے دن اہل ایمان ان کفار پر ہنس رہے ہیں۔

آیت 32{ وَاِذَا رَاَوْہُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَضَآلُّوْنَ۔ } ”اور جب وہ ان اہل ایمان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔“ مخالفین کے ایسے تبصرے طنزیہ بھی ہوسکتے ہیں اور ان میں ہمدردی کا پہلو بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے آج کل بھی ہمیں ایسے فقرے اکثر سننے کو مل جاتے ہیں کہ دیکھیں ! یہ اچھا بھلا ذہین نوجوان تھا۔ بورڈ ٹاپ کیا ‘ یونیورسٹی میں گولڈ میڈل لیا ‘ ملازمت بھی بہت اچھی ملی ‘ لیکن پھر اچانک خدا جانے اسے کیا ہوا کہ اس کا رجحان مذہب کی طرف ہوگیا ‘ اس کے بعد تو اس کی ترجیحات ہی بدل گئی ہیں ‘ اب اسے نہ اپنا خیال ہے اور نہ ملازمت کی فکر ‘ بس رات دن اس کے سر پر تبلیغ کی دھن سوار ہے۔ بےچارہ ‘ اچھا خاصا کیریئر تباہ کر کے بیٹھ گیا ہے۔
Ayahs 83:35–36

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

وہ تختوں پر بیٹھے (ان کا حشر) دیکھ رہے ہیں۔

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

بدلہ مل گیا نا کافروں کو اس کا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے !

آیت 35{ عَلَی الْاَرَآئِکِلا یَنْظُرُوْنَ۔ } ”وہ تختوں پر بیٹھے ان کا حشر دیکھ رہے ہیں۔“ کہ ابوجہل پر کیا بیت رہی ہے اور ابولہب کو کیسے عذاب کا سامنا ہے۔