81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 81:1–14

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج لپیٹ لیا جائے گا

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

جب تارے بےنور ہوجائیں گے

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانور سمیٹ کر جمع کئے جائیں گے

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب دریا آگ ہوجائیں گے

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب اس لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ وہ کس گناہ پر مار دی گئی

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب عملوں کے دفتر کھولے جائیں گے

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ کی آگ بھڑکائی جائے گی

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب بہشت قریب لائی جائے گی

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

تب ہر شخص معلوم کرے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ Neutron Star 3 ۔ سیاہ سوراخ Black Hole کم کمیت کے ستارے سفید بونے کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ ایک سفید بونا تقریباً زمین کی جسامت کے برابر بجھا ہوا ستارہ ہوتا ہے۔ جس میں کوئی قابل استعمال ایندھن موجود نہیں ہوتا۔ خیال ہے کہ سورج کا خاتمہ بھی سفید بونے پر ہوگا۔ زیادہ تر ستارے اس انجام کو پہنچتے ہیں۔ سورج کی تخلیق اور انجام : کوئی پانچ ارب سال قبل سورج گیس اور گرد کے بادل سے بنا۔ آج سے پانچ ارب سال بعد سورج پھیل کر بہت بڑی شکل اختیار کرے گا اسے Rod Jiant کہا جاتا ہے۔ ممکن ہے یہ اس وقت زمین تک پہنچ جائے۔ اس کے دو ارب سال بعد سورج دوبارہ سکڑنے لگے گا۔ اور سفید بونے کی شکل اختیار کرلے گا۔ اور کوئی پچاس ارب سال بعد یہ ٹھنڈا ہو کر ختم ہوجائے گا۔ بہرحال قرآن دعویٰ کرتا ہے کہ کائنات ' کہکشاؤں اور ستاروں نے ہمیشہ نہیں رہنا اور بالآخر انہیں موت سے دوچار ہونا ہے۔ جدید علم کائنات اس دعوے کی مکمل تائید کرتا ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم مستقبل میں واقع ہونے والے کسی عظیم حادثہ کی خبر دے رہا ہے جو موجودہ کائناتی نظام کو درہم برہم کر دے گا ''۔ (از کائنات قرآن اور سائنس) یہ قیامت کا دن اللہ کی مرضی اور حکم سے آئے گا اور اس قدر شدید توڑ پھوڑ ہوگی کہ سورج چاند ستارے پہاڑ غرض ہر چیز اپنے کام اور مقام کو چھوڑ کر بےترتیب ہونے لگیں گے جو کل مخلوق کے لیے اوسان خطا کردینے کا باعث ہوگا۔ مثلاً جنگلی جانور انسانوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے اور وہ اونٹنیاں جو عربوں کے نزدیک متاع عظیم ہوتی ہیں ادھر ادھر پھرتی ملیں گی۔ '' اور جب دریا آگ ہوجائیں گے ''۔ (آیت 6) اس کی وضاحت سائنس کی زبان میں کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ جب زمین و آسمان کا پورا نظام الٹ پلٹ ہوجائے گا تو سمندروں کی تہہ میں موجود آتش فشاں بھی پھٹ جائیں گے اور ان کا سرخ شدید گرم لاوہ سمندروں کی سطح کو آگ سے سرخ کردے گا۔ ایک دوسرا ممکنہ ذریعہ اس آگ کا زیر زمین ہائیڈروکاربن کا وہ ذخیرہ ہے جو سمندروں کے اندر سے پھوٹ کر نکلیں گے اور ساتھ ہی زیر زمین یعنی سمندروں کی تہہ سے تہہ کے پھٹ جانے پر مختلف گیسیں اور پٹرول وغیرہ نکل کر سطح سمندر پر پھیل کر آگ پکڑ لیں گے اور تمام سمندر آگ کے سمندر بن جائـیں گے۔ یہ ایک بہت بڑی غیب کی خبر ہے جو قرآن میں چند الفاظ میں بتا دی گئی ہے۔ اب انسان چاہے تو اس پوشیدہ خزانے کو قیامت سے پہلے حاصل کرے اور اپنی عام زندگی کی ضروریات میں اس سے فائدہ اٹھالے۔ بہرحال یہ تمام حالات جن کا ذکر قرآن پاک میں قیامت کے حوالے سے کیا ہے نہ صرف سچ ہے بلکہ انسانی علم میں اضافہ کا باعث بھی ہیں اور یہ علم ہمیں قرآن کی سچائی کی طرف لے جانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اور پھر یہ سچائی ہمیں آخرت کا یقین اور بھی زیادہ دلاتی ہے اور ہمارے اندر خوف خدا کو مضبوط کرتی ہے۔ جو ہمیں دنیا بھر کی خباثتوں سے بچاتا ہے۔ قیامت کا نقشہ کھینچ دینے کے بعد رب ذوالجلال ہمیں یوم الحساب سے بھی واقفیت دلاتا ہے۔ یہ بھی بڑے مختصر الفاظ میں بڑی وسیع حقیقت کو بیان کرنے کا باعث ہے۔ اور اس کا تعلق پورے کا پورا عالم الغیب سے ہے۔ اب تک کوئی عالم فاضل اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا۔ اس کا ہم مسلمانوں کو پکا یقین ہے کیونکہ یہ خبر ہمیں اللہ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کے ذریعہ نبی ﷺ کی زبان سے قرآن پاک کی شکل میں دی ہے۔ آیت 7 میں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ '' جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی ''۔ یہاں پہلے اس بڑے خاص نکتہ کی وضاحت کردینا ضروری ہے۔ کہ اسلام نے عورت کو ایک بڑا مقام دیا ہے جس کی وجہ سے عربوں کی اس جہالت کی رسم کو بالکل ختم کردیا گیا ہے کہ وہ لڑکی کی پیدائش کو اس قدر منحوس سمجھتے تھے کہ پیدا ہوتے ہی اس کو زندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے یا کسی بھی طرح مار دیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے لڑکی کی عزت افزائی اور اس غلط رسم کی مذمت ان الفاظ میں کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ '' جس مسلمان کے ہاں دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کو اچھی طرح رکھے وہ اسے جنت میں پہنچائیں گی ''۔ (بخاری، ادب المفرد) اب اس میدان کی طرف توجہ کرتے ہیں جو ہمیں بالکل کسی ذریعہ سے بھی معلوم نہیں سوائے اس کے کہ اس غیب کی خبر سے اللہ نے پردہ اٹھایا ہے۔ حساب کے دن ہماری یہ کائنات زمین و آسمان سب ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوچکے ہوں گے اور اس دن آسمان بھی پھٹ چکے ہوں تو وہاں موجود جہنم اور جنت ہمیں دکھائی دے گی اور اللہ کے مقرر کئے گئے نظام کے مطابق ہم سب دوبارہ زندہ کئے جائیـں گے اور ہمارے اعمال کے رجسٹر ہمارے سامنے کھول کر رکھ دئیے جائیں گے تاکہ انصاف سے ہمیں جنت یا جہنم میں داخل کردیا جائے۔ اعمال کا ریکارڈ ہونا اور دوبارہ ہمارے سامنے پیش کیا جانا کافی حد تک ثابت ہوچکا ہے اس پر تفصیلی بحث ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی سچائی ثابت کرتے ہوئے قسم کھاتے ہیں۔ اگلی آیات ملاحظہ ہوں۔
Ayahs 81:15–29

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹتے ہیں

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

اور جو سیر کرتے اور غائب ہوجاتے ہیں

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ بیشک یہ قرآن فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو صاحب عرش قوت والے کے ہاں اونچے درجہ والا ہے

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

سردار اور امانت دار ہے

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور مکہ والو ! تمہارے رفیق (محمد ﷺ دیوانے نہیں ہیں

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

بیشک انہوں نے اس فرشتے کو آسمان کے کھلے یعنی شرقی کنارے پر دیکھا ہے

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ پوشیدہ باتوں کے ظاہر کرنے میں بخیل نہیں

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم کدھر جارہے ہو

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

یعنی اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو اللہ رب العٰلمین چاہے

قرآن جس میں کوئی شک نہیں۔ تقدیر کیا ہے ؟ تشریح : یہاں 15 اور 16 آیات میں آسمانی فزکس Astrophysics کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ '' خنس '' یعنی چھپنے والے تارے۔ اور '' کنس ''۔ یعنی ایک مخصوص راستہ کا محور کسی چلتی ہوئی چیز میں دبک جانے والا۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ '' اللہ قسم کھاتا ہے ان تمام طبیعاتی قوانین کی جو ساری کائنات کی وسعتوں میں کار فرما ہیں۔ جس کی طرف اشارہ ان دو آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ ہر مخلوق ایک خنس اور ایک کنس کی حالت میں ہے۔ ایک خوش اسلوب اور ہم آہنگ روانی یا بہنا ہے جب کہ دوسرا ہٹتے ہوئے پردہ کرنے کی طرح ہے جیسے موت کی وادی میں چلے جانا۔ طبیعیات کی رو سے ہم انہیں رفتار یا حرکت اور مخفی ٹھہراؤ یا وقفہ کہہ سکتے ہیں۔ اور درحقیقت اجرام فلکی کی سائنس کے بالکل نئے نظریات اس بنیادی نظریہ کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے کہ '' انسانو ! حیات بعد الموت کو سمجھنے کے لیے اشد ضروری ہے کہ تم پیچھے ہٹ کر غائب ہونے والی اور رواں دواں ظاہری حرکت پذیر کائناتوں کا مطالعہ کرو ''۔ یہ اعلان کرتے ہوئے اللہ شروع ہی قسم سے کرتا ہے تاکہ کائنات کی پیدائش کے عظیم راز کا انسان کو احساس ہوجائے۔ اس طرح چودہ سو برس (آغاز اسلام میں یعنی ساتویں صدی عیسوی) قبل آغاز کائنات کا علم اور فزکس کا حیران کن راز ہمارے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔ جس طرح قوت ثقل ایک توانائی کی حیثیت میں ستاروں اور ایٹموں میں موجود ہے اسی طرح '' خنس '' اور '' کنس '' کے راز بھی تمام مادی نظاموں میں موجود ہیں۔ اسی طرح رات کی قسم اور دن کی قسم کھائی گئی ہے۔ وہ رات جو پوری طرح اندھیرے میں ڈوب گئی ہو۔ اور وہ صبح جو مکمل طور پر چمک کر دنیا میں چھا گئی ہو۔ تو یہ تمام قسمیں اللہ تعالیٰ نے کس بات کی یقین دہانی کے لیے کھائی ہیں ؟ اس لیے کھائی ہیں کہ یہ قرآن پاک اور اس میں بیان کی گئی تمام باتیں ' اصول ' قانون ' راز ' ماضی ' حال ' مستقبل چاہے ان کا تعلق انسان کی ذات سے ہو یا کائنات سے ہو۔ سب بالکل سچ ہیں۔ کیونکہ قرآن پاک '' وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ''۔ ( سورة بقرہ) یہ بڑی ہی حفاظت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے اتاری گئی۔ وحی کی حیثیت یہ ہے کہ جس نے تمام دنیا کے علوم کو ایک جگہ جمع کرلیا ہے۔ وحی لانے والا مقدس فرشتہ حضرت جبریل (علیہ السلام) جو تمام فرشتوں کے سردار اور انتہائی مقدس ' بر گزیدہ اور مقبول الٰہی فرشتہ ہیں۔ آپ کی تعریف قران پاک میں ان الفاظ میں کی گئی ہے۔ 1 ۔ فرشتہ عالی مقام 2 ۔ اللہ عظیم و کبیر کے پاس بلند مرتبہ رکھنے والا 3 ۔ سردار 4 ۔ امانت دار یہ اتنے بڑے درجات اسی لیے ملے کہ آپ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان پیغام رسانی کا کام کرتے ہیں جو کہ بڑا ہی نازک اور ذمہ داری کا کام ہے اسی ذریعہ سے قرآن مقدس نازل کیا گیا اور جس پر نازل کیا گیا وہ بھی کوئی معمولی انسان نہ تھا وہ بھی انسان کامل ' محبوب الٰہی قابل صدا حترام ' والیء دین کامل ' آخری نبی ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ بہترین سیرت و صورت رکھتے تھے۔ آپ ﷺ کی عقل و دانش مندی ' بیدار مغزی ' معاملہ فہمی ' خوش اسلوبی ' خوش معاملگی ' حسن سلوک ' کمال علم و معرفت ' فصاحت و بلاغت ' ملکی انتظامات ' جنگی مہارت ' بہترین طریقہ تبلیغ غرض کون سا ایسا شعبہ زندگی ہے اور زندگی کے بعد کا معاملہ ہے جس میں وہ پوری طرح مہارت اور کمال نہ رکھتے تھے۔ اور پھر آپ ﷺ کے کمالات میں سے ایک یہ بھی بڑا کمال ہے کہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے نقص سے پاک پیدا کیا اور آپ ﷺ کو تمام دشمنوں ' شیاطین اور ان کی مخالفتوں اور سازشوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ یہ سب اس لیے کہ آپ ﷺ کو نبوت ' رسالت اور مقدس ترین کتاب ' قرآن پاک کا حامل بنایا جو شخصیت اس قدر محفوظ و مامون اور عالم و فاضل ہو بھلا وہ مجنوں یا غلط انسان کیونکر ہوسکتا ہے۔ اور ان پر نازل ہونے والا کلام پاک دنیا کا بہترین کلام نصیحت اور کامیابی کا مجموعہ ہے۔ پھر بھی اگر کچھ لوگ اس کلام پاک سے منہ پھیرتے ہیں تو وہ بڑے بد نصیب ہیں۔ آخری آیت میں ارادہ اور مشیت الٰہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ فضیلہ الشیخ ابوبکر جابر الجزائری نے یوں وضاحت فرمائی۔ '' قضاء وقدر کے موضوع سے اس مسئلہ کا گہرا تعلق ہے نیز قضا و قدر کا عقیدہ بندہ مومن کے نازک اور اہم عقائد میں سے ایک ہے بنا بریں حق کی وضاحت اور راست و بہتر صورت تک رسائی کے لیے مذکورہ بالا عنوان کے تحت کچھ عرض کرنا ضروری ہے۔ یہ بحث ذیل کے دو نکات کے تحت ہوگی۔ 1 عقل و نقل کی روشنی میں حق تعالیٰ کے ارادے اور مشیت کا اثبات 2 اور اس حقیقت کا انکشاف کہ بیشتر افراد جو فاش غلطی اور کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہوں نے حق تعالیٰ کے ارادے کے مفہوم کو نہیں سمجھا۔ جہاں تک صفت ارادہ صفت مشیت کا تعلق ہے ذیل کی آیات کلام الٰہی اور ارشادات نبوی سے بخوبی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ القرآن :-'' اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور دشواری نہیں چاہتا ''۔ (البقرہ :158) ارشاد نبوی ﷺ ہے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا '' باری تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں سمجھ داری مرحمت فرماتا ہے ''۔ (بخاری ' مسلم ) اللہ تعالیٰ خالق ہے اور انسان مخلوق ہے۔ خالق کا مخلوق سے زیادہ قوی اور با اختیار ہونا لازم آئے گا۔ جب کہ بندہ اس سے کئی گنا کم بااختیار و باارادہ ہے ''۔ (از مومن کے عقائد) دراصل تقدیر تو لکھی جا چکی ہے ہمارا امتحان یہی ہے کہ ہم اس کو اپنے ارادے اور کوشش سے قوانین الٰہی کی مدد سے کس حد تک بہترین بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اسی کامیابی پر ہمارے نمبروں کا کارڈ تیار کیا جائے گا۔ کیونکہ ہر شخص کی زندگی کی راہیں تو اس جرثومہ کے اندر محفوظ کردی جاتی ہیں جس سے ہماری تخلیق ہوتی ہے۔ غرض امیری غریبی، سختی نرمی، صحت بیماری، رحمت اور زحمت ہر صورت اپنی زندگی کو ایمان سے منور کرنا یا کفر سے تاریک کرنا اللہ کی رضا پر شاکر ہونا یا ناشکری کرنا یہ سب ہمارے اختیار میں اللہ نے دے رکھا ہے اور یہ ہمارا امتحان ہے جو موت کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گا۔ روح کی شکل میں عالم برزخ میں پہنچ جائیں گے اور پھر قیامت کبریٰ کے بعد اللہ کے سامنے حاضری اور اجر وثواب مادی جسم کے ساتھ جھیلنا پڑے گا۔ یہی خلاصہ ہے اس سورت کا ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ الحمد للہ کہ سورة التکویرمکمل ہوئی۔