Ayah 82:1احوالِ قیامت :
1 : اِذَا السَّمَآ ئُ انْفَطَرَتْ (جب آسمان پھٹ جائے گا) انفطرتؔ پھٹ جائے گا۔
Ayah 82:22 : وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ ( اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے) انتثرتؔ گرپڑنا۔
Ayah 82:33 : وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ( اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے) ایک دوسرے کی طرف کھل جائیں گے اور ایک پانی کا سمندر بن جائے گا۔
Ayah 82:44 : وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ (جب قبورا کھاڑ دی جائیں گی) کرید دی جائیں گی اور اس کے مردوں کو نکال باہر کیا جائے گا۔
Ayah 82:55 : عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْ (ہرشخص اپنے اگلے اور پچھلے اعمال کو جان لے گا) یہ اذا کا جواب ہے یعنی ہر نیک و بد جان لے گا جو اس نے اطاعت کی ہوگی۔ واخرت ؔ اور جو کام اس نے چھوڑے ہونگے اور عمل نہ کیا ہوگا۔ نمبر 2۔ ماقدمتؔ سے صدقات اور ما اخرت سے میراث مراد ہے۔
Ayah 82:66 : یٰٓـاَیُّھَا الْاِنْسَانُ مَاغَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ (اے انسان تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ بھول میں ڈال رکھا ہے۔ ) یا یھا الانسانؔ نمبر 1۔ اس سے خطاب منکرین بعث کو کیا گیا۔ ماغرک بربک الکریم یعنی کس چیز نے تجھے دھوکا دیا یہاں تک کہ تو نے اپنے فرائض کو بھی ضائع کردیا۔ حالانکہ تیرا رب کرم والا ہے۔
Ayah 82:7منکرین کو خطاب :
7 : الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰکَ فَعَدَ لَکَ (جس نے تجھ کو بنایا پھر تیرے اعضاء کو درست کیا۔ پھر تجھے اعتدال پر بنایا) اس کا کرم تو دیکھ کہ اس نے تجھ پر بنانے کا احسان فرمایا اور تسویہ و تعدیل جیسے احسان عظیم فرمائے۔ آپ ﷺ سے مروی ہے کہ جب آپ نے اس آیت کو پڑھا فرمایا۔ غرہ جھلہ (رواہ ابو عبید فی فضائل القرآن حاشیہ کشاف) اس کی جہالت نے اسے دھوکا میں رکھا۔
قو لِ عمر۔ :
غرہ حمقہ یعنی اس کی حماقت نے اسے دھوکہ میں رکھا۔ نمبر 2۔
قول حسن۔ :
غرہ شیطانہ یعنی اس کے شیطان نے اسے دھوکہ میں ڈالا۔ نمبر 3۔ قول فضیل (رح) ۔ اگر مجھے خطاب کیا جاتا تو میں کہتا تیری ستاری کے لٹکتے ہوئے پردوں نے۔ نمبر 4۔
قول یحییٰ بن معاذ۔ :
اگر مجھے خطاب ہوتا تو کہتا۔ مجھے تیرے گزشتہ اور حالیہ احسانات نے دھوکہ میں ڈالا۔ فَسَوّٰکَ ۔ یعنی تجھے مناسب طور صحیح سالم اعضاء والا بنایا۔ فَعَدَلَکَ یعنی تجھے میانہ متناسب الاعضاء بنایا۔ ان میں تفاوت نہیں رکھا۔ ایسا نہیں بنایا کہ دونوں میں سے ایک ہاتھ بہت لمبا ہو اور نہ ہی ایک آنکھ کو بہت بڑی بنایا اور نہ ایسا کیا کہ بعض اعضاء کو سفید اور بعض کو سیاہ بنایا۔ نمبر 2۔ تمہیں معتدل الخلقت بنایا کہ تو سیدھا کھڑا ہو کر چلتا ہے۔ بہائم کی طرح جھک کر نہیں۔
قراءت : کو فی قراء نے تخفیف سے پڑھا ہے۔ معنی اس کا بھی یہی ہے کہ تیرے اعضاء کو معتدل بنایا یہاں تک کہ تو معتدل الخلقت ہے۔
Ayah 82:88 : فِیْ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَآ ئَ رَکَّبَکَ (جس صورت میں چاہا تجھ کو ترتیب دے دیا)
نحو : ماؔ تاکید کیلئے زائد ہے۔ یعنی جس صورت میں اس کی مشیت نے چاہا تمہیں حسن، قبح، طول و قصر کی مختلف صورتوں میں جوڑ دیا۔ یہ جملہ ماقبل پر معطوف نہیں جیسا کہ ماقبل کا جملہ معطوف تھا۔ کیونکہ یہ عدلکؔ کا بیان ہے اور جار مجرور کا تعلق رکبکؔ سے ہے اس معنی میں کہ تمہیں بعض صورتوں میں رکھ کر اختیار دے دیا۔ یا محذوف سے متعلق ہے ای رکبک حاصلافی بعض الصور۔ تمہیں جوڑا اس حالت میں کہ اس سے کئی شکلیں بن گئیں۔
Ayah 82:99 : کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِ ( ہرگز نہیں بلکہ تم جزاء وسز اکو جھٹلاتے ہو) کلاؔ ردع کیلئے ہے اللہ تعالیٰ کے متعلق جس غفلت کا شکار ہے اس کے متعلق ردع کی گئی ہے۔ بل تکذبون بالدین۔ الدینؔ اصل میں جزاء ہے یا دین اسلام مطلب یہ ہے تم ثواب و عقاب کی تصدیق نہیں کرتے۔
Ayah 82:1010 : وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ ( اور تم پر یادرکھنے والے مقرر ہیں) الحافظین ملائکہ جو تمہارے اعمال و اقوال کو یاد رکھنے والے ہیں۔
Ayah 82:111 1 : کِرَامًا کَاتِبِیْنَ (معزز لکھنے والے مقرر ہیں) یعنی تم تو جزاء کو جھٹلا رہے ہو۔ اور کاتب تمہارے اعمال کو لکھ رہے ہیں تاکہ تم کو بدلہ دیا جائے۔
Ayah 82:1212 : یَعْلَمُوْنَ مَاتَفْعَلُوْنَ (جو تمہارے سب افعال کو جانتے ہیں) تمہارے اعمال کی کوئی چیز ان سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لکھنے والوں کی عظمت کو ذکر فرما کر جزاء کی عظمت ظاہر کی گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم امور میں سے ہے۔ اس آیت میں متقین کو لطف و کرم کی طرف بلا یا جارہا ہے اور مجرمین کو انذار وتہویل کی جارہی ہے۔
قولِ فضیل (رح) :
جب فضیل (رح) یہ آیت پڑھتے تو فرماتے غافلین پر اس سے زیادہ شدت والی کوئی آیت نہیں ہے۔
Ayah 82:1313 : اِنَّ الْاَبَْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ (نیک لوگ بیشک آسائش میں ہونگے) ابرارؔ سے مؤمنین مراد ہیں وہ جنت کی نعمتوں میں ہونگے۔
Ayah 82:14فجار کا انجام :
14 : وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ (اور بدکار لوگ بیشک دوزخ میں ہونگے) الفجارؔ سے کفار مراد ہیں وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔
Ayah 82:1515 : یَّصْلَوْنَھَا یَوْمَ الدِّیْنِ (روز جزاء کو اس میں داخل ہونگے) جزاء کے دن وہ جہنم میں داخل ہونگے۔
Ayah 82:1616 : وَمَا ھُمْ عَنْہَا بِغَآئِبِیْنَ (اور وہ اس سے باہر نہ ہونگے) یعنی جہنم سے نکالے نہ جائیں گے جیسا ارشاد فرمایا : وماھم بمخرجین منھا ] المائدہ : 37[
Ayah 82:1717 : وَمَآ اَدْرٰکَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِ (آپ کو کچھ خبر ہے کہ وہ روز جزاء کیسا ہے) پھر قیامت کی عظمت شان کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا : وما ادرٰک مایوم الدین۔
Ayah 82:18قیامت کا موقعہ :
18 : ثُمَّ مَآ اَدْرٰکَ مَایَوْمُ الدِّیْنِ (پھر آپ کو کچھ خبر ہے کہ وہ روز جزاء کیا ہے) تاکید اور اس کی شدت وہولنا کی بیان کرنے کیلئے دوبارہ لائے۔ اور اگلی آیت میں قیامت کی وضاحت فرمائی۔
Ayah 82:1919 : یَوْمَ لاَ تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا وَالْاَمْرُ یَوْمَپذٍ لِّلّٰہِ (وہ ایسا دن ہے جس میں کسی شخص کا کسی شخص کے نفع کیلئے کچھ بس نہ چلے گا۔ اور تمام تر حکومت اس روز اللہ ہی کی ہوگی) اس آیت سے قیامت کی وضاحت فرمائی کہ قیامت کو اپنے سے دفع کرنے کی اور نہ کسی دوسرے کو کسی طریق سے نفع پہنچانے کی کوئی طاقت ہوگی۔ شفاعت کا اذن الٰہی سے وہ اختیار پائے گا۔ قراءت : یوم مکی، بصری نے رفع سے پڑھا اور ھوؔ کو مقدر مانا۔ ای ھویومٌ نمبر 2۔ یوم الدین سے بدل بھی ہوسکتا ہے۔ نصب کی صورت میں۔ نمبر 1۔ ذکر کا مفعول ہے۔ نمبر 2۔ یدانون مضمر ہے۔ کیونکہ قیامت کا تذکرہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ والامر یومئذ للّٰہ کا مطلب یہ ہے کہ اختیار اس دن صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہوگا وہی فیصلہ فرمائے گا نہ کوئی اور۔