Ayah 83:11 : وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ (بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے)
نحو : ویل مبتدأ اور للمطففین اس کی خبر ہے۔ المطففینؔ وہ لوگ جو کیل و وزن میں لوگوں کے حقوق تلف کرتے ہیں۔
Ayah 83:22 : الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاس یَسْتَوْفُوْنَ (کہ جب لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں) جب وہ لوگوں سے ناپ تول میں اپنے حقوق لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔
نکتہ : جبکہ ان لوگوں کا ماپ کم وصول کرنا لوگوں کیلئے نقصان کا باعث ہے اور وہ ٹھونس کر لوگوں سے وصول کرتے ہیں اسی لئے منؔ کی بجائے علیٰؔ لائے اور اس پر دلالت موجود ہے۔
ایک انداز :
علیؔ یستوفون کے متعلق بھی ہوسکتا ہے اور فعل پر مفعول کو افادئہ اختصاص کیلئے مقدم کیا گیا ہے۔ یعنی وہ لوگوں سے خاص طور پر پورا پورا لیتے ہیں۔
قولِ فراء :
ایسے مواقع پر مِن اور علی ہر دو کا استعمال ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کا حق ہے پس جب تم کہو اکتلت علیک تو گویا اس طرح کہا اخذت ماعلیک۔ میں نے تیرے ذمہ جو کچھ تھا ناپ کرلے لیا۔ اور جب تم کہو اکتلت منک تو گویا اس طرح کہا استوفیت منک میں نے پورا تجھ سے وصول کرلیا۔
Ayah 83:33 : وَاِذَا کَالُوْھُمْ اَوْوَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَ (اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا دیں)
نحو : ضمیر منصوب الناس کی طرف راجع ہے تقدیرکلام یہ ہے کَالُوْا لَھُمْ اَوْوَّزَنُوْا لَھُمْ پس حرف جار کو حذف کر کے ضمیر فعل کے ساتھ ملادی۔
نکتہ نمبر 1 :
شروع میں اس طرح بھی نہیں کہا۔ او اتزنوا جیسا یہاں کہا گیا اَوْوَّزَنُوْھُمْ یہ بطور اکتفاء اکتالوا اور کالوا کے ساتھ ایک ہی مرتبہ لائے اور یہ کافی ہے نمبر 2۔ اور ایک احتمال اس کے علاوہ یہ ہے کہ تطفیف کرنے والے کیل اور وزن والی دونوں چیزوں کو کیل کر کے لیتے۔ کیونکہ کیل کے ذریعہ ان کو اپنامال پورا کرنے کی پوری قدرت تھی اور سرقہ کا پورا موقعہ ماپ کے برتن کو حرکت دے کر اور بھرنے میں حیلہ سازی کے ذریعہ میسر آجاتا۔ جب وہ دیتے تو کیل ووزن دونوں میں کمی کرنے پر پوری قدرت تھی اس لئے لینے کے ساتھ وزن کا ذکر نہیں فرمایا دینے کے ساتھ وزن کا بھی ذکر کردیا گیا۔ یُخْسِرُوْنَ (وہ کمی کرتے ہیں) عرب کہتے ہیں خسر المیزان واخسرہٗ وزن کم ہوگیا یا وزن کم کردیا۔
Ayahs 83:4–5ہر ہر ذرہ کا حساب :
4، 5 : اَ لَا یَظُنُّ اُولٰٓپکَ اَنَّھُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ۔ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ (کیا ان لوگوں کو اس کا یقین نہیں کہ وہ ایک بڑے دن میں زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے) لِیَومٍ عَظِیْمٍ سے مراد قیامت کا دن ہے۔ الاؔ یہ حرف تنبیہ نہیں بلکہ ہمزہ استفہام کو لانا فیہ پر داخل کیا گیا ہے یہ استفہام انکار و تعجب کیلئے ہے کہ ان کی حالت بہت عجیب ہے کہ تطفیف پر جرأت مند ہیں۔ گویا ان کے دل میں کچھ بھی خطرہ نہیں۔ اور وہ ذرا اندازہ نہیں لگاتے کہ ان کو اٹھایا جائے گا اور ہر ہر ذرہ کا ان سے حساب لیا جائے گا اور اگر وہ بعث بعد الموت پر یقین رکھتے تو کیل و وزن میں ہرگز کمی نہ کرتے۔
حکایت :
ایک اعرابی نے عبدالملک بن مروان کو کہا کیا تم نے سنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مطففین کے متعلق کہا ہے پس تمہارا اپنے متعلق کیا گمان ہے کہ تم مسلمانوں کے اموال بلا کیل و وزن لیتے ہو۔
Ayah 83:66 : یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (جس دن تمام آدمی رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونگے)
نحو : مبعوثون کی وجہ سے یوم یقوم منصوب ہے۔
لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ رب العالمین کے حکم اور اس کے حساب و بدلے کیلئے۔
قول ابن عمر ؓ :
آپ نے جب یہ آیت تلاوت کی جب یہاں تک پہنچے تو زورزور سے رونے لگے اور بعد والا حصہ نہ پڑھ سکے۔
Ayah 83:77 : کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ ( ہرگز نہیں بدکار لوگوں کا نامہ عمل سجین میں رہے گا) کَلَّآ یہ ردع اور تنبیہ کیلئے ہے اللہ تعالیٰ نے جس تطفیف و غفلت میں وہ مبتلا تھے اس پر ان کو دہمکایا اور ان کو خبردار کیا کہ یہ ضروری ہے کہ آدمی اس سے توبہ کرے اور شرمندہ ہو پھر علی العموم فجار کو وعید سنائی فرمایا اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ (بدکار لوگوں کا نامہ عمل) کتاب سے اعمال نامے مراد ہیں۔ لَفِیْ سِجِّیْنٍ (سجین میں ہے)
Ayahs 83:8–98، 9 : وَمَآ اَدْرٰکَ مَاسِجِّیْنٌ۔ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ (آپ کو کچھ معلوم ہے کہ سجین میں رکھا ہوا نامہ عمل کیا چیز ہے۔ وہ ایک نشان کیا ہوا دفتر ہے)
سوال : اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ فجار کا نامہ عمل سجین میں ہے اور یہاں سجین کی تفسیر کتاب مرقوم سے کی گئی ہے ؟ گویا اس طرح کہہ دیا گیا کہ ان کا نامہ عمل مرقوم میں ہے پس آیت کا مطلب کیا ہوا ؟
جواب : سجین وہ جامع کتاب ہے وہ برائیوں کا رجسٹر ہے جس میں شیاطین کے اعمال مدون کیے گئے ہیں اور کفار جنات اور انسانوں کے۔ وہ مہر شدہ کتاب ہے اس کی کتابت واضح غیرمخفی ہے نمبر 2۔ یا نشان زدہ کتاب ہے جو اس کو دیکھ پائے گا اور وہ یہ معلوم کرلے گا کہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے مرقومؔ یہ رقم الثیاب ( کپڑوں کی علامت) سے لیا گیا ہے۔ معنی آیت کا یہ ہوا۔ کہ فجار کے تمام اعمال اس دیوان میں مندرجہ ہیں۔
Ayah 83:1010 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (اس روز جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی) یومؔ سے وہ دن جس روز لکھا ہوا مکذبین کے سامنے ظاہر کردیا جائے گا۔
Ayah 83:1111 : الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ (جو کہ روز جزاء کو جھٹلاتے ہیں) الدینؔ سے جزاء و حساب کا دن مراد ہے۔
Ayah 83:1212 : وَمَا یُکَذِّبُ بِہٖٓ اِلَّا کُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ (اور اس کو تو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حد سے گزرنے والا مجرم ہو) معتدؔ جو حد سے بڑھنے والا ہو۔ اثیمؔ گناہ کمانے والا۔
Ayah 83:1313 : اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جائیں تو یوں کہہ دیتا کہ یہ اگلوں کی بےسندباتیں منقول چلی آتی ہیں) آیات سے قرآن مجید مراد ہے۔ اساطیر الاولین ؔ پہلے لوگوں کی باتیں۔ قول الزجاج (رح) : اساطیر اس کا واحد اسطورۃ ہے جیسے احدو ثۃ و احادیث بمعنی داستانیں۔
Ayah 83:1414 : کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ( ہرگز ایسا نہیں بلکہ ان کے اعمال کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے) کلاؔ حد سے بڑھنے والے گناہ گار کو اس بات پر دھمکایا گیا۔ بل ؔ اس میں ان کے قول کی نفی ہے۔
قراءت : بل پر حفص چھوٹا وقف یعنی سکتہ کرتے ہیں۔
رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ان کے اعمال نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا ہے یعنی وہ اعمال ان کے دلوں پر غالب آگئے یہاں تک کہ ان کے دل اس میں ڈوب گئے ما کانوا یکسبونؔ سے معاصی اور گناہ مراد ہیں۔
ران کے متعلق اقوال
رین کیا ہے ؟
قول حسن (رح) :
گناہ پر گناہ کرنے سے دل سیاہ ہوجاتا ہے۔
قول ضحاک (رح) :
الرین دل کامر جانا۔
ابو سلیمان (رح) :
الرین و القسوۃ یہ دونوں غفلت کے اوقات ہیں۔ اور ان کا علاج ہمیشہ روزہ رکھنا ہے۔ پھر اگر اس کے باوجود بھی سختی دل پائے تو سالن ؔ ترک کردے۔
Ayah 83:1515 : کَلَّآ اِنَّھُمْ عَنْ رَّبِّھِمْ یَوْمَپذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ (ہرگز ایسا نہیں یہ لوگ اس روز اپنے رب سے روک دیے جائیں گے)
کَلَّآ دل پر رین کے چڑھانے پر ردع کی گئی ہے۔ اِنَّھُمْ عَنْ (بیشک وہ رؤیت) رَّبِّھِمْ یَوْمَپذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ (رب تعالیٰ سے پردے میں کردیے جائیں گے) الحجبؔ منع کرنا۔
قول الزجاج (رح) :
اس آیت میں دلیل ہے کہ ایمان والوں کو اس دن اپنے ربّ کا دیدار ہوگا ورنہ پردہ میں کردئیے جانے کی تخصیص کا فائدہ نہیں۔
حسین و فضل کا قول :
جیسا ان کو اپنی توحید سے دنیا میں پردے میں کردیا قیامت میں اس کے دیدار سے ان کو روک دیا جائے گا۔
قولِ امام مالک (رح) :
جب اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو روک دیا جائے گا وہ تو دیکھ نہ سکیں گے۔ تو حق تعالیٰ اپنے دوستوں کیلئے تجلی فرمائیں گے۔ جس سے وہ دیدار کرسکیں گے۔
ایک اور قول :
عن کے بعد کر امۃ محذوف ہے وہ اپنے رب کے اکرام سے روک دیے جائیں گے کیونکہ دنیا میں انہوں نے اس کا شکر نہیں کیا۔ پس آخرت میں اس کے اکرام سے بطور بدلہ مایوس کردیئے جائیں گے۔ مگر قول اول صحیح ترین ہے کیونکہ رئویت عظیم ترین اکرام ہے۔ پس اس سے روک دیا جانا دیگر انعامات سے روک دیے جانے کی علامت ہے۔
Ayah 83:1616 : ثُمَّ اِنَّھُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِ (پھر وہ دوزخ میں داخل ہونگے) دیدار سے محرومی کے بعد آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔
Ayah 83:1717 : ثُمَّ یُقَالُ ھَذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ (پھر کہا جائے گا یہی تو ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے) ھذاؔ سے عذاب مراد ہے یعنی یہ وہی عذاب ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلاتے اور اس کے وقوع کا انکار کرتے تھے۔
Ayah 83:1818 : کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ (ہرگز نہیں۔ نیک لوگوں کا نامہ عمل علیین میں رہے گا) کَلَّآ یہ تکذیب سے ردع کی گئی ہے۔ اِنَّ کِتٰبَ الْاَبْرَارِ سے ان کے مکتوب اعمال مراد ہیں۔ ابرار ؔ وہ فرمانبردار لوگ جو ماپ تول میں کمی نہیں کرتے اور بعث بعد الموت پر ان کو ایمان ہے کیونکہ ان کا یہاں فجار کے بالمقابل تذکرہ کیا گیا ہے اور فجار کے متعلق واضح طور پر فرمایا کہ وہ قیامت کے جھٹلانے والے ہیں۔
قول حسن (رح) :
البر :ؔ وہ ہے جو چیونٹی کو بھی ایذاء نہ دے۔ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ یہ دیوان خیر کا علم ہے جس میں تمام ملائکہ اور صلحاء ثقلین کے اعمال درج ہیں اور لفظ جمع سے منقول ہو کر آیا ہے اس کا واحد عِلِّیّ ہے فِعِّیِّل کے وزن پر۔ یہ اصل میں العلو سے ہے یہ اس کا نام اس لئے رکھا گیا کیونکہ یہ جنت کے اعلی درجات کا سبب ہے۔ یا اس لئے کہ ساتویں آسمان پر بلند ہے اور وہاں کے ساکنین کروبی فرشتے ہیں ان کے قرب کے سبب بطور تکریم یہ نام رکھ دیا ہے۔
Ayah 83:1919 : وَ مَآاَدْرٰکَ مَاعِلِّیُّوْنَ (اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ علیون میں رکھا ہوا نامہ عمل کیا چیز ہے) اے محمد ﷺ کو نسی چیز آپ کو علیون کے بارے میں معلوم کر ادے کہ وہ کیا چیز ہے۔
Ayah 83:2020 : کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ (وہ ایک نشان کیا ہوا دفتر ہے)
Ayah 83:2121 : یَّشْھَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ (جس کو مقرب فرشتے دیکھتے ہیں) ملائکہ وہاں حاضر ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے ابرار کا عمل جب آسمان پر اٹھایا جاتا ہے۔ تو ہر آسمان کے مقربین اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
Ayah 83:2222 : اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ (نیک لوگ بڑی آسائش میں ہونگے) جنتوں میں نعمتیں پاتے ہونگے۔
Ayah 83:23ابرار کے انعامات :
23 : عَلَی الْاَرَآپکِ یَنْظُرُوْنَ (مسہریوں پر دیکھتے ہونگے) مسہریوں میں بیٹھے اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کو اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو عذاب میں مبتلا دیکھ رہے ہونگے۔
Ayah 83:2424 : تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِہِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ (اے مخاطب تو ان کے چہروں پر آسائش کی بشاشت پہچانے گا) خوش عیشی کی رونق اور تروتازگی۔
Ayah 83:2525 : یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ (ان کو پینے کیلئے شراب خالص سربمہر ملے گی) رحیقؔ شراب خالص۔
Ayah 83:2626 : خِتٰمُہٗ مِسْکٌ (جس میں مشک کی مہر ہوگی) وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَا فِسُوْنَ (اور حرص کرنے والوں کو ایسی چیز کی حرص کرنی چاہیے) اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے اکرام کے لئے وہاں کی شراب کو کستوری کی مہر والا بنایا۔ جبکہ دنیا میں شراب پر مٹی کی مہر لگائی جاتی ہے۔ (مٹی سے نکلی ہوئی اشیاء جیسے پلاسٹک وغیرہ) نمبر 2۔ ختامہ مسک اس کے اختتام پر مشک کی خوشبو ہوگی۔
قراءت : خاتَمہٗ علی نے پڑھا ہے۔
وَفِیْ ذٰلِکَ ( اور اسی میں) خالص شراب اور شاندار نعمتیں فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَا فِسُوْنَ رغبت کرنے والوں کو رغبت کرنا چاہیے اور یہ نیک کاموں میں سبقت سے حاصل ہوتی ہے اور برائیوں سے بازرہنے سے ملتی ہے۔
Ayah 83:2727 : وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ (اور اس کی آمیزش تسنیم سے ہوگی) خالص شراب میں تسنیم کی ملاوٹ ہوگی۔ تسنیم ایک معینہ چشمے کا نام ہے تسنیم یہ سنّمہٗ کا مصدر ہے جبکہ کسی چیز کو بلند کریں کیونکہ وہ جنت میں سب سے اعلیٰ شراب کا چشمہ ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نام تسنیم رکھا۔ نمبر 2۔ کیونکہ وہ شراب اوپر سے انڈیلی جائے گی ان کے برتنوں میں ڈالی جائے گی۔
Ayah 83:2828 : عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ (ایک ایسا چشمہ ہے جس سے مقرب بندے پئیں گے)
نحو : عینًا حال ہے یا مدح کی وجہ سے منصوب ہے۔ یشرب بہا ای یشرب منہا۔ وہ اس سے پئیں گے۔ المقربون۔ قول ابن مسعود ؓ : مقرب اس کو خالص پئیں گے اور اصحاب یمین کو ملا کردیا جائے گا۔
Ayah 83:2929 : اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا یَضْحَکُوْنَ (جو لوگ مجرم تھے وہ ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے) اجرمواؔ سے جرم کفر کرنے والے۔ یضحکونؔ دنیا میں ایمان والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔
Ayah 83:3030 : وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ (اور جب ان کے سامنے سے ہو کر گزرتے تھے تو آنکھوں سے اشارے کرتے تھے) ایمان والوں پر عیب جوئی اور طعنہ زنی کیلئے آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارے کرتے تھے۔
ایک قول یہ ہے۔ کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ آرہے تھے کہ منافقین نے ان پر طعنہ زنی کی اور استہزاء کیا اور آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارے کیے اور کہنے لگے کیا تم دیکھتے ہو اس گنجے کو ؟ اس پر یہ آیت اتری اس سے قبل کہ علی ؓ مجلس رسول اللہ ﷺ پر پہنچے۔
Ayah 83:3131 : وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓی اَھْلِھِمُ (اور جب اپنے گھروں کو جاتے تھے) جب کفار اپنی منازل کی طرف لوٹتے۔ انْقَلَبُوْا فَکِھِیْنَ (تودل لگیاں کرتے ہوئے لوٹتے تھے) مسلمانوں کے تذکرہ سے لذت حاصل کرتے اور ان سے تمسخر کرتے ہوئے۔
قراءت : حفص کے علاوہ قراء نے فاکھین پڑھا ہے جس کا معنی خوش خوش ہے۔
Ayah 83:32کفار کا خیال :
32 : وَاِذَا رَاَوْھُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ھٰٓؤُلَآ ئِ لَضَآلُّوْنَ (اور جب وہ ان کو دیکھتے تو کہتے یہ لوگ یقیناغلطی میں ہیں) راوھمؔ جب کافر مؤمنوں کو دیکھتے۔ لضالونؔ یعنی محمد ﷺ نے ان کو دھوکہ دیا ہے اس لئے یہ گمراہ ہوئے اور لذات کو چھوڑ دیا۔ اس امید پر کہ ان کو آخرت میں بڑی نعمتیں میسر آئیں گے۔ انہوں نے اس خیال کی خاطر حقیقت کو چھوڑ دیا۔ اور یہ عین گمراہی ہے۔
Ayah 83:3333 : وَمَآ اُرْسِلُوْا عَلَیْھِمْ حٰفِظِیْنَ (حالانکہ یہ ان پر نگرانی کرنے والے کر کے نہیں بھیجے گئے) اُرسلوا کفار کو نہیں بھیجا گیا۔ علیھمؔ ان ایمان والوں پر حافظینؔ نگران جو ان کے اموال کی نگہبانی کریں اور ان کے اعمال کی ٹوہ میں رہیں بلکہ ان کو اپنے نفوس کی اصلاح کا حکم دیا گیا ان کو چاہیے یہ تھا کہ اپنی درستی میں مشغول ہوتے بجائے اس بات کے کہ دوسروں کا پیچھا کریں اور ان کو بیوقوف بنائیں۔
Ayah 83:3434 : فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنَ الْکُفَّارِ یَضْحَکُوْنَ (پس آج کے دن ایمان والے کفار پر ہنستے ہونگے) الیومؔ سے قیامت کا دن مراد ہے۔ یضحکونؔ کفار جس طرح ایمان والوں سے دنیا میں ہنسا کرتے تھے۔ اسکے بدلے میں مومن ان سے ہنسیں گے۔
Ayah 83:3535 : عَلَی الْاَرَآپکِ یَنْظُرُوْنَ (مسہریوں پر دیکھ رہے ہونگے) نحو : یہ یضحکون سے حال ہے ای یضحکون منھم ناظرین الیھم والی ماھم فیہ من الھوان والصغار بعد العزۃ والاستکبار وھم علی الارائک آمنون۔ وہ ان کو دیکھ کر ہنسیں گے اور ان کی ذلت و رسوائی کو دیکھ کر جبکہ دنیا میں متکبرو معزز تھے اس حال میں کہ وہ امن سے مسہریوں پر بیٹھے ہونگے۔
ایک قول یہ ہے کفار کیلئے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا پھر ان کو کہا جائے گا کہ جنت کی طرف آئو۔ جب جنت کے دروازہ کے قریب ہونگے تو جنت کا دروازہ بند کرلیا جائے گا اس پر ایمان والے ان سے خوب ہنسیں گے۔
Ayah 83:3636 : ھَلْ ثُوِّبَ الْکُفَّارُ مَاکَانُوْا یَفْعَلُوْنَ (کافروں کو ان کے کیے کا خوب بدلہ ملا) ان کے ایمان والوں کے ساتھ استہزاء کرنے کا آج یہ بدلہ جس کا ذکر ہوا۔ (اللہم احفظنامنھا)