83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 83:1–3

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

خرابی ہے گھٹانے والوں کی

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

وہ لوگ کہ جب ناپ کرلیں لوگوں سے تو پورا بھر لیں

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب ناپ کردیں ان کو یا تول کر تو گھٹا کردیں11

11 گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں مگر یہاں اس کے لانے سے مقصود خود اس بات پر مذمت کرنا نہیں بلکہ کم دینے کی مذمت کو مؤکد کرنا ہے۔ یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے لیکن اس کے ساتھ اگر لیتے وقت دوسروں کی بالکل رعایت نہ کی جائے تو اور زیادہ مذموم ہے۔ بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں ایک عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے فتلک بتلک۔ لہذا پہلے شخص کا عیب زیادہ شدید ہوا اور چونکہ اصل مقصود مذمت ہے کم دینے کی، اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا جائے تاکہ خوب تصریح ہوجائے کہ ناپنے میں بھی کم ناپتے ہیں اور تولنے میں بھی کم تولتے ہیں اور چونکہ پورا لینا فی مذموم نہیں اس لئے وہاں صرف ایک کے ذکر پر اکتفاء کیا پھر تخصیص ناپ کی شاید اس لئے ہو کہ عرب میں اور خصوصاً مدینہ میں زیادہ رواج کیل کا تھا۔ اس کے سوا اور بھی وجوہ تخصیص کی ہوسکتی ہے۔
Ayahs 83:4–5

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا خیال نہیں رکھتے وہ لوگ کہ ان کو اٹھنا ہے

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

اس بڑے دن کے واسطے1

1 یعنی اگر انہیں خیال ہوتا کہ مرنے کے بعد ایک دن پھر اٹھنا اور اللہ کے سامنے تمام حقوق و فرائض کا حساب دینا ہے، تو ہرگز ایسی حرکت نہ کرتے۔
Ayah 83:6

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن کھڑے رہیں لوگ راہ دیکھتے جہان کے مالک کی2

2 کہ کب تجلی فرماتا اور کب حساب کتاب کر کے ہمارے حق میں کوئی فیصلہ سناتا ہے۔
Ayah 83:7

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

ہرگز نہیں3 بیشک اعمال نامہ گناہ گاروں کا سجین میں ہے

3 یعنی ہرگز گمان نہ کیا جائے کہ ایسا دن نہیں آئے گا۔ وہ ضرور آنا ہے اور اس کے لئے سب نیکوں اور بدوں کے اعمالنامے اپنے اپنے دفتر میں مرتب کئے رکھے ہیں۔
Ayahs 83:8–9

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تجھ کو کیا خبر ہے کیا ہے سجین

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

ایک دفتر ہے لکھا ہوا4

4 یعنی سجین ایک دفتر ہے جس میں نام ہر ایک دوزخی کا درج ہے۔ اور " بندوں کے عمل لکھنے والے فرشتے " جن کا ذکر اس سے پہلی سورت میں آچکا، ان بدکاروں کے مرنے اور عمل منقطع ہونے کے بعد ہر شخص کے عمل علیحدہ علیحدہ فردوں میں لکھ کر اس دفتر میں داخل کرتے ہیں اور اس فرد پر یا ہر ایک دوزخی کے نام پر ایک علامت بنا دیتے ہیں جس کے دیکھتے ہی معلوم ہوجائے کہ یہ شخص دوزخی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی ارواح بھی اسی مقام میں رکھی جاتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی ان کے نام وہاں داخل ہوتے ہیں مر کر وہیں پہنچیں گے۔ " بعض سلف نے کہا ہے کہ یہ مقام ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 83:10–12

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

جو جھوٹ جانتے ہیں انصاف کے دن کو

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اس کو جھٹلاتا ہے وہی جو بڑھ نکلنے والا گناہ گار ہے5

5 جو شخص روز جزا کا منکر ہے فی الحقیقت اللہ کی ربوبیت، اس کی قدرت اور اس کے عدل و حکمت سب کا منکر ہے اور جو ان چیزوں کا منکر ہو وہ جس قدر گناہوں پر دلیر ہو تھوڑا ہے۔
Ayah 83:13

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب سنائے اس کو ہماری آیتیں کہے نقلیں ہیں پہلوں کی6

6 یعنی قرآن اور نصیحت کی باتیں سن کر کہتا ہے ایسی باتیں، لوگ پہلے بھی کرتے آئے ہیں۔ وہ ہی پرانی کہانیاں اور فرسودہ افسانے انہوں نے نقل کردیے۔ بھلا ہم ان نقلوں اور کہانیوں سے ڈرنے والے کہاں ہیں۔
Ayah 83:14

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

کوئی نہیں پر زنگ پکڑ گیا ہے ان کے دلوں پر جو وہ کماتے تھے7

7 یعنی ہماری آیتوں میں کچھ شک وشبہ کا موقع نہیں۔ اصل یہ ہے کہ گناہوں کی کثرت و مزاولت سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گئے ہیں۔ اس لئے حقائق صحیحہ کا انعکاس ان میں نہیں ہوتا۔ حدیث میں فرمایا کہ جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے، ایک سیاہ نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے۔ اگر توبہ کرلی تو مٹ گیا ورنہ جوں جوں گناہ کرتا جائے گا وہ نقطہ بڑھتا اور پھیلتا رہے گا۔ تاآنکہ قلب بالکل کالا سیاہ ہوجائے کہ حق و باطل کی تمیز باقی نہ رہے۔ یہ ہی حال ان مکذبین کا سمجھو کہ شرارتیں کرتے کرتے ان کے دل باکل مسخ ہوچکے ہیں۔ اسی لئے آیات اللہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Ayah 83:15

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

کوئی نہیں وہ اپنے رب سے اس دن روک دیے جائیں گے8

8 یعنی اس انکارو تکذیب کے انجام سے بےفکر نہ ہوں۔ وہ وقت ضرور آنے والا ہے جب مومنین حق سبحانہ، و تعالیٰ کے دیدار کی دولت سے مشرف ہوں گے اور یہ بدبخت محروم رکھے جائیں گے۔
Ayahs 83:16–18

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر مقرر وہ گرنے والے ہیں دوزخ میں

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر کہا جائے گا یہ وہی ہے جس کو تم جھوٹ جانتے تھے

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

ہرگز نہیں9 بیشک اعمالنامہ نیکوں کا علیین میں ہے

9 یعنی ان بدمعاشوں کا اور نیکوں کا ایک انجام ہرگز نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 83:19–20

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور تجھ کو کیا خبر ہے کیا ہے علیین

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

ایک دفتر ہے لکھا ہوا10

10 یعنی جنتیوں کے نام درج ہیں اور ان کے اعمال کی مسلیں مرتب کر کے رکھی جاتی ہیں اور ان کی ارواح کو اول وہاں لے جا کر پھر اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچایا جاتا ہے اور قبر سے بھی ان ارواح کا ایک گونہ تعلق قائم رکھا جاتا ہے کہتے ہیں کہ یہ مقام ساتویں آسمان کے اوپر ہے اور مقربین کی ارواح اسی جگہ مقیم رہتی ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 83:21

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

اس کو دیکھتے ہیں نزدیک والے یعنی فرشتے11

11 مقرب فرشتے یا اللہ کے مقرب بندے خوش ہو کر مومنین کے اعمالنامے دیکھتے ہیں اور اس مقام پر حاضر رہتے ہیں۔
Ayahs 83:22–23

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ ہیں آرام میں

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہوں گے12

12 یعنی مسہریوں میں بیٹھے جنت کی سیر کرتے ہوں گے اور دیدار الہٰی سے آنکھیں شاد کریں گے۔
Ayah 83:24

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

پہچان لے تو ان کے منہ پر تازگی آرام کی1

1 یعنی جنت کے عیش وآرام سے ان کے چہرے ایسے پر رونق اور تروتازہ ہوں گے کہ ہر ایک دیکھنے والا دیکھتے ہی پہچان جائے کہ یہ لوگ نہایت عیش و تنعم میں ہیں۔
Ayah 83:25

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

ان کو پلائی جاتی ہے شراب خالص مہر لگی ہوئی2

2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " شراب کی نہریں ہیں ہر کسی کے گھر میں۔ لیکن یہ شراب نادر ہے جو سر بمہر رہتی ہے۔ "
Ayah 83:26

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

جس کی مہر جمتی ہے مشک پر3 اور اس پر چاہیے کہ ڈھکیں ڈھکنے والے4

3 جیسے دنیا میں مہر لاکھ یا مٹی پر جمائی جاتی، وہاں کی مٹی مشک ہے اسی پر جمائی جائے گی، شیشہ ہاتھ میں لیتے ہی دماغ معطر ہوجائے گا اور اخیر تک خوشبو مہکتی رہے گی۔ 4 یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس لائق نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے لئے لوگوں کو ٹوٹ پڑنا چاہیے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہونی چاہئے۔
Ayahs 83:27–28

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اور اس کی ملونی ہے تسنیم سے

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس سے پیتے ہیں نزدیک والے5

5 یعنی مقرب لوگ اس چشمہ کی شراب خالص پیتے ہیں اور ابرار کو اس شراب کی ملونی دی جاتی ہے جو بطور گلاب وغیرہ کے ان کی شراب میں ملاتے ہیں۔
Ayah 83:29

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

وہ لوگ جو گناہ گار تھے ایمان والوں سے ہنسا کرتے6

6 کہ ان بیوقوفوں کو کیا خیال فاسد دامن گیر ہوا ہے کہ محسوس و موجود لذتوں کو جنت کی خیالی لذتوں کی توقع پر چھوڑتے ہیں۔
Ayah 83:30

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب ہو کر نکلتے ان کے پاس کو تو آپس میں آنکھ مارتے7

7 کہ دیکھو یہ ہی بےعقل اور احمق لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کو جنت کے ادھار پر دنیا کے نقد سے محروم کر رکھا ہے۔
Ayah 83:31

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب پھر کر جاتے اپنے گھر پھرجاتے باتیں بناتے8

8 یعنی خوش طبعی کرتے اور مسلمانوں پر پھبتیاں کستے تھے اور اپنے عیش وآرام پر مفتون و مغرور ہو کر سمجھتے کہ ہمارے ہی عقیدے اور خیالات درست ہیں ورنہ یہ نعمتیں ہم کو کیوں ملتیں۔
Ayah 83:32

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب ان کو دیکھتے کہتے بیشک یہ لوگ بہک رہے ہیں9

9 کہ خواہ مخواہ زہدو ریاضت کر کے اپنی جانیں کھپاتے اور موہوم لذتوں کو موجودہ لذتوں پر ترجیح دیتے ہیں اور لا حاصل مشقتوں کا کمالات حقیقی نام رکھا ہے۔ کیا کھلی ہوئی گمراہی نہیں کہ سب گھر بار اور عیش و آرام چھوڑ کر ایک شخص کے پیچھے ہو لئے اور اپنے آبائی دین کو بھی ترک کر بیٹھے۔
Ayah 83:33

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

اور ان کو بھیجا نہیں ان پر نگہبان بنا کر10

10 یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کافروں کو ان مسلمانوں پر کچھ نگہبان نہیں بنایا گیا کہ احمق اپنی تباہ کاریوں سے آنکھیں بند کر کے ان کی حرکات کی نگرانی کیا کریں۔ اپنی اصلاح کی فکر نہ ہو۔ اور سیدھی راہ چلنے والوں کو گمراہ اور احمق بنائیں۔
Ayah 83:34

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

سو آج ایمان والے منکروں سے ہنستے ہیں11

11 یعنی قیامت کے دن مسلمان ان کافروں پر ہنستے ہیں کہ یہ لوگ کیسے کوتاہ اندیش اور احمق تھے جو خسیس اور فانی چیز کو نفیس اور باقی نعمتوں پر ترجیح دی۔ آخر آج دوزخ میں کس طرح عذاب دائم کا مزہ چکھ رہے ہیں۔
Ayah 83:35

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں12

12 یعنی اپنی خوشحالی اور کافروں کی بدحالی کا نظارہ کر رہے ہیں۔
Ayah 83:36

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

اب بدلہ پایا ہے منکروں نے جیسا کچھ یہ کرتے تھے13

13 یعنی جو دنیا میں مسلمانوں کی ہنسی اڑاتے تھے، آج ان کا حال قابل مضحکہ ہو رہا ہے اور مسلمان ان کی گزشتہ حماقتوں کا خیال کر کے ہنستے ہیں۔