Ayah 83:1سورت کا آغاز ناپ تول میں ڈنڈی مارنے والوں پر تنقیدی حملے سے ہوتا ہے کہ ان ڈنڈی مارنے والوں (مطففین) کے لئے تباہی اور ہلاکت ہے۔ یہاں بطور فیصلہ یہ بات بتائی جارہی ہے کہ ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہو یا یہ ان کے حق میں بددعا ہو ، مطلب دونوں کا ایک ہی ہے کیونکہ اللہ کی جانب سے بددعا بھی ایک فیصلہ ہوتا ہے۔
Ayahs 83:2–3اگلی دو آیات میں مطففین کی تعریف کی گئی ہے کہ مطفف ، ڈنڈی مارنے والا کون ہوتا ہے۔
الذین اذا ........................ یخسرون (3-2:83) ” یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو گھاٹا دیتے ہیں “۔ جب وہ مشتری ہوں تو بہت ہشیاری سے پورا پورا لیتے ہیں اور اگر بیچنے والے ہوں تو کم دیتے ہیں۔
اس مکی سورت میں اس اہمیت کے ساتھ ناپ تول میں کمی کے مسئلہ پر بحث تعجب خیز ہے اور ایک خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ مکی سورتوں میں بالعموم کلی اور اصولی عقائد اور نظریات سے بحث کی گئی ہے۔ مثلاً توحید کا ثبوت ، اللہ کی بےقید مشیت ، عام مخلوق اور پوری کائنات پر اللہ کا کنٹرول ، وحی کی حقیقت اور نبوت کا منصب ، آخرت کی حقیقت اور حساب و کتاب اور عمومی انداز میں اخلاقی احساسات پیدا کرنا ، خصوصاً ایسے احساسات جن کا ان بنیادی عقائد ونظریات کی ساتھ خاص ربط اور تعلق ہو۔ رہی یہ بات کہ کسی اخلاقی مسئلہ پر خاص طور پر بحث کرنا تو یہ بات مکی سورتوں میں نہیں ہے مثلاً کم ناپنے اور کم تولنے کا مسئلہ ، اور دوسری معاملاتی بےقاعدگیاں۔ یہ تمام امور مدنی سورتوں میں آئے جبکہ اسلامی نظام حکومت قائم ہوگیا تھا اور اس نے معاشی ، معاشرتی اور سماجی مسائل کو حل کرنا شروع کیا تھا کیونکہ یہی انداز اسلامی منہاج کا عمومی انداز تھا۔
لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ یہ بتایا جائے کہ اس عمومی قاعدے سے ہٹ کر قرآن نے اس مسئلے کو کیوں لیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان چند اور مختصر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بعض وجوہات تھیں۔
ان آیات سے ایک بات قہ معلوم ہوتی ہے کہ جب اسلام آیا تو مکہ میں ناپ تول میں کمی کا ایک ظالمانہ نظام ایک خوفناک شکل میں موجود تھا۔ مکہ کے کبراء یہ کام کرتے تھے۔ ان لوگوں کا پورے عرب بلکہ شرق وغرب کی تجارت پر قبضہ تھا۔ اور یہ اکابر وسیع کاروبار کے مالک تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ذخیرہ اندوزی کا جال پھیلا رکھا تھا۔ یہ لوگ گرمیوں اور سردیوں کے سفر شام اور یمن کے ساحل کی طرف کرتے تھے اور انہوں نے مختلف مواقع پر تجاری میلے بھی منظم کر رکھے تھے۔ مثلاً حج کے موقعہ پر عکاظ کا بازار لگتا تھا جس میں وسیع تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی اور تاریخی سرگرمیاں بھی زوروں پر ہوتی تھیں۔ لوگ مفاخر اور اشعار بھی پڑھتے۔
آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں ان اکابر مجرمین کو سخت دھمکی دیتا ہے کہ تباہی تمہارے سر پر ہے۔ اسی طرح ان کے خلاف اعلان جنگ کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ برا کام کرنے والے لوگ اونچے طبقات کے لوگ تھے۔ اور ان کو ایسا معاشرتی مقام حاصل تھا کہ یہ لوگوں کو اس پر مجبور کرتے تھے کہ ان کو کم دیں۔ قرآن نے لفظ (یکتالون علی الناس) استعمال کیا جس میں لفظ ” علی “ برتری کے مفہوم میں ہے یعنی اپنی اونچی پوزیشن کی وجہ سے لوگوں پر کم ناپ وتول ٹھونستے تھے اور جب ان سے وہ کچھ لیتے تھے تو جبراً زیادہ لیتے تھے۔ اگر وہ پورا لیتے تو یہ بات قابل اعتراض نہ ہوتی اور اس کا ذکر ہی نہ کیا جاتا ۔ یعنی وہ جو چاہتے ، جبراً زیادہ لیتے تھے۔ اگر وہ پورا لیتے تو یہ بات قابل اعتراض نہ ہوتی اور اس کا ذکر ہی نہ کیا جاتا۔ یعنی وہ جو چاہتے ، جبراً لے لیتے۔ اور جب لوگوں کو دیتے تو اپنی سیاسی اور سماجی پوزیشن کی وجہ سے کم دیتے ۔ کیونکہ وہ لوگ اپنے حقوق پورے حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے اس لئے کہ ان کبراء کو سیاسی اور قبائلی برتری حاصل تھی اور معاشی برتری کی وجہ سے لوگ مجبور ہوتے تھے کہ ان کے اس ظلم پر راضی ہوں۔ یہ ذخیرہ اندوزی کرتے تھے اور پھر لوگوں کو مہنگا فروخت کرکے ان کو دیتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے تجارتی نظام کی خصوصیت ہے۔ غرض ایک واضح ظالمانہ نظام تطفیف مکہ میں کام کررہا تھا ، اس لئے اسے چیلنج کیا گیا۔
اس مکی معاشرہ میں دعوت اسلامی کے نہایت ہی ابتدائی ایام میں اس مسئلے کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کا مزاج کیا ہے ، نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین ایک مکمل نظام زندگی ہے اور زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے خواہ نظریاتی ہو یا عملی۔ اور اس نظام کی اٹھان گہرے اخلاقی اصولوں پر ہے جو اس نظام کے اندر نہایت ہی گہرائی میں رکھے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ان ابتدائی ایام ہی میں اس غلط روش کو ناپسند کیا کیونکہ باہم معاملات میں یہ کھلی بداخلاقی تھی۔ حالانکہ اس دور میں اسلام کو اجتماعی قیادت اور اختیارات حاصل نہ تھے ، نہ حکومت تھی اور نہ اسلامی شریعت نافذ تھی۔ لیکن اسلام نے اپنے مزاج کے عین مطابق اس برائی کے خلاف یہ آواز بلند کی۔ اور اعلان کردیا کہ ناپ تول میں ڈنڈی مارنے والوں کے لئے ہلاکت اور بربادی ہے۔ جو لوگ یہ کام کرتے تھے وہ مکہ کے سردار ، برسر اقتدار اور بااختیار تھے۔ ان کو لوگوں پر روحانی سیادت حاصل تھی۔ اور یہ عقیدہ شرک کے محافظ تھے اور ان کو مکہ میں معاشی برتری بھی حاصل تھی۔ اسلام نے ان لوگوں کی قیادت وسیادت کے باوجود ان کے اس ظلم اور دھاندلی کے خلاف آواز بلند کی۔ اور غریب عوام کے حق میں آواز بلند کی جن کا استحصال کیا جارہا تھا اور یہ استحصال وہ ان مذہبی خیالات کی بنا پر کررہے تھے جو انہوں نے ان عوام کے ذہنوں پر بٹھا دیئے تھے۔ اسلام نے جو آواز اٹھائی وہ اسلام کی فطری آواز تھی۔ اسلامی نظام کے مزاج کے عین مطابق تھی ، اور یہ ایک ایسی آواز تھی جو سوئے ہوئے عوام کو جگارہی تھی اور تحریک اسلامی نے یہ آواز اس وقت اٹھائی جب اس کے ماننے والے اس وقت مکہ میں مقہور ومحصور تھے اور جن لوگوں کے خلاف یہ اٹھائی گئی وہ معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور ان کو معاشی ، دینی اور مالی برتری حاصل تھی۔
اس سے ہمیں ایک نہایت ہی حقیقت پسندانہ سبب ملتا ہے۔ اس بات کا کہ مشرکین مکہ اسلام اور دعوت اسلامی کے معاملے میں کیوں ایک ناقابل عبور رکاوٹ بن کر کھڑے ہوگئے تھے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ جانتے تھے کہ یہ نیا نظریہ جو حضرت محمد ﷺ پیش فرما رہے ہیں۔ یہ فقط عقیدہ اور زبانی اقرار ہی نہیں ہے کہ اللہ ایک ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور بتوں اور مورتیوں کو چھوڑ کر فقط ایک خدا کی عبادت اور بندگی کرنا ہے۔ ایسا نہ تھا بلکہ وہ جانتے تھے کہ یہ عقیدہ اور نظریہ جاہلیت کی تمام بنیادو کو اکھاڑ کر پھینک رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے تمام مفادات بھی ختم ہورہے ہیں اور اس عقیدے سے ان کی عزت ، مقام اور اقتدار کو سخت خطرہ لاحق ہے۔ اس نظام کا مزاج ہی دوئی قبول نہیں کرتا۔ یہ نظام ایسے سیکولر عناصر سے بھی نہیں ملتا جن کا ربط آسمانی ہدایات و تصورات سے نہ ہو ، اور یہ نظام اس تمام زمینی مواد کو ختم کرتا ہے جس کے اوپر جاہلیت کا نظام قائم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل مکہ نے اس نئے نظام کے خلاف چومکھی لڑائی شروع کردی اور یہ لڑائی نہ ہجرت سے قبل کے زمانے میں کبھی رکی اور نہ بعد کے زمانوں میں ، یہ کبھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ جنگ دراصل کلچر کی جنگ تھی۔ یہ لوگ ، اسلامی کلچر کے خلاف برسرپیکار تھے۔ یہ محض دینی نظریاتی جنگ نہ تھی۔
جو لوگ اسلامی نظام کے اقتدار کی راہ روک رہے ہیں۔ ان لوگوں نے ہر دور اور ہر مقام پر اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھا ہے۔ انہوں نے اسلامی نظام کے غلبے کے نتائج کو اچھی طرح جانا ہے تب ہی تو انہوں نے اسلامی نظام کے غلبے کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ لوگ جانتے تھے اور ہیں کہ ان کے باطل طور طریقے اور ان کے جابرانہ مفادات اور خود انی کی کھوئی قوت اور ان کی بےراہ روی ، غرض یہ سب چیزیں اسلام نظام کے غلبے کے نتیجے میں ختم ہونے والی ہیں کیونکہ یہ تو ایک سیدھا اور نہایت ہی شریفانہ نظام ہے۔
دوسرے لوگوں کے مقابلے میں یہ باغی اور سرکش اور ڈنڈی مارنے والے ، خواہ اس ڈنڈی مارنے اور ظلم کی جو صورت بھی ہو ، مالی ظلم ہو یا دوسرے حقوق وفرائض میں ظلم ہو ، یہ باغی اور سرکش دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اسلامی نظام سے زیادہ خائف رہتے ہیں کیونکہ یہ نہایت منصفانہ اور پاک وصاف نظام ہے۔ یہ نظام انسانی حقوق پر کوئی سودا بازی اور کوئی مداہنت قبول نہیں کرتا اور نہ نصافا نصف اور کچھ لو اور کچھ دو کا فیصلہ کرتا ہے۔
ہجرت سے قبل جن لوگوں نے عقبہ ثانیہ کی بیعت کی تھی۔ انہوں نے اسی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : ” اور مجھے عاصم ابن عمر ابن قتادہ نے بتایا کہ جب لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کے لئے جمع ہوئے تو اس موقعہ پر عباس ابن عبادہ ابن نضلہ انصاری ، بنی سالم ابن عوف کے فرد نے کہا : ” اے اہل خزرج ، کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم اس شخص کے ساتھ کس بات پر بیعت کررہے ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا : ” ہاں ہم جانتے ہیں “۔ تو اس نے کہا : ” حقیقت یہ ہے کہ تم اور ہم اسودواحمر کے ساتھ لڑنے جارہے ہیں۔ اگر تمہاری رائے یہ ہے کہ جب ہمیں مالی تاوان لاحق ہوگا ، اور ہمارے شرفاء قتل ہوں گے اور ہم پھر اس کی حمایت سے دست بردار ہوجائیں گے تو ابھی سے اسے چھوڑ دو ، اگر بعد میں تم اسے چھوڑو گے تو دنیا وآخرت میں تباہ ہوجاﺅ گے اور اگر تم اس بات پر تل گئے ہو کہ مال لٹانا اور اثراف کا قتل ہونا ہمیں منظور ہے تو بیعت کرلو۔ خدا کی قسم ! یہ دنیا وآخرت سے بہتر ہیں “ تو بیعت کرنے والوں نے کہا کہ ” ہم مال لٹانے اور اثراف کے قتل پر بھی اسے ہی قبول کرتے ہیں “۔ اس پر اس شخص نے کہا : ” رسول خدا اس پر ہمیں کیا اجر ملے گا۔ اگر ہم نے یہ عہد پورا کردیا “ تو آپ نے فرمایا :” جنت “ تو انہوں نے کہا : ” لائیے ہاتھ “ آپ نے بھی ہاتھ بڑھایا اور لوگوں کی بیعت کی۔
غرض بیت عقبہ کرنے والوں نے بھی اس دین کے مزاج کو سمجھ لیا تھا اور کبرائے قریش نے بھی سمجھ لیا تھا کہ یہ دین تلوار کی دھار کی طرح عدل و انصاف کے اصولوں پر سیدھاقائم ہے۔ یہ زیادتی اور سرکشی کسی طرح بھی برداشت نہیں کرتا۔ نہ حد سے تجاوز اور بغاوت کو برداشت کرتا ہے اور نہ کبروغرور کو اور نہ یہ دین کے نام پر ظلم ، زیادتی اور دھوکہ بازی اور استحصال کو برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا ہر وہ شخص جو سرکش ہو ، باغی ہو ، متکبر ہو ، استحصالی ہو ، وہ اس دین ، اس کی دعوت اور اس کے داعیون کا دشمن ہوتا ہے۔
Ayahs 83:4–6الا یظن ............................ العلمین (4:83 تا 6) ” کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں ؟ اس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “۔ ان لوگوں کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ صرف یہ یقین کہ ہم نے ایک دن رب العالمین کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس دن رب العالمین کے سوا اور کوئی مختار نہ ہوگا ، اس کے سوا کوئی آقا نہ ہوگا۔ اور اس دن صرف اللہ کے فیصلے کا انتظار ہوگا۔ اور اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہ ہوگا۔ غرض صرف یہ ایک عقیدہ ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ وہ ڈنڈی مارنے کی اس گھناﺅنی حرکت سے باز آجاتے اور لوگوں کے مال باطل طریقے سے نہ کھاتے اور اپنے اقتدار کو بذریعہ ظلم نہ بناتے اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکے نہ ڈالتے۔ لیکن وہ ڈنڈی مارنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، گویا کہ ان کو یقین ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور یہ ایک عجیب طرز عمل ہے۔
اس سورت کے پہلے پیراگراف میں ان لوگوں کو مطففین کہا گیا یعنی ڈنڈی مارنے والے جبکہ دوسرے پیرے میں ان کو فجار کہا گیا ہے یعنی بدکار۔ یہاں ان کو بدکاروں کی صف میں شامل کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے شب وروز کیا ہیں ، اللہ کے نزدیک ان کا مقام کیا ہے ؟ اس زندگی میں یہ کیسے ہیں اور آخرت میں وہ کیسے ہوں گے اور کس قسم کے حالات ان کے انتظار میں ہیں۔
Ayahs 83:7–9ان لوگوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ یہ لوگ قیامت کے یوم عظیم میں اٹھائے جائیں گے۔ اسی لئے قرآن کریم نہایت سرزنش اور زجروتوبیخ کے انداز میں اس سے روکتا ہے اور نہایت تاکید کے ساتھ بتاتا ہے کہ ایک کتاب میں ان کے تمام اعمال ثبت کئے جارہے ہیں۔ اور اس بات کو زیادہ تاکیدی بنانے کے لئے یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کتاب کہاں رکھی ہوئی ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جب ان فساق وفجار کے سامنے ، اس عظیم دن میں ان کی کتاب پیش کی جائے گی تو ان پر بڑی بربادی واقع ہوگی۔
کلا ان .................................... للمکذبین (7:83 تا 10) ” ہرگز نہیں ، یقینا بدکاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ کیا ہے وہ قید خانے کا دفتر ؟ وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے “۔ فجار ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اثم ومعصیت میں حدوں سے گزر جائیں ، خود لفظ فجار کی صوتی لہروں میں یہ مفہوم پوشیدہ ہے۔ ان کی کتاب سے مراد ان کا اعمال نامہ ہے۔ اس کی ماہیت اور کیفیت کا علم انسانوں کو نہیں ہے۔ یہ غیبی امور میں سے ہے اور اس کے بارے میں ہم صرف اتنی بات کرسکتے ہیں جو مخبر صادق نے ہمیں اطلاع دی ہو ۔ قرآن نے یہ کہا ہے کہ بدکاروں کے اعمال کا ایک دفتر ہے اور یہ سجین میں ہے۔ قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ کسی بات کو خوفناک بنانے کے لئے ایک سوال کردیتا ہے۔
وما ادرک ما سجین (8:83) ” تمہیں کیا معلوم کہ سجین کیا ہے ؟ “ مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ یہ معاملہ تمہارے حد ادراک سے آگے اور دور ہے اور بہت عظیم ہے اور تمہارے دائرہ ادراک سے بڑا ہے۔ لیکن قرآن بہرحال اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ
ان کتب .................... سجین (7:83) ” فجار کا اعمال نامہ سجین میں ہے “۔ جو ایک متعین جگہ ہے۔ اگرچہ انسان کو معلوم نہیں ہے۔ اس طرح قارئین کو ایک یقینی اطلاح دی جارہی ہے کہ یہ اعمال نامہ تیار اور موجود ہے اور یہی یہاں مقصود ہے۔
کتب مرقوم (9:83) ” وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی “۔ اعمال نامہ کی تفصیلات کہ فجار کا یہ اعمال نامہ تیار شدہ ہے۔ اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ بس اس عظیم دن میں اسے کھولا جائے گا۔ اس لئے خیال کرو۔
Ayah 83:10ویل یومئذ للمکذبین (10:83) ” اس دن مکذبین کے لئے بربادی ہے “۔ اور مکذبین کی تعریف بھی کردی جاتی ہے۔
Ayahs 83:11–13الذین ........................ الاولین (11:83 تا 13) ” اور اسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے۔ اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے ، ” یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں “۔ یہ الزام وہ اس لئے دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں امم سابقہ کے قصے اور حالات برائے عبرت لائے گئے ہیں۔ اور ان کے ذریعہ اس کائنات میں چلنے والی سنت الٰہیہ کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ سنت ایک اٹل قانون کی طرح لوگوں کو گرفت میں لیتی ہے۔
اس دست درازی اور تکذیب کے بعد اب ایک سرزنش اور تنبیہہ آتی ہے اور یہ کلا سے شروع ہوتی ہے اور اس میں ان کی اس روش کی اصلی علت اور سبب بتایا جاتا ہے کہ وہ کیوں ظلم کرتے ہیں اور حق کو کو یں جھٹلاتے ہیں ؟ یہ کہ وہ غافل ہوگئے ہیں اور ان کے دل مسخ ہوکر زنگ آلود ہوگئے ہیں۔
Ayah 83:14کلا بل ........................ یکسبون (14:83) ” ہرگز نہیں ، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے “۔ یعنی وہ جن گناہوں اور نافرمانیوں کا ارتکاب کرتے ہیں انہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا ہے۔ اور جب کوئی شخص معصیت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا دل زنگ پکڑ کر سیاہ ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح اس پر ایک دبیز پردہ پڑجاتا ہے اور یہ دل نور سے چھپ جاتا ہے اور اس کا احساس دھیرے دھیرے ختم ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ احساس ہی ختم ہوجاتا ہے۔
امام ترمذی اور نسائی نے محمد ابن عملان سے انہوں نے قنقاع سے انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس سے اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے۔ اب اگر وہ توبہ کرے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ پھر گناہ کرے تو یہ سیاہی بڑھ جاتی ہے “۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ اور امام نسائی کے الفاظ یہ ہیں : ” جب انسان کسی غلطی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے۔ اگر اس نے برائی سے ہاتھ کھینچ لیا ، استغفار کیا اور توبہ کرلیا تو اس کا دل صیقل ہوجاتا ہے۔ اگر اس نے دوبارہ اس برائی کا ارتکاب کیا تو اس نقطے میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ سیاہی اسکے پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ یہ ہے وہ زنگ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
کلا بل ........................ یکسبون (14:83) ؟ ؟ ہرگز نہیں ، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں ” یہ گناہ پر گناہ ہے ، یہاں تک کہ دل اندھا ہوجاتا ہے اور پھر مرجاتا ہے “۔
یہ ہے تکذیب کرنے والوں کا حال اور یہ ہے ان کی تکذیب اور ان کے فسق وفجور کی علت۔ اب اس عظیم دن میں ان کے ہونے والے انجام کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ان کا اس عظیم دن میں جو انجام ہورہا ہے وہ ان کے فسق وفجور اور ان کی تکذیب کے حسب حال ہے۔
Ayahs 83:15–17کلا انھم ................................ تکذبون (15:83 تا 17) ” ہرگز نہیں ، بالیقین اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے ، پھر یہ جہنم میں جاپڑیں گے ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔
فسق وفجور اور گناہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا تھا۔ دنیا میں ان کے دل رب تعالیٰ کے احساس سے دور ہوگئے تھے اور گناہوں نے ان کی زندگی کو بےنور اور تاریک کردیا تھا ، وہ زندگی میں ایسی روش رکھتے تھے جس طرح اندھے ہوں۔ اب آخرت میں ان کا انجام بھی طبعی ہے اور ان کے حسب حال ہے۔ آخرت میں وہ دیدار رب کی عظیم نعمت سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ یہ ایک عظیم محرومی ہوگی۔ قیامت میں یہ نعمت صرف اس شخص کو نصیب ہوگی جس کی روح صاف اور شفاف ہوچکی ہو اور اس کی اس صفائی کی وجہ سے اس کے اور رب کے درمیان سب پردے دور ہوجائیں گے۔ سورة قیامت میں انہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے۔
وجوہ یومئذ ........................ ناظرہ ” کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “۔ قیامت میں رب تعالیٰ سے حجاب ان کے لئے عذاب قیامت سے بھی بڑا عذاب ہوگا۔ تمام محرومیوں سے یہ بڑی محرومی ہوگی اور یہ کسی انسان کی انسانیت کا بدترین انجام ہوگا کہ اس کی انسانیت رب کریم کے ساتھ جاملنے اور اس تک پہنچ جانے سے محروم رہے۔ کیونکہ جب کوئی رب کریم تک پہنچنے سے محروم ہوجائے تو وہ اپنے انسانی خصائص کھو بیٹھتا ہے۔ اور اس حد تک گر جاتا ہے کہ وہ اب جہنم کے لائق اور مستحق ہوجاتا ہے۔
ثم انھم .................... الجحیم (16:83) ” پھر یہ جہنم میں پڑجائیں گے “۔ لیکن اس جہنم رسیدگی کے ساتھ ساتھ وہاں ان کی سرزنش بھی ہوگی اور یہ اس عذاب سے بھی زیادہ کڑوی ہوگی۔
ثم یقال .................... تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔
اب اس کے بعد صفحہ بالمقابل پیش کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کا یہ مستقل انداز بیان ہے کہ وہ بالعموم اچھائی اور برائی دونوں کی تصویر کے دونوں رخ پیش کرتا ہے تاکہ حسن وقبح کے تقابل سے لوگ بات کو اچھی طرح سمجھیں اور حقیقت ان کے ذہن نشین ہوجائے اور اچھوں اور بروں دونوں کا انجام بھی سامنے آجائے۔
Ayahs 83:18–19اس پیراگراف کے آغاز میں لفظ کلا ” ہرگز نہیں “۔ زجروتوبیخ اور سرزنش کے لئے آیا ہے اور یہ زجر اس سے ماقبلی مذکور ہے۔
ثم یقال ........................ تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے “۔ اس پر بطور نتیجہ کہا ، ہرگز نہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بعد نیک لوگوں کا بیان شروع ہوتا ہے اور یہ مثبت اور تاکیدی انداز میں آتا ہے۔
جس طرح پہلے کہا گیا تھا کہ بدکاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے تو یہاں کہا جارہا ہے کہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہے۔ اور ابرار ” نیکوکار “ وہ لوگ ہیں جو اطاعت کیش اور ہر نیک کام کرنے والے ہیں۔ یہ نافرمانوں اور حد سے گزرنے والوں کے بالمقابل یہاں لائے گئے ہیں۔
لفظ علیین سے علو اور بلندی کا مفہوم ذہن میں آتا ہے ، اور اس سے ہم یہ بات اخذ کرسکتے ہیں کہ سجین کے اندر انحطاط ، پستی اور گراﺅٹ کا مفہوم ہوگا۔ اور اس کے بعد سوال ایک خوفناک سوال آتا ہے جو بتاتا ہے کہ مخاطب کو معلوم نہیں ہے کہ علییون ہے کیا ؟ مطلب یہ ہے کہ تم ان بلندیوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ مقام تمہارے حد ادراک سے ماوراء ہے۔
اس اشاراتی فضا سے نکل کر اب روئے سخن نیکوکاروں کے اعمال نامے کی طرف مڑ جاتا ہے تو وہ کیا ہے۔
Ayahs 83:20–21کتب ............................ المقربون (21:80) ” ایک لکھی ہوئی کتاب ہے جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں “۔ لکھی ہوئی (مرقوم) کے معنی ہم پہلے بتا چکے ہیں۔ یہاں اس قدر اضافہ ہے کہ مقرب فرشتے اس کتاب کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ کتاب نہایت پاکیزہ ، نہایت قابل قدر ، نہایت بلند مرتبہ کتاب ہے جس پر اللہ کے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں اور اس کتاب میں چونکہ نہایت اعلیٰ اخلاق اور اعمال کا ذکر ہے۔ اس لئے یہ ان مقرب فرشتوں کے لئے متاع حیات ہے اور وہ ایسا لکھیں گے اس کتاب کی اس فضا کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ قابل قدر کتاب ہے۔
اس قابل قدر کتاب کے ذکر کے بعد اب خود ابرار کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس اچھے اعمال نامے کے مالک ہیں اور ان انعامات واکرامات کا ذکر کیا جاتا ہے جن میں وہ رہ رہے ہوں گے۔
Ayah 83:22ان الابرار ................ نعیم (22:83) ” بیشک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے “۔ یہ نعیم حجیم کے مقابلے میں ہے۔
Ayah 83:23علی .................... ینظرون (23:83) ” اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کررہے ہوں گے “۔ یعنی نہایت ہی مکرم مقام پر ہوں گے۔ اور اس مقام پر یہ جہاں چاہیں گے ، سیر کرتے پھریں گے۔ ذلت و خواری کی وجہ سے ان کی نظریں سہمی ہوئی نہ ہوں گی۔ اور نہ تھک تھکا کر وہ آنکھیں بند کرلیں گے۔ یہ لوگ تختوں پر اور مسندوں پر بیٹھے ہوں گے اور نظارے کررہے ہوں گے جس طرح حجلہ عروسی پہ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں۔ عربوں کے نزدیک عیش و عشرت اور نعمت اور آرام کا یہ ارفع مقام ہوا کرتا تھا کہ کوئی حجلہ عروسی میں ہو ، اور اونچی اوانچی مسندوں پر آرام سے بیٹھا ہو کیونکہ بالعموم ایک عربی کی زندگی سخت مشقت کی زندگی ہوتی ہے۔ یہ تو دنیاوی زندگی کی ایک تمثیل ہے۔ آخرت میں جو صورت ہوگی وہ ناقابل تصور حد تک ارفع وبلند ہوگی۔ اور ان کے بلند سے بلند تصور سے بھی اعلیٰ وارفع ہوگی۔ اور زمین اور اس دنیا کے اونچے سے اونچے تصور اور تجربے سے بھی اونچی ہوگی۔
ان نعمتوں میں وہ جسمانی طور پر بھی نرم ونازک ہوں گے۔ اور ان کی اسی نزاکت اور نرمی اور خوشی اور خوشحالی کے اثرات ان کے چہرے سے ظاہر ہوں گے۔ اور ہر آدمی اس کا مشاہدہ کررہا ہوگا۔
Ayah 83:24تعرف .................... النعیم (24:83) ” ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کروں گے “۔
Ayahs 83:25–26یسقون .................... مسک (25:83) ” ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی مہریں لگی ہوں گی “۔ رحیق ، خالص اور صاف شراب کو کہتے ہیں ، جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہوگی اور نہ کوئی کدورت ہوگی۔ شراب کی یہ صفت کہ وہ سر بند ہوگی اور اس کی مہر مشک سے بنی ہوئی ہوگی۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ وہ برتنوں میں ہوگی اور یہ برتن سربند اور مہرزدہ ہوں گے اور پینے کے وقت ان کو کھولا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت اہتمام اور صفائی سے اسے تیار کیا جائے گا اور مشک سے مہر کرنا ، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ صاف اور خوش ذائقہ ہوگی۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو ان اصطلاحات میں بتائے گئے ہیں جن کے ساتھ انسان اس دنیا میں مانوس ہے ، لیکن جب اہل ایمان جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا ذوق اس دنیا کے ذوق سے آزاد ہوگا کیونکہ دنیا کا ذوق نہایت محدود ہے۔
Ayahs 83:27–28شراب کے وصف کا اختتام جو ان دو آیات میں ہوتا ہے۔
ومزاجہ .................... المقربون (28:83) ” اسی شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی ، یہ چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے “۔ اس اختتام سے پہلے ہی ، درمیان میں ایک اہم ہدایت دے دی جاتی ہے اور یہ ہدایت ہے۔
وفی ذلک .................... المتنافسون (26:83) ” جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں “۔ یہ ایک گہرا اشارہ ہے اور اس کے اندر ایک جہان معانی پوشیدہ ہے۔
یہ ڈنڈی مارنے والے ، جو لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھاتے ہیں ، اور آخرت کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔ قیامت کے حساب و کتاب کی تکذیب کرتے ہیں ، اور ان کی بدکاری اور معصیت اور ظلم کی وجہ سے ان کے دلوں پر سیاہی چھاگئی ہے۔ یہ لوگ تو اس دنیا کے مال ومتاع میں ایک دوسرے کے ساتھ تنافس کرتے ہیں ، ان میں ہر شخص اس دنیا کے مال ومتاع میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہتا ہے ، اور دنیا کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنا چاہتے ہے۔ اس لئے ظلم کرتا ہے اور فسق وفجور میں مبتلا ہے۔ اور اس زوال پذیر سازوسامان کے لئے مرمٹ رہا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کا مال ومنال اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس کے بارے میں کوئی مقابلہ ہو ، مقابلہ اور بازی لے جانا اگر کوئی چاہتا بھی ہے تو چاہئے کہ وہ قیامت اور آخرت کے سازو سامان کے لئے کرے۔
وفی ذلک ........................ المتنافسون (26:83) ” جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس اخروی چیز کو حاصل کرنے کے لئے بازی لے جائیں “۔ کیونکہ یہی تو مطلوب مومن ہے۔ یہی وہ نصب العین ہے جس کی طرف وہ دوڑیں اور یہی وہ ٹارگٹ ہے جس کی طرف وہ سب سے آگے بڑھیں۔
دنیا کا سازو سامان ، جاہ مرتبہ جس قدر عظیم کیوں نہ ہو ، اعلیٰ وارفع کیوں نہ ہو۔ آخرت کے سازوسامان کے مقابلے میں حقیر اور بےقیمت ہے۔ یہ پوری دنیا اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی قیمت نہیں رکھتی۔ آخرت اللہ کے پیمانوں میں بھاری ہے۔ لہٰذا آخرت ہی ایک ایسی قیمت حقیقت ہے جس کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے بازی لے جانا مناسب ہے نہ کہ دنیا۔
یہ عجیب بات ہے کہ آخرت کے لئے مقابلہ کرنے والوں کی روحیں بہت بلند ہوجاتی ہیں جبکہ دنیا کے لئے مقابلہ کرنے والے باہم حسد ودشمنی کی وجہ سے گر جاتے ہیں۔ ان کی روح گر جاتی ہے اور جو لوگ آخرت کے لئے سعی اور مقابلہ کرتے ہیں اس کی وجہ سے یہ پوری دنیا بھی خیروبرکت سے معمور ہوجاتی ہے اور یہ سب کے لئے پاکیزہ جائے رہائش بن جاتی ہے۔ جبکہ مقابلہ اگر دنیاوی مقاصد کے لئے ہو تو بغض وعداوت پیدا ہوجاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو اس طرح نوچ کھاتے ہیں جس طرح حشرات الارض ایک دوسرے کو کھاتے ہیں اور نیک لوگوں کی زندگی تو اس ماحول میں سخت دشوار ہوتی ہے۔ ہر طرف سے ان کی ٹانگ کھینچی جاتی ہے اور ہر طرف سے ان کو نوچا جاتا ہے۔
یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ اگر ہم آخرت ہی کے لئے باہم مقابلہ اور مسابقت کریں تو یہ دنیا خراب اور برباد ہوجائے گی ، جیسا کہ بعض دنیا پرستوں کا خیال ہے۔ اسلام کا تصور یہ ہے کہ دنیا آخرت کے لئے ایک کھیت ہے۔ یہاں فصل کی بوائی ہوگی اور آخرت میں فصل کاٹی جائے گی۔ اصلاح وتقویٰ کے ساتھ اسلامی نظام زندگی کے مطابق اس دنیا کو آباد کرنا اور ترقی دینا ، اسلامی نظریہ خلافت ارضی کے مطابق ایک مومن کا مطلوب ومقصود ہے۔ اسلام اس دنیا کی ترقی کی راہ ہی سے آخرت کی ترقی کا قائل ہے۔ یہی اسلام کا نظریہ عبادت ہے کہ اس دنیا کی پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت کرنا ہی انسان کا مقصد تخلیق ہے۔
وما خلقت ........................ لیعبدون (ذاریات :56) ” اور میں نے جن وانس کو اس کے سوا کسی اور مقصد کے لئے نہیں پیدا کیا کہ وہ میری اطاعت کریں “۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے سورة ذرایات ، پارہ 27)
وفی ذلک .................... المتنافسون (26:83) ” جو لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں بازی لے جانا چاہتے ہیں وہ اس چیز میں بازی لے جائیں “۔ یہ ایک ایسی ہدایت ہے جو اس دنیا کے لوگوں کی نظریں اس کم قیمت اور حقیر زمین سے بلند کرکے آخرت پر مرکوز کراتی ہے۔ جبکہ عملاً وہ اسی دینا میں انسان کے منصب خلافت کو ادا کرتے ہوئے اس زمین کی تعمیروترقی میں بھی مصروف ہوتے ہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ مسلمان اس دنیا میں پائی جانے والی گندگی کی تطہیر میں بھی مصروف ہوتے ہیں اور اس گندگی سے دامن بھی بچاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کی زندگی بہت ہی مختصر ہے۔ اور آخرت کے جہاں میں انسان کی عمر طویل ہے۔ اور اس کی انتہا کا علم اللہ ہی کو ہے۔ پھر اس دنیا کا سازو سامان بھی محدود ہے۔ اور جنت کا سازو سامان اس قدر زیادہ اور لامحدود ہے کہ انسان کے حد ادراک سے ماوراء ہے۔ اس دنیا میں سازوسامان اور عیس و آرام کی سطح بھی معلوم اور محدود ہے جبکہ آخرت کا عیش و آرام لامحدود ہے۔ آخرت کا میدان بہت ہی وسیع اور دنیا کا میدان بہت ہی محدود ہے۔ دونوں کے مقاصد میں بھی بہت بڑا فرق ہے۔ دونوں کا نفع نقصان بھی بہت ہی مختلف ہے۔ اس لئے مقابلہ بھی مختلف ہے۔ اور حکم یہ ہے ۔ وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون (26:83) ” جو لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں بازی لے جانا چاہتے ہیں وہ اس چیز میں بازی لے جائیں “۔ یہاں ابرار اور نیکوکاروں کے انعامات اخروی کی تفصیلات ذرا طویل ہوگئیں اور یہ اس لئے بیان کی گئیں کہ مکہ کی سوسائٹی میں وہ فجار اور فساق کے ہاتھوں ظلم وستم کا شکار تھے ۔ ان کو اذیت دی جارہی تھی ، ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا تھا ، اور ان پر زیادتیاں ہورہی تھیں ، اس لئے ان انعامات کی بھی تفصیلات دی گئیں جو ان کے لئے تیار رکھی ہیں ، اور مذاق کے بدلے پھر کافروں کے ساتھ بھی مذاق ہوگا ، اس وقت وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ ابرار کو وہ انعامات پورے کے پورے مل گئے ہیں۔
Ayah 83:29اہل ایمان کے ساتھ مجرموں کے استہزا کے مناظر ، ان کی جانب سے دست درازیوں اور زیادتیوں کے جو شاید قرآن نے یہاں قلم بند کیے ہیں خصوصاً ان کا یہ تبصرہ کہ مسلمان گمراہ لوگ ہیں ، یہ سب مناظر مکہ کی سوسائٹی کے عملی مناظر ہیں ، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقامت دین کی ہر کسی تحریک کے کارکن انہی حالات اور نہی ریمارکس سے دو چار ہوتے ہیں۔ ہر دور اور ہر نسل میں یہی صورت حالات ہوا کرتی ہے۔ آج ہم اپنے دور کے حالات کو جب دیکھتے ہیں تو یہ نظر آتا کہ شاید یہ آیات ابھی ہمارے حسب حال اتری ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فساق وفجار کا مزاج ایک جیسا ہوتا ہے اور اہل حق کے مقابلے میں ان کا موقف بھی ہمیشہ ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ اس میں زمان ومکان کے فرق سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ان الذین ........................ یضحکون (29:83) ” مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے “۔ یہ ایسے ہی تھے ، اس ” تھے “ نے صدیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اب یہ آخرت کی بات ہورہی ہے۔ یہ اپنی آنکھوں سے اہل جنت کی نعمتوں کو دیکھ رہے ہیں۔ یہاں آخرت میں ان کو ذرا یاد دلایا جارہا ہے کہ تم تو یہ رویہ رکھتے تھے۔ یاد ہے نا۔
یہ اہل ایمان سے بطور مذاق ہنستے تھے کہ یہ ہیں مومن۔ یہ ہیں ” صالح “۔ یہ ہیں ” صالحین “۔ یہ کیوں ہنستے تھے۔ یا تو اس لئے کہ یہ لوگ غریب اور فقیر تھے اور بات انقلاب کی کرتے تھے اور پہنے ہوئے ہوتے تھے چیتھڑے۔ یا اس لئے کہ ہر طرف سے ان پر مار پڑتی ہے۔ جیلوں میں ہیں ، اپنا دفاع بھی نہیں کرکستے۔ یا اس لئے کہ یہ لوگ ان کی حماقتوں میں شریک نہ ہوتے تھے۔ ان لوگوں کے ہاں یہ سب باتیں مضحکہ خیز تھیں۔ چناچہ وہ اہل ایمان پر طنز وتشنیع کے تیر برساتے تھے۔ ان کو اذیت دیتے تھے۔ ان پر تشدد کرتے تھے اور نہایت ہی رذالت اور گھٹیا انداز میں ان سے مذاق کرتے تھے۔ اس بات کا اہل ایمان پر برا اثر ہوتا تھا۔ اور ان کی تکلیف ہوتی تھی لیکن وہ صبر کرتے تھے۔ بلند اخلاقی اختیار کرتے تھے اور نہایت شائستگی سے بات کو ٹال دیتے تھے۔
Ayah 83:30واذامرو .................... یتغامرون (30:83) ” جب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر ان کی طرف اشارے کرتے تھے “۔ یعنی وہ آنکھوں سے اشارے کرتے تھے یا ہاتھوں سے اشارے کرتے تھے یا کوئی ایسی حرکت کرتے تھے جو ان کے درمیان مذاق اڑانے کے لئے متعارف تھی ۔ یہ ایسی گری ہوئی حرکت ہوتی جس سے ان کی گستاخی اور بےادبی کا اظہار ہوتا ، یہ حرکت تہذیب کے دائرے سے نکلی ہوئی ہوتی ، اور ایسی حرکات سے ان لوگوں کا مقصد یہ ہوتا کہ اہل اسلام کے دل ٹوٹ جائیں اور ان کو شرمندہ کیا جائے اور وہ اس تحریک کی کامیابی سے مایوس ہوجائیں ، اس لئے یہ لوگ اس طرح کے اشارے کرتے اور چھچھوری حرکات کرتے۔
Ayah 83:31واذا ................ اھلھم (31:83) ” اور جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے “۔ یعنی مومنین کو ایذائیں دے کر اور ان کا مذاف اڑا کر جب وہ تھک جاتے تو اپنے گھروں کی طرف انقلبوا فکھین (31:83) ” تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے “۔ وہ اپنی ان حرکات پر خوش ہوتے ، اور نہایت مزے سے اتراتے ہوئے جاتے ، اور اپنی ان گھٹیا حرکات اور شرارتوں پر ان کو سخت مسرت ہوتی۔ حالانکہ اگر ان کا ضمیر زندہ ہوتا تو ان کو ملامت کرتا ، اور ان کو اپنے ان افعال پر ندامت ہوتی ، ان کو بالکل احساس نہ ہوتا کہ وہ کس قدر حقیر حرکت کررہے اور کس قدر گنداطرز عمل ہے ان کا۔ قلب ونظر کے مسخ ہونے اور ضمیر کے مرجانے کی یہ آخری حد ہے۔
Ayah 83:32واذا .................................... لضالون (32:83) ” اور جب انہیں دیکھتے تھے تو کہتے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں “۔ اور یہ تو نہایت ہی تعجب خیز بات ہے کہ اب یہ لوگ ہدایت وضلالت کے موضوع پر بات کرنے لگے ہیں اور بزعم خود یہ اہل حق اور اہل ہدایت کو اہل ضلالت اور گمراہ کہتے ہیں ، اور نہایت وثوق اور تحقیر آمیز طریقے سے یہ تبصرہ کرتے ہیں۔
ان ھولاء لضالون (32:83) ” کہ یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں “۔
فسق وفجور کا یہ مزاج ہے کہ وہ ایک حد پر نہیں رکتا ، وہ کسی بات سے نہیں شرماتا ، کسی فعل پر ناد نہیں ہوتا۔ ان فساق وفجار کی طرف سے اہل ایمان جیسے معیاری لوگوں پر یہ الزام لگانا کہ وہ بہکے ہوئے ہیں ، اس بات کا ظاہر کرتا ہے کہ فساق وفجار کسی حد پر جاکر نہیں رکتے اور بےحیا ہوتے ہیں۔
قرآن کریم اہل ایمان کی جانب سے نہ مناظرہ کرتا ہے اور نہ مجادلہ۔ نہ وہ اس افترا کی تردید کرتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسی ناسقانہ گھٹیا بات ہے جس کی طرف سنجیدہ التفات کی ضرورت ہی نہیں ہے لیکن قرآن کریم ان لوگوں کے ساتھ ایک سنجیدہ مذاق ضرور کرتا ہے جو ایک ایسے معاملے میں ٹانگ اڑاتے ہیں جس کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ان کا ہدایت وضلالت سے کیا کام ہے۔ اور مسلمانوں کی نگرانی پر ان کو کس نے مامور کیا۔
Ayah 83:33وما ارسلوا .................... حفظین (33:83) ” حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے “۔ نہ مسلمانوں کے امور ان کے سپرد کیے گئے ہیں ، نہ یہ ان پر قیم ہیں ، نہ اہل ایمان کے حالات و کوائف ان سے پوچھے گئے ہیں ، لہٰذا ان کی جانب سے مسلمانوں پر یہ تبصرہ ایک بےتکی بات ہے۔
دنیا میں مجرمین اہل ایمان کے ساتھ جو برتاﺅ کرتے تھے ، اس کا منظر اب یہاں اس سنجیدہ مذاق کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے اور اب قیامت کے دن کا حاضر منظر پیش کیا جاتا ہے کہ دیکھو اب جنت میں یہ اہل ایمان کس مزے میں ہیں۔
Ayahs 83:34–35فالیوم ........................ ینظرون (35:83) ” آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں ، مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں “۔ آج کا دن کیسا ہے کہ کفار دیدار ربانی جیسی نعمت سے محروم اور محجوب ہیں۔ اور اس محرومیت کا ان کو بےحد غم ہے ، اس کی وجہ سے ان کی انسانیت گرگئی اور وہ واصل جہنم ہوگئے اور اس جہنم رسیدگی پر مزید یہ کہ ان کی اہانت بھی ہوگی اور سرزنش بھی ہوگی۔
ھذا ................ تکذبون (17:83) ” وہ یہی ہے نا وہ چیز جس کی تم تکذیب کرتے تھے ؟ “ آج کا دن تو یوں ہے کہ اہل ایمان اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھے ہیں اور کفار کے حالات کا نظارہ کررہے ہیں اور دائمی نعمتوں میں مزے لے رہے ہیں ، سر بند خالص اور صاف شراب سے ان کی تواضع ہورہی ہے اور اس سر بند شراب پر مہر اور سیل مشک کی ہوگی اور اس کے اندر چشمہ تسنیم کے خوش ذائقہ پانی کا امتزاج ہوگا اور آج کفار کے حالات کو دیکھ کر اہل ایمان مسکرائیں گے۔
Ayah 83:36ایک بار پھر قرآن نہایت سنجیدہ مزاح کرتا ہے۔
ھل ثوب .................... یفعلون (32:83) ” مل گیا نا کافروں کو ان حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے “۔ ہاں کیا ان کو بدلہ مل گیا ؟ وہ جو کچھ کرتے تھے اس کا ثواب مل گیا ؟ ان کو ثواب تو نہ ملا تھا۔ لفظ ثواب کا مفہوم تو حسن جزا ہے اور ان کو ہم ابھی جہنم میں چھوڑ کر آئے ہیں ، اور انہوں نے اپنے کیے کی سزا پالی ہے۔ تو یہ سزا گویا ان کے لئے ثواب ہے۔ لفظ ثوب استعمال کرکے قرآن کریم نے ان کے ساتھ ایسا مذاق کیا جس کی چبھن وہ دل کی گہرائی میں محسوس کرتے ہیں۔
اب ہم اس منظر کے سامنے قدرے کھڑے ہوتے ہیں ، جس کے مناظر حرکت سے بھرپور ہیں۔ یہ ان لوگوں کا منظر ہے جنہوں نے اس دنیا میں مسلمانوں اور تحریک اسلامی کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ اس سے قبل ابرار اور نیک لوگوں کی جزا کے بیان میں قرآن کریم نے قدرے طوالت سے کام لیا تھا ، اور ان کی عیش و عشرت کے مناظر میں طوالت سے کام لیا تھا۔ یہ طویل بیان اور تفصیلات تاثیر کے لحاظ سے اعلیٰ خوبیوں کا مالک تھا ، اور شعور اور نفسیاتی لحاظ سے مکہ کے مشکل حالات میں کام کرنے والے مسلمانوں کے لئے بہترین تسلی تھی۔ مکہ میں یہ مٹھی بھر مسلمان سخت مشکلات سے دوچار تھے۔ ان کو اذیت دی جارہی تھی اور ان پر قسم قسم کے تشدد ہورہے تھے اور ان باتوں کا ان پر بہرحال گہرا اثر ہوتا تھا۔ ان کی ضرورت تھی کہ ان کی ڈھارس بندھائی جائے اور ان کے حوصلوں کو بلند رکھا جائے اور ان کی مدد کی جائے۔
مشرکین کی طرف سے مسلمانوں کو جو اذیت دی جارہی تھی۔ اس کی یہ تفصیلات مسلمانوں کے لئے اہم تھی۔ ایک گونہ تسلی تھی کہ ان کا رب بہرحال دیکھ رہا ہے اور وہ ان تکالیف کو یونہی نہ چھوڑ دے گا۔ اگرچہ وقتی طور پر کافروں کو مہلت دی جارہی تھی اور یہ تصور کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اہل ایمان کے دلوں کی تسلی کے لئے کافی تھا ، اس سے اہل ایمان کے رحم مند مل ہوجاتے تھے کہ اللہ دیکھ رہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ مزاح کرنے والے کس طرح مزاح کررہے ہیں اور اہل مکہ ان کو کیا کیا اذیتیں دے رہے ہیں۔ اور ان کے آلام اور ان کی تکالیف سے کس طرح وہ لطف اندوز ہورہے ہیں۔ یہ کمینے کس طرح گھٹیا پن کا مظاہرہ کررہے ہیں اور ان کو کوئی شرم بھی نہیں آتی لیکن اہل ایمان کا رب یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور قرآن میں اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ریکارڈ کررہا ہے۔ اس لئے کہ یہ صورت حالات اللہ کے ہاں اس قابل ہے کہ اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ریکارڈ کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب اہل ایمان کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہوگیا تو ان کے تمام غم اور آلام دور ہوگئے۔ تمام رنج والم ختم ہوگئے۔
پھر ان کا رب ان مجرموں کے ساتھ ایک سنجیدہ مذاق کرتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ جری مجرم اس مزاح کو محسوس نہ کریں کیونکہ ان کو فطرت مسخ ہوچکی ہے اور ان کے قلوب ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے زنگ آلود ہوچکے ہیں بلکہ سیاہ چکے ہیں لیکن اہل ایمان کے حساس دل اور خوف خدا سے کانپنے والے دل ، اس مزاح کو اہمیت دیتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں اور یہ ان کے دکھوں اور دردوں کے لئے سکون بخش دوا ہے اور اس سے ان کی خوشی ہوتی ہے۔
یہ مومن اس بات کو بھی اہمیت دیتے ہیں کہ ان کے رب کے ہاں ان کا ایک مقام ہے۔ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جنتوں میں ان کے لئے نعمتیں ہیں اور عالم بالا میں ، درگاہ الٰہی میں ان کے لئے بلند مرتبہ ومقام ہے اور عزت ہے۔ پھر وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان کے دشمنوں کا آخرت میں کیا حال ہے ؟ اور اللہ کے ہاں وہ ذلیل و خوار ہیں۔ بےوقعت ہیں اور ان مناظر قیامت میں ان کے لئے کیسا توہین آمیز عذاب ہے۔ یہ مناظر وہ دیکھتے ہیں اور ان سے وہ یہ یقین حاصل کرتے ہیں کہ قیامت میں ان کی حالت کیا ہوگی۔ اس وقت مسلمان قلیل تھے ، ان پر تشدد ہورہا تھا ، وہ کمزور تھے ، ان کے ساتھ مزاح ہورہا تھا اور وہ قلت تعداد کی وجہ سے اور کمزوری کے سبب ہر قسم کے مصائب جھیل رہے تھے ، چناچہ ان مناظر کے تاثرات اور یقین سے ان کی یہ تمام تلخیاں کم ہوجاتی تھیں اور دکھ اور درد کم ہوجاتے تھے۔ ان حالات اور مناظر اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والے یقین کی وجہ سے بعض اہل ایمان ان تلخیوں میں بھی شیرینی محسوس کرتے اور وہ محسوس کرتے تھے کہ ان کو وہ دنیا ہی میں حقیقتاً دیکھ رہے ہیں ، جن کا ان آیات میں ذکر ہے۔
لیکن سیرت صحابہ ؓ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ جس قدر اذیتیں جھیل رہے تھے اور جس قدر مجرمین ان پر تشدد کررہے تھے اور ان کے ساتھ گھٹیا مزاح کرتے تھے ان سب مشکلات کو وہ صرف ایک ہی نصب العین کے لئے برداشت کررہے تھے کہ ان کو جنت ملے گی اور ان کے مخالف کافروں کو جہنم ملے گی۔ اور اس دنیا میں ان دو گروہوں کے جو حالات ہیں وہ آخرت میں یکسر بدل جائیں گے۔ یہی وہ بات ہے جس کا اہل ایمان کے ساتھ حضور ﷺ نے وعدہ فرمایا تھا ، جنہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور جس راہ وہ اپنے مال اور اپنی جان کھپا رہے تھے۔
رہی یہ بات کہ اس دنیا میں بھی تمہیں غلبہ نصیب ہوگا۔ اور تم ملکوں کو فتح کرلوگے تو اس کا تذکرہ قرآن مجید میں مکی دور میں بہت ہی کم ملتا ہے۔ یعنی اس غرض کے لئے کہ اہل ایمان کو اس سے تسلی دی جائے اور ان کے حوصلے بڑھانے چاہئیں۔
اصل بات یہ ہے کہ مکہ میں قرآن مجید ایسے افراد تیار کررہا تھا جو وہ اس امانت اور اس نظریہ کی ذمہ داریوں کے اٹھانے کے قابل ہوجائیں اور یہ افراد اس قدر مضبوط ، اس قدر قوی ، اس قدر مخلص اور اس قدر باکردار ہوں کہ وہ اس دنیا کے تمام مفادات کو اس راہ میں قربان کردیں۔ اور ان کے پیش نظر صرف آخرت کی کامیابی ہو اور صرف اللہ کی رضامندی کے وہ طالب ہوں ایسے لوگ جو اس دنیا میں گزرنے والی پوری زندگی کو مصیبت اور مشقت میں کاٹنے کے لئے تیار ہوں۔ تشدد اور ظلم برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں ، ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے آمادہ ہوں اور اس جہاں میں وہ کسی اجر کے طالب نہ ہوں یہاں تک کہ وہ اس جہاں میں اسلامی انقلاب اور اسلام کے غلبے کے طلبگار بھی نہ ہوں ، اور ان کے دلوں میں یہ خواہش بھی نہ ہو کہ وہ برسراقتدار آجائیں ، قرآن کے پیش نظر ایک ایسی مخلص جماعت کی تیاری تھی۔
اور جب ایک ایسی جماعت تیار ہوگئی جس کے پیش نظر اس دنیا کے مختصر سفر کے اغراض ومقاصد میں سے کوئی مقصد نہ تھا ، الایہ کہ کوئی بات بغیر خواہش کے مل جائے اور ان کا نصب العین صرف جزائے اخروی کا حصول تھا ، اور جن کا عقیدہ یہ تھا کہ حق و باطل کا اصل فیصلہ آخرت میں ہوگا ، جب ایسی جماعت تیار ہوگئی اور اللہ نے جان لیا کہ یہ جماعت سچی ہے اور اس کی نیت خالص ہے اور اس نے جس مقصد کے لئے بیعت کی تھی ، اسے سچ کر دکھایا تو پھر اس دنیا میں بھی اس کی نصرت کے لئے اللہ کی مدد آگئی۔ اور یہ نصرت بھی اس لئے آئی تاکہ وہ دعوت اسلامی کی امانت کا حق ادا کرے ، اسلامی نظام حیات کا حق ادا کرے ، نہ ایسی جماعت کے ساتھ دنیا کے مفادات کا کوئی وعدہ کیا گیا تھا اور نہ اس جماعت کے دل میں دنیاوی مفاد کا کوئی تقاضا تھا کہ اسے یہ دیا جائے یا وہ ، یہ جماعت اس قدر مخلص ہوگئی تھی کہ اس کے پیش نظر رضائے الٰہی کے سوا کوئی اور مقصد نہ تھا۔ جن آیات میں اس کرہ ارض پر کامیابیوں کا ذکر ہے۔ یہ سب مدنی آیات ہیں اور مدنی حالات اس وقت پیدا ہوئے جب اہل ایمان کے دلوں میں ایسے حالات کی کوئی خواہش ہی نہ تھی نہ وہ ان کا انتظار کرتے تھے۔ یہ نصرت اس وقت آئی جب اللہ کی مشیت کا یہ تقاضا ہوا کہ اسلامی نظام حیات ایک عملی شکل میں دنیا اور زمین پر قائم ہوجائے اور اس وقت کے لوگ اور آنے والے لوگ عملاً اسلام کو دیکھ لیں۔ یہ نصرت اہل ایمان کی مشکلات ، مشقتوں اور اذیتوں اور قربانیوں پر بطور جزانہ تھی۔ بس یہ اللہ کا ایک فیصلہ تھا اور اس کی حکمت کو اب ہم سجھنے کی سعی کررہے ہیں۔ (1)
(1) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت سید قطب کے سامنے سید مودودی (رح) کا لٹریچر تھا ، اور ان کی یہ رائے مولانا ابوالحسن علی ندوی کے تبلیغی افکار پر مبنی ہے۔ تبلیغی حضرات یہی انداز رکھتے ہیں۔ فی ظلال القرآن کا پہلا ایڈیشن چار جلدوں میں تھا۔ جب انہوں نے اس پر نظر ثانی کی تو آٹھ جلدوں میں مفصل ایڈیشن شائع ہوا۔ یہ 1966 ۔ 67 ء کا ایڈیشن تھا۔ نظرثانی شدہ ایڈیشن میں سید قطب صاحب نے سید مودودی کے افکار کو سمیٹا اور مفصل حوالے بھی دیئے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کے پیش نظر کیا مکمل اسلامی انقلاب نظریہ تھا یا نہیں ، اس کی تفصیلات دیکھئے میری کتاب ” قرآن سیرت اور انقلاب “ جو قرآن مجید کا خلاصہ ہے اور 114 سورتوں کا خلاصہ ترتیب نزولی کے مطابق ہے اور اس میں نبی ﷺ کی سیرت کو بھی نہایت ہی احتیاط کے ساتھ لیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوگیا کہ جب صرف تین افراد مسلمان تھے ، حضرت اکرم ﷺ اور حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت علی ؓ تو اس وقت بھی حضور نے قیصر کسریٰ کو فتح کرنے کی بات کی تھی۔ (شیرازی)