Ayahs 82:1–12قیامت کا نقشہ
تشریح : سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی دی گئی یہ خبر قابل غور ہے کہ '' آسمان پھٹ جائے گا ''۔ یہ اس دن ہوگا جس کو قیامت کا دن کہا گیا ہے۔ اور یہ خبر اس لیے بالکل سچ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے بندوں کو دی گئی ہے دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی اپنے تجربات کے بعد اس بات کے قائل ہوچکے ہیں کہ واقعی یہ کائنات ایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح وجود میں آئی تھی۔ آسمان حفاظتی مضبوط چھت ہے جس کے پھٹ جانے سے ایسی تباہی پھیلے گی کہ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائے گی۔ کیونکہ کائنات کا توازن بڑے حساب کتاب سے رکھا گیا ہے اگر وہ بگڑ گیا تو یہی ہوگا۔ جس کا ذکر یہاں بار بار کیا گیا ہے۔ آسمان کا پھٹ جانا سورة انشقاق ' سورة مرسلات میں بھی کیا گیا ہے۔ جب ہم قرآن پاک کا مطالعہ ' غور سے کرتے ہیں تو ہمیں کائنات کے شروع ہونے موجود رہنے اور ختم ہوجانے کے ایسے ایسے بہترین نکات ملتے ہیں جو سائنس نے اب کوششوں کے بعد معلوم کیے ہیں اور جو اللہ کے دئیے گئے پیغامات کے عین مطابق ہیں۔ مثلاً سورة رحمٰن کی آیت 29 میں دی گئی یہ خبر کہ کائنات میں دن رات توڑ پھوڑ کا عمل مسلسل ہوتا رہتا ہے اور تخلیق در تخلیق کا عمل جاری وساری ہے۔ اس کی تصدیق امریکی خلائی دوربین ہبل نے یوں کردی کہ اس کی بھیجی ہوئی تصاویر نے ظاہر کردیا کہ عالم افلاک میں اجرام سماوی کا فنا ہونا اور نئے اجرام کا وجود میں آنا بالکل سچ اور حقیقت ہے۔ اور یہ جہان بھی ضرور ختم ہوجائے گا۔
ابتدا اور اختتام کا اصول بہت سی آیات میں آچکا ہے۔ سورت الذاریات کی آیت 47 میں توازن رکھنے کے اس پھیلاؤ اور گھماؤ کا ذکر ہے جس پر کائنات کے توازن کا دارومدار ہے۔ سورة رحمٰن کی آیت 7 میں '' آسمانوں کو رفعت بخشی اور توازن وضع کیا ''۔ گھماؤ اور پھیلاؤ۔ کائنات کے اس بہترین طریقہ توازن کو سائنس دان پوری طرح تسلیم کرچکے ہیں۔ سائنس دان کے بقول پوری کائنات کا نظام گھماؤ پر چل رہا ہے۔ اور یہ گھومنے کا نظام چھوٹے سے چھوٹے ایٹم کے اندر بھی جاری وساری ہے۔ یہ گھماؤ اور پھیلاؤ ایک حد کے بعد ٹھہراؤ اور سکڑنے کے عمل میں بدل جائے گا۔ سورة القصص کی آیت 88 میں واپسی کا حکم دے دیا گیا ہے۔
سلطان بشیر محمود صاحب اس سکڑنے اور پھیلاؤ کے سائنسی قوانین پر یوں لکھتے ہیں۔ '' ابھی تک معلوم سائنسی قوانین میں پھیلاؤ کے خلاف کام کرنے والی ایک قوت کا نام کشش ثقل ہے۔ یہ قوت کائنات کی تین بنیادی اکائیوں میں سے اول اکائی ہے۔ اور اس کا اصول یہ ہے کہ تمام اجسام آپس میں ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں اور کشش دوری کے بعد مربع کے حساب سے کم ہوتی ہے۔ کشش ثقل کے علاوہ اس محرک جسم کو روکنے والی رگڑ کی قوت (Fricton) ہے یہ رفتار کے مربع اور ماحول کی کثافت سے بڑھتی ہے۔ پوشیدہ مادہ کی بات بھی ہوچکی ہے۔ جو کائنات میں ہر جگہ چھپا بیٹھا ہے۔ سائنسدان اس کو نیوٹرینز کا نام دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ برقیات سے بھی چھوٹے ذرات ہیں اور برقی تناؤ سے خالی ہیں۔ لیکن کشش ثقل کے تحت یہی ان دیکھا مادہ کائنات کو کھینچ کر سکڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔ قرآن پاک میں اِن اَن دیکھی چیزوں کو غیب السموات والارض کا نام دیا گیا ہے۔ اور قرآن پاک ان میں اور قیامت کے باہمی تعلق کا ذکر کرتا ہے۔ سورة نحل کی آیت 77 کے حوالے سے ہم کائنات کے سائنسی ٹھہراؤ اور سکڑنے کے مفروضہ پر یقین کرسکتے ہیں۔
اور یہ عین ممکن ہے کہ غیب السماوات والارض کی کشش اور رگڑ کی قوت سے یہ پھیلتی ہوئی کائنات رک جائے اور جیسے ہی یہ رکے گی پھر وہاں ہرگز ٹھہر نہ سکے گی بلکہ زمان و مکان الٹ جائیں گے۔ قرآن پاک میں اس عمل کو طومار لپیٹنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ سورة الانبیاء میں آیت 104 میں یہی لکھا گیا ہے۔ '' جس دن لپیٹ لیں گے ہم آسمان کو جیسے لپیٹنا ہے طومار یا دستاویزات کو۔ جیسے شروع کی تھی ہم نے پیدائش پہلی بار بالکل اسی طرح ہم اسے دوبارہ پیدا کردیں گے اور یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ اور ہم اسے ضرور پورا کریں گے سائنس دان اس عمل کو Pressure Waver کا عمل بھی کہتے ہیں '۔
اس بحث کو سمیٹتے ہوئے موصوف یوں لکھتے ہیں کائنات کھل رہی ہے اور آخر میں اپنے ہی اوپر ایک کھلتے ہوئے سپرنگ کی مانند زور دار ردعمل سے الٹ جائے گی۔ ثبوت ان لاکھوں کہکشاؤں کے وجود میں پنہاں ہے جن کی شکل ایک سپرنگ دار طشتری کی مانند ہے۔ یہ کہکشائیں اپنے مرکز کے گرد گھومتی ہیں اور ان کے سپرنگ دار بازو ہیں جو زیادہ سے زیادہ کھل کر اپنے آپ پر ہی بند ہو رہے ہیں۔ دراصل اس پوری کہانی کا دارومدار اللہ کی ذات سے ہے۔ '' زمان و مکان اور توانائی کا اللہ کی ذات سے تعلق۔
کسی بھی واقعہ کو ہونے کے لیے وقت اور جگہ چاہیے القرآن '' وہ اللہ ہے ' ظاہر بھی باطن بھی ' اول بھی آخر بھی ' ثابت کرتی ہے کہ زمان و مکان کی انتہاؤں کا تعلق اللہ کی ذات مبارک سے ہے یعنی زمان و مکان اس کی خصوصیات ہیں اور یوں وہ اپنی خاصیت سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ وہی ہر واقعہ کا خالق ' شاہد اور رب ہے۔ زمان و مکان اسی کی تخلیق میں پہلا جوڑا ہے۔ جن سے توانائی اور مادے کے جوڑے وجود میں آئے وہ ذات پاک '' کل '' (Superset) ہے اور زمان و مکان اس کا پہلا جز (Subset) ہیں۔ زمان و مکان کی اس حقیقت کو قرآن یوں بیان کرتا ہے۔ '' وہی اللہ ہے جو اول بھی ہے اور آخر بھی ' جو ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ (الحدید : 3) (از قیامت اور حیات بعد الموت)
اتنا سب کچھ جان لینے کے بعد اب سورة انفطار کی آیت 4 سے 12 تک ہمارے لیے بالکل آسان اور عام فہم ہوچکی ہیں۔ یہ عقیدہ کہ فرشتے ہمارے اعمال کو باقاعدہ لکھ رہے ہیں ہماری زندگی کا مقصد اور مر کر دوبارہ زندہ ہونے کی حققیت کو ہمارے سامنے بالکل عیاں کردیتا ہے۔ یہی بنیاد ہے ہمارے ایمان کی اور ہماری سزا اور جزا حاصل کرنے کی۔ آگے ملاحظہ ہو۔
Ayahs 82:13–19اللہ کے انصاف کا دن
تشریح : جب ہمیں اللہ کی تمام قدرتوں، عظمتوں اور طاقتوں کا پوری طرح علم ہوگیا اور ہمیں اپنے بارے میں بھی خوب اچھی طرح علم ہوگیا تو اب اس دن کی تیاری کو مد نظر رکھ کر زندگی گزارنی چاہیے جس کا ذکر بار بار تفصیلاً کیا گیا ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انسان پھر بھی بھول جاتا ہے۔ اللہ جس قدر رحیم و کریم ہے اسی قدر حساب لینے اور بدلہ دینے میں جبار و قھار بھی ہے اور بڑے انصاف سے بدلہ دینے والا ہے۔ اسی لیے تو اس نے ہمارے اعمال کے اندراج کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں تاکہ ہم خود اپنے اعمال کو دیکھ کر اپنا انجام قبول کریں۔ جنت یا دوزخ۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی کچہری دنیا کی کچہری کے موافق نہ ہوگی۔ جب تم اس بات کو دیکھو گے تو پھر قرآن پاک کی آیات کو یاد کرو گے کہ واقعی '' اس دن حکم صرف اللہ ہی کا ہوگا ''۔ (آیات 19)
خلاصہ سورة الانفطار
اس سورت میں انہی باتوں کا اعادہ کیا گیا ہے جو اکثر سورتوں میں بتائی گئی ہیں۔ پھر بھی انسان بھول جاتا ہے کہ وہ کیوں کیسے اور کس لیے پیدا کیا گیا ہے اور اسکا انجام کیا ہوگا۔ قیامت کا ذکر ' انسان پر عنایات ' اعمال کی جانچ پڑتال کا پکا بندوبست اور پھر جنت و دوزخ کی سچائی اور انسان کی عزت و ذلت کا فیصلہ خود اسکی اپنی کمائی کے مطابق ہوگا۔ کسی پر زیادتی نہ کی جائے گی۔
تو خالق ہے، مالک ہے، ' رازق ہے سب کا
کوئی دوسرا بندہ پرور نہیں ہے
الحمد للہ سورة الانفطارمکمل ہوگئی۔