Ayahs 80:1–16رویہ درست رکھنے کا حکم اور فضیلت قرآن
تشریح : ہم لوگ کیونکہ خدائے واحد ' قھار و جبار اور رحمن و رحیم کے بندے ہیں ' ہمیں ڈر ہے تو صرف اس سے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہم لوگ دنیوی جاہ و جلال ' عزت اور دولت سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ہم لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے زندگی کا ہر مرحلہ گزارتے ہیں اور ہمارا فرض سب سے پہلا اور آخری یہی ہے کہ احکامات الٰہی کو سمجھیں عمل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہ احکامات اللہ عزوجل کی طرف سے انتہائی مقدس فرشتے کے ذریعہ انتہائی مقدس نبی کے ذریعے ہمیں پہنچائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کتاب مقدس قرآن پاک کا کس درجہ تک احترام ہم سب پر لازم ہے تو اس کتاب مقدس کی اہمیت اور احترام کا یہ بھی ایک طریقہ بتایا گیا ہے کہ اس کو کسی پر زبردستی لاگو کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں کیونکہ اس طرح اس کی بےادبی ہونے کا بھی احتمال ہے۔ یہ ان لوگوں کو سناؤ بتاؤ اور سمجھاؤ جو چاہے کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں ' مگر ہوں وہ نیک بخت ' نیک فطرت اور نیک کردار کیونکہ وہ بڑی آسانی اور دلچسپی سے اس کو سنتے سمجھتے اور عمل کرتے ہیں۔ بجائے ان لوگوں کے جو کہ مال و دولت کی زیادتی سے پھٹے ہوئے ہوں اور جن کے دل و دماغ اور روحیں کفر و شرک کی گندگی سے اٹے ہوئے ہوں اور جو قرآن کی روشنی کو قبول کرنے کے قابل ہی نہ ہوں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ تو ہوتے ہی ہٹ دھرم ہیں۔ ان کو تو ان کے حال پر چھوڑ دینا بہتر ہے۔ پیغام دے دیا۔ آگے ان کی مرضی ہے۔ رسول کریم ﷺ کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے جو کہ اس وقت دیا گیا جب وہ خود ایسے حالات سے دوچار ہوئے۔
ہوا یوں ( جیسا کہ روایات اور تفاسیر سے پتہ چلتا ہے) کہ ایک دفعہ آپ ﷺ کچھ کافر سرداران قریش کو دعوت و تبلیغ سے دین کے نکات سمجھا رہے تھے کہ اچانک ایک نابینا صحابی آپ ﷺ کے پاس کچھ مسائل سمجھنے کے لیے آئے کیونکہ وہ دیکھ نہ سکتے تھے اس لیے آداب محفل کے خلاف آنحضرت ﷺ سے گفتگو کرنے لگے جس پر آپ ﷺ کو کچھ غصہ آیا اور ان لوگوں نے بھی ناک منہ چڑھایا۔ آپ ﷺ نے ان نابینا صحابی ( جن کا نام ابن ام مکتوم ہے) سے کچھ بےرخی کا انداز اپنایا جو کہ اللہ کو ناپسند اور نامواقف لگا تو فوراً اس بات کے لیے وحی نازل فرمائی ایک آیت سے 16 تک کے احکامات نازل فرمائے جو کہ ایک تو انسان کے حقیقی وقار کا پتہ دیتی ہیں۔ دوسرے تبلیغ کا بہترین طریقہ سمجھاتی ہیں تیسرے قرآن کی قدرومنزلت کا ذکر کرتی ہیں اور چوتھے انسانیت کا بہترین سبق دیتی ہیں۔ یہ تمام کمالات خود رسول اللہ ﷺ میں پوری طرح موجود تھے مگر انسان ہونے کے ناطے اس وقت ان سے ہلکی سی کوتاہی ہوئی جس کی فوراً اصلاح کردی گئی۔ قرآن پاک کے آہستہ آہستہ 23 سال میں نازل کئے جانے کی ایک وجہ یہ بھی دکھائی دیتی ہے کہ جونہی انسانی زندگی میں کوئی بھی بڑا چھوٹا ' معمولی یا خاص مسئلہ پیدا ہوتا فوراً اس کو حل کردیا جاتا۔ اس طرح چھوٹے بڑے تمام مسائل بڑی خوبصورتی اور موثر طریقہ سے انسانوں پر اچھی طرح واضح کر دئیے گئے جو سمجھنے والوں کے لیے تو بڑی دولت ہیں اور نہ سمجھنے والوں کے لیے کچھ بھی نہیں۔ یہی تو وہ فرق ہے جو ہم انسانوں کو یہاں اور آخرت میں کامیاب کرے گا دوسروں پر برتری دلائے گا نہ کہ مال و دولت ' عزت و شہرت اور زندگی یہ دونوں چیزیں تو بہر صورت ناپائیدار اور ختم ہوجانے والی ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
دو چیزیں کبھی وفا نہیں کرتیں۔ عزت اور زندگی
دو چیزیں کسی کی میراث نہیں۔ عزت اور زندگی
دو چیزوں کا سودا ممکن نہیں۔ عزت اور زندگی
دو چیزیں جاتے لمحہ نہیں لگتا۔ عزت اور زندگی
دو چیزیں ہمیشہ نہیں رہتیں۔ عزت اور زندگی
دو چیزیں تحفہ میں نہیں جا سکتیں۔ عزت اور زندگی
دو چیزیں صرف ایک بارملتی ہیں۔ عزت اور زندگی
دو چیزوں کا بٹوارہ ممکن نہیں۔ عزت اور زندگی
(از سنڈے میگزین جنگ مرسلہ صبیحہ اشرف، راولپنڈی)
بہت خوب تو یہاں سرداران قریش بمقابلہ عام امیر کبیر منکرین اسلام اور نابینا صحابی ابن ام مکتوم بمقابلہ۔ عام فدایان دین اور مسلمین و مسلمات ہیں جو چاہے امیر ہوں یا غریب مگر ہوں پکے مسلم تو ایسے لوگوں کے دلوں میں قرآن کی وہ قدروقیمت اور عزت و احترام ہے جو غیر مسلم امیر و کبیر کے دلوں میں ہرگز نہیں اور نہ ہی ہوسکتی ہے۔
تو ایسے لوگوں کو راہ ضرور دکھانی چاہیے ان کی مدد ضرور کرنی چاہیے کہ شاید کوئی اللہ کی راہ اختیار کرلے مگر ان پر اتنا زیادہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کہ جس سے پکے ' اچھے ' نیک اور مخلص مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میں رکاوٹ پیدا ہو۔ ہر صورت ' یہ متقی اور پرہیزگار زیادہ توجہ اور مدد کے حق دار ہیں۔ اگلی آیات انہی نافرمان لوگوں کے بارے میں اتری ہیں۔ ملاحظہ ہو۔