83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 83:1–2

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لئے خرابی ہے

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں

(1۔ 2) رسول اکرم کی تشریف آوری سے پہلے مدینہ والے ماپ تول میں کمی کیا کرتے تھے، جب آپ مدینہ منورہ تشریف لا رہے تھے تب راستہ میں یہ سورت نازل ہوئی کہ ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے سخت عذاب ہے، جب لوگوں سے کوئی چیز خریدتے ہیں یا اپنا حق تول کرلیتے ہیں تو خوب پورا وزن کر کے لیتے ہیں۔
Ayahs 83:3–4

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو کم دیں

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے

(3۔ 4) اور جب دوسروں کو دیتے ہیں تو ماپ تول میں کمی کردیتے ہیں یا یہ کہ نماز، زکوٰۃ، روزہ دیگر عبادتوں میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے سخت عذاب ہے کیا ان کمی کرنے والوں کو اس چیز کا یقین نہیں کہ وہ قیامت کے دن زندہ کیے جائیں گے۔ شان نزول : وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ (الخ) امام نسائی اور ابن ماجہ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ ماپ تول میں کمی کیا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، چناچہ اس کے بعد وہ پورا ماپ تول کر کے دینے لگے۔
Ayahs 83:5–6

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

(یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن تمام لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

(5۔ 6) جس دن تمام آدمی قبروں سے نکل کر رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
Ayahs 83:7–10

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

سن رکھو کہ بدکاروں کے اعمال سجین میں ہیں

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تم کیا جانتے ہو کہ سجین کیا چیز ہے ؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے

(7۔ 10) کافروں کے نامہ اعمال سجین میں رہیں گے اور آپ کو معلوم بھی ہے کہ سجین میں رکھا ہوا نامہ اعمال کیا چیز ہے وہ ساتویں زمین کے نیچے سبز پتھر پر انسانوں کے نامہ اعمال کا دفتر ہے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کو سخت عذاب ہوگا۔
Ayahs 83:11–13

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

(یعنی) جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل جانے والا گنہگار ہے

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

(11۔ 13) جو کہ روز جزا کو جھٹلاتے ہیں اور اس کو وہی جھٹلاتا ہے جو حق سے گزرنے والا، دھوکا باز، فاجر ہو، جیسا کہ ولید بن مغیرہ جب اس کے سامنے قرآن مجید کے احکامات پڑھے جاتے ہیں تو وہ یوں کہہ دیتا ہے کہ یہ بےبنیاد باتیں ہیں جو پرانے لوگوں سے منقول چلی آتی ہیں۔
Ayahs 83:14–16

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا انکے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے

ہرگز ایسا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے روز جزا کو جھٹلانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دی ہے یا یہ کہ گناہ پر گناہ کرنے سے قلب سیاہ ہوگیا اور وہی قلب کا زنگ آلود ہونا ہے۔ ان کے اعمال و اقوال کفریہ کی وجہ سے ہرگز ایسا نہیں یہ تکذیب کرنے والے تو قیامت کے دن اپنے پروردگار کی زیات سے روک دیے جائیں گے پھر یہ دوزخ میں داخل ہوں گے۔
Ayahs 83:17–21

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

(یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور تم کو کیا معلوم علیین کیا چیز ہے ؟

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے ہیں

(17۔ 21) پھر ان سے دوزخ کے خازن کہیں گے کہ یہ وہی عذاب ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے ہرگز ایسا نہیں، سچے ایمانداروں کے نامہ اعمال علیین میں رہیں گے یعنی ساتویں آسمان پر، عرش خداوندی کے نیچے سبز زمرد کی تختی پر ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور یہی علیین ہے اور جس کو مقرب فرشتے شوق سے دیکھتے ہیں۔
Ayahs 83:22–24

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ چین میں ہوں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کریں گے

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کرلو گے

(22۔ 24) نیک لوگ نہ ختم ہونے والی بڑی آسائش میں ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے ہوئے دوزخیوں کو دیکھتے ہوں گے، محمد آپ جنتیوں کے چہرے میں آسائش کی بشاشت پہچانیں گے۔
Ayahs 83:25–28

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

ان کو خالص شراب سربمہر پلائی جائے گی

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

جس کی مہر مشک کی ہوگی۔ تو (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور اس میں تسنیم (کے پانی) کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے (خدا کے) مقرب پئیں گے

(25۔ 28) اور ان کو پینے کے لیے خالص شراب جس پر مشک کی مہر ہوگی ملے گی، سو عمل کرنے والوں کو عمل اور کوشش کرنے والوں کو کوشش اور سبقت کرنے والوں کو ایسی چیز کے لیے سبقت اور خرچ کرنے والوں کو خرچ کرنا چاہیے اور اس شراب کی آمیزش تسنیم کے پانی سے ہوگی، تسنیم ایک ایسا چشمہ ہے جس سے مقرب لوگ پیئیں گے۔
Ayahs 83:29–36

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

جو گنہگار (یعنی کافر) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب انکے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب ان (مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بیجھے گئے تھے

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

(اور) تختوں پر (بیٹھے ہوئے انکا حال) دیکھ رہے ہوں گے

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

تو کافروں کو ان کے عملوں کا (پورا پورا) بدلا مل گیا

(29۔ 36) اور جو مشرک تھے یعنی ابو جہل وغیرہ وہی ایمان والوں یعنی حضرت علی پر ہنسا کرتے تھے اور جب ایمانداروں کا حضور کے پاس آنے کے لیے ان پر سے گزر ہوتا تھا تو آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے اور جب یہ کافر اپنے گھروں کو جاتے تھے تو اپنے شرک پر خوشی اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو دیکھ کر یہ کافر کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ گمراہ ہیں۔ حالانکہ یہ کافر مسلمانوں پر اور ان کے اعمال پر نگراں نہیں بھیجے گئے، سو آج قیامت کے دن ایمان والے کافروں پر ہنستے ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے، واقعی کافروں کو آخرت میں ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملا۔