83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 83:1–36

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب انہیں ناپ کر یا تول کردیں تو کم دیں

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

یعنی ایک بڑے سخت دن میں

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

جس دن تمام لوگ رب العٰلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

سن لو کہ برے لوگوں کے اعمال سجین میں ہیں

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تم کیا جانتے ہو کہ سجین کیا ہے

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

دفتر ہے لکھا ہوا

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

یعنی جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل جانے والا گنہگا رہے

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

دیکھو یہ جو اعمال بد کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے۔

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ اس روز اپنے رب کے دیدار سے اوٹ میں ہوں گے

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلاتے تھے

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

یہ بھی سن رکھو کہ نیکو کاروں کے اعمال علیین میں ہیں

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور تم کو کیا معلوم کہ علیین کیا چیز ہے

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

ایک دفتر ہے لکھا ہوا۔

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

جس کے پاس مقرب فرشتے حاضررہتے ہیں

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ چین سے ہوں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کریں گے

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کرلوگے

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

ان کو شراب خالص سر بمہر پلائی جائے گی

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

جس کی مہر مشک پر ہوگی تو نعمتوں کے شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اس میں تسنیم کے پانی کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے اللہ کے مقرب پئیں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

جو گنہگار یعنی کفار ہیں وہ دنیا میں مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب ان مومنوں کو دیکھتے تو کہتے ' یہ تو گمراہ ہیں

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

تو آج۔ (روز آخر) مومن کافروں سے ہنسی کریں گے

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

اور تختوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہوں گے

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

کیا کفار کو ان کے عملوں کا پورا پورا بدلہ مل گیا

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی اللہ ہونا علین کی طرف رخ کرنے کا مطلب ہے۔ تو اس علین کی خصوصیات ملاحظہ ہوں۔ 1 ۔ لطافت :۔ یعنی ہر قسم کے گناہ سے نفس کو پاک صاف رکھنا اور ساتھ ہی بلندیاں حاصل کرنے کے لیے گناہوں سے دوری اور نیکیوں کی انتہائی کوشش۔ 2 ۔ معیت اور معرفت :۔ یہ وہ نور الٰہی ہے جو ہر وقت کے ذکرالٰہی سے پیدا ہوتا ہے۔ اور ذکر بھی یوں کہ خود کو خدا میں گم کردیا جائے کہ ہر طرف ہر چیز میں اللہ موجود نظر آئے۔ پھر اس مقام عالی کو حاصل کر کے تکبر کے گناہ کبیرہ سے خود کو بچانا۔ 3 ۔ نفس کی لطافت کا حصول :۔ ہر قسم کے سفلی جذبات کو پوری طرح قابو میں رکھنا۔ یعنی حسد، بغض، نفرت، ظلم و ستم ' لالچ، شرو فساد، قتل و غارت گری اور مفسد منصوبہ بندی سے ہر وقت خود کو بچانا اور دوسروں کو بچنے کی ترغیب دینا۔ 4 ۔ جہاد :۔ یہ بہت وسیع معنوں میں آتا ہے یعنی زندگی کے ہر لمحہ میں اللہ کی رضا اور اس کا خوف رکھتے ہوئے بہترین راستہ اختیار کرنا اور جب اس راستے میں تمام قوت کے علاوہ جان دینے کا وقت آئے تو وہ بھی دے دی جائے۔ 5 ۔ اپنے رب سے محبت تمام چیزوں سے زیادہ کرے۔ اس کو اللہ کی رضا ' محبت اور خوشی کے سامنے کوئی دکھ ' پریشانی اور مشکل۔ مشکل نہ لگے اور وہ ہر بات ہنستے مسکراتے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کر جائے۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ یہ سب کچھ بنیادی اعمال سے حاصل ہوسکتا ہے۔ 1 ۔ شہادتین (کلمہ شہادت ) 2 ۔ طہارت 3 ۔ نماز 4 ۔ روزہ 5 ۔ زکوۃٰ 6 حج علیین کا درجہ انہی سیڑھیوں سے حاصل ہوسکتا ہے۔ جو شخص ان سیڑھیوں کی طرف توجہ نہیں کرتا اور اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر شیطان کا دوست بن جاتا ہے وہ ہی سجین کی راہ لیتا ہے۔ وہ گناہوں کے بوجھ سے اس قدر بھاری بھر کم ہوجاتا ہے کہ نیچے ہی نیچے دبتا چلا جاتا ہے اور آخر کار جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے جا گرتا ہے۔ ایسے شخص کی زندگی بھی خوف و ہراس ' لالچ ' بد گمانی ' شروفساد ' بےچینی ' اخلاقی پستی اور ہر قسم کے گناہوں میں گزر جاتی ہے۔ جو اس کی روح کو بےنور اور بوجھل بنا دیتی ہے۔ ایسے ہی لوگ حساب کے دن شرمندہ ہوں گے اور اپنے غلط رویہ پر جو انہوں نے دنیا میں مومنوں کے ساتھ اختیار کر رکھا تھا بےحد شرمندہ ہوں گے مگر وہ ان تمام گمراہیوں کا کچھ بھی تدارک نہ کرسکیں گے۔ یہی وہ خبر ہے جو انسانوں کو آخرت کے بارے میں بار بار سنائی گئی ہے۔ یہ غیب کی بہت بڑی اور بالکل سچی خبر ہے۔ جو 28 سے 36 آیات تک گناہ گاروں کے بارے میں دی گئی ہے جبکہ نمبر 7 سے 17 تک انہی لوگوں کے بارے میں بد ترین حالات کی خبر دی گئی ہے۔ آیات 18 سے 27 تک نیکوکار بندوں کو اللہ کی طرف سے بہترین انعامات کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اب آخر میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ہمارے اعمال کس طرح ریکارڈ کئے جا رہے ہیں۔ ہم تو اس پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ ہم قیامت یوم آخر پر حساب کتاب پر جنت دوزخ پر پکا یقین رکھتے ہیں۔ لیکن اہل علوم دنیوی بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ مختصراً یوں ہے کہ آج کمپیوٹر کی چھوٹی Chip پر کروڑوں معلومات کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اور پھر جب چاہو جو چاہو اس میں سے نکال کر پڑھ لولکھ لو۔ اگر انسان یہ طاقت رکھتا ہے جو کہ بڑی معمولی سی مثال ہے۔ تو اللہ کے لیے ہمارے اعمال ناموں کے دفتر یا فلمیں ہمارے سامنے پیش کردینا ہرگز کوئی مشکل یا محال کام نہیں۔ یہ بالکل سچ اور ممکن بھی ہے۔ خلاصہ سورة المطففین اس سورت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس میں انسانی زندگی کی کہانی ازل سے ابد تک بڑے خوبصورت انداز میں بیان کردی گئی ہے۔ 1 ۔ انسان کی اصل حقیقت 2 ۔ زمان و مکان میں اس کا مقام 3 ۔ روح اور جسم کی حقیقت 4 ۔ عالم الغیب کی خبریں۔ 5 ۔ موت اور زندگی بعدالموت کے راز۔ 6 ۔ قیامت روز جزا جنت اور جہنم۔ یہی تو وہ اسلامی تعلیمات ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں سماجی ' سیاسی اور مذہبی حالات کو بڑی حد تک تبدیل کردیا۔ مثلاً ہندومت میں وحدانیت کی تحریک اٹھی۔ بھگتی تحریک اور سکھ مذہب ' آریہ سماج یہ سب توحید اور انسانی مساوات پر زور دینے لگے اس سلسلے میں سکھ مذہب کی مقدس کتاب گرنتھ اور پھر سترھویں صدی کے مرہٹہ رشی تکا رام کی دعائیں منظر عام پر آئیں۔ تکارام ابھنگ یوں دعا کرتے ہیں۔ '' اسماء اعظم میں پہلا نام اللہ کا ہے اسے بار بارے لینا ہرگز نہ بھول بلاشبہ اللہ ایک ہے۔ اور بیشک نبی ایک ہے۔ اے بابا ! ہاں اللہ ایک ہے۔ اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے۔ نہ تو ہے۔ اور نہ میں ''۔ (بحوالہ ڈاکٹر تارا چندص 359) اسلام کی یہی تعلیمات جیسے جیسے دنیا کے دور دراز علاقوں میں پہنچتی گئیں وہاں انسانیت کو حقوق ملتے گئے۔ خلفاء کو قرآن وسنت کا پابند بنایا گیا۔ دنیا خلافت کی طرف راغب ہوئی۔ انسانوں کے بنیادی حقوق کے لیے جد و جہد شروع ہوئی اور بالآخر بیسویں صدی میں عالمی برادری کے انسانی حقوق کا منشور وجود میں آگیا۔ اصل میں انسانی تاریخ میں۔ اسلام کا غلبہ پہلے جزیرہ نمائے عرب پر ہوا ' جو بڑی تیزی سے مشرق و مغرب پر چھا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کا نظریہ حق و صداقت پر مبنی ہے نہ کہ مادی ترقی اور دنیوی شان و شوکت کا حصول۔ اسلام کا بہترین نعرہ ہے انسانی مساوات۔ لیکن بلال ! ؓ حبشی وہ زادہ حقیر فطرت تھی جس نور نبوت سے مستیز جس کا ا میں ازل سے ہوا سینہ بلال ؓ محکوم اس صدا کے ہیں شہنشاہ وفقیر ہوتا ہے جس سے اسود و احمر میں اختلاط کرتی ہے جو غریب کو ہم پہلوئے امیر علامہ اقبال (رح)